کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ دعائے قنوت کا کس مصیبت کے نازل ہونے کے وقت فرض پنجگانہ میںپڑھنا یاخاص کسی وقت کے فرض نماز میں پڑھنا شرع شریف سے ثابت ہے یانہیں؟ خاص کرایام وبائے طاعون میں اور اس کے پڑھنے کامحل فرض کی آخری رکعت میں قبل رکوع کے یاقومہ میں امام اور مقتدی دونوں پڑھیں یاصرف امام بآوازبلندپڑھے اور مقتدی آمین آہستہ آہستہ کہیں بینواتوجروا۔
الجواب
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیمo اللھم لک الحمد
(اے اﷲ! تیرے لئے حمد ہے۔ت) عامہ بلکہ عام متون مذہب میں دربارہ وترارشاد ہوا:
غیروتر میں قنوت نہ پڑھے جیسا کہ فقہاء کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ مقتدی اس امام کی جو فجر میں قنوت پڑھتاہے پیروی اس معاملہ میں نہ کریں، اور انہوں نے وجہ یہ بتائی ہے کہ یہ منسوخ ہے لہٰذا یہ نئی چیزہے۔(ت)
اور محققین شراح مثل امام ابن الہام و علامہ سروجی و امام عینی شارحین ہدایہ و علامہ شمنی شارح نقایہ و علامہ ابراہیم حلبی شارح منیہ و علامہ زین بن نجیم شارح کنز و علامہ شرنبلالی شارح نورالایضاح و علامہ علائی شارح تنویر و علامہ سیدحموی شارح اشباہ وعلامہ نوح آفندی و علامہ سیدابوالسعود ازہری محشی کنز و علامہ سید محمدشامی محشیان درر وغیرہ بہ تبعیت امام اجل حافظ الحدیث ابوجعفر طحاوی ہنگام نزول مثل طاعون وغیرہ (والعیاذباﷲ تعالٰی) صرف نماز فجرمیں تجویز قنوت کی تنقیح وتنقید اور اطلاق متون کی اس سے تقیید فرماتے ہیں ۔ غنیہ المستملی و مراقی الفلاح وغیرہما میں ہے :
یہی ہمارامذہب ہے اور جمہوربھی اس کے قائل ہیں۱ھ اور اس بارے میں صحیح حدیث بخاری اور مسلم وغیرہما میں موجودہے اور وہ حضرت انس اور ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مروی ہے اور حضرت امیرالمومنین صدیق اکبر، عمرفاروق، علی مرتضٰیاور امیرمعاویہ وغیرہم رضی اﷲ عنہم کاقنوت کے بارے میں عمل اس حدیث کے مطابق تھا، میں کہتاہوں یہ وہ مسئلہ نہیں جس میں کھنچاؤپایاجائے۔(ت)
پھربرتقدیرقنوت بلاشبہہ سبیل وہی ہے جو فاضل مجیب سلمہ المجیب نے اختیارفرمائی کہ امام ومقتدی سب آہستہ پڑھیں۔
اقول وماوقع من الخلف بین ایمتنا الکرام ومشائخنا الاعلام فی قنوت الوترھل یجھرہ ام یسروھو المختار، کمافی الھدایۃ وھوالاصح، کمافی المحیط والصحیح، کما فی شرح الجامع الصغیر لقاضی خاں وھل یؤمن الماموم ام یقنت وھو السحیح المختار، کمافی المحیط والشرح المذکور وغیرھما فانما منشؤہ ان لقنوت الوتراللھم انا نستعینک الخ شبھۃ القراٰن علی ماذکروہ فکما یجھر الامام بالقراٰن فکذا بما فیہ شبھتہ وکما لایقرؤالموتم القراٰن فکذا مالہ شبھتہ کماقررہ فی الحلیۃ و الغنیۃ والبحر وغیرھا ولاکذالک قنوت النوازل وانما ھو دعاء محض فیشترک فیہ الامام و الماموم ویخفیانہ کسائر دعیۃ فانہ ھوالمندوب الیہ فی الدعاء۔
اقول ہمارے ائمہ کرام سے متاخرین اور ہمارے مشائخ عظام نے وتر کی قنوت کے بارے بحث میں جو فرمایا کہ یہ قنوت جہر پڑھی جائے یاآہستہ، توآہستہ پڑھناہی مختارہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے اور یہی اصح ہے ، جیسا کہ قاضی خاں کی شرح جامع صغیرمیں ہے۔ اور یہ کہ کیامقتدی صرف آمین کہیں یاوہ بھی قنوت پڑھیں، تو ان کا قنوت پڑھناصحیح ومختارہے جیسا کہ محیط اور مذکورشرح وغیرہما میں ہے۔ اور اس بات کی وجہ یہ ہے کہ قنوت وتر جو کہ اللھم انانستعینک الخ ہے کی قرآن سے مشابہت ہے جیسا کہ فقہاء نے بیان کیاہے لہٰذا جس طرح قرآن کاجہر کرتاہے اسی طرح قرآن کے مشابہ چیز کا بھی امام جہرکر ے اور جس طرح مقتدی قرآن کی قرأت نہیں کرتا اسی طرح قرآن کی مشابہت والی چیز کی بھی مقتدی قرأت نہ کرے جیسا کہ حلیہ، غنیہ، بحر وغیرہا میں تقریر کی گئی ہے
جبکہ قنوت نوازل کایہ مقام نہیں ہے وہ تو محض دعا ہے جس میںامام اور مقتدی مساوی شریک ہیں لہٰذا دونوں اس کو آہستہ پڑھیں گے، جس طرح تمام دعاؤں میں مستحب یہ ہے کہ آہستہ پڑھاجائے۔(ت)
مگراخفاء واجب نہیں کہ جہرگناہ ہو،
وقد صرحوابانہ اذا جھر سھوا بشیئ من الادعیۃ والاثنیۃ لایجب علیہ السجود ۱؎ کمافی ردالمحتار ولووجب لوجب کمالایخفی۔
جبکہ فقہاء نے تصریح کی ہے اگرکوئی شخص بھول کر کوئی دعاوثناء جہر سے پڑھے توسجدہ سہو واجب نہ ہوگا جیسا کہ ردالمحتارمیں ہے اور اگرقنوت نازلہ یادعا کااخفاء واجب ہوتا تو اس کے جہر سے سجدہ سہوواجب ہوتا جیسا کہ واضح ہے۔(ت)
پھراگرامام جہرکرے توبنظرحشمت امامت مقتدیوں کااس کی دعاپر آہستہ آمین کہناہی اس سے جدااپنی اپنی متفرق دعامیں مشغول ہونے سے اولٰی ہے
کما استظھرہ العلامۃ الشامی
(جیسا کہ علامہ شامی نے اس کوظاہرقراردیا ہے۔ت) رہایہ کہ قول بقنوت نازلہ پر اس کامحل قبل رکوع ہے یابعد۔ مشائخ مذہب وعلمائے متقدمین سے اس باب میں کوئی قول منقول نہیں متاخرین شراح کی نظرمختلف ہوئی ، علامہ شرنبلالی کے کلام سے بعد رکوع ہوناظاہر، علامہ شامی نے اسی کواظہرکہا، علامہ سیدحموی نے فرمایا: قبل رکوع چاہئے، علامہ ازہری نے اسے مقرررکھا۔ علامہ طحاوی نے فرمایا: مقتضائے نظرتخییر ہے چاہے قبل پڑھے یابعد۔ شرح نورالایضاح میں ہے:
قال الامام ابوجعفر الطحاوی رحمہ اﷲ تعالٰی انما لایقنت عندنا فی الفجر من غیر بلیۃ فان وقعت فتنۃ اوبلیۃ فلاباس بہ فعلہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ای بعد الرکوع کما تقدم۲؎۔
امام ابوجعفر طحاوی نے فرمایا ہے کہ ہمارے نزدیک کسی مصیبت وبلاء کے نزول کے بغیرفجر کی نمازمیں قنوت نازلہ نہ پڑھی جائے، اور اگر کوئی فنہ یابلاء واقع ہوتی ہو توپھرکوئی حرج نہیں، کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایساکیا ہے یعنی رکوع کے بعد پڑھے جیسا کہ پہلے گزرا ہے(ت)
(۲؎حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الوتر مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۲۰۶۷)