(۵؎ فتح الباری شرح البخاری غزوۃ الرجیع ورعل وذکوان الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۸/ ۳۹۱)
زرقانی شرح مواہب میں ہے:
فی الطبرانی من طریق ثابت عن انس ان قاتل حرام بن ملحان اسلم وعامر بن الطفیل مات کافرا کما تقدم انتھی من الفتح۱؎۔
طبرانی میں ثابت کے طریق سے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حرام بن ملحان کاقاتل مسلمان ہوگیا اور عامربن طفیل کفرپر مرا جیسا کہ پہلے فتح الباری سے گزرا انتہی۔(ت)
(۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب سریہ بئرمعونہ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۷۶)
سابعاً ان سب سے قطع نظر کے بعد اس میں ایک غلطی یہ ہے کہ ''جب وہ خط عامرنے پڑھا آگ بگولہ ہوگیا''۔ کتب سیر میں تصریح ہے کہ اس خبیث نے فرمان اقدس تک نہیں۔ سیرت ابن اسحق و سیرت ابن ہشام و مواہب لدنیہ میں ہے:
لما اتاہ لم ینظر الی الکتاب۲؎
(جب اسے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا خط ملا تو اس نے خط نہ پڑھا۔ت)
(۲؎ مواہب لدنیہ سریہ بئرمعونہ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۴۲۶
تاریخ الخمیس سریہ منذر بن عمرو الی بئر معونہ مطبوعہ مؤسسۃ شعبان بیروت ۱/ ۴۵۳)
ثامنا سخت غلطی فاحش یہ ہے کہ ''منذر کوزندہ قیدکرلیا'' حالانکہ منذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ عین معرکہ میں شہید ہوئے، معالم التنزیل( ف) میں ہے:
قتل المنذر بن عمرواصحابہ الاثلثۃ نفر کانوا فی طلب ضالۃ لھم۳؎الخ
منذر بن عمر اور اس کے ساتھی شہید ہوئے صرف وہ تین بچے جوایک گم شدہ کی تلاش میں گئے تھے الخ۔(ت)
(۳؎ معالم التنزیل)
ف: معالم التنزیل میں منذر بن عمرو کا ذکر دوجگہ (ص۴۱۷ و ۴۴۸) پرنظر سے گزراہے وہاں یہ عبارت نہیں مل سکی البتہ تاریخ الخمیس میں معالم التنزیل کے حوالے س بعینہٖ یہی عبارت نقل کی ہے اس لئے تاریخ الخمیس سے حوالہ نقل کیاہے۔نذیراحمد
مدارج میں ہے:
تمام اصحاب شہید شدند الامنذر بن عمروباوگفتند اگر خواہی تراامان دہیم اوامان ایشاں راقبول نہ کرد و باایشاں مقاتلہ کردتاشہید شد۴؎۔
تمام صحابہ شہید ہوگئے مگر منذر بن عمرو کو انہوں نے کہا اگرتوچاہے توہم تجھے امن دیں مگر اس نے ان کا امن قبول نہ کیا اور ان سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔(ت)
لمارأوھم اخذواسیوفھم ثم قاتلوھم حتی قتلوا من عند اخرھم یرحمھم اﷲ الاکعب بن زید اخابن دینار بن النجار فانھم ترکوہ وبہ رمق فارتت من بین القتلی فعاش حتی قتل یوم الخندق شہیدا یرحم اﷲ۱؎
جب کفار نے مسلمانوں کو دیکھا توکفار نے ان سے تلواریں چھین لیں اور پھر ان کوشہید کردیا مگرانہوں نے کعب بن زید، دیناربن نجار کے بھائی کو زخمی حالت میں چھوڑدیا اور لاشوں میں سے وہ زندہ رہے اور بعد میں وہ اپنی زندگی میں جنگ خندق میں شریک ہوئے اور وہاں وہ شہید ہوئے، رحمہ اﷲ تعالٰی(ت)
خود حدیث میں ہے حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے خبردی۔
ان اخوانکم لقوا المشرکین فاقتطعوھم فلم یبق منھم احدوانھم قالوا ربنا قومنا انا قدرضینا ورضی عناربنا فانا رسولھم الیکم قدرضوا ورضی عنھم۴؎ رواہ الحاکم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
تمہارے بھائی مشرکین سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے ان میں سے کوئی نہ بچا اور انہوں نے شہید ہوتے ہوئے یہ دعا کی کہ اے ہمارے رب! ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچادے کہ ہم اﷲ تعالٰی سے راضی ہوئے اور اﷲ تعالٰی ہم سے راضی ہوا، حضورعلیہ السلام نے فرمایا میں ان کاپیغام تمہیں پہنچارہاہوں کہ وہ بھی اور اﷲ بھی راضی ہوا۔ اس کو حاکم نے ابن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
(۴؎ المستدرک علی الصحیحن کتاب الجہاد قول الشہدا ربنا بلغ الخ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲/ ۱۱)
فریب دہی عوام:
جہالت واغلاط کثیرہ کے ساتھ فریب دہی عوام بھی ''ضروری سوال'' میں ضرورہے:
فریب ۱: حدیث مذکور ابن حبان ذکر کی جو صراحۃً مطلق تھی کہ رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم نمازصبح میں قنوت نہ پڑھتے مگر جب کسی قوم کے نفع یاضرر کی دعا فرمائی ہوتی تومصنف ''ضروری سوال'' نے اس کاترجمہ لکھ کرمعاً جوڑلگادیا ''یعنی سوا اس کے پیمبرخداصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور کسی مصیبت پرقنوت نہیں پڑھتے تھے'' جس سے عوام سمجھیں حدیث مین کسی خاص مصیبت کاذکرہے اسی کے لئے قنوت پڑھنے کاثبوت ہےباقی بے ثبوت، اس مغالطے سے جو فائدہ اٹھاناچاہا اسے یہیں ظاہر بھی کردیا کہ ''اب یہان سے سمجھاگیا کہ کفار ظلم کریں تونمازفجر میں نصرت چاہے، طاعون یاوبا کے لئے قنوت ثابت نہیں'' حالانکہ ہرابجدخواں عربی بتاسکتاہے یہ محض دھوکادیاہے حدیث میں اصلاً کسی مصیبت خاص کانام نہیں جس کے غیر پرنفی قنوت ہو۔
فریب ۲: قنوت نازلہ خود بھی غیرمنسوخ مانی اگرچہ خاص ایک نازلے میں۔ اب جو اس پرسند پیش کرنی ہوئی تو علامہ طحطاوی و علامہ شامی و محقق سامی بحر طامی صاحب اشباہ نامی کادامن پکڑا کہ ''چنانچہ حاشیہ درمختار طحطاوی و علامہ شامی و اشباہ والنظائروغیرہ وغیرہ نے اس کی تصریح کی ہے'' حالانکہ اوپر واضح ہوچکا کہ یہ علمائے کرام تونہ صرف تعمیم نوازل بلکہ خاص طاعون ہی کے لئے قنوت ثابت کرتے ہیں جس کے سبب معاذاﷲ اس شخص کے نزدیک کذب وبہتان میں پڑے ہیں ان کے کلام پورے طورپرنقل نہ کرنا درکنار جوعبارت ان کے نام سے نقل کی اس میں دوکارروائیاں کیں، ایک یہ کہ خود ان کے ترجمہ کلام میں وہ الفاظ ملادئیے جو اپنے ساختہ مذہب کے مطابق تھے، دوسرے یہ کہ ایک عربی عبارت اپنی طرف سے بناکر اس کلام سے ملادی اور سب کا ایک ساتھ ترجمہ کردیا جس سے ناواقف کودھوکا ہوکہ یہ ساراکلام ان علمائے کاہے، وہ نقل وترجمہ ملخصاً یہ ہے: ''وغیرہ وغیرہ نے اس کی تصریح کی ہے اور وہ یہ ہے کہ
ترجمہ اور مقرر قنوت پڑھی ابوبکرصدیق اور عمرفاروق اور حضرت علی اور حضرت معٰویہ نے پس قنوت بیچ واقع ہونے سختی اور فتنہ اور فساد اور غلبہ کفر اشرار کے ثابت ہے سوسمجھ اور غنیمت جان، اب کہتاہوں میں کہ مراد نازلہ سے اس جگہ وہی نازلہ مراد ہے جومذکورہواہے حدیثوں میں، اور نہیں(عہ) خیال کیاجاوے گا اوپرغیراس نازلہ کے اعنی ہرایک نازلہ نہیں''۔
عہ:اس خوبی علم کودیکھئے کہنایہ مقصود ہے کہ لایقاس علیہ غیرہ اورنازلہ اس پرقیاس نہ کیاجائے گا اور کہایہ کہ لایقاس علی غیرہ نہ قیاس کیاجائے گا اوپرغیراس نازلہ کے۔(م)
ترجمہ اصل میں "فتنہ وفساد وغلبہ کفاراشرار" لفظ بڑھادئیے کہ نرے بے علم کہیں دیکھو جوبات مولوی صاحب نے کہی تھی وہی ان کتابوں میں لکھی ہے ورنہ اصل عبارت علماء میں نہ ان لفظوں کااصلاً پتانہ اس غرض فاسد کے سواترجمہ میں اس پیوند کاکوئی منشا، پھر
قلت سے آخر تک ایک عبارت عربی گھڑکر عبارت سے ملادی اور اس کاترجمہ اردوکیا کہ ناواقف کم علم جانیں یہ قلت اُنہی علمانے فرمایا ہے ورنہ یہ کہیں کادورنہیں کہ اردورسالے میں جوبات اردوہی زبان میں ظاہرکرنی ہو اسے پہلے عربی میں بولیں پھر اپنی عربی کی اردوکریں اور
کلام علماء میں قلت ہزارجگہ ہوتاہے توصاف اسی طرف ذہن جائے گا کہ یہ کلام بھی اُنہی کاہے۔