Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
107 - 158
فریب ۳: اشباہ میں فرمایا تھا:
فائدۃ فی الدعاء برفع الطاعون سئلت عنہ فاجبت بانی لم ارہ صریحا۱؎۔
یعنی فائدہ طاعون دورہونے کی دعامیں، مجھ سے اس کا سوال ہواتھا میں نے جواب دیا کہ اس کی تصریح میں نے نہ دیکھی۔
 (۱؎ الاشباہ والنظائر    فائدہ فی الدعاء لرفع الطاعون    مطبوعہ مطبع ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۲/ ۲۶۱)
پھر غایہ شمنی وفتح القدیر کی وہ عبارتیں نقل فرمائیں کہ نازلہ کی قنوت پڑھے، پھر فرمایا:
فالقنوت عندنا فی النازلۃ ثابت، ولاشک ان الطاعون من اشد النوازل۲؎۔
یعنی ان عبارات سے واضح کہ ہمارے نزدیک بلامیں قنوت ثابت ہے اور شک نہیں کہ طاعون سخت تربلاؤں میں سے ہے۔
(۲؎الاشباہ والنظائر    فائدہ فی الدعاء لرفع الطاعون    مطبوعہ مطبع ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی   ۲/ ۲۶۲)
پھر اس دعوے کے ثبوت کو کہ نازلہ ہرشدت وسختی کوعام ہے مصباح و قاموس و صحاح کی عبارات مذکورہ سابق نقل فرمائیں پھر عبارت سراج وہاج و ملتقط و کلام امام طحاوی ثبوت مؤکد قائم فرمایا کہ جوکوئی بلاہو اس کے لئے قنوت پڑھنے میں حرج نہیں کسی عاقل غیرمجنون کے نزدیک اس کلام کے معنی سوااس کے کچھ نہیں ہوسکتے کہ طاعون کے لئے قنوت پڑھی جانے کوفرمارہے ہیں، لاجرم علامہ سیدشرف طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں فرمایا:
فی الاشباہ یقنت للطاعون لانہ من اشد النوازل۳؎۔
یعنی اشباہ میں ہے کہ طاعون کے لئے قنوت پڑھے اس لئے کہ وہ سخت تربلاؤں میں سے ہے۔
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی    باب الوتر            مطبوعہ نورمحمد تجارت کتب کراچی        ص۲۰۶)
اب مصنف ''ضروری سوال'' کی سنئے ''اشباہ والنظائر والے صاحب نے فرمایا ہے لوگوں نے مجھ سے پوچھا طاعون میں قنوت پڑھنے سے سومیں نے جواب دیا کہ صریح مسئلہ اس کاکہیں نہیں دیکھا میں حکم کرنہیں سکتا''۔ اول تو سوال خاص قنوت طاعون سے ہونابنادیا کہ جوجواب گھڑاجائے گا وہ بالتخصیص صراحۃً اسی پروارد ہو، پھرجواب میں یہ لفظ اپنی طرف سے بڑھادئیے کہ ''میں حکم کرنہیں سکتا'' حالانکہ عبارت اشباہ میں اس کا وجود مفقود بلکہ بالتصریح اس میں قنوت کاحکم دینا موجود، اسے کس درجہ کی تحریف وبددیانتی ومغالطہ و فریب دہی کہاچاہئے
والعیاذ باﷲ رب العلمین ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
مخالفت توبہ نامہ خود اس "ضروری سوال" سے بھی پیدااولاً اس میں اپنے طرفداروں کے ایک رسالے کی نسبت لکھاتھا کہ ''اُس میں سادات کرام وعلمائے عظام کی شان وعظمت کے خلاف الفاظ رکیکہ برتے گئے ہیں واقعی یہ کمال درجے کی بے ادبی میرے طرفداروں سے توگویا مجھی سے ہوئی میں ﷲ اُن کل حضرات بابرکات سے معافی چاہتاہوں خواہ حضرات سادات وعلماء اہل سورت خواہ اہل بمبئی خواہ آفاقی ''وہاں تو آج کل کے علما کو جو آپ کے طرفداروں نے کچھ الفاظ رکیکہ لکھے ا س سے معافی چاہی ور ''ضروری سوال'' میںخود آپ اکابرسابقین علمائے عظام وفقہائے کرام وسادات فخام مثل امام نووی و امام ابن حجر و امام طیبی و علامہ ابن ملک و محقق زین العابدین ابن نجیم ومولیٰنا علی قاری مکی وسیدعلامہ شامی وامثالہم کومعاذاﷲ کذب وبہتان کی طرف نسبت فرمارہے ہیں شاید یہ الفاظ رکیکہ نہ ہوں گے۔
ثانیاً اس میں لکھاتھا ''واﷲ باﷲمیں مذاہب اربعہ کو سچے دل سے حق مانتاہوں'' یہاں صراحۃً قنوت فجر کوکہ مذہب امام مالک وامام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہما ہے بدعت وضلالت وفی النار بتایا ادھر قنوت طاعون ووبا کو کذب وبہتان ٹھہرایا، شراح حنفیہ سے قطع نظر بھی کیجئے تو ائمہ شافعیہ کے یہاں اس کی صریح تصریحیں موجود، اور امام ابن حجر مکی نے خود مام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے بیان مذہب میں اسے ذکرفرمایا۔
ثالثاً اسی میں لکھاتھا: ''جمہورعلماء کااتباع اختیارکیااولیائے کرام نذرونیاز عرفی میں جبکہ فقہائے کرام نے تصفیہ کردیا ہے اور مستحسن کررکھاہے توہم انہی کی پیروی کریں یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے لیکن بندہ اپنے پرانے خیالات سے بازآکر اولیاء کی نذرونیازعربی جوفی زماننا خاصما عوام میں مروج ہے کہ اس کو مستحسن جانتاہوں سوائے اس کے میری تصانیف میں جوبات خلاف اقوال جمہورعلما ہو اس کو واپس لیتاہوں اور عہد کرتاہوں کہ آئندہ علمائے کرام کے مخالف کوئی مسئلہ نہیں کہوں گا'' اور یہاں نہ ظاہرارشاد جمیع متون پر اقتصارلیانہ طریقہ مصرحہ جمہور شارحین اختیارکیا، سب کے مخالف مسئلہ لکھ دیا یہ ''ضروری سوال'' کی مخالفتیں تھیں۔
رابعاً شرائط بحث میں توصراحۃً اس توبہ کوتوڑدیا نذرونیاز عرفی اولیائے کرام قدست اسرارہم جوفی زماننا مروج ہے ظاہرہے کہ زمانہ صحابہ وتابعین وتبع تابعین میں اس پرکوئی نزاع قائم نہ ہوئی نہ اس کاکوئی تصفیہ اس وقت کے فقہائے کرام نے کیا تولاجرم توبہ نامے میں جمہورعلمائے متاخرین ہی کی پیروی کولکھااور ان کی مخالفت کاعہد کیاتھا اب شرئط ثلثہ کی بحث میں قرون ثلثہ کے متاخرین متقدمین سب کوبالائے طاق رکھ کر صاف لکھ دیا کہ سنددین میں اصول وفروع مسائل میں زمانہ خیرالقرون کی ہونی چاہئے یعنی صحابہ وتابعین وتبع تابعین اور اس پر عمل بھی جاری ہوا بُوئے وہابیت پیداہونے کو اوّلاً وثانیاً ضروری سوال ہی کی وہ تقریریں کہ ''یہ ارشاد فقہاکذب وبہتان ہے اور وہ مذہب ائمہ بدعت وضلالت وفی النار ہے'' کافی تھیں۔
ثالثاً مگرشرائط بحث میں توصاف صاف وہی معمولی تقریر وہابیہ کہ ''قرون ثلثہ کی سند معتبرہے'' باقی سب باطل صراحۃً لکھ دی اور اس کے ساتھ اور تنگی بڑھادی کہ صحابہ وتابعین کی سندبھی مقبول نہیں جب تک اس پر عمل نہ جاری ہواہویہ باتیں ضروروہابیت کی ہیں۔
رابعاً اور شرط لگائی کہ ''کوئی مسئلہ کسی کتاب میں بے سندلکھاہو وہ بغیراسناد کے تسلیم نہ کیاجائے گا'' ہرشخص جانتاہے کہ کتب فقہیہ متون وشروح وفتاوٰی کسی میں ذکراسناد نہیں ہوتا تو اس شرط میں صاف بتادی کہ کتب فقہ مہمل وناقابل عمل ہیں ان کامسئلہ تسلیم نہ کیاجائے گا، یہ اول نمبر کی وہابیت غیرمقلدی ہے ان وجوہ سے ضرورظاہرہوتاہے کہ زیداپنی قدیم وہابیت پرباقی ہے
والعیاذباﷲ تعالٰی واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
بالجملہ ان تمام بیانات جلیلہ سے واضح ہوا کہ۱، ''ضروری سوال'' کی تحریر ہمارے علمائے کرام کے خلاف ہے۔  وہ ۲ سراسر غلطیوں سے بھری ہے، ۳جواسے صحیح بتائے سخت جاہل ونافہم ہے، ۴ضروری سوال کامصنف علم دین سے بہرہ نہیں رکھتا، ۵وہ نہ عبارت سمجھ سکتاہے ، ۶نہ ترجمہ کی لیاقت رکھتاہے پھرمطلب ۷سمجھنا توبڑا درجہ ہے ، ۸وہ خود اپنا لکھانہیں سمجھتانہ نافع ومضر میں تمیرکرتاہے اور ۹ اس کے ساتھ کلمات علماء کوبدلنا، گھٹانا، بڑھانا، مغالطہ، عوام کوکچھ کاکچھ مطلب بنانا، علاوہ ہے ایسابے علم وکج فہم ہرگز فتوٰی   دین کی قابلیت نہیں رکھتا نہ اسے فتوٰی  پر اعتماد ہوسکتاہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم و مسندامام احمدو جامع ترمذی و سنن ابن ماجہ میں حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲتعالٰی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتخذالناس رؤساجھا لا فسئلوفافتوا بغیرعلم فضلوا واضلوا ۱؎۔
لوگ جاہلوں کوسردار بنائیں گے ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے وہ بغیرعلم کے فتوٰی دیں گے آپ بھی گمراہ ہوں گے اوروں کوبھی گمراہ بتائیں گے۔
(۱؎ صحیح بخاری        کتاب العلم باب کیف یقبض العلم    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۲۰

صحیح مسلم    کتاب العلم  باب رفع العلم وقبضہ الخ        مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی    ۲/ ۳۴۰)
اس صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ جو ایسے شخص کے فتوے پراعتماد کرے گا گمراہ ہوجائے گا نیز ۱۱اس کے اقوال و کلمات سے یہ بھی ظاہرہوا کہ وہ فقہائے کرام کی شان میں گستاخ ہے ارشادات علماء کوکذب وبہتان بتاتااور مذہب اہل حق کوضلالت وفی الناربتاتا اور تمام کتب فقہ کومہمل وبیکارٹھہراتاہے اس نے اپنی توبہ توڑی اور قدیمی وہابیت اب تک نہ چھوڑی مسلمانوں کو اس کی صحبت سے احترازچاہئے کہ بحکم صحیح گمراہی میں پڑنے کا اندیشہ ہے ایسی حالت جو اس کی اعانت کرے گمراہی کی بنیادقائم کرتاہے ہاں اگروہ پھر ازسرنو ان تمام حرکات سے تائب ہواور ایک زمانہ ممتد گزرے جس میں اس سے وہ باتیں صادر ہوں جن سے اس کی توبہئ دوم کابرخلاف توبہ اول سچا ہوناظاہر ہوتو اس وقت اس سے تعرض نہ کیاجائے گا مگر اس کے فتوے پر اعتماد پھر بھی نہیں ہوسکتا ک اس قدر س اس کاجہل زائل ہوکر عالم نہ ہوجائے گا لاکھوں عوام سنی المذہب بحمداﷲ ایسے ہیں جن سے تمام عمر میں کبھی کوئی بات بدمذہبی یاگستاخی شان ائمہ وفقہا وکتب فقہیہ کی صادر ہی نہ ہوئی مگرجبکہ وہ بے علم ہیں مفتی نہیں بن سکتے۔ اﷲ عزوجل خذلان سے بچائے اور بطفیل خاکپائے بندگان بارگاہ بیکس پناہ حضور پرنورسیدیوم النشور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم توفیق علم وعمل عطافرمائے
اٰمین اٰمین اٰمین والحمد ﷲ رب العٰلمین وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا واٰلہٖ صحبہٖ اجمعین اٰمین۔

واﷲ تعالٰی سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ وجل مجدہ اتم واحکم کتبہ محمد ن المعروف بحامد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن النبی الامی صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم۔
اور اﷲ تعالٰی پاک وبلند زیادہ علم والاہے اور اس کا علم اتم اور زیادہ محکم ہے۔ اس کو لکھا محمدالمعروف حامد رضابریلوی نے، اﷲ تعالٰی اس کو اپنے پیارے اُمیّ نبی محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلہ سے معاف فرمائے۔(ت)
فی الواقع یہ تفصیل کہ قنوت نازلہ جائز ہے مگر اس کاجواز صرف ایک نازلہ سے خاص، باقی اس میں ناجائز، ہمارے ائمہ کرام کامذہب نہیں، مصنف ''ضروری سوال'' کی تحریروں ے اس کی جہالت وبطالت صاف ظاہرہے بیشک ایسے شخص کو مفتی بنناحلال نہیں، نہ اس کے فتوے پراعتمادجائز، مجیب سلمہ القریب المجیب نے جواموربالجملہ میں لکھے ضرورقابل لحاظ ومستحق عمل ہیں مسلمانوں کو ان کی پابندی چاہئے کہ باذنہٖ تعالٰی مضرت دینی سے محفوظ رہیں۔
وباﷲ العصمۃ واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم کتبہ عبدہ المذنب احمدرضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
اﷲ کی رحمت سے ہی حفاظت ہے اور اﷲ تعالٰی سبحانہ، زیادہ علم والاہے۔ اس کوگنہگار بندے احمدرضابریلوی نے لکھا اسے حضرت محمدمصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے وسیلہ سے معافی ہو۔(ت)
Flag Counter