Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
114 - 158
شیخ فرماید اختلفوا فی الافضل فقال بعضھم الافضل الاجماعۃ وقال الاٰخرون الافضل ان یوترفی منزلہ منفردا وھو المختار۱؎۔(علامہ شامی قدس سرہ السامی فرمود رجع الکمال الجماعۃ فی شرح المنیۃ والصحیح ان الجماعۃ فیھا افضل الا ان سنیتھا لیست کسنیۃ جماعۃ التراویح۱ھ ملخصاً۲؎۔
اور شیخ عبدالحق نے یوں فرمایا ہے علماء نے وتر کے بارے میں اختلاف کیا کہ افضل جماعت ہے یاافضل یہ ہے کہ گھرمیں اکیلے پڑھے، اور یہ دوسرا قول ترجیح یافتہ ہے۔ علامہ شامی نے فرمایا ہے کہکمال نے جماعت والے قول کوترجیح دی ہے اور منیہ کی شرح میں ہے کہ صحیح یہ ہے کہ جماعت افضل ہے، لیکن وتر کی جماعت سنت، تراویح کی جماعت کی سنت کی طرح نہیں ہے۱ھ ملخصاً ۔
 (۱؎ ماثبت بالسنۃ        الفصل السابع    ادارہ نعیمیہ رضویہ لاہور    ص۳۰۲)

(۲؎ ردالمحتار            باب الوتر والنوافل    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۲۵)
علامہ طحطاوی زیرقولش فی رمضان یصلی الوتر بھاای بالجماعۃ ''تحریرنمود'' ای استحبابا کما فی البحروظاھر ماسیأتی لہ انھا فیہ سنۃ کالتراویح۳؎پس روشن شد کہ نسبت کلام مذکور بایں علما غلط بودہ است واگرازحکم ضروری ولابدی بودن جماعت قطع نظر نمودہ آید تاہم نسبت بعلامہ شامی نسبت بمخالف ست زیراکہ اورحمہ اﷲ تعالٰی تصریح فرمودہ است کہ ہرکہ درفرض منفرد بوددر وترہم اقتدا نکند از علامہ شمس قہستای آورد واذا لم یصل الفرض معہ لایتبعہ فی الوتر۴؎ ۔
اور علامہ طحطاوی نے ماتن کے اس قول کہ 'رمضان میں وتر جماعت سے پڑھے' کے بعد لکھاہے کہ یہ استحباب ہے جیسا کہ بحر میں ہے اور ظاہر یہ ہے کہ جو ان سے آگے آئے گا کہ رمضان میں وتر کی جماعت سنت ہے جیسے تراویح سنت ہے۔ پس معلوم ہوا کہ مذکورہ بات ان علماء کی طرف غلط منسوب کی گئی ہے اور لابدی اور ضروری حکم سے قطع نظر بھی علامہ شامی کی طرف اس بات کومنسوب کرنا ایک مخالف چیز کو منسوب کرناہے کیونکہ انہوں نے تصریح کی ہے کہ اگرفرض جماعت سے نہ پـڑھے ہوں تووتربھی جماعت سے نہ پڑھے، اور علامہ قہستانی کے حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ جب فرض امام کی اقتدا میں نہ پڑھے ہوں تووتر میں اس کی اقتدا نہ کرے،۔
 (۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار    باب الوتر والنوافل    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۲۹۷)

(۴؎ ردالمحتار            آخرباب الوتروالنوافل    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۲۴)
باز خود گفت ینبغی ان یکون قول القھستانی معہ احتراز عن صلٰوتھا منفرد امالو صلاھا جماعۃ مع غیرہ ثم صلی الوتر معہ لاکراھۃ تأمل۱؎۱ھ ۔
اور علامہ نے خود فرمایا کہ علامہ قہستانی کا یہ کہنا کہ اس امام کے پیچھے فرض نہ پڑھے ہوں'' کامطلب یہ ہے اکیلے پڑھے ہوں، لیکن اگر اس نے فرض کسی دوسرے امام کی اقتدا میں پڑھے ہوں توپھر وترمیں امام کے ساتھ جماعت میں پڑھنے میں کوئی کراہت نہیں ہے، غور کر۱ھ۔
 (۱؎ ردالمحتار        آخرباب الوتروالنوافل    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۲۴)
ودردرمختاراین مسئلہ را اصلاً ذکرے نیست۔ مصنف وشارح اعظم اﷲ تعالٰی اجورھما وافاض علینا نورھما ہمیں نوشتہ اند کہ ہرکہ درتراویح منفرد بود درجماعت وترداخل می تواند شد حیث قالا لولم یصلھا ای التراویح بالامام اوصلاھا مع غیرہ لہ ان یصلی الوترمعہ۲؎ ایں مسئلہ رابامسئلہ ماچہ علاقہ کہ اینجا کلام درمنفرد فی الفرض ست نہ منفرد فی التراویح وضرورنیست کہ ھرکہ تراویح تنہاگزاردہ است درفرض نیز منفرد بودہ باشد بازشارح رحمہ اﷲ تعالٰی سوالے آوردہ است کہ اگرہمہ ہا جماعت تراویح راترک کردہ باشد آیا ایشاں رامی رسد کہ وتربجماعت گزارند اینجا، ہیچ حکمے ننمود وامربمراجعت کتب فرمود حیث قال بقی لو ترکھا الکل ھل یصلون الوتر بجماعۃ فلیراجع۳؎ ۔
اور درمختارمیں ہے اس مسئلہ کابالکل ذکرنہیں ہے مصنف اور شارح (اﷲ تعالٰی ان کے اجر کو عظیم فرمائے اور ان کے نور کاہم پرفیضان فرمائے) دونوں نے لکھاہے کہ کسی نے صرف تراویح اکیلے پڑھی ہوں تو وہ وتر کی جماعت میں شریک ہوسکتاہے۔ انہوں نے یوں فرمایا اگراس نے تراویح امام کے ساتھ نہ پڑھی ہوں یاکسی اور امام کے ساتھ پڑھی ہوں تو اس کو اس امام کے ساتھ وتر پڑھناجائزہیں لیکن اس مسئلہ کا ہمار ے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہمارامسئلہ تواکیلے فرض پڑھنے والے کے بارے میں ہے نہ کہ اکیلے تراویح پڑھنے کے بارے میں ہے کیونکہ تراویح اکیلے پڑھنے کویہ لازم نہیں کہ فرض بھی اکیلے پڑھے ہوں۔ اس کے بعد شارح نے خود سوال اٹھایا کہ اگرتمام حاضرین نے تراویح باجماعت نہ پڑھی ہوں و ان کویہ جائز ہوگا کہ وہ وتر باجماعت اداکریں۔ شارح نے یہ سوال بیان کرکے کوئی جواب نہ دیا بلکہ یہ کہا اس بارے میں کتب کودیکھاجائے، انہوں نے اس کویوں بیان فرمایا ''یہ بات باقی ہے کہ اگرتمام حاضرین نے تراویح کی جماعت کوترک کیاہوتو وترجماعت سے پڑھ سکتے ہیں تو اس مسئلہ میں کتب کودیکھاجائے،
 (۲؎درمختار    آخرباب الوتروالنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۹۹)

(۳؎ درمختار    آخرباب الوتروالنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۹۹)
آرے علامہ حلبی محشی درجواب ایں سوال ازرائے وفہم خود چناں بحث کردکہ گوجماعت تراویح یکسر متروک باش تاہم مقتضائے تعلیل آن ست کہ جماعت وتررواباشد زیراکہ اونماز مستقل بنفسہ است وھذا نصہ علی مانقل العلامۃ الطحطاوی قولہ فلیراجع قضیۃ التعلیل فی المسئلۃ السابقۃ بقولھم لانھا تبع، ان یصلی الوتر بجماعۃ فی ھذہ الصورۃ لانہ لیس بتبع للتراویح ولاللعشاء عندالامام رحمہ اﷲ تعالٰی۱؎ایں جانیزچنانکہ دیدی کلام در منفرد فی الفرض نیست ۔
ہاں علامہ حلبی محشی نے ازخود اس سوال کے جواب میں اپنی رائے اور فہم سے یہ بحث کی ہے کہ اگرچہ تراویح کی جماعت متروک ہوگئی مگراب وتر کی جماعت کوترک نہ کریں، اس کی وجہ یہ ہے کہ وتر ایک مستقل علیحدہ نماز ہے اور ان کابیان یہ ہے جیسا کہ علامہ طحطاوی نے ان کابیان نقل کیاہے ''کتب کی طرف رجوع کرو'' یہ اس علت کاقرینہ ہے جوانہوں نے سابقہ مسئلہ میں بیان کی ہے کہ تراویح تابع ہیں اس لئے اس کو جائز ہے کہ وہ وترباجماعت پڑھے، کیونکہ وترنہ توتراویح کے تابع ہیں اور نہ ہی عشاء کے۔ امام صاحب کے قول میں رحمہ اﷲ تعالٰی، آپ نے ملاحظہ کیاکہ یہاں بھی فرض اکیلے پڑھنے والے کے بارے میں بات نہیں ہے۔
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    باب الوتروالنوافل    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۲۹۷)
نعم ربما یوھم قولہ ولاللعشاء، جوازبجماعۃ الوتر وان ترکوا جماعۃ الفرض اصلا لکنہ کما علمت خلاف المنقول وماکان لبحث ان یقبل علی خلاف المنصوص لاسیما وھو غیرمستقیم فی نفسہ اذ لیس قضیۃ التعلیل مامر کما افاد العلامۃ الشامی واحاد حیث قال قولہ بقی الخ الذی یظھر ان جماعۃ الوتر تبع لجماعۃ التراویح وان کان الوتر نفسہ اصلا فی ذاتہ لان سنۃ الجماعۃ فی الوتر انما عرفت بالاثر تابعۃ للتراویح علی انھم اختلفوا فی افضلیۃ صلاتھا بالجماعۃ بعد التراویح کمایأتی ۱؎۱ھ
ہاں اس کاقول ''عشاء کے بھی تابع نہیں'' وہم پیداکرتاہے کہ وتر کی جماعت جائز ہے اگرچہ سب حضرات نے فرض کی جماعت کوترک کردیاہو، لیکن آپ کومعلوم ہے کہ یہ بات نقل کے خلاف ہے اور منقول کے خلاف کوئی بحث قابل قبول نہیں ہوتی خصوصاً جبکہ وہ بحث خود بھی درست نہ ہو، کیونکہ علت والا معاملہ وہ نہیں جو بیان ہوا، جیسا کہ علامہ شامی نے خوب بیان فرمایا جہاں انہوں نے یہ کہا ''یہ بات باقی ہے الخ'' ان کایہ سوال اس بات کوظاہرکررہاہے کہ وتر کی جماعت تراویح کی جماعت کے تابع ہے اگرچہ وترفی نفسہٖ مستقل نمازہے، کیونکہ وتر کی جماعت کاسنت ہونا، یہ نقل سے ثابت ہے کہ یہ تراویح کے تابع ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ علماء نے تراویح کے بعد وترباجماعت پڑھنے کی افضلیت میں اختلاف کیاہے، جیسا کہ آئندہ آرہاہے۱ھ۔
 (۱؎ ردالمحتار        باب الوتروالنوافل    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۲۴)
Flag Counter