Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
112 - 158
یہ حدیث اور دیگراحادیث قنوت فجر، برخلاف شافعیہ کہ انہیں فجرمیں دوام قنوت کی دلیل ٹھہراتی ہیں صریح نوازل ہیں اور وارداُن پرمحمول، پس حاصل یہ کہ جناب سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے وقت نزول شدائد دواماً قنوت پڑھی اور جب وہ بلادفع ہوجاتی بوجہ ارتفاع ضرورت ترک فرماتے اور مشروعیت اس قنوت کی کتب حنفیہ میں بھی مصرح جیسا کہ ۱ اشباہ، ۲ درمختار،۳  بحرالرائق، ۴  غایت، ۵ ملتقط، ۶ سراج، ۷ شرح نقایہ شمنی، ۸ فتح القدیر ابن الہمام، ۹ کلام رئیس الحنفیہ امام ابوجعفر بن سلامہ طحاوی وغیرہ سے ثابت متون میں غیروترمیں قنوت پڑھنا ممنوع ٹھہرایا شارحین کرام نے قنوت نوازل کو اس سے استثناء فرمایا۔
فی الدرالمختار ولایقنت فی غیرہ الالنازلۃ فیقنت الامام فی الجھریۃ وقیل فی الکل۱؎ وفی البحرالرائق فی شرح النقایۃ معزیا الی الغایۃ وان نزل بالمسلمین نازلۃ قنت الامام فی صلٰوۃ الجھر وھو قول الثوری واحمد، وقال جمہور اھل الحدیث القنوت عند النوازل مشروع فی الصلوات کلھما۲؎ ۔
درمختارمیں ہے کہ غیروتر میں صرف قنوت نازلہ پڑھ سکتاہے اور قنوت نازلہ امام جہری نماز میں پڑھے، اور بعض نے کہا تمام نمازوں میں پڑھے، اور بحرالرائق میں ہے کہ شرح نقایہ میں غایہ کے حوالہ سے ذکرکیا کہ اگرمسلمانوں پرکوئی مصیبت نازل ہو تو امام نمازفجر میں قنوت پڑھے، یہ امام احمد اور امام ثوری کا قول ہے اور جمہورمحدثین نے کہا کہ قنوت نازلہ تمام نمازوں میں جائز ہے۔
 (۱؎ درمختار        باب الوتروالنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۹۴)

(۲؎ بحرالرائق شرح کنزالدقائق    باب الوتروالنوافل    مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۲/ ۴۴)
وفی الاشباہ والنظائر فائدۃ فی الدعاء برفع الطاعون سئلت عنہ فی طاعون سنۃ تسع وستین وتسعمائۃ بالقاھرۃ، فاجبت بانی لم ارہ صریحا، ولکن صرح فی الغایۃ وعزاہ الشمنی الیھا بانہ اذا نزل بالمسلمین نازلۃ قنت الامام فی صلواۃ الفجر وھو قول الثوری واحمد، وقال جمہور اھل الحدیث القنوت عند النوازل مشروع فی الصلوات کہما انتھی، وفی فتح القدیر ان مشروعیۃ القنوت للنازلۃ مستمرۃ لم تنسخ، وبہ قال جماعۃ من اھل الحدیث وحملو علیہ حدیث ابی جعفر عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہما مازال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقنت حتی فارق الدنیا ای عندالنوازل، وماذکرنا من اخبار الخلفاء یفید تقررہ لفعلھم ذلک بعدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقد قنت الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی محاربۃ الصحابۃ رضی اﷲ عنھم مسیلمۃ الکذاب وعندمحاربۃ اھل الکتٰب، وکذلک قنت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ، وکذلک قنت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی محاربۃ معاویۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما، وقنت معاویۃ فی محاربتہ رضی اﷲ تعالٰی عنھما انتھی، فالقنوت عندنا فی النازلۃ ثابت وھو الدعاء برفعھا ولاشک ان طاعون من اشد النوازل، قال فی المصباح، النازلۃ المصیبۃ الشیدۃ تنزل بالناس انتھی، وذکر فی السراج الوھاج قال الطحاوی ولایقنت فی الجر عندنا من غیر بلیۃ فان وقعت بلیۃ فلاباس بہ کما فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فانہ قنت شھرا فیھا یدعو علی رعل وذکوان وبنی لحیان ثم ترکہ کذا فی الملتقط ۱؎ انتھی(ملتقطا)۔
اور الاشباہ والنظائر ''طاعون کوختم کرنے میں دعا کافائدہ'' میں ہے قاہرہ میں ۹۹۹ھ میں طاعون کے موقعہ پر مجھ سے اس بارے میں سوال کیاگیا تومیں نے جواب میں کہا کہ میںنے صریح طور پر اس بارے میں نہیں دیکھا لیکن غایہ میں تصریح ہے کہ شمنی نے اس بات کو صاحبین کی طرف منسوب کیا اور کہا کہ اگرکوئی مصیبت نازل ہو تو امام نمازفجر میں قنوت پڑھے،یہ امام احمد اور امام ثوری کاقول ہے اور جمہور اہلحدیث نے فرمایا کہ تمام نمازوں میں قنوت جائزہے انتہی، اور فتح القدیرمیں ہے قنوت نازلہ جاری ہے منسوخ نہیںہے، اور اہل حدیث کی جماعت کایہ قول ہے اور انہوں نے ابوجعفر کی حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سےمروی حدیث اسی معنی پرمحمول کیاہے اور وہ یہ کہ حضورعلیہ الصلوٰہ والسلام تاحیات قنوت نازلہ مصیبت پرپڑھتے رہے، اور خلفاء کے عمل کے بارے میں جوج ہم نے ذکرکیاہے وہ بھی اس کی تائید کرتاہے کہ انہوں نے حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد یہ عمل جاری رکھا اور ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے مسیلمہ کذاب سے صحابہ کی جنگ اور اہل کتاب سے جنگ میں قنوت پڑھی، اسی طرح عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے قنوت پڑھی، اور ایسے ہی علی مرتضٰیرضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حضرت امیرمعاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے جنگ کے دوران پڑھی اور حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے جنگوں کے دوران قنوت پڑھی انتہی، پس قنوت نازلہ ہمارے ہاں مصیبت کو ختم کرنے کے لئے دعا کے طورپر ثابت ہے اور اس میں شک نہیں کہ طاعون بھی بڑی مصیبت ہے، اور مصباح میں فرمایا کہ نازلہ، لوگوں پرشدید مصیبت کے نزول کو کہتے ہیں انتہی، اور سراج الوہاج میں ذکرہے کہ امام طحاوی نے فرمایا کہ نزول مصیبت کے بغیر نمازفجر میں قنوت نہ پڑھی جائے لیکن اگرمصیبت نازل ہو تو ہمارے نزدیک قنوت پـڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے ایک ماہ قنوت پڑھی اور اس میں رعل، ذکوان اور بنولحیان پربددعا فرمائی اور پھر آپ نے ترک کردی، ملتقط میں اسی طرح ہے انتہی ملتقطا۔(ت)
 (۱؂ الاشباہ والنظائر    الفن الثالث فائدۃ فی الدعاء لرفع الطاعون         ادارۃ القرآن کراچی    ۲ /۲۶۱ و ۲۶۲)
یہاں سے ظاہر کہ اختلاف شافعیہ وحنفیہ دربارہ قنوت فجر کہ وہ علی الدوام حکم دیتے اور ہم انکار کرتے ہیں غیرنوازل میں ہے، نہ قنوت نوازل میں اور بلاشبہ طاعون ووبا اشدنوازل سے ہیں اور ان کے عموم میں داخل کما مر من الاشباہ (جیسا کہ اشباہ سے گزرا۔ت) پس اگر امام، دفع طاعون ووبا کے لئے نمازفجر میں قنوت پڑھے تو اس کے جواز ومشروعیت میں کوئی شبہ نہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۰۷ : ۸جمادی الاخری ۱۳۱۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جسے امام کے پیچھے نمازو وتر میں بھی رکعتیں فوت ہوئیں اور قنوت بھی وہ جب اپنی باقی نمازپڑھنے کو کھڑا ہو تواخیر رکعت میں دعائے قنوت دوبارہ پڑھے یاوہی جوامام کے پیچھے پڑھی کافی ہے۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب

اسی پراکتفا کرے دوبارہ نہ پڑھے کہ تکرار قنوت مشروع نہیں۔
فی الدر اما المسبوق فیقنت مع امامہ فقط۱؎۱ھ فی ردالمحتار لانہ اٰخر صلٰوتہ ومایقضیہ اولھا حکما فی حق القرائۃ ومااشبھھا واذا وقع قنوتہ فی موضعہ بیقین لایکررلان تکرارہ غیرمشروع شرح المنیۃ۲؎۱ھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
دُرمیں ہے کہ مسبوق(جس کی کوئی رکعت جماعت سے رہ جائے) صرف امام کے ساتھ قنوت پڑھے۱ھ۔ ردالمحتارمیں ہے کیونکہ امام کے ساتھ اس کی نماز کاآخری حصہ ہے اور جس کوقضاکررہاہے وہ قرأۃ وغیرہ کے اعتبار سے حکماً نماز کا اول ہے اور جب قنوت امام کے ساتھ اپنے محل میں اداہوچکی ہے تو اس کا تکرار نہ کیاجائے کیونکہ اس کاتکرار جائزنہیں، شرح منیہ۱ھ۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ درمختار        باب الوتروالنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۹۴)

(۲؎ ردالمحتار        باب الوتروالنوافل   مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۴۹۶)
Flag Counter