Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
113 - 158
مسئلہ ۱۱۰۸ :ازاوجین علاقہ گولیار مرسلہ محمدیعقوب علی خاں صاحب از مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ یکم ربیع الآخر ۱۳۰۷ھ

دوسہ مردم درآں مسجد کہ امام بجماعت تراویح مشغول تام ست حاضر گردیدند آنہا نمازفرض بجماعت ادانمایند یاجداگانہ خواندہ خواندہ ملحق جماعت تراویح شوند وبازوتر راہمراہ اما بخوانند یا تنہا چراکہ امام رابجماعت فرض نیافتہ، بیّنواتوجروا۔
دوتین آدمی مسجد میں آئے توامام نمازتراویح میں مصروف تھا، کیا یہ آنے والے اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے جماعت کرائیں یاعلیحدہ علیحدہ پڑھیں اور اس کے بعدتراویح کی جماعت میں شامل ہوں، اور کیایہ لوگ وتر امام کے ساتھ جماعت سے اداکریں یا اس امام کی جماعت کے ساتھ فرض ادا نہ کرنے کی وجہ سے وتر علیحدہ پڑھیں؟ بیان کرو اجرپاؤ ۔ (ت)
الجواب

جماعت تراویح مانع جماعت فرض نیست لان قیام جماعۃ انما یمنع اقامۃ جماعۃ اخری فی زمانھا ومکانھا اذا کانت الاولی داعیۃ لکل من یأتی الی الدخول فی نفسھا وجماعۃ التراویح لاتدعو من لم یصل الفرض الی الدخول فیھا فان الصحیح المعتمد بطلان التراویح قبل اداء الفرض ولذا قال فی جامع الرموز اذا دخل واحد فی المسجد والامام فی التراویح یصلی فرض العشاء اولا ثم یتابعہ۱؎ پس آنا نکہ از پس رسیدند چوں شرعاً مامورند بادائے فرض پیش ازتراویح چراممنوع باشد ازجماعت حالانکہ چوں امام درتراویح ست محراب مشغول باشد پس عدول ازوکہ مبدل ہیأت وبرمذہب صحیح ومفتی بہ نافی کراہت ست کما نص علیہ فی مواضع من ردالمحتار اینجا خود حاصل ست پس برمذہب صحیح ایناں راہیچ مانع ازاقامت جماعت نیست آرے ہرقدرکے تواننددور ازجماعت نیست آرے ہرقدر کہ توانند دورازجماعت قوم جماعت فرض برپاکنند تاہم خویشتن ازالتباس افعال واشتغال بال ایمن باشندوہم براہل تراویح خصوصاً امام تالی قرآن تلبیس ننمایند ھذا کلہ مما لایخفی علی من لہ مساس بالفقہ بازآنکس کہ فرض بجماعت گزاردہ است خواہ کود امام بودیا بامام دیگر غیراین امام اقتدانمودہ اور امیرسد کہ دروتربایں امام اقتدا کند آرے ہرکہ فرج بہ تنہائی ادانمود اوررا دروتر ہم منفرد باید بودعلامہ شامی دررالمحتارفرمود لوصلاھا (یعنی صلاۃ العشائ) جماعۃ مع غیرہ ثم صلی الوتر معہ لاکراھۃ تأمل۱؎ومن فقیرایں مسئلہ رادرفتاوٰی خودم ہرچہ تمام تررنگ تفصیل دادہ ام۔واﷲ تعالٰی اعلم
تراویح کی جماعت، فرض کی جماعت کے لئے مانع نہیں ہے کیونکہ دوسری جماعت کے لئے وہ موجودہ جماعت مانع ہوتی ہے جو کہ تمام آنے والوں کے لئے یہ پہلی موجودہ جماعت اپنے اندر داخل ہونے کی داعی ہو، جبکہ بعد میں آنے والے ان لوگوں کوجنہون نے فرض نمازنہیں پڑھی، کے لئے یہ موجودہ جماعت تراویح داعی نہیں ہے کہ اس میں شامل ہوں، کیونکہ فرض ادا کرنے سے قبل تراویح کاپڑھنا صحیح مذہب میں باطل ہے، اسی بناء پر جامع الرموز میں کہاہے کہ جب کوئی ایک شخص جماعت تراویح ہوتے وقت آئے تو اس کو پہلے عشا کے فرض پڑھنے ہوں گے اور اس کے بعد تراویح کی جماعت میں شریک ہو، پس بعد میں آنے والے لوگ جب اس بات کے پابند ہیں کہ وہ پہلے فرض اداکریں اور بعد میں تراویح پڑھیں توشرعاً ان کو فرض کی ادائیگی جماعت کرانے میں کیامانع ہے خصوصاً جبکہ امام تراویح پڑھاتے ہوئے محراب میں ہے توبعد میں آنے والے اپنی جماعت کومحراب سے ہٹ کر کرائیں گے جس سے پہلی جماعت کی ہئیت تبدیل ہوجائے گی اور دوسری جماعت کی کراہت ختم ہوجائے گی جیسا کہ ردالمحتارکی تصریح کے مطابق صحیح اور مفتی بہ مذہب یہی ہے جب کراہت کی وجہ خودبخود ختم ہوگئی تو ان لوگوں کی جماعت کے لئے کوئی بھی مانع نہ رہا، ہاں ممکن حد تک ان کو چاہئے کہ تراویح کی جماعت سے دور اپنی جماعت کریں تاکہ آپس میں قرأت اور افعال میں اشتباہ نہ پیداہو اور اطمینان قلبی سے نماز اداہوسکے، نیز تراویح کے امام جوکہ تلاوت میں مصروف ہے کو اشتباہ سے بچایاجاسکے۔ فقہ سے مس رکھنے والے کو یہ تمام معاملہ معلوم ہے، اور پھر جو شخص عشاء کے فرض جماعت سے اداکرچکا ہوخواہ اپنی جماعت کرائی ہو یاکسی اور امام یا اس تراویح والے کے ساتھ جماعت میں شامل ہواہو اس کوتراویح اور وتر کی جماعت میں شریک ہونا جائزہے، ہاں جس نے فرض بغیرجماعت اکیلے پڑھے ہوں اس کو وتر اکیلے پڑھنے چاہئیں، علامہ شامی نے ردمحتارمیں فرمایا کہ اگرکسی نے عشاء کی نماز کسی دوسرے امام کے ساتھ جماعت سے اداکی ہو تو وہ بلاکراہت اس امام کے ساتھ وتر جماعت سے پڑھ سکتاہے غورکیجئے، جبکہ اس فقیرنے اس مسئلہ کو ہمہ پہلو تفصیل کے ساتھ اپنے فتاوٰی میں بیان کردیا ہے۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ جامع الرموز    الوتروالنوافل        مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/ ۲۱۴)

(۱؎ ردالمحتار        باب الوتروالنوافل    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۲۴)
مسئلہ ۱۱۰۹ :ازاوجین علاقہ گوالیار مرسلہ یعقوب علی خاں صاحب از مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ    ۲۹ ربیع الآخر ۱۳۰۷ھ

بقلم خجستہ رقم عبارت فتاوٰی صاحب چنیں ترقیم آمدہ است کہ ہرآنکس کہ نماز فرض بجماعت گزاردہ است خود امام بودیابامام دیگرغیرایں امام اقتدا نمودہ اورامیرسدکہ دروتر ہم منفرد باید بودبدیں طورعلامہ شامی در ردالمحتار فرمودہ است فقط صاحبہا درفوائد الاعمال تصنیف قاضی محمد تقی صاحب فیروزپوری کہ فیروزپورہ از توابع ملک میوات ست وایں کتاب درعلم فقہ معتبرست ارقام فرمودہ کہ بعد نمازفرض درجہ واجب ست پس سبب سنت جماعت واجب راترک نماید وسنت را اداسازدکے روا بود بل لازم و واجب ست بعد ادائے نمازوترتراویح باقیماندہ اداکند اگرچہ بجماعت فرض بشمول نشدہ باشد ہمیں ست حکم کتب الفقہ ودرشامی جلد اول صفحہ ۴۷۶ ودر طحطاوی جلد اول صفحہ۲۹۷  ودردرالمحتار وتزکیۃ القیام مصنفہ مولٰینا صاحب عبدالحق محدث دہلوی نوشتہ است کہ اگرچہ جماعت فرض بدست نیامدہ باشد تاہم وتر راضروربجماعت ادانمودن درست ست یاقطعی حکم ممانعت ست مطلع فرمایند ایں گستاخی کہ ازیں احقرالبریہ رفتہ است معاف فرمایند وبخوف طول اصل عبارت موقوف داشتہ۔
آپ کے مبارک قلم سے فتوٰی یوں جاری ہوا ہے کہ جوشخص عشاء کی نماز یعنی فرض جماعت سے پڑھ چکاہے خواہ خودامام بنا، یاکسی دوسرے امام کے ساتھ جماعت میں پڑھ چکا ہو اس کو اس امام کے ساتھ باجماعت وترپڑھنے کااختیار ہے، ہاں جوشخص اکیلے فرض اداکرے اس کووتر بھی اکیلے پڑھنے چاہئیں علامہ شامی نے ردمحتارمیں یونہی بیان کیاہے فقط حالانکہ فوائد الاعمال جوکہ قاضی محمد تقی فیروزپوری کی تصنیف ہے اور فیروزپورمیوات کے علاقہ سے تعلق رکھتاہے اور یہ کتاب علم فقہ میں معتبرہے، اس میں انہوں نے لکھاہے کہ فرض کے بعد واجب کا درجہ ہے لہٰذا سنت جماعت کی وجہ سے واجب کو یعنی وتر کو ترک کرنا اور سنت یعنی تراویح کواداکرنا کب جائز ہوسکتاہے اس لئے لازم ہے کہ وتر باجماعت اداکرکے باقی تراویح کوبعد مین پڑھے اگرچہ اس نے فرض اکیلے ہی پڑھے ہوں، یہی حکم کتب فقہ میں ہے اور شامی جلداول صفحہ ۴۷۶، اور طحطاوی جلد اول صفحہ ۲۹۷، اور ردالمحتار اور تزکیۃ القیام مصنفہ مولانا عبدالحق محدث دہلوی میں لکھا ہے کہ اگرچہ فرض جماعت سے ادانہ کئے ہوں تب بھی ضروری ہے کہ وتر جماعت سے اداکرلے، اب سوال یہ ہے کہ فرض باجماعت ادانہ کئے ہوں تب بھی وترجماعت سے اداکرنا جائز ہیں یاجائز نہ ہونے کاقطعی حکم ہے، مطلع فرمائیں، اس فقیرسے اگرگستاخی ہوئی ہو تومعاف فرمائیں اور طوالت کے ڈرسے اصل عبارت موقوف کردی ہے۔(ت)
الجواب

اللھم ھدایۃ الحق والصواب، مہربانا حکم مسئلہ ہمان ست کہ فقیر نوشت وانچہ ازچارکتاب آوردہ اند کہ جماعت وتر مطلق ضروری ولابدی ست درسہ پیشین اعنی حاشیہ شامی وطحطاوی ودرمختار زنہارازیں معنی نشانے نیست وتذکیۃ القیام رافقیر گاہے ندیدہ بلکہ نامش نشنیدہ ام اگرازتصانیف شیخ محقق قدس سرہ العزیز ست یقین دارم کہ ایں حکم درو ہرگز نباشد وچساں گمان بردہ آید کہ عالمے معتمد ہمچو شیخ مستند ایں چنیں کلامے بے سند برخلاف اجماع رقم زند ضروری و لابدی بمودنش درکنار علمارا اختلاف ست کہ افضل دروتر جماعت ست یابخانہ خویش تنہا گزاردن ائمہ افتا ہردوقول را تصحیح فرمودہ اند طرفہ آنکہ درمختار ہمیں قول اخیریعنی افضلیت انفرادر مذہب قرارداد و شیخ محقق درماثبت بالسنہ ہموں را مختار گفت و آنانکہ افضلیت جماعت رامرجح داشتند سپید نگاشتند کہ جماعت دروتر سنتے بیش نیست بلکہ سنیت اوازسنیت جماعت تراویح نازل تر ست ودربحرالرائق وغیرہ ہمیں بہ لفظ استحباب تعبیر رفت، اینک عبارت درمختار ھل الافضل فی الوترالجماعۃ ام المنزل تصحیحان لکن نقل شارح الوھبانیۃ مایقتضی ان المذھب الثانی و اقرہ المصنف وغیرہ۱؎۔
اے اﷲ! حق اور درستگی کی رہنمائیل فرما، میرے مہربان اس مسئلہ کاحکم وہی جو اس فقیرنے لکھاہے، اور انہوں نے جن چارکتابوں کے حوالہ سھ لکھاہے کہ وتر کوجماعت سے پڑھنا مطلقاً ضروری ہے ان میں سے تین یعنی شامی، طحطاوی اور درمختارمیں قطعاً اس مفہوم کاکوئی نشان تک نہیں ہے اورتزکیۃ القیام نام کی کتاب اس فقیرنے نہ دیکھی نہ سنی، اگرواقعی یہ کتاب شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی ہے توپھرمجھے یقین ہے کہ اس کتاب میں یہ حکم ہرگز نہ ہوگا حضرت شیخجیسے قابل اعتماد عالم کے بارے میں یہ کیسے گمان کیاجاسکتاہے کہ انہوں نے ایسی بے سند بات اور خلاف اجماع تحریرکردی ہے چہ جائیکہ انہوں نے ضروری اور لابدی قراردیا ہو۔ علماء میں تویہ اختلاف ہے کہ رمضان میں وتر باجماعت پڑھناافضل ہے یاتنہا گھرمیں، جبکہ ائمہ کرام نے دونوں باتوں کو صحیح قرار ہے اور شیخ محقق نے بھی اپنی کتاب ماثبت بالسنۃ میں اسی دوسرے قول کوترجیح دی ہے اور وہ لوگ جووتر کوجماعت سے پڑھنے کوافضل کہتے ہیں ان کے نزدیک بھی وتر باجماعت، سنت سے زیادہ نہیں بلکہ یہ سنت ان کے ہاں تراویح کے سنت سے کم درجہ ہے، اور بحرالرائق میں تو اس کواستحباب سے تعبیر کیاہے، درمختارکی عبارت یہ ہے کیا وتر کی جماعت افضل ہے یاگھرمیں پڑھنا، دونوں کی تصحیح موجود ہے، لیکن وہبانیہ کے شارح نے جونقل کیااس کامقتضی یہ ہے کہ دوسراقول مذہب ومسلک ہے اسی کو مصنف وغیرہ نے ثابت کیاہے،
 (۱؎ درمختار        باب الوتر والنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۹۹)
Flag Counter