Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
115 - 158
ومن فقیر درفتوی عربیہ کہ بجواب سوال مولوی محمد عبداﷲ صاحب پنجابی ھزاری بتاریخ نوزدہم شہرربیع الآخر ۱۳۰۶ہجریہ نوشتہ ام ایں مقام راباقضائے مراتب تنقیح وتوضیح رساندہ ام وباﷲ التوفیق سخن گفتن ماندازکتاب فوائد الاعمال مہربانا معتبر بودن کتابے نزد بعض معتقدین چیزے ومعتبر بودنش فی نفسہٖ چیزے دیگرست، باز اعتبار کتابے مستلزم آں نیست کہ ہرچہ درومذکور ست مختار ومنصور ست، زنہاردرکتب اجلہ ائمہ ہیچ یک کتابے نیابی کہ دربعض مواضع مجال نقدوتنقیح نداشتہ باشد تابتالیف مااحداث ہند، چہ رسد، مؤلف اگرایں مسئلہ را ازپیش خود گفتہ است بجوئے نیززدورنہ برولازم بود کہ نص کتاب آوردے یالااقل نام کتاب بردے، تنہا گفتش کہ ہمیں ست حکم کتب الفقہ، چگونہ قبول افتد حالانکہ درکتب فقہ ہمچومنیۃ الفقہاء وغنیہ وشرح نقایہ وردالمحتار تنصیص بخلافش می یابیم بازاگربرخاطر احباب گراں نیابد سخن ازنقد کلامش رانم وبرہمگناں واضح ولائح گردانم کہ ایں کلام چہ قدر، ازپایہئ فقاہت دورومہجور افتادہ است اوّلاً باید دانست کہ علماء رادروقت تراویح دوقول مذیل بطراز تصحیح ست یکے آنکہ وقتش مابین عشاء ووترست تاآنکہ بعد وتر روانبود چنانکہ بیش از فرض روا نیست صححہ فی الخلاصۃ ورجحہ فی غایۃ البیان بانہ الما ثور المتوارث ۱؎۱ھ ش عن البحر، دوم آنکہ بعد عشاء تاطلوع فجروہمیں ست ارجح التصحیحین عزاہ فی الکافی الی الجمہور وصححہ فی الھدایۃ و الخانیۃ والمحیط۲؎۱ھ ش عن الذین برمذہب اول ھرکرا چیزے ازتراویح باقی ماند وامام بوتربرخاست حکم ہمیں ست کہ بہ بقیہ تراویح اشتغال نماید وبجماعت وتردرنیاید زیرا کہ نزدایشاں پس ازوتر وقت تراویح فوت می شود۔
اور مجھ فقیر نے عربی فتوٰی جوکہ مولوی عبداﷲصاحب پنجابی ہزاری کے سوال کے جواب میں بتاریخ ۱۹ربیع الآخر ۱۳۰۶ھ لکھاہے اس میں اس مقام پر خوب اعلٰی تنقیح وتوضیح سے کام لیاہے وباﷲ التوفیق، فوائد الاعمال کے متعلق بات کرناباقی ہے،میرے مہربان، کسی کتاب کامعتقدین کے ہاں معتبر ہونا  ایک بات ہے اور اس کتاب کی اپنی حیثیت میں معتبر ہونا اور بات ہے نیز کسی کتاب کے معتبرہونے کایہ مطلب نہیں کہ اس میں جوکچھ موجود ہے وہ تمام معتبر ومختارہوہرگزایسانہیں ہے کیونکہ بڑے بڑے ائمہ کرام کی کتابوں میں سے کوئی بھی کتاب ایسی نہیں کہ اس کے بعض مقامات قابل تنقید وتنقیح نہ ہوں،تو ہم نئے لوگوں کی کتابوں کے بارے میں یہ کیسےکہاجا سکتا ہے کہ ان میں سب کچھ درست ہے۔ فوائد الاعمال کے مصنف نے اگریہ مسئلہ خود اپنی طرف سے کہہ دیا تو اس کی کوئی حیثیت نہیںہے ورنہ ان پرلازم تھا کہ وہ کسی ایک کتاب کاہی حوالہ ذکرکردیتے اور صرف یہ کہہ دینا کہ کتب فقہ کایہ حکم ہے، کیسے قابل قبول ہوسکتاہے حالانکہ کتب فقہ مثلاً منیۃ الفقہاء ، غنیہ، شرح النقایہ اور ردمحتار میں ہم اس کا خلاف پاتے ہیں پھر اگردوستوں پرگراں نہ گزرے توہم اس کا تنقیدی جائزہ پیش کریں، اور ان پرواضح کردیں کہ ان کے بیان کی کیاحیثیت ہے اور یہ کہ فقہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اوّلاً معلوم ہوناچاہئے کہ تراویح کے وقت کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے اور اس میں دو قول ہیں جو کہ تصحیح کے معیار پر آتے ہیں: ایک یہ کہ تراویح کا وقت، نمازیعنی فرض عشاء اور وتر کے درمیان ہے اس بناپر فرض سے قبل تراویح جائزنہیں جس طرح کہ وترکے بعد جائز نہیں، اس قول کو خلاصہ میں صحیح قراردیاہے اور غایۃ البیان نے اس کو زمانہ بزمانہ منقول کہہ کر ترجیح دی ہے۱ھ۔ یہ شارح نے بحر سے نقل کیاہے، دوسراقول یہ ہے کہ اس کاوقت بعدازعشاء تاطلوع فجر ہے، یہی قول صحت میں راجح ہے اور کافی میں اس کو جمہور کی طرف منسوب کیاہے اور ہدایہ، خانیہ اور محیط میں اس کوصحیح قراردیاہے۱ھ۔ یہ شارح نے زین سے نقل کیاہے اب پہلے قول کے مطابق اگرکسی کی کچھ تراویح رہتی ہوں اور امام وتر شروع کرچکاہے اس کو یہ حکم ہے کہ وہ امام کے ساتھ وترنہ پڑھے بلکہ بقیہ تراویح کوپہلے پڑھے کیونکہ اس قول والوں کے ہاں وتر کے بعد تراویح کاوقت ختم ہوجاتاہے۔
 (۱؎ ردالمحتار        باب الوتر والنوافل        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۵۲۱)

(۲؎ ردالمحتار        باب الوتر والنوافل        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۵۲۱)
امام طاھربن احمد بخاری درخلاصہ فرمود یشتغل بالترویحۃ الفائتہ لانہ لایمکنہ الاتیان بھا بعد الوتر۱؎ وبرمذہب دوم بہردوامر مخیراست اما اختلاف درافضل افتاد ہرکہ دروتر انفرادرا بہتردانستہ نزد اواشتغال بترویحہ فائتہ رابس انداختن خوشتر وماناکہ ہمیں احب باشد وفقیر گویم چوں صحیح دوم جانب عدم صحت تراویح بعد وتراست ینبغی انسب مراعات آں باشد واﷲ تعالٰی اعلم۔
امام طاہربن احمدبخاری خلاصہ میں فرماتے ہیں کہ وہ بقیہ تراویح اداکرے کیونکہ وتر کے بعد اس کوتراویح پڑھناممکن نہیں۔ اور دوسرے قول کے مطابق اس کو دونوں طرح اختیار ہے کہ بقیہ تراویح وترسے پہلے پڑھے یابعد۔ لیکن افضل ہونے میں ضرور اختلاف ہے کہ جولوگ وترتنہا پڑھنا افضل کہتے ہیں کہ تراویح پہلے پڑھے اور جو جماعت کوبہترجانتے ہیں ان کے نزدیک پہلے وترجماعت کے ساتھ پڑھ کراس کے بعد باقی ماندہ تراویح پڑھے، یہ تسلیم ہے کہ پسندیدہ امریہی ہے لیکن ایک قول میں وتر کے بعد تراویح جائزنہیں ہے، اس لئے یہ فقیر کہتاہے کہ اس قول کی رعایت زیادہ مناسب ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی    الفصل الثالث فی التراویح        مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۱/ ۶۳)
قال فی الدرالمختار وقتھا بعد صلاۃ العشاء الی الفجر قبل الوتر وبعدہ فی الاصح فلوفاتہ بعضھا وقام الامام الی الوتر اوتر معہ ثم صلی مافاتہ۲ ؎۱ھ قال فی ردالمحتار قولہ فلوفاتہ بعضھا الخ تفریع علی الاصح لکنہ مبنی علی ان الافضل فی الوتر الجماعۃ لاالمنزل وفیہ خلاف سیأتی فقولہ اوتر معہ ای علی وجہ الافضلیۃ۱؎ الخ ۔
درمختارمیں کہا کہ تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد تاطلوع فجر ہے وترسے قبل یا بعد یہ اصح قول ہے۔ پس اگرکچھ تراویح رہ جائیں اور امام وتر کے لئے کھڑاہوجائے تو اسے چاہئے کہ وہ امام کے ساتھ وترپڑھے اور فوت شدہ تراویح اس کے بعد پڑھے۱ھ۔ اس پر ردمحتارمیں کہا (قولہ فلوفاتہ بعضہا الخ) یعنی ماتن کاقول کہ اگرکچھ تراویح رہ جائیں، یہ اصح قول پرتفریع ہے لیکن یہ تفریع اس بات پرمبنی ہے کہ وترگھر کی بجائے باجماعت پڑھنا افضل ہے اور اس میں اختلاف ہے جو آگے آرہاہے اور اس کا قول کہ امام کے ساتھ وترپڑھے یعنی مستحب یہ ہے۔
 (۲؎ درمختار        باب الوتر والنوافل        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۹۸)

(۱؎ ردالمحتار        باب الوتروالنوافل    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۲۱)
بالجملہ بریک مذہب راہ ہمیں ست کہ بجماعت وترشرک نکند وبرمذہب دیگرنزد بعضے افضل ہمیں ست ونزد کہ صاحب فوائد نوشت مذہب ہیچ عالمے نیست نہ زنہارا از شرع بروے دلیلے۔ ثانیاً قول اوپس بسبب سنت، جماعت واجب راترک نماید وسنت راادا اسازد کے روابود طرفہ استدلالے ست اگر لفظ واجب صفت جماعت سنت بداہتہ غلط وباطل بالاگفتہ ایم کہ جماعت وترنزد ہیچ کسے واجب نیست واگرمضاف الیہ است پس دلیل واجح الاختلال، سخن درترک جماعت ست نہ درترک وتر پس قول او ''کے روابود'' کے روابود، الحاصل حکم ہمان ست کہ فقیر درفتوائے پیشیں نوشتہ ام وازردوقدح ہمچو کلمات سکوت اولی بود اگر ایضاح صواب وکشف ارتیاب مقصود نبودے، بازدرضمن بیان، مسائل نافعہ کہ بروئے کارآمد نفع خوبی ست کہ حامل بریں تحریر می تواند شد مہربانا سخن برانچہ نقل فرمودہ اند رواں کردم ورنہ فقیرکتاب فوائد الاعمال ہم ندیدہ ام، ندانم کہ اصل عبارتش چیست ومولفش کیست واﷲ تعالٰی اعلم۔
حاصل کلام یہ ہے کہ ایک قول میں یہ متعین ہے کہ وہ جماعت کے ساتھ وترنہ پڑھے اور دوسرے مذہب پرافضل یہ ہے کہ وترباجماعت نہ پڑھے، ایک قول کے مطابق اور دوسرے قول کے مطابق اگرچہ اقتداء اور جماعت افضل ہے تاھم جماعت کالازم ہونا اور واجب ہونا وترکے لئے کسی عالم کامذہب اور قول نہیں جیسا کہ فوائد الاعمال والے نے لکھاہے اور نہ ہی شرع میں اس پرکوئی دلیل ہے۔ ثانیاً اس کایہ کہنا کہ سنت کی وجہ سے جماعت واجب کاترک کرنا کیسے جائز ہوسکتاہے، یہ عجیب استدلال ہے، اس میں لفظ واجب اگر جماعت کی صفت ہے تویہ غلط اورباطل ہے کیونکہ وتر کی جماعت کسی کے ہاں بھی واجب نہیں ہے اور لفظ واجب جماعت کا مضاف الیہ ہے یعنی واجب کی جماعت، توپھریہ دلیل واضح طورپرخلل والی ہے کیونکہ بات تو ہورہی ہے جماعت کےترک میں نہ کہ واجب یعنی وتر کے ترک میں، اس کا یہ کہنا کہ ''کیسے جائزہوسکتاہے'' کیسے جائز اور درست ہوسکتاہے! الحاصل یہ کہ مسئلہ کاحکم وہی ہے جو اس فقیرنے پہلے فتوے میں لکھاہے، ایسی باتوں پربحث کرنے سے سکوت بہترتھا، اگردرست موقف کی وضاحت اور شکوک کودفع کرنا مقصود نہ ہوتا نیز بحث میں ضمنی مسائل ہیں جوکہ بروئے کارلانے میں مفیدہوسکتے تھے جن کی وجہ سے میں نے یہ بحث کی ہے ورنہ ضرورت نہ تھی، مہربانوں نے جیسے عبارت نقل کی اس کے مطابق میں نے تسلیم کرتے ہوئے جواب لکھ دیا ورنہ اس فقیرنے کتاب فوائد الاعمال نہیں دیکھی اور نہ یہ معلوم کہ اصل عبارت کیااور کتاب کامصنف کون ہے، واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter