قلنا لانس بن مالک ان قوما یزعمون ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لم یزل یقنت فی الفجر فقال کذبوا انما قنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شھرا واحدا یدعو علی احیاء من احیاء المشرکین۱؎۔۔
اور اس کاترجمہ کیا''ہم نے پوچھا انس بیٹے مالک سے یہ کہ مقرر ایک قوم گمان کرتی ہے یہ کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہمیشہ قنوت پڑھتے تھے نمازفجرمیں، سو جواب دیا مالک نے کہ وہ لوگ اپنے گمان میں جھوٹے ہیں سوائے اس کے نہیں کہ قنوت پڑھی آپ نے مہینہ ایک، سوبھی بددعاکرنے کو اوپرقبیلوں کے قبیلوں سے مشرکین کے''۔
(۱؎ مرقات شرح مشکوٰۃ بحوالہ قصاب باب القنوت فصل ثانی مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ /۱۸۲
مسند احمدبن حنبل ۳ /۱۶۷ مسلم شریف ۱ /۲۳ بخاری شریف ۱ /۱۳۶)
اوّلاً محاورہ عرب میں زعم بمعنی مطلق قول بھی شائع یہاں تک کہ صحیح حدیث میں زعم جبریل تک واقع۔ ثانیاً کلام نامحقق یاخلاف تحقیق بھی مراد ہو تویہ حکم اس قائل کے نزدیک ہوتاہے جواسے بلفظ زعم تعبیرکرتاہے اس سے یہ مستفاد نہیں کہ وہ زاعم خود بھی اسے مشکوک یامظنون سمجھتاہے، زید نے زبردستی یزعمون کے معنی یہ بنالئے کہ جو قنوت فجر کی بقا کے قائل ہیں خود ہی اسے شک وگمان کے مرتبے میں جانتے ہیں اور اسی بنا پر کذبوا کاترجمہ کیا''کہ وہ اپنے گمان میں جھوٹے ہیں'' یہ نیوجماکراب اس پرفائدہ جڑا، اس حدیث سے یہ بھی سمجھاجاتاہے کہ زمانہ تابعین میں قنوت کافقط گمان ہی گمان تھا یقینی امرنہ تھا، پس جتنی روایات ان روایات کے مخالف ہیں وہ سب ظنیات ہونی چاہئیں
واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب۔
افسوس کہ جوکہنا چاہاتھا وہ بھی کہہ نہ جانا عقلمند سے پوچھاجائے کہ قائلان قنوت مالکیہ وشافعیہ نے کس دن کہاتھا کہ قنوت فجر یقینی ہے یامانعان قنوت حنفیہ وحنبلیہ کب کہہ سکتے ہیں کہ عدم قنوت قطعی ہے مسائل اجتہادیہ دونوں طرف ظنیات ہوتے ہیں پھر یہ کون سا فائدہ آپ نے نکالا اور اس سے بحث میں کیانفع حاصل ہو۔
ثالثاً اس سب سے قطع نظر کیجئے تو ان قوما یزعمون میں لفظ قوم نکرہ حیزاثبات میں ہے جس کا مفاد صرف اس قدر ہوگا کہ کچھ لوگ طور وہم بقائے قنوت مانتے ہیں ا سے کب لازم ہوا کہ زمانہ تابعین میں سب قائلان قنوت اسے اسی درج میں جانتے ہیں۔
جہالت۹: حدیث ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن القنوت فی الفجر۱؎۔
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے قنوت فجر سے منع فرمایا:
(۱؎ سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی القنوت فی صلوٰۃ الفجر مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۸۹)
جس میں تین راوی ضعیف وشدیدالضعیف ہیں ذکرکرکے تضعیف رواۃ کا جواب دیا کہ ''امام صاحب کی تحقیق کو وہ مانع نہیں۔
''دوم یہ کہ انس بن مالک نے بدعت اور محدث کہا توگمان یہ ہوسکتاہے کہ آپ کو اس نہی کی ضرور خبرہوگی اگرچہ بدعت اور محدث کی جگہ لفظ نہی کانہ ذکرکیاہو اور اسی پراکتفاکیا، قطع نظر اس سے کہ بدعت یامحدث کے قائل حضرت طارق اشجعی ہیں نہ حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہما توپیداکہنے سے اس گمان کی راہ کدھر سے ملی ضرور انہیں اس نہی کی خبر ہوگی، انہوں نے صراحۃً نوپیدا ہونے کی وجہ ارشاد فرمادی تھی کہ میں نے سیدعالم وخلفاء کرام صلی اﷲ تعالٰی علیہم وسلم سب کے پیچھے نمازپڑھی، اے فرزند! وہ نئی نکلی ہے اس میں نہی پراطلاع کی بوبھی نہیں نکلتی، نہ کہ اس سے گمان ہوکہ ضرورنہی معلوم ہوگی بلکہ انصافاً اس سے یہی متبادر کہ نہی یا تو واقع ہی نہ ہوئی یا ہوئی تو انہیں خبرنہ تھی ورنہ عدم فعل کاذکرنہ کرتے صاف جواب دیتے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تو اسے منع فرماچکے ہیں، جواب مسئلہ میں دلیل اقوی کا ترک کیوں کیاجاتا۔
جہالت۱۰: ایک حدیث کی سند ذکرکی:
عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ،
اور ترجمہ میں بھی لکھا ''اس نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی ''عنہما'' سے۔ عالم صاحب کواتنی خبرنہیں کہ صحابیت درکنارمسعود سرے سے مسلمان ہی نہ ہوا، جاہلیت میں مرا۔ اُسے رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں شامل کرنا کیسی جہالت اور دانستہ ہوتو سخت ترآفت۔
جہالت۱۱: آگے لکھا فتح القدیرمیں تحت حدیث عبداﷲ بن مسعود کے بیان کیاہے چنانچہ
لم یکن انس نفسہ یقنت فی الصبح کما رواہ الطبرانی واذا ثبت النسخ وجب حمل الذی عن انس من روایۃ ابی جعفر اما علی الغلط او علی طول القیام، فانہ یقال علیہ ایضا فی الصحیح عنہ علیہ الصلٰوۃ والسلام افضل الصلٰوۃ طول القنوت ای القیام۱؎۔۔
خود حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ فجرمیں قنوت نہیں پڑھتے تھے اس کوطبرانی نے روایت کیاہے، اور جب نسخ ثابت ہوگیا تو وہ روایت ''حضرت انس رضی اﷲتعالٰی عنہ جو ابوجعفر سے مروی ہے یا تو اسے غلطی پر محمول کیاجائے گا یا طول قیام پر کیونکہ حدیث صحیح میں اس پرقنوت کااطلاق موجود ہے کہ آپ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں افضل ترین عمل طول قنوت یعنی قیام ہے۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر باب صلوٰۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۷۷)
قطع نظر اس سے کہ تحت حدیث فلاں یازیرآیت چناں اہل علم کے محاورہ میں اس معنی پربولاجاتاہے کہ اس آیت وحدیث کی تفسیر وشرح یا اس کی بحث میں ایساکہا، یہاں مبحوث عنہ حدیث ابی جعفر رازی ہے اسی کے تحت اسی کی بحث میں حدیث ابن مسعود وحدیث طبرانی وغیرہما مذکور ہیں نہ کہ ایک دوسرے کے تحت میں عبارت فتح کاصاف مطلب جسے ہرحرف شناس عربی بے تکلف پہلی ہی نگاہ میں سمجھ لے یہ ہے کہ حدیث ابی جعفر میں جو دوام قنوت مذکورہواممکن ہے کہ وہاں قنوت سے طول قیام مراد ہوکہ لفظ قنوت اس معنی پر بھی بولاجاتاہے دیکھو حدیث صحیح میں ارشاد ہوا کہ بہترنماز طول قنوت ہے یعنی جس میں قیام دیرتک ہو۔ مصنف ''ضروری سوال'' ایسی سلیس عبارت کے واضح معنی کو خاک نہ سمجھا لفظ ایضا کو کہ صراحۃً ''یقال'' کی طرف ناظرتھا اس سے قطع نظر کرکے مابعد سے ملایا اور ''ایضا فی الصحیح'' کوسندجداگانہ ٹھہرایا ولہٰذا لفظ ''ایضا'' پرنشان(ــــ)کہ علامت فعل ہے لگایا اور عبارت کاترجمہ یوں فرمایا ''کیونکہ وہ لفظ قنوت کامقرربولا گیاہے اوپرطول قیام کے، اور بھی بیچ حدیث کے وہ لفظ قنوت کاآیاہے جومروی ہے آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے کہ افضل ترین نمازوں کی وہ نماز ہے جس میں قنوت یعنی قیام درازہو''۔ اس جہالت کی کچھ حد ہے اور ذرایہ حسن ادابھی قابل لحاظ کہ ''بیچ صحیح حدیث کے وہ لفظ قنوت کاآیاہے'' گویایہاں اس کی بحث تھی کہ حدیث میں کہیں لفظ قنوت آیاہی نہیں۔
جہالت ۱۲: اسی عبارت فتح کے آخرمیں تھا:
والاشکال نشأ من اشتراک لفظ القنوت بین ماذکر وبین الخضوع والسکوت والدعاء وغیرھا۲؎۔
یہاں اشکال قنوت کے ان معانی میں اشتراک کی وجہ سے پیداہواہے یعنی مذکورہ شئی (طول قیام) خضوع، سکوت اور دعا وغیرہ کے درمیان لفظ قنوت مشترک ہے۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر باب صلوٰۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۷۷)
یہاں ماذکر سے مراد وہی طول قیام تھا اور اس کے معطوفات خضوع وسکوت ودعا وغیرہا یعنی قنوت کا لفظ جبکہ ان سب معانی پربولاجاتاہے اس وجہ سے حدیث ابی جعفر میں قائلان قنوت فجر کو اشتباہ پیش آیا اس سے سمجھ لئے حالانکہ مراد طول قیام تھا کہ ہمیشہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نماز فجرمیں قیام طویل فرمایا یہ ایسے صاف معنی ہیں کہ عربی کاہرمبتدی بے تامل سمجھ لے، اب مصنف صاحب کا علم دیکھئے عبارت صرف ''ماذکر'' تک نقل کی اور ترجمہ فرمادیا''اور جو مشکلیں پیداہوئی ہیں وہ لفظ قنوت کے مشترک المعنی کے سبب اور وجہ سے بیان اس چیز کے جومذکور ہوئی یعنی اپنے محل پر پوراہوا ترجمہ فتح القدیرکی عبارت کا'' گویا آپ کے نزدیک بین صرف شے واحد پر داخل ہوتاہے معطوف کی حاجت ہی نہیں ماذکر کے معنی یہ کہ اپنے محل پر مذکورہوئی ہے اسی پرمطلب تمام ہوگیا۔
جہالت ۱۳: سوال قائم کیا ''جب نسخ قنوت ثابت ہوا توعندالنازلہ جوازکہاں رہا'' اور اس کے جواب میں لکھا ''جواب بصورت اجمالیہ اجماعیہ یہ ہے فی فتح القدیر وترونوافل کی بحث میں قولہ ان مشروعیۃ القنوت فی لنازلۃ مستمرۃ لم تنسخ۱؎۔الخ تحقیق کے جائز ہونا قنوت کا بیچ وقت سختی منسوخ نہیں'' فتح القدیرسے استناد اور قنوت نازلہ کے اجماعی ہونے کاادعا بکف چراغ دارد کاتماشا ہے فتح القدیرکی اس عبارت میں صراحۃًفرمایا کہ نازلہ میں بقائے قنوت مجتہدفیہ ہے منسوخ ہونا نہ ہونا دونوں طرف نظر جاتی ہے
وقد تقدم نصہ فی بیان الجھالۃ الثانیۃ
(اس کے الفاظ کاتذکرہ جہالت نمبر۲ میں ہوچکاہے۔ت) اسی عبارت منقولہ زید کے بعد بلافصل فرمایاتھا۔
''وبہ قال جماعۃ من اھل الحدیث۲؎۔
(محدثین کی ایک جماعت نے یہی قول کیاہے۔ت)کہاں ایک گروہ محدثین کاقول ہونا اور کہاں اجماع۔
(۱؎ و ۲؎ فتح القدیر باب صلوٰۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۷۹)
جہالت ۱۴: ''جوقنوت دونوں حضرات نے نمازفجر میں پڑھی وہ بارادہ اصلاح ذات البین کے تھی نہ بددعا'' بددعانہیں مگر دعائے وصول مکروہ ، اور شک نہیں کہ فریقین میں ہرایک کواپنی مغلوبی مکروہ ہوئی ہے اور شک نہیں کہ دونوں جماعتیں اپنا غلبہ مانگتی تھیں مصنف ابوبکربن ابی شیبہ میں امیرالمومنین مولٰی کریم اﷲ تعالٰی وجہ الکریم سے ہے:
انہ لماقنت فی صلٰوۃ الصحیح انکر الناس علیہ فقال انما استنصرنا علی عدونا۳؎۔
جب انہوں نے نمازفجر میں قنوت پڑھی تولوگوں نے آپ پراعتراض کیا توآپ نے فرمایا ہم نے دشمن پرمدد مانگی
ہے۔(ت)
(۳؎ مصنف ابن ابی شیبہ من کان لایقنت فی الفجر مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۳۱۸)
محرر مذہب سیدنا امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کتاب الآثار میں فرماتے ہیں:
قال ابراھیم (ھو النخعی) وان اھل اکوفۃ انما اخذوا القنوت عن علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ قنت یدعو علی معویہ حین حاربہ، واما اھل الشام فانما اخذوا القنوت عن معویۃ رضی اﷲ عنہ قنت یدعو علی رضی اﷲ عنہ حین حاربہ قال محمد وبقول ابراھیم ناخذ وھوقول ابی حنیفۃ۱؎۔
حضرت ابراہیم (نخعی) نے بیان فرمایا ہے کہ اہل کوفہ نے قنوت حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اخذ کی ہے کیونکہ انہوں نے اس وقت قنوت پڑھی جب حضرت معاویہ سے ان کی جنگ ہوئی، اور اہل شام نے حضرت معاویہ سے قنوت اخذ کی ہے کیونکہ وہ بھی جنگ علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے وقت قنوت پڑھاکرتے تھے، اما م محمد نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم کے قول پرہماراعمل ہے اور امام ابوحنیفہ کابھی یہی قول ہے۔(ت)
(۱؎ کتاب الآثار باب القنوت فی الصلوٰۃ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ص۴۴)
جہالت ۱۵: ''بعید نہیں کہ اُن حضرات نے قنوت اس مضمون کی پڑھی ہو'' کہ
(اے اﷲ! ہمارے اور قوم کے درمیان صلح پیدافرما کیونکہ وہ ہمارے بھائی ہیں انہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کردی ہے۔ت) امیرالمومنین کی طرف سے یہ قنوت محتمل کیا امیرمعاویہ بھی معاذاﷲ امیرالمومنین کوباغی سمجھتے تھے یہ نراجاہلانہ افتراہے امیرمعاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے صاف تصریح بسندصحیح موجود ہے کہ مجھے خلافت میں نزاع نہیں نہ میں اپنے آپ کو مولٰی علی کاہمسر سمجھتاہوں،
وانی لاعلم انہ افضل منی واحق بالامر ولکن لستم تعلمون ان عثمان قتل ظلما وانا ابن عمہ وولیہ اطلب بدمہ۲؎۔ رواہ یحیی بن سلیمن الجعفی استاذ الامام البخاری فی کتاب صفین بسند جید عن ابن مسلم الخولانی۔
میں خوب جانتاہوں کہ امیرالمومنین کرم اﷲ تعالٰی وجہہ مجھ سے افضل واحق بہ امامت ہیں مگر تمہیں خبرنہیں کہ امیرالمومنین عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ ظلماًشہید ہوئے میں اُن کاولی اور ابن عم ہوں اُن کا قصاص مانگتاہوں۔ اسے امام بخاری کے استاد یحیٰی بن سلیمن الجعفی نے کتاب صفین میں سند جید کے ساتھ ابومسلم خولانی سے روایت کیاہے۔
(۲؎ کتاب صفین)
جہالت ۱۶: خود ہی سوال میں لکھا ''جب قنوت عندالنازلہ جائز ہوئی توہرمصیبت پرجائز ہونی چاہئے جس طرح قلت باراں وسیلاب، نازلہ، آندھی، امراض مختلفہ خاص کروبا اور طاعون کہ وہ اشدالنازلہ ہے'' اور جواب دیا''ہمارا تمہارا قیاس بیکار ہے ان مصیبتوں کے لئے شارع علیہ السلام نے جدا جدا طریقہ بتادیا اور اُن کاحکم بھی سنادیا چنانچہ کتب فقہ ان سے مملو ہیں الخ'' اس کو قیاس بتانے کی جہالت اوپرمذکور ہوچکی مگر طاعون کو خود ''اشد النازلہ'' لکھنے سے رہاسہا اور بھی جہل کاپردہ کھول دیا، جب قنوت نازلہ ثابت اور طاعون سب سے سخت تر نازلہ ہے تواس کے لئے بدلالۃ النص قنوت ثابت اور دلالۃ النص سے اثبات کو قیاس بتانا سخت جہالت، اب مصنف ''ضروری سوال'' کی مثال اس ذی ہوش کی طرح ہے جس سے کہاجائے والدین کومارناحرام ہے کہ اﷲ عزوجل نے فرمایا:
لاتقل لھما اُف
ماں باپ سے ''ہوں'' نہ کہہ۔جب ہوں کہنے ممانعت ہے تومارنا اس سے سخت تر ہے بدرجہ اولٰی منع ہے وہ کہے ''ہماراتمہارا قیاس مسائل فقہیہ دینیہ میں بیکار ہے'' قرآن مجید میں توکہیں والدین کومارنے کی ممانعت نہیں
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
جہالت ۱۷: قطع نظر اس سے قلت وکثرت باراں وسیلاب وزلازل و ریاح وامراض مختلفہ سب کے لئے جداجدا طریقہ شارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کہاں بتایا، اگر اس بیان پرمصنف سے مطالبہ کیاجائے توخود ہی اپنی جہالت کااقرارکرناپڑے، بالفرض جداجداطریقے ارشاد بھی ہوئے ہوں تو سب کے لئے ایک طریقہ عامہ ہونے کی کیامنافی ہے، پھر اس باب سے سوااپنے اظہارعلم اور کیاحاصل ہوا،
جہالت ۱۸: اشباہ والنظائر والے صاحب نے فرمایا ہے کہ ۹۹۹ھ نوسوننانوے میں مصرالقاہرہ میں لوگوں نے مجھ سے پوچھا تھا طاعون میں قنوت پڑھنے سے، سو میں نے جواب دیا کہ اس کی تصریح کہیں نہیں، میں حکم نہیں کرسکتا، چنانچہ
قولہ سئلت عنہ فی الطاعون سنۃ تسع و تسعین وتسعمائۃ بالقاھرۃ فاجبت بانی لم ارہ صریحا۱؎۔
ان کا قول کہ قاہرہ میں مجھ سے طاعون کے وقت قنوت پڑھنے سے متعلق ۹۹۹ھ میں سوال کیاگیا تو میں نے جواباً کہا اس پرتصریح میرے مطالعہ میں نہیں آئی۔(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر فائدہ فی الدعا لرفع الطاعون مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ۲/ ۶۲۔۲۶۱)
صاحب اشباہ رحمہ اﷲ کا انتقال ہشتم رجب ۹۷۰ھ کوہوا۔ علامہ حموی شرح اشباہ فن ثانی کتاب الوقف میں نقل فرماتے ہیں: