مسئلہ ۱۱۰۳ : ازدھامپور محلہ موچیاں ڈاک خانہ خاص ضلع بجنور مسئولہ غلام محمدصاحب ۸شعبان ۱۳۳۹ھ
جناب مولوی صاحب رہنمائے گمرہان دام افضالہ، بعدادائے نیازمندانہ کے معروض خدمت ہے یہاں قصبہ دھام پور میں زمرہ خلافت نے نمازمین ایک نیاطریقہ نکالاہے وہ یہ ہے کہ پانچوں وقت کی نماز میں اخیرفرض میں رکوع کرکے کھڑے ہوجاتے ہیں اور امام صاحب دعابآواز بلندپڑھتاہے اور مقتدی بآوازبلندکئی کئی مرتبہ آمین کہتے ہیں بلکہ بیس بیس مرتبہ سے زیادہ مقتدی آمین کہتے ہیں بعدہ، سجدہ میں جاکر سلام پھیرتے ہین، عالی جاہ! ہمارے امام صاحب حنفی کے طریقہ میں یہ نمازجائز ہے یاناجائز؟ یاکہ کسی اصحاب نے یاکہ امامین میں سے کسی نے پڑھی ہے؟ اور اس طریقہ سے نمازہوتی ہے یاکہ فاسد ہوجاتی ہے؟ ہم کو اس نماز میں شریک ہوناچاہئے یانہیں؟
الجواب
یہ طریقہ قنوت نازلہ کاہے جومتون مذہب حنفی کے خلاف ہے مگربعض شراح نے اجازت دی ہے اس سے بھی چارباتوں میں مخالف ہے:
اول : بعد رکوع ہمارے نزدیک محل قنوت ہی نہیں
کماحققہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر
(جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیرمیں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)
دوم :امام کاجہر سے دعاپڑھنا مخالف قرآن کریم ومذہب حنفی ہے۔
سوم : یونہی مقتدیوں کاآمین بالجہر۔
چہارم: قنوت نازلہ ہمارے یہاں صرف نماز فجرمیں ہے اور بعض کتب میں نمازجہر واقع ہوا، اپانچوں نمازوں میں ہونا ہمارے یہاں کی کاقول نہیں تو ہمارے نزدیک اس کے سبب تاخیرفرض لازم آئے گی اور اس کے سبب نمازواجب الاعادہ ہوگی ایسی نماز میں شرکت نہ کی جائے جبکہ خالص حنفی جماعت مل سکتی ہو اور شرکت کی ہو ظہروعصربلکہ عندالتحقیق غیرفجر کااعادہ کرلیں بلکہ فجر کابھی جبکہ لوگ بعد رکوع قنوت کریں کہ مذہب حنفی میں خلاف محل ہے اگرچہ شامی و شرنبلالی کو شبہہ ہوا، وہ مذہب میں صاحب قول نہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۰۴ تا ۱۱۰۵ : ازکوہ کسوٹی کمسریٹ روٹی گودام مسئولہ عبداﷲ ۱۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ عرصہ ایک سال سے میں سناکرتاہوں کہ:
(۱) اس جگہ اور دیگر شہروں میں ایک نماز واجباً پڑھی جارہی ہے جس کا ثبوت مجھ کو آج تک کسی نے نہ دیا اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ حدیث کی کتابوں میں دیکھو توتم کومعلوم ہوجائے گا، نماز اس طرح پڑھی جاتی ہے کہ ہرایک فرض نماز کی آخررکعت میں بعدرکوع امام کچھ پڑھتاہے اور مقتدی آمین کہتے ہیں اور استفسار کرنے پر کہ امام کیا پڑھتا ہے یہ جواب ملتاہے کہ دعائے قنوت پڑھی جاتی ہے اور اگردعائے قنوت کی عربی دریافت کی جاتی ہے تو اس سے صاف جواب۔ سخت حیرت اور تعجب کامقام، میں مسجد جانے سے قاصر بلکہ مستثنیٰ، اس وجہ سے یہ مسئلہ حل طلب بہت ضروری ہے۔
(۲) اس خادم کی نظر سے ربع اول ''مظاہرحق'' جلداول کتاب الصلٰوۃ باب القنوت مندرجہ ذیل احادیث گزریں جس سے بالکل حضور سرورکائنات صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاامرظاہر نہیں ہوتا کہ آپ نے امت کے لوگوں کو امرکیا ہوکہ وہ بھی اس کوپڑھاکریں بلکہ حدیث خودظاہر کررہی ہے کہ حضور نے بفرمان ربی اس کو ترک کردیا، فصل اول کتب مذکور:
وعن ابی ھریرۃ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان اذا اراد ان یدعو علی احد اویدعولاحد قنت بعد الرکوع فربما قال اذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ ربنا لک الحمد اللھم انج الولید وسلمۃ بن ھشام وعیاش بن ابی ربیعۃ اللھم اشدد وطأتک علی مضر سنین کسنی یوسف یجھر بذلک وکان یقول فی بعض صلوتہ اللھم العن فلانا وفلانا لاحیاء من العرب حتی انزل اﷲ لیس لک من الامرشیئ الایۃ متفق علیہ وعن عاصم الاحول قال سئلت عن انس بن مالک عن القنوت فی الصلٰوۃ کان قبل الرکوع اوبعدہ قال قبلہ انما قنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد الرکوع شھرا انہ کان بعث اناسا یقال لھم القراء فاصیبوا فقنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد الرکوع شھرا یدعوا علیھم متفق علیہ فصل ثانی کتاب مذکور عن ابن عباس قال قنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شھرا متتابعا فی الظھر والعصر والمغرب والعشاء وصلٰوۃ الصبح اذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ من الرکعۃ الاخیرۃ یدعوا علی احیاہ من بنی سلیم، رعل وذکوان وعصیۃ ویومّن من خلفہ رواہ ابوداؤد، وعن انس ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قنت شھرا ثم ترکہ۔ رواہ ابوداؤد والنسائی۔
حضرت ابوہریرہ رضی ا ﷲتعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام جب کسی کے خلاف یا کسی کے حق میں دعافرمانے کاارادہ فرماتے تو کبھی رکوع کے بعد سمع اﷲ کہہ کریوں فرماتے: اے اﷲ! ولید، سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اﷲ! قبیلہ مضر کوسخت پکڑ، ان پرقحط نازل فرما جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے زمانے میں قحط نازل ہوا، اور یہ بدعابلندآواز سے پڑھتے اور کبھی آپ کسی نمازمیں یوں پڑھتے: اے اﷲ! فلاں وفلاں پرلعنت فرما۔ اس سے مراد عرب کے بعض قبائل مراد ہوتے، حتی کہ اﷲ تعالٰی نے آیہ کریمہ نازل فرمائی کہ اے پیارے حبیب! یہ معاملہ آپ کے ذاتی اختیارمیں نہیں ہے۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور حضرت عاصم احول رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے پوچھاکہ کیانماز میں قنوت رکوع سے پہلے تھی یابعد میں، توانہوںنے فرمایاپہلے تھی، حضورعلیہ السلام نے صرف ایک ماہ رکوع کے بعد قنوت پڑھی کیونکہ آپ نے قراء کی ایک جماعت کو تعلیم کے لئے بھیجا توان کو راستہ میں شہیدکردیاگیا، تو اس واقعہ پر حضورعلیہ السلام نے ایک ماہ رکوع کے بعد قاتلین پر بدددعافرمائی (متفق علیہ) کتاب مذکور کی دوسری فصل میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰیعنہ سے مروی ہے کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے ایک ماہ مسلسل ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نماز میں قنوت پڑھی اور جب نماز کی آخری رکعت کے رکوع کے بعد سمع اﷲ لمن حمدہ کہتے تو اس وقت عرب کے قبائل بنی سلیم، ذکوان اور عصیہ پر بددعا فرماتے اور مقتدی آمین کہتے۔ اس کوابوداؤد نے روایت کیاہے اور حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضورعلیہ السلام نے یہ قنوت ایک ماہ پڑھ کر پھرچھوڑدی، اس کو ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیاہے۔(ت)
چونکہ حنفی مذہب کے مطابق آمین آواز سے کہناروکاگیاہے مگراب توپورے پندرہ منٹ آمین اس زور سے کہی جاتی ہے کہ مسجد گونج اُٹھتی ہے بلکہ نماز جمعہ میں لوگوں کی کثرت سے آمین کاشور توحد درجہ بڑھ جاتاہے اس بستی میں صرف ایک مسجد ایک قبرستان ہے، مذہب حنفی کے سب پیروہیں، امام مسجد جن سے اس کارواج ہواہر شخص کومجبورکررہے ہیں کہ اس کی ادامیں اگرکوئی قاصرہوگا اسلام سے خارج سمجھاجائے گا اس کا جنازہ مسلمان نہیں اُٹھائیں گے بسبب ملازمت لوگ باہر سے آتے ہیں ان کے لئے ایسا نادرشاہی ھکم بہت گراں ہورہاہے اور بے وقت پردیس میں موت ہونے کے لحاظ سے مجبوراً اداکررہے ہیں وہی مثل کہ ''زبردست مارے رونے نہ دے''، اور حنفیہ ''قہردرویش برجان درویش'' کے مصداق ہورہے ہیں۔ والسلام
الجواب
(۱) اصل مسئلہ متون یہ ہے کہ وتروں کے سوا کسی نمازمیں دعائے قنوت نہیں، تنویرالابصار وغیرہ میں ہے:
مگرامام طحاوی وغیرہ شراح نے معاذاﷲ کسی نازلہ یعنی عام مصیبت کے وقت اس کے دفع کے لئے بھی قنوت جائررکھی، اسی بارے میں حدیث ہے:
قنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شھرا علی عدۃ قبائل من الکفار۲؎۔
حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے عرب کے چندقبائل کے خلاف قنوت ایک ماہ پڑھی۔(ت)
(۲؎ شرح معانی الآثار باب القنوت فی صلٰوۃ الفجر وغیرہا مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱/ ۱۲۸)
اس کے لئے کوئی دعا مخصوص نہیں بلکہ جو بلامثل طاعون ووبا یاغلبہ کفار والعیاذ باﷲ تعالٰی اس کے دفع کی دعا کی جائے گی، تحقیق یہ ہے کہ قنوت صرف نمازفجر میں ہے
وما وقع فی بعض الکتب فی صلٰوۃ الجھر فمصحف من صلوۃ الفجر
(جو بعض کتب میں آیا ہے کہ جہروالی نماز تو یہ ''جہر'' بدل گیاہے اصل فجر ہے۔ت) اور تحقیق یہ ہے کہ فجر کی دوسری رکعت میں بعد قرأت قبل رکوع ہو
لان مابعد الرکوع قد خرج عن محلیۃ القنوت کما حققہ المحقق فی الفتح
(کیونکہ رکوع کے بعد قنوت کامحل نہیں ہے جیسا کہ محقق نے اسے فتح میں ثابت کیاہے۔ت) اور امام ومقتدی سب آہستہ پڑھیں
لانہ دعاء وسنہ الدعاء الاخفاء
(کیونکہ وہ دعاہے اور دعا کاطریقہ اخفاء ہے۔ت) جن مقتدیوں کویاد نہ ہو وہ آہستہ آہستہ آمین کہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲) اوپربیان ہوا کہ اس قنوت کا جوازہی ظاہرمتون مذہب حنفی کے خلاف ہے نہ کہ معاذاﷲ اس پرایسااصرار کہ جونہ کرے خارج ازاسلام سمجھاجائے اور مسلمان اس کاجنازہ نہ اٹھائیں، یہ ظلم اور اشد ظلم ہے اور سخت کبیرہ ہے اور اﷲ ورسول پرافتراء اورنئی شریعت دل سے گھڑنا اورمسلمانوں کوناحق معاذاﷲ کافربنانا اور بحکم ظواہر احادیث خود کافربننا ہے
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقد باء بہ احدھما
(رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں میں سے ایک اس کو اپنے پر وارد کرے گا۔ت) اور آمین بالجہر مذہب حنفی میں کہیں نہیں، ہاں اشراح ، وقت نازلہ قنوت اسی طریقہ پرروا رکھتے ہیں جس کی تحقیق اوپربیان ہوئی اور حدیث فعلی بھی مثل حدیث قولی حجت ہے
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صلوا رأیتمونی اصلی۳؎
(اس لئے کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایسے نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا۔ ت)