Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
104 - 158
جہالت۱۹: اور  پھربیان کیا(یعنی صاحبِ اشباہ نے ) کہ اگر کوئی قنوت پڑھاچاہے تواکیلا دورکعت نمازنفل کی نیت کرکے پڑھے چنانچہ
یقنت للطاعون لانہ اشد (عہ۱ ) النوازل بل ذکرہ(عہ۲ )انہ یصلی رکعتین فرادی فرادی وینوی رکعتی (عہ۳ ) لدفع الطاعون۲؎۔
قنوت پڑھے واسطے طاعون کے مقرر وہ بڑی سخت ہے سختیوں سے مگرجماعت سے نہ پڑھے بلکہ پڑھے دودورکعتیں اکیلے اکیلے اور نیت کرے دورکعت نفل کی واسطے دفع طاعون، پوراہوا حاصل مطلب اشباہ والے کا۔
عہ۱: ''ضروری سوال'' میں یونہی لکھا اور اسی غلطی کی بناپر طاعون کوخود بھی اشدالنازلہ کہاحالانکہ اشباہ میں من اشد النوازل ہے۱۲ (م)
عہ۲ :ھکذا بخطہ وصوابہ بل ذکر ۱۲(م)

یہ ان کی تحریر ہے اور درست ''بل ذکر'' ہے(ت)
عہ۳ : ھکذا بخطہ وصوابہ رکعتین (م)

یہ ان کی تحریر ہے درست ''رکعتین'' ہے۔(ت)
 (۲؎ غمزعیون البصائر شرح الاشباہ    فن ثانی، کتاب الوقف    مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/ ۳۰۸)
قطع نظر اس سے کہ یہ عبارت اشباہ کی نہیں بلکہ صاحب اشباہ سے ناقل(عہ۴ ) کی ہے اور اس میں بل ذکرکی ضمیر خود صاحبِ اشباہ ہی كی طرف ہے جسے آپ نے "چنانچہ"کہہ کر عبارت اشباہ ہونے کا اشعار کیا اور بل ذکر کا مطلب کچھ نہ بنا لہٰذا اسے ترجمہ سے خارج کردیا۔
عہ۴ : ظاہراً کہیں طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح دیکھنے کومل گئی اس میں انہوں نے فرمایاتھا : فی الاشباہ یقنت للطاعون لانہ من اشد النوازل، بل ذکر انہ یصلی لہ رکعتین فرادی وینوی رکعتا رفع الطاعون۳؎۔

اشباہ میں ہے کہ طاعون کے لئے قنوت پڑھی جائے کیونکہ یہ شدید مصائب میں سے ہے بلکہ یہ ذکرکیا کہ دورکعات الگ الگ ادا کی جائیں اور ان کی نیت طاعون کے دفع کے لئے دورکعات کی کی جائے۔(ت)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح    باب الوتر        مطبوعہ نورمحمد تجارت کتب کراچی        ص۲۰۶)
یہ صاحب اپنی خوش فہمی سے سمجھے کہ یہ سب عبارت فی الاشباہ کے تحت میں داخل ہے ۱۲(م)
 طرفہ سخت جہالت فاحشہ یہ ہے کہ دورکعت پڑھنے کے مسئلے کومسئلہ قنوت کا تتمہ بنادیا کہ ''قنوت پڑھاچاہے تواکیلادو رکعت نفل کی نیت کرکے پڑھے'' اور اسی لئے اپنی طرف سے ترجمے میں ''مگر'' تراش لیا کہ ''مگرجماعت سے نہ پڑھے'' حالانکہ کوئی کم علم بھی عبارتِ اشباہ خواہ عبارت مذکورہ ناقل عن الاشباہ دیکھ کر کسی طرح اس جہالت کاگمان بھی نہ کرے گا،
اشباہ میں تو قنوت طاعون ثابت فرماکر نماز طاعون کامسئلہ ہی جداشروع فرمایا اور جداگانہ دلیلوں سے اس کا ثبوت دیا۔
حیث قال صرح فی الغایۃ بانہ اذا نزل بالمسلمین نازلۃ قنت الامام فی صلٰوۃ الفجر فالقنوت عندنا فی النازلۃ ثابت ولا شک ان الطاعون من اشد النوازل
 وفی السراج الوھاج قال الطحاوی لایقنت فی الفجر عندنا من غیربلیۃ فان وقعت فلاباس بہ کذا فی الملتقط انتھی فان قلت ھل لہ صلٰوۃ قلت ھو کالخسوف لما فی منیۃ المفتی فی الخسوف والظلمۃ فی النھار واشتداد الریح والمطروالثلج والافزاع وعموم المرض یصلی وحدانا انتھی ولاشک ان الطاعون من قبیل عموم المرض فتسن لہ رکعتان فرادی۱؎۱ھ مختصرا
الفاظ یہ ہیں کہ غایہ میں تصریح ہے کہ جب مسلمانوں پر کوئی بڑی مصیبت اُترے توامام نمازفجر میں قنوت پڑھے، پس بڑی مصیبت کے وقت قنوت ہمارے نزدیک ثابت امر ہے اور بیشک طاعون بڑی مصیبتوں میں سے ہے السراج الوہاج میں ہے کہ طحاوی نے فرمایا کہ بغیر کسی مصیبت کے ہمارے نزدیک فجر میں قنوت نہ پڑھی جائے اور اگرکوئی مصیبت نازل ہوجائے توپڑھنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ ملتقط میں ہے انتہی اگر آپ پوچھیں کہ اس کے لئے نماز ہے تومیں کہتاہوں کہ طاعون کامعاملہ خسوف کی طرح ہی ہے۔ منیۃ المفتی کے باب الخسوف میں ہے کہ سخت تاریکی، شدید طوفان، شدید بارش یا شدید ژالہ باری، شدید خوف یامرض عام لاحق ہوجائے توتنہا نمازاداکریں، انتہی، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ طاعون ایسی مرض ہے جوعام لوگوں کولاحق ہوجاتی ہے لہٰذا اس کے رفع کے لئے بھی دورکعات تنہا اداکرنا سنت ہوگا۱ھ مختصراً(ت)اور ناقل نے بھی بل ذکر لکھ کر اسے جدا کردیاتھا مگرجب آدمی کو سہل سہل عبارت کاترجمہ سمجھنے کی لیاقت نہ ہوتو مجبورہے۔
(۱؎ الاشباہ والنظائر    فائدہ فی الدعاء لرفع الطاعون    مطبوعہ مطبع ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۲/ ۲۶۲)
جہالت ۲۰: اس سے بھی سخت ترجہالت یہ کہ صاحب اشباہ کا مطلب وہ ٹھہرایا ''کہ طاعون میں قنوت کی تصریح کہیں نہیں، میں حکم نہیں کرسکتا'' اور عبارت یہ نقل کی کہ یقنت للطاعون جس کا آپ ہی ترجمہ کیاکہ ''قنوت پڑھے واسطے دفع طاعون کے''۔ کیوں حضرت! کیایہ حکم نہ ہوا، واقعہ جوبزرگوار اپنالکھا آپ نہ سمجھ سکے پورامعذور ہے، یہ سردست بیس جہالتیں ہیں اور شروع کلام میں اولاً سے خامساً اور اس کے تنبیہ میں اول سے چہارم تک جو سخت وجوہ قاہرہ سے''ضروری سوال'' کی بطالتیں جہالتیں ثابت کی گئیں انہیں شامل کیجئے تو یہاں تک
۲۹جہالات شدیدہ بیان ہوئیں اب تیسویں جہالت سب سے بڑھ کر سفاہت ملاحظہ ہو''ضروری سوال'' کی ساری محنت و جانکاہی اپنے ا س ادائے باطل کے اثبات کوتھی کہ فتنہ وغلبہ کفار کے سواطاعون وغیرہ نوازل کی قنوت کذب باطل وبہتان بے ثبوت وگناہ وبدعت وضلالت وفی النار ہے جو اسے ثابت مانے اس پرحکم تعجیل توبہ واستغفار ہے ساڑھے پانچ ورق کی تحریر میں دس صفحے اسی مضمون میں سیاہ کئے یہ سب کچھ لکھ لکھاکر اب چلتے وقت حاشیہ پرایک فائدہ کانشان دیا ''ف زمانہ طاعون میں نمازپڑھنے کی ترکیب'' اور متن میں لکھا
''ھذہ الکیفیۃ لصلٰوۃ الطاعون
(یہ نماز طاعون کاطریقہ ہے۔ت) پہلے دل میں نیت کرکے زبان سے کہے
نویت ان اصلی ﷲ تعالٰی رکعتین صلٰوۃ النفل لدفع الطاعون متوجھا الی جھہ الکعبۃ الشریفۃ اﷲ اکبر
(میں اﷲتعالٰی کی رضاکے لئے رفع طاعون کی خاطر، دورکعات اداکرتاہوں اس حال میں کہ میں کعبۃ اﷲ کی طرف متوجہ ہوں۔ت) پھر دوسری رکعت کے آخر میں رکوع(عہ۱) رکوع میں جوقنوت ماثور (عہ۲) ہوپڑھے کہ مشتمل ہواوپر طاعون کے، اور اگرایسی قنوت اس کو یاد ہی نہ ہو تو
ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ وقنا ربنا عذاب النار
پڑھے یہ آیہ  وافی ہدایہ جامع جمیع ادعیہ کی ہے''۔
عہ۱:  یہ ترکیب بھی نئی ہے قنوت میں علماء مختلف ہیں کہ قبل رکوع ہے یابعد، آپ فرماتے ہیں خود رکوع میں پڑھے ۱۲(م)
عہ۲ : تحریر زید میں یونہی ہے جیسے کچہریوں میں پنچ کو پنچ مقبولہ لکھتے ہیں۔ ۱۲(م)
اﷲ تعالٰی دلوں کے ارادے سب جانتاہے چلئے وہ اگلاپچھلالکھالکایابھولنا درکنار یہی یادنہ رہا کہ ''ضروری سوال'' کی تحریر کس غرض کے لئے تھی کس بات کادعویٰ، کاہے سے انکارتھا، اپنے زعم میں جنت کا راستہ کیا طریق نارتھا خود ہی کذب وبہتان بنانے لگے ضلالت و فی النار کی ترکیبیں بنانے لگے، یارب مگر اسے اختلال حواس کے سوا کیاکہئے، طرفہ یہ کہ اوپر سوال قائم کیاتھا ''بارادہ دفع طاعون ووبا کون سی قنوت ہے'' اور جواب دیاتھا''کہیں پتانہیں''۔ اب حکم ہوتاہے کہ قنوت ماثورہ پڑھے کہ مشتمل ہواوپر طاعون کے''۔ اب خداجانے کہاں سے اس کاپتا لگ گیا۔ تصحیف اغلاط یعنی عبارت کچھ ہے اور پڑھیں کچھ، یوں توزیادت ونقص وتبدیل ہرقسم کی خطا اس ''ضروری سوال'' میں ،موجود ہے یہیں ''قنا ربنا عذاب النار''کو آیت بنادیا حالانکہ قرآن عظیم میں قنا کے بعد لفظ ربناکہیں نہیں، من اشد النوازل سے من اڑاکر طاعون کو 'اشد النازلۃ' کہا اوراپنے ہی پاؤں پرتیشہ مارا عبارت اشباہ میں سبعین کو تسعین بنایا مگرزیادہ اظہار علم کو تصحیفین یہ ہیں شیبان بن فروخ کواصل عبارت سند اور ترجمہ دونوں میں شیبان بن فرخ(عہ۱) لکھایہ نام صحیح مسلم و سنن ا بی داؤدوسنن نسائی میں خداجانے کتنی جگہ آیاہے اگریہ کتابیں پڑھی ہوتیں توایسی غلطی نہ ہوتی
اللھم اشدد وطأتک علی مضر
دوجگہ آیا دونوں جگہ وطائک بہمزہ(عہ۲) بجائے تا بنایا، اور قبیلہ قارہ کو کہ یہ لفظ بھی دوجگہ وارد ہوا تھا دونوں جگہ صاف فارہ (عہ۳) بحرف فا بجائے قاف تحریر کیا۔
عہ۱: یعنی چُوزہ ۱۲(م)

عہ۲ :یعنی نشیب ۱۲(م)

عہ۳ : یعنی چُوہا ۱۲(م)
اور سب میں اخیر کالطیفہ یہ کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مناجات مروی ہے:
اللھم لاقابض لمابسطت ولاباسط لما قبضت ولاھادی لماضللت ولامضل لمن ھدیت، ولامعطی لما منعت و لامانع لمااعطیت، ولامقرب لما باعدت ولامباعد لماقربت۱؎۔
اے اﷲ! جس چیز کو تونے کشادہ کیا اسے کوئی سمیٹنے والانہیں، اور جسے تونے بند کردیا اسے کوئی کھولنے والانہیں اور جس کو تونے ہدایت دی اسے کوئی کوئی گمراہ کرنے والانہیں اور جس کوتونے گمراہ کیا اسے ہدایت دینے والاکوئی نہیں، اور جوتونے عطاکیا اسے کوئی روکنے والانہیں،ا ور جوتونے روک لیا اسے کوئی عطاکرنے والانہیں، اور جس کو تونے دورکردیا اس کوقریب کرنے والاکوئی نہیں، جس کوتونے قریب کیا اسے دورکرنے والاکوئی نہیں۔(ت)
 (۱؎ مسند الامام احمد بن حنبل    حدیث عبداﷲ الزرقی            مطبوعہ دارالفکر بیروت            ۳/ ۴۲۴

درمنثور   تحت آیت ولکن اﷲ حبب الیکم الایمان     مطبوعہ منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ العظمٰی قم ایران    ۶/ ۸۹

کنز العمال    غزوہ احد حدیث ۳۰۰۴۷            مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت    ۱/ ۴۳۳)
آپ اسے لکھتے ہیں
اللھم لاقابض لمابسطت ویاباسط لماقبضت۔
اہل علم کی غلطی اس طرح کی نہیں ہوتی، اتنابھی نہ سمجھا کہ یوں ہوتا تو
یاقابضا لمابسطت ویاباسطا لماقبضت
نصب کے ساتھ ہوتانہ بالضم کہ بوجہ حصول معمول کلمہ شبہہ مضاف ہو کر مفرد نہ رہا اور نصب واجب ہوا
کقولک یاطالعا جبلا ویاخیرا من زید'
اور یہ جوحدیث نقل کی جس میں یہ مناجات مذکورہوئی علمائے ناقدین اسے سخت منکربتاتے ہیں، یہاں تک کہ امام ذہبی فرماتے ہیں:
اخاف ان لایکون موضوعا
میں ڈرتاہوں کہیں موضوع نہ ہو۔ خاتم الحفاظ امام جلیل سیوطی جمع الجوامع میں اسے نقل کرکے لکھتے ہیں'
اغلاط ترجمہ' گزری جہالتوں کے بیان میں ، متعدد جگہ واضح ہوا کہ زید کوسیدھی سادی عربی سمجھنے اور اس کاٹھیک ترجمہ کرلینے کی استعدادنہیں اور میں ایسے ترجموں کاشاکی بھی نہیں کہ ان یدعو لقوم اور علٰی قوم کے ترجمے میں لکھا: ''واسطے دعاکرنے کے کسی قوم کے لئے یا اوپر بددعاکرنے کے کسی قوم پر'' یا ''سندہ صحیح'' کا ترجمہ ''سند اس حدیث کی بہت صحیح ہے'' یا ''
عن ابی مالک سعد بن طارق الاشجعی''
کا ترجمہ ''روایت کی مالک سعیدبیٹے طارق اشجعی نے''، لطیف خوش فہمیوں کے ترجمے وہ ہیں جن کا بیان جہالات ۵و۸۶و۱۱و۱۲و۱۹ میں گزرا علی الخصوص ثلثۃ اخیرہ، اور اسی قبیل سے ہے:
اللھم انج الولید بن الولید ومسلمۃ بن ھشام وعیاش بن ابی ربیعۃ و المستضعفین من المؤمنین وغفار غفراﷲ لھا واسلم سالمھا اﷲ(عہ ) ۱؂
کاترجمہ ''اے پروردگار خلاصی بخش ولید اور مسلمہ اور عیاش کو اور ناتواں مومنوں کو اور قبیلہ غفار کومغفرت کرے اﷲ اُن کی اور قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اﷲ ان کو یعنی شرسے اعدا کے غفار
غفراﷲ لھا واسلم سالمھا اﷲ
"دومستقل جملے جداگانہ خبریہ یادعائیہ ہیں۔
 (۱؎ صحیح بخاری        باب دعاء النبی صلی اﷲ علیہ وسلم    مطبوعہ قدیم کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۳۶

عمدۃ القاری شرح بخاری       باب دعاء النبی صلی اﷲ علیہ وسلم    ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت    ۷/ ۲۶)
عہ: سالمھا اﷲ کا ظاہرترجمہ اﷲ نے اُن سے صلح کی،

علیہ درج فی اشعۃ اللمعات وفی الصراح مسالمۃ مصالحۃ وفی القاموس سالما صالحا وفی تاج العروس ومنہ الحدیث اسلم سالمھا اﷲ وھو من المسالمۃ و ترک الحرب وفی مجمع البحار اسلم سالمھا اﷲ ھو المسالمۃ وترک الحرب۱۲(م)

اسی معنی کو اشعۃ اللمعات میں بیان کیا، اور صراح میں ہے مسالمۃ، مصالحۃ کوکہتے ہیں اور قاموس میں ہے سالما کامعنی صالحا ہے اور تاج العروس میں ہے کہ اسی سے حدیث اسلم سالمھا اﷲ ہے۔ اس کامعنی صلح جوئی اور جنگ نہ کرنا ہے اور مجمع البحار میں ہے اسلم سالمھا اﷲ کامعنی صلح جوئی اور جنگ نہ کرناہے۔ ۱۲(ت)
اقول  : والاول عندی اولی لقول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اسلم سالمھا اﷲ وغفار غفراﷲ لھا اما واﷲ ماانا قلتہ ولکن اﷲ۱؎ قالہ رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ واحمد والطبرانی فی الکبیر والحاکم عن سلمۃ بن الاکوع وابوبکر بن ابی شیبۃ عن خفاف بن ایماء الغفاری وابویعلی الموصلی عن ابی برزۃ الاسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
اقول : میرے نزدیک پہلا احتمال اولٰی ہے کیونکہ حضور صلی اﷲ تعالٰیعلیہ وسلم نے فرمایا: اسلم سے اﷲ تعالٰی نے مغفرت فرمائی، خبردار! خدا کی قسم میں نے یہ بات خود نہیں کی لیکن اﷲ تعالٰی نے فرمائی ہے۔ اس کو امام مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے اور امام احمد نے اور طبرانی نے کبیر میں اور امام حاکم نے سلمہ بن اکوع اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے خفاف ابن ایماء غفاری سے اور ابویعلی موصلی نے ابوبرزہ اسلمی رضی اﷲ عنہ سے روایت کیاہے۔(ت)
 (۱؎ صحیح مسلم        باب من فضائل غفارواسلم الخ    مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی    ۲/ ۳۰۶

مسند احمد بن حنبل    حدیث سلمہ بن الاکوع        مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۴/ ۴۸)
مصنف ''ضروری سوال'' نے اپنی نادانی سے غفار و اسلم کو ولید پرمعطوف اور انج کے نیچے داخل سمجھاگویا یہ قبائل انصار بھی مثل ولید و سلمہ و عیاش و ضعفائے مومنین رضی اﷲ تعالٰیعنہ اجمعین دست کفار میں گرفتار تھے ان سب کی نجات کے لئے دعافرمائی جاتی تھی حالانکہ یہ حدیث اس حدیث سے جُداہے صحیح بخاری شریف صفۃ الصلٰوۃ میں بے ذکر غفار و اسلم صرف حدیث اول روایت فرمائی اور استسقامیں کہ اسے اس کے ساتھ روایت کیاصاف فصل بتادیا
حیث قال عن ابی ھریرۃ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان اذا رفع رأسہ من الرکعۃ الاخرۃ یقول اللھم انج عیاش بن ابی ربیعۃ اللھم انج سلمۃ بن ھشام اللھم انج الولید بن الولید اللھم انج المستضعفین من المؤمنین اللھم اشدد وطأتک علی مضر اللھم اجعلھا اسنین کسنی یوسف وان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال غفار غفراﷲ لھا واسلم سالمھا اﷲ تعالٰی۱؎۔
جہاں فرمایا، ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ جب حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام آخری رکعت سے سراٹھاتے تویہ کہتے اے اﷲ! نجات دے عیاش بن ابی ربیعہ کو، اے اﷲ! نجات دے سلمۃ بن ہشام کو، اے اﷲ نجات دے ولید بن ولید کو، اے اﷲ! نجات دے مومنین میں سے ضعیفوں کو، اے اﷲ! تواپنی سخت گرفت فرما مضرپر، اےاﷲ! ان پر قحط مسلط فرما جس طرح یوسف علیہ السلام کے زمانے میں قحط ہوا۔ اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا: غفار کے لئے اﷲ تعالٰی نے مغفرت فرمائی ہے اور اسلم سے اﷲ تعالٰی نے صلح فرمائی ہے۔(ت)
 (۱؎ صحیح بخاری ابواب الاستسقاء باب دعاء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۳۶)
Flag Counter