الذی یظھرلی ان المقتدی یتابع امامہ الا اذا جھر فیومن وانہ یقنت بعد الرکوع لاقبلہ بدلیل ان ماستدل بہ الشافعی علی قنوت الفجر وفیہ التصریح بالقنوت بعد الرکوع حملہ علماؤنا علی القنوت للنازلۃ ثم رأیت الشرنبلالی فی مراقی الفلاح صرح بانہ بعدہ واستظھر الحموی انہ قبلہ والاظھر ماقلناہ۴؎۔
میرے نزدیک ظاہربات یہ ہے کہ مقتدی بھی امام کی پیروی میں پڑھے لیکن اگرامام قنوت پڑھنے میں جہرکرے توپھرمقتدی صرف آمین کہے اور قنوت رکوع کے بعد پڑھے، پہلے نہ پڑھے، اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس سے امام شافعی رحمہ اﷲ نے فجر میں قنوت پڑھنے پراستدلال کیاہے، اس حدیث مین بعدازرکوع کی تصریح ہے۔ اس حدیث میں بعد ازرکوع قنوت کو قنوت نازلہ پرہمارے علماء نے محمول کیاہے،پھر میں نے دیکھا کہ شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں بعد از رکوع کی تصریح کی ہے اور حموی نے قبل از رکوع کوظاہر قراردیاہے جبکہ زیادہ واضح وہ ہے جو میں نے کہاہے(ت)
قلت قد ورد فعلہ قبلہ وبہ قال الامام مالک وبعدہ وبہ قال الامام الشافعی فمقتضی النظر التخییر وذکر الشرنبلالی انہ یقنت بعد الرکوع ۱؎۔
میں کہتاہوں کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کا عمل قبل ازرکوع کے بارے میں مروی ہے یہ امام مالک کاقول و مسلک ہے اور دوسری روایت میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کاعمل بعدازرکوع، مروی ہے اور یہ امام شافعی کا قول ومسلک ہے، غوروفکر سے معلوم ہوتاہے کہ دونوں طرح کااختیار ہے، اور شرنبلالی نے بعد از رکوع کوذکرکیاہے۔(ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۸۱)
ہمارے نزدیک مجتہدین کے اختلاف کامطلب دونوں طرح کی مساوات نہیں ہے جبکہ ہمارے مذہب اور ہمارے اصول کی ایک قول تائید کرتاہے تووہ راجح ہے۔(ت)
اور فقیر کے نزدیک اقرب وانسب مختار سید علامہ حموی ہے محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا:
لماترجح ذلک خرج مابعد الرکوع من کونہ محلا للقنوت فلذا روی عن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی انہ لوسھی عن القنوت فتذکرہ بعد الاعتدال لایقنت۲؎۔
جب قبل از رکوع قنوت پڑھنا ترجیح پاچکاہے تو اب رکوع کے بعد قنوت کامحل ختم ہوگیا اسی لئے امام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ اگرکوئی شخص قبل از رکوع قنوت پڑھنے کوبھول جائے اور رکوع سے کھڑاہوجائے تو اب یادآنے پرقنوت نہ پڑھے(ت)
(۲؎ فتح القدیر باب صلٰوۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۷۴)
ہاں اس میں شک نہیں کہ برتقدیر قنوت نوازل مقتدی قبلیت وبعدیت میں اتباع امام کرے گا اور اگرامام بعدرکوع پڑھے تو یہ بھی بعد ہی پڑھے گا
فانہ اذا کان یتابعہ فی قنوت الوتر بعد الرکوع مع نص المذھب انہ قبل الرکوع فھذا اولٰی۔
کیونکہ جب وتر کی قنوت میں مقتدی رکوع کے بعد پڑھنے میں امام کی پیروی کرسکتاہے حالانکہ ہمارے مذہب میں قبل ازرکوع قنوت پرتصریح موجود ہے تو اس قنوت نازلہ میں بطریق اولٰی امام کی پیروی کرسکتاہے(ت)
فتح القدیر میں ہے :
ھذا یحق خروج القومۃ عن المحلیۃ بالکلیۃ الا اذااقتدی بمن یقنت فی الوتر بعد الرکوع فانہ یتابعہ اتفاقا۱؎۱ھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ بات ثابت کرتی ہے کہ قومہ قنوت کے محل سے خارج ہے مگرجب ایسے امام کی اقتداء کی ہو جووتروں میں بعد از رکوع قنوت پڑھنے کاقائل ہو توپھر امام کی پیروی کرے، باتفاق یہ حکم ہے۱ھ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ فتح القدیر باب الصلٰوۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۷۴)
مسئلہ ۱۱۰۷ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دفع طاعون ووباء کے لئے نمازفجر میں قنوت پڑھناجائز ہے یانہیں؟ بیّنواتوجوا۔
الجواب
وقت نزول نوازل وحلول مصائب اُن کے دفع کے لئے نمازفجر میں قنوت پڑھنا احادیث صحیحہ سے ثابت اور مشروعیت اس کی مستمرغیرمنسوخ۔
روی الامام البخاری والامام مسلم فی للبخاری قال اخبرنا احمد بن یونس ثنازائدۃ عن التیمی عن ابی مجلز عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قنت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شھرا یدعو علی رعل وذکوان ۲؎ ولفظ المسلم من طریق المعتمر عن سلیمٰن التیمی عن ابی مجلز عن انس ابن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ قنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شھرا بعد الرکوع فی صلٰوۃ الصبح یدعوا علی رعل وذکوان ویقول عصیۃ عصت اﷲ ورسولہ۳؎۔
بخاری اور مسلم نے اپنی صحیحین میں اور حافظ نسائی نے اپنی سنن میں اور بخاری کے الفاظ یہ ہیں، احمد بن یونس نے خبردی کہ زائدہ نے تیمی اور انہوں نے ابومجلز سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے قنوت پڑھتے ہوئے رعل اور ذکوان پر ایک ماہ بدعا فرمائی، اور مسلم نے معتمر عن سلیمن التیمی عن ابی مجلز عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ، یہ الفاظ کہے،حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے ایک ماہ فجر کی نماز میں رکوع کے بعد رعل، ذکوان اور عصیّہ کے خلاف قنوت کے ذریعہ بدعافرمائی اور فرمایا عصیہ نے اﷲ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔
(۲؎ صحیح بخاری کتاب المغازی، باب غزوۃ الرجیع الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۵۸۷)
(۳؎ صحیح مسلم باب استحباب القنوت فی جمیع الصلوات الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱/ ۲۳۷)
وفی صحیحہ ایضا حدثنا محمد بن مھران الرازی فذکر باسنادہ عن ابی سلمۃ عن ابی ھریرۃ حدثھم ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قنت بعد الرکعۃ فی صلوات شھرا، اذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ یقول فی قنوتہ اللھم انج الولید بن الولید، اللھم انج سلمۃ بن ھشام، اللھم نج عیاش بن ابی ربیعۃ، اللھم انج المستضعفین من المؤمنین، اللھم اشدد وطأتک علی مضر، اللھم اجعلھا علیھم سنین کسنی یوسف، قال ابوھریرۃ ثم رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ترک الدعا بعد، فقلت اری رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قد ترک الدعاء لھم، قال فقیل وما تراھم قدقدموا۱؎۔
اور امام مسلم کی صحیح میں بھی یہ ہے کہ محمد بن مہران نے اپنی سند کے ساتھ ابوسلمہ سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ایک ماہ رکوع کے بعد سمع اﷲ لمن حمدہ کہنے پرقنوت پڑھی اور قنوت میں یہ پڑھا: اے اﷲ! نجات دے ولید کو، اے اﷲ! نجات دے سلمہ بن ہشام کو، اے اﷲ نجادت دے عیاش بن ابی ربعیہ کو، اے اﷲ نجات دے ضعیف مومنوں کو۔ اے اﷲ! اپنی سخت پکڑفرما مضرپر، اے اﷲ! ان پرقحط مسلط فرما جتنے سال یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں قحط نازل ہوا۔ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو دیکھاکہ آپ نے بددعاچھوڑدی تومیں نے دل میں کہا رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے بددعاچھوڑدی او ر کہا کہ مجھے کہاگیاکہ وہ حفاظ آگئے تمہارا کیاخیال ہے۔ (ت)
(۱؎ صحیح مسلم باب استحباب القنوت فی جمیع الصلوات الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱/ ۲۳۷)
عبدالرزاق، حاکم، دارقطنی باسناد صحیح بطریق امام باقر حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روای:
انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لم یزل یقنت فی الصبح حتی فارق الدنیا۲؎۔
حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یہ قنوت تاحیات پڑھتے رہے۔(ت)