Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
105 - 158
فتح الباری و عمدۃ القاری و ارشاد الساری شروح صحیح بخاری میں ہے:
قولہ وان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الخ حدیث اخروھو عند (البخاری) بالاسناد المذکور کانہ سمعہ ھکذا فاوردہ کما سمعہ زاد العینی وقد اخرجہ احمد کما اخرجہ البخاری۲؎۔



قولہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الخ
(یہ دوسری حدیث ہے اور یہ بخاری کے ہاں مذکورہ سند سے ہی مروی ہے، گویاانہوں نے اسی طرح سن کر شامل کرلیا۔ اور عینی نے یہ بات زیادہ لکھی کہ اس کو امام احمد نے بھی تخریج کیا جس طرح اس کو امام بخاری نے تخریج کیا۔(ت)
 (۲؎ عمدۃ القاری شرح بخاری   ابواب الاستسقاء باب دعاء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الخ  مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت    ۷/ ۲۶

فتح الباری    ابواب الاستسقاء باب دعاء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الخ       دارالمعرفۃ بیروت        ۲/ ۴۱۰

ارشاد الساری   ابواب الاستسقاء باب دعاء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الخ    دارالکتاب العربیہ بیروت    ۲ /۲۳۶)
ذی ہوش نے یہ بھی نہ دیکھا کہ روایت میں غفار مرفوع ہے نہ منصوب نہ ولید پرعطف کیونکر ممکن اغلاط روایت ''ضروری سوال'' میں واقعہ بئر معونہ بطور خود ذکرکیا جسے بے اصل اغلاط سے بھردیا، خلاصہ عبارت یہ ہے ایک عامر بیٹا مالک کا دوگھوڑے دواونٹ پیغمبر خدا صلی اﷲ تعالٰیعلیہ وسلم کے پاس ہدیہ لایا حضور نے فرمایا ہم کافر کاہدیہ قبول نہیں کرتے، وہ اسلام تو نہ لایا مگرانکار بھی نہ کیا اور بولا اے حبیب خدا! میرے پیچھے ایک قوم ہے آپ چند اصحاب ہمراہ دوتوامید کہ وہ سب مسلمان ہوجائیں، آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ستریاچالیس جوان انصار(عہ ) سے جو سب کے سب قرآن مجید کے حافظ تھے عامر کے ہمراہ کردئیے اور ایک راہبر بھی ہمراہ ہولیا ان پرمنذرکوسردار کیا اور بنام عامر بن طفیل ایک خط لکھواکر حوالہ منذر کے کردیا، یہ صحابہ بئرمعونہ کے قریب پہنچ کر وہیں قیام کیا پھر ایک شخص کے ہاتھ وہ خط عامر بن طفیل کے پاس بھجوادیا، جب وہ خط عامر بن طفیل نے پڑھا آگ کا شعلہ بن گیا اور جھپٹ کرخط پہنچانے والے کو قتل کرڈالا، پھراپنے تمام حلیفوں اور قبیلوں کی کمک کے ساتھ اُن صحابہ کوقتل کرڈالا اور منذر کو زندہ قیدکرلیا، قطع نظر اس سے اوّلاً عامر بن مالک ابوبراء نے ''اے حبیب خدا'' ہرگز نہ کہا کہ یہ خاص کلمہ اسلامی تھا۔
عہ : سب انصاری نہ تھے بعض مہاجر تھے

 خمیس میں ہے : کان اکثرھم من الانصار واربعۃ من المہاجرین۳؎

(ان میں اکثر انصار تھے اور چارمہاجرین۔ت)
 (۳؎ تاریخ الخمیس    سریۃ المنذر الٰی بئر معونۃ            مطبوعہ موسسۃ شعبان بیروت    ۱/ ۴۵۲)
مدارج میں ہے: اکثرایشاں انصاربودند وبعضے ازمہاجراں۲؎

(ان میں اکثر انصارتھے اور کچھ مہاجر تھے۔ت)
(۲؎ مدارج النبوۃ    سریہ بئرمعونہ                مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲/ ۱۴۳)
نیز خمیس میں ہے : لم یکن القراء المذکورون کلھم من الانصار بل کان بعضھم من المہاجرین مثل عامر بن فھیرۃ مولی ابی بکر الصدیق ونافع بن بدیل بن ورقاء الخزاعی وغیرھما رضی اﷲ تعالٰی عنھم۳؎۔

مذکور تمام اقراء انصار نہ تھے بلکہ کچھ مہاجربھی تھے، جیسا کہ عامر بن فہیرہ مولٰی ابوبکرالصدیق اور نافع بن بدیل بن ورقاء خزاعی وغیرہما رضی اﷲ تعالٰی عنہم مہاجرتھے۔(ت)
(۳؎ تاریخ الخمیس        سریۃ المنذر بن عمروالٰی بئر معونۃ            مطبوعہ مؤسسۃ شعبان بیروت    ۱ /۴۵۲)
ثانیاً  :
''ہمراہ ہولیا''
 سے ظاہریہ کہ بطورخود ساتھ ہولیا حالانکہ حدیث میں ہے خود حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مطلب سلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو رہبری کے لئے ہمراہ فرمادیا تھا۔
فقد اخرج الطبرانی من طریق عبداﷲ ابن لھیعۃ عن ابی الاسود عن عروۃ قال ثم بعث النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المنذر بن عمروالساعدی وبعث معہ المطلب السلمی لیدلھم علی الطریق، الحدیث ذکرفی الاصابۃ فی ترجمۃ المطلب۱؎۔
طبرانی نے اس کی تخریج عبداﷲ بن لہیعہ کے طریق سے انہوں نے ابوالاسود انہوں نے عروہ سے روایت کیا، کہا کہ پھر حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے منذر بن عمرو الساعدی کو بھیجا اور ان کے ساتھ مطلب اسلمی کو بھی بھیجا تاکہ ان کو راستہ بتائیں، الحدیث۔ اس کو الاصابہ میں مطلب کے عنوان کے تحت ذکرکیا۔(ت)
(۱؎ الاصابہ فی تمییز الصحابۃ  بحوالہ الطبرانی ترجمہ عبدالمطلب السلمی ۸۰۲۹ مطبوعہ دارصادربیروت ۳/ ۴۲۵)
ثالثاً فرمان اقدس خاص بنام عامر بن طفیل نہ تھا بلکہ رؤسائے نجدوبنی عامر کے نام تھا، خمیس میں ہے:
وکتب کتابا الٰی رؤساء نجد وبنی عامر۱؎
 (اور آپ نے نجد کے رئیسوں اور بنی عامر کے نام خط لکھا۔ت) مدارج میں ہے:
مکتوبے برؤسائے نجدوبنی عامر نوشت ۲؎۔
(۱؎ تاریخ الخمیس    سریۃ المنذر بن عمروالٰی بئرمعونہ    مطبوعہ موسسۃ شعبان بیروت    ۱/ ۴۵۲)

(۲؎ مدارج النبوۃ    سریہ بئر معونہ            مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر        ۲/ ۱۴۳)
رابعاً حافظ قرآن کے اگریہ معنی کہ قرآن مجید سے کچھ یادتھا تو اس میں ان صحابہ کی کیا خصوصیت، انہیں قُراّء نام رکھنے کی یہ وجہ نہیں ہوسکتی اور اگریہ مراد کہ جس قدر قرآن عظیم اس وقت اُترا وہ سب اُن سب کو یادتھا تھا تو اس کاکوئی ثبوت نہیں بلکہ انہیں قراّء کہنے کی وجہ یہ کہ شب کودرس وتلاوتِ قرآن مجیدمیں بکثرت مشغول رہتے۔  صحیح بخاری (ف) میں انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے:
یتدارسون القراٰن باللیل ویصلون۳؎
(رات کو قرآن مجید اور نمازپڑھتے۔ت) عمدۃ القاری کتاب الجہاد باب العون بالمددمیں ہے:
 سموابہ لکثرۃ قراء تھم۴؎
(قراء اس لئے انہیں کہاگیا کہ کثرت سے قرآن پاک پڑھتے تھے۔ت)
(۳؎ صحیح بخاری    کتاب الجہاد          مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/ ۴۳۱

صحیح بخاری        کتاب المغازی         مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۵۸۲

مسند احمد بن حنبل    ازمسند انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ    مطبوعہ دارالفکر بیروتٍ        ۳/ ۲۳۵ و ۲۷۰

شرح الزرقانی علی المواہب    سریہ بئر معونہ        مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت        ۲/ ۷۵)

(۴؎ عمدۃ القاری شرح بخاری    باب العون بالمدد    مطبوعہ ادارۃ الطابعۃ المنیریۃ بیروت    ۱۴/ ۳۱۰)
ف: صحیح بخاری میں یہ حدیث دوجگہوں پرمنقول ہے اس میں یتدارسون کی جگہ یحطبون کالفظ ہے البتہ بعینہٖ انہی الفاظ کے ساتھ یہ حدیث شرح الزرقانی میں موجود ہے حوالہ ملاحظہ ہو۔ نذیراحمد سعیدی
خامساً عامربن طفیل کے خاص اپنے قبیلہ بنی عامر نے ہرگز کمک نہ دی بلکہ صاف انکار کردیا کہ تیراچچا عامر بن مالک انہیں اپنی پناہ میں لے چکا ہے ہم اس کاذمہ ہرگز نہ توڑیں گے۔ مواہب لدنیہ میں ہے:
استصرخ علیھم بنی عامر فلم یجیبوہ، وقالوا لن تخفرابابراء ، وقد عقدلھم عقداً وجواراً۵؎۔
عامر بن طفیل نے مسلمانوں کے خلاف بنوعامرقبیلہ کومدد کے لئے آواز دی پس انہوں نے مدد سے انکار کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا ہم تیرے چچا ابوبراء کامعاہدہ نہیں توڑیں گے کیونکہ اس نے ان مسلمانوں کو پناہ دینے کا معاہدہ کررکھاہے۔(ت)
(۵؎ مواہب لدنیہ        سریہ بئر معونہ        مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت    ۱/ ۴۲۶)
سیرت ابن ہشام میں ہے:
استصرخ علیھم بنی عامر فابوا ان یجیبوہ الی مادعالھم الیہ وقالوا لن نخفر الی اٰخر مامر۱؎۔
عامر بن طفیل نے مسلمانوں کے خلاف بنوعامر کواپنی مدد کے لئے پکارا توانہوں نے اس کی مدد کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ ہم تیرے چچا کامعاہدہ نہیں توڑیں گے الخ۔(ت)
(۱؎ سیرت ابن ہشام    سریہ بئرمعونہ            مطبوعہ دارالفکربیروت    ۳/ ۱۸۵)
خمیس میں ہے:
استصرخ عامر بن الطفیل بنی عامر علی المسلمین فامتنعوا وقالوا لانخفرذمۃ ابی براء عمک۲؎۱لخ۔
عامر بن طفیل نے بنوعامر کومسلمانوں کے خلاف کاروائی کے لئے آواز دی توانہوں نے انکارکیا اور کہا تیرے چچا ابوبراء کے ذمہ کونہیں توڑیں گے الخ۔(ت)
 (۲؎ تاریخ الخمیس    سریہ المنذر الی بئر معونہ        مطبوعہ موسسۃ شعبان بیروت ۱/ ۴۵۲)
مدارج میں ہے:
تمامہ بنی عامر ازجنگِ مسلمانان اباآوردند۳؎
(تمام بنوعامر نے مسلمانوں سے جنگ کرنے سے انکارکردیا۔ت)
 (۳؎ مدارج النبوۃ     سریہ بئرمعونہ            مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲/ ۱۴۴)
Flag Counter