''ضروری سوال'' کے اظہار خطا کو اسی قدربس تھا، بے حاجت شرعیہ ناقصوں قاصروں کی جہالتوں سفاہتوں کاشمار اپناشیوہ نہیں
لقولہ تعالٰی واعرض عن الجٰھلین
(اﷲ تعالٰی کاارشاد گرامی ہے کہ جاہلوں سے روگردانی کیجئے۔ت) مگرامور متعلقہ بدین میں بعد سوال سائل بیان امرحق ضروری، اور یہاں مصلحت دینی اس کی طرف داعی کہ جب ایک ایسابے علم وکم فہم ومشکوک ومتہم شخص اپنے آپ کو مفتی و مصنف بنائے ہوئے ہے اور بعض عوام اسے عالم وقابل اعتماد سمجھتے ہیں تو اس کے پرجہل ونااہل ہونے کا آشکارا کرنا ان شاء اﷲ دین عوام کو نافع اور ضلالت وجہالت میں پڑنے کادافع ہوگا وباﷲ التوفیق زید کی ترکیب وبندش الفاظ وانشا و املا میں اگرچہ خطاہائے فاحشہ موجود ہیں مگر ان سے تعرض داب محصلین نہیں لہٰذا انہیں چھوڑکر اس کے باقی کثیر وبسیار اغلاط وجہالت سے صرف بعض کااظہار کیاجاتا ہے:
جہالت ۱: حدیث مذکور ابن حبان کہ زید کے دعوٰی تخصیص کاصاف رَد تھی براہ نادانی اپنی دلیل بناکر لکھی اور اس پرفائدہ یہ جمادیا کہ ''یہاں سے سمجھاگیا کہ کفار ظلم کریں تونصرت چاہئے طاعون کے لئے قنوت ثابت نہیں'' عقلمندسے پوچھاجائے کہ اس حدیث میں ظلم کفار کی تخصیص کہاں ہے اور اس کے ذکر سے، سوا ضرر کے تجھے کیا فائدہ حاصل ہوا۔
جہالت۲: قنوت فجر کے بارے میں ہمارے مشائخ کرام تصریح فرماتے ہیں کہ منسوخ ہے ولہٰذا حکم دیتے ہیں کہ حنفی اگرفجر میں شافعی کی اقتداکرے قنوت میں اس کا اتباع نہ کرے کہ منسوخ میں پیروی نہیں، اس قدر توکلمات علماء متفق ہیں، ہاں محل نظریہ ہے کہ یہاں عموم نسخ ہے یانسخ عموم۔ عموم نسخ یہ کہ نازلہ و بے نازلہ کسی حال میں قنوت فجر کی مشروعیت باقی نہیں عموماً نسخ ہوگیا، اور نسخ عموم یہ کہ نازلہ وبے نازلہ ہرحال میں عموماً قنوت کاپڑھاجانا یہ منسوخ ہوا صرف بحالت نازلہ باقی رہا، نسخ عموم پرتوبہت احادیث صحیحہ دلیل ہیں جن کی تفصیل امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیرمیں افادہ فرمائی اور مسند احمد و صحیح مسلم و سنن نسائی و ابن ماجہ میں انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قنت شھرا یدعو علی احیاء من احیاء العرب ثم ترکہ۱؎ زادابن ماجۃ فی صلٰوۃ الصبح۲؎۔ وھو عندالبخاری فی مغازی بزیادۃ بعدالرکوع وترک ثم ترکہ۳؎۔
رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک مہینے تک نمازصبح میں قنوت پڑھی،عرب کے کچھ قبیلوں پر دعائے ہلاکت فرماتے تھے پھرچھوڑدی۔ ابن ماجہ نے یہ اضافہ کیاکہ نمازصبح میں قنوت پڑھتے تھے۔ بخاری کے مغازی میں یہ اضافہ ہے کہ قنوت رکوع کے بعد تھی ''پھراسے ترک کردیا'' کے الفاظ کو انہوں نے ترک کردیا۔(ت)
(۱؎ صحیح مسلم باب استحباب القنوت فی جمیع الصلوات مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱ /۲۳۷)
(۲؎ سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی القنوت فی صلوٰۃ الفجر مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۸۹)
(۳؎ صحیح بخاری باب غزوۃ الرجیع ورعل وذکوان مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۷۔۵۸۶)
اور صحاح ستہ میں بضمن حدیث ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہے کہ ترک کا سبب نزول آیہ کریمہ
(آپ کے ہاتھ میں معاملہ نہیں چاہے تو اللہ تعالٰی ان کی توبہ قبول فرمائے یا انہیں عذاب دے کیونکہ یہ ظالم ہیں ۔ ت) ،
(۴؎ القرآن ۳ /۱۲۸)
یہاں نظر دو طرف جاتی ہے اگر معنی آیت مطلقا ممانعت اور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا تارک فرمانا بربنائے ارتقاع شریعت ہو یعنی فجر میں قنوت اصلا مشروع نہ رہی تو عموم نسخ ثابت ہوگا اور اب قنوت نازلہ بھی منسوخ ٹھرے گی، اور اگر معنی آیت ان خاص لوگوں پر دعائے ہلاکت سے ممانعت ہوکہ ان میں بعض علم الہی میں مشرف باسلام ہونیوالے تھے اور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ترک انہیں کے بارے میں ہو، نہ مطلقا تو صرف نسخ عموم ہی ثابت ہوگا اور قنوت نازلہ مشروع رہے گی ، یہی دونوں نظریں امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر پھر ان کی تبعیت سے علامہ محقق حلبی نے شرح کبیر میں افادہ فرمائیں ، ان دونوں کتابوں اور مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں کہے :
واذا ثبت النسخ وجب حمل الذی عن انس من روایۃ ابی جعفر ( ھو الرازی ) و نحوہ ( کدینار بن عبداللہ خادم انس رضی اللہ تعالی عنہ مازال رسول للہ صلی اللہ تعالی علیہ سلم یقنت فی الصبح حتی فارق الدنیا) اما علی الغلط ( لان الرازی کثیر الوھم قالہ ابوزرعۃ و دینار وقد قیل فیہ ماقیل ) او علی طول القیام فانہ یقال علیہ ایضا او یحمل علی قنوت النوازل ویکون قولہ (ا ے قول انس رضی اللہ تعالی عنہ ) ثم ترک فی الحدیث الاخر ( المراد فی الصحاح ) یعنی الدعا علی اولئک القوم لامطلقا ۱؎ اھ مختصرا مزید منی مابین ھلالین
جب نسخ ثابت ہو تو اس روایت کو جسے حضرت انس سے ابوجعفر( رازی) یا اس کی مثل دیگر روایات( مثلا : دینار بن عبداللہ حضرت انس کے خادم ہیں سے مروی ہے کہ رسالتماب صلی اللہ علیہ وسلم وصال تک فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے ) یا غلطی پر محمول کیا جائے گا ( کیونکہ بقول رازی ابو زرع کثیر الوہم ہیں ، اور دینار کے بارے میں بھی جو کچھ کہا یا ہے وہ ہی کچھ ہے ) یا طول قیام پر محمول کیا جائے گا کیونکہ قنوت کا اطلاق اس پر بھی ہوتا ہے یا اسی قنوت نازلہ پر محمول کیا جائے گا اور ان ( حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ ) کا قول دوسری حدیث (جو صحح میں موجود ہے ) میں کہ پھر اسے ترک کردیا گیا یعنی قوم کے خلاف دعا ترک کردی نہ کہ ہر دعا اھ اختصار ا اور میری طرف سے وہ اضافہ ہے جو ہلالین کے درمیان ہے ( ت)
(۱؎ فتح القدیر باب صلوٰۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۷۹)
نیزکتابین مذکورین میں ہے:
فیجب کون بقاء القنوت فی النوازل مجتھدا فیہ وذلک ان ھذا الحدیث (ای حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ بطریقی حماد بن ابی سلیمان وابی حمزۃ القصاب عن ابراھیم عن علقمۃ عنہ قال لم یقنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الصبح الاشھر اثم ترکہ لم یقنت قبلہ ولابعدہ ولفظ حمادلم یرقبل ذلک ولابعدہ) لم یؤثر عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من قولہ ان لاقنوت فی نازلۃ بعد ھذہ، بل مجرد العدم بعدھا فیتجہ الاجتھاد بان یظن ان ذلک انما ھولعدم وقوع نازلۃ بعدھا تستدعی القنوت فتکون شرعیۃ مستمرۃ وھو محمل قنوت من الصحابۃ بعد وفاتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، او ان یظن رفع الشرعیۃ نظرا الی سبب ترکہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھو انہ لما نزل قولہ تعالٰی لیس لک من الامر شیئ ترک۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔۱ھ بزیادۃ۱؎۔
مصائب کے وقت قنوت پڑھنے کوباقی رکھنے کے معاملے کو اجتہادی قراردینا واجب ہے کیونکہ یہ حدیث (یعنی حدیث ابن مسعودرضی اﷲ تعالٰی عنہ دوطریقوں سے مروی ہے حماد بن ابی سلیمان، ابوحمزہ قصاب نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے کہ رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک ماہ تک صبح کی نماز میں قنوت پڑھا پھر آپ نے اسے ترک فرمادیا اس سے پہلے بھی آپ نے قنوت فجر میں کبھی نہ پڑھی اور نہ بعد میں۔ حماد کے الفاظ یہ ہیں کہ اس سے پہلے بھی نہ دیکھا اور نہ بعد میں اور نہ ہی آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے یہ قول منقول ہے کہ شدید مصیبت میں اس کے بعد قنوت نہیں پڑھی جائے گی بلکہ اس کے بعد محض عدم منقول ہوا لہٰذا اس معاملہ میں اجتہاد ہوگا بایں طور کہ غالب گمان ہے کہ اس کے بعد کوئی ایسی شدیدمصیبت ہی نازل نہ ہوئی جو قنوت کا تقاضا کرتی لہٰذا قنوت دائماً جائز ہوگی اور یہی محمل ہے اس قنوت کا جو حضور علیہ السلام کے صحابہ رضوان اﷲ تعالٰی علیہم سے منقول ہے یابایں طور کہ گمان یہ ہے کہ اس کاجواز ختم ہونا آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ترک کے باعث ہے، سبب یہ کہ جب اﷲ تعالٰی کاقول لیس لک من الامر شیئ نازل ہو آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس کوترک کردیا واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۱ھ بزیادۃ۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر باب الصلوۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۷۹)
روشن علم تو یہ ہے مگرمصنف ''ضروری سوال'' کی سخت نافہمی کہ دومتنافی باتوں کوایک کردیا اور کچھ نہ سمجھا، خود اسی کا ایک کلام دوسرے کو رَد کردے گا مسلک تو وہ اختیار کیا کہ قنوت نازلہ باقی ہے منسوخ نہیں اگرچہ نازلہ کے معنی خاص فتنہ وفساد وغلبہ کفار کے لئے ایک جگہ لکھا عندالنازلہ بدعت نہیں مداومت بدعت اوردین میں نیاکام ہے۔ پھرلکھا ''دلیل اوپرنسخ قنوت کے مداومت کے طوپر اوردلیل واسطے جواز قنوت کے عندالنازلہ'' پھرلکھا مداومت کے طور پرمنسوخ اور عندلنازلہ غیرمنسوخ''۔ اور مزے سے وہی آیہ کریمہ اور وہی حدیث بحوالہ صحیحین ذکرکرکے کہہ دیا ''اسی آیت سے اور حدیث متفق علیہ سے نسخ قنوت عموماً ثابت ہوا سوائے قنوت وترکے'' ذی ہوش سے پوچھاجائے کہ اس حدیث سے کس چیز پرقنوت مذکورتھی، نازلہ پر اور نزول آیت کس قنوت کے بارے میں ہوا، قنوت نازلہ میں، اگر آیت وحدیث سے اس کانسخ ثابت مانتاہے تو قنوت نازلہ کہاں باقی رہی، وہ ہی توصراحۃً ان سے منسوخ ہوئی، یہ طرفہ تماشا ہے کہ وہی منسوخوہی باقی،
ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
جہالت۳: حدیث طارق اشجعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ دربارہ انکار قنوت فجر(جس طرح معمول شافعیہ ہے) نسائی نے اس طرح روایت کی کہ میں نے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وخلفائے اربعہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے پیچھے نماز پڑھی کسی نے قنوت نہ پڑھی وہ بدعت ہے۱؎۔
اور ترمذی و ابن ماجہ نے یوں کہ ان کے صاحبزادے سعدابومالک نے اُن سے پوچھا آپ نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وخلفائے اربعہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے پیچھے نمازیں پڑھیں کیا وہ فجر میں قنوت پڑھتے تھے؟ فرمایا: نئی نکالی ہوئی ہے۔۲؎۔
(۲؎ جامع الترمذی باب فی ترک القنوت مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۱ /۵۳
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی القنوت فی صلوٰۃ الفجر مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۸۹)
ایک ہی حدیث مضمون، ایک ہی صحابی ایک ہی مخرج اور مصنف ''ضروری سوال'' نے اسے بلفظ اول ذکرکرکے نسائی و ابن ماجہ و ابن ترمذی سب کی طرف نسبت کیا اور لفظ دوم کو بے نسبت چھوڑکرکہہ دیا: ''ان دونوں حدیثوں میں لفظ بدعت اور محدث کاواردہے''۔ ایسی حدیث کو دوحدیثیں کہنا اصطلاح فقہادرکنار اصطلاح محدثین پربھی ٹھیک نہیں آسکتا یہ زید کی بے خبری وغفلت ہے۔
جہالت ۴: قنوت مذکورہ ائمہ شافعیہ وائمہ مالکیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کوحدیث مذکور سے بدعت بتاکر آگے حاشیہ جمایا: '' اورحکم بدعت کایہ ہے کہ
کل محدث بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار''
(ہرنوپیداچیز بدعت ہے اور ہربدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی دوزخ میں جائے گی۔ت) قطع نظر اس سے کہ جملہ اولٰی حکم بدعت نہیں، حکم بہ بدعت ہے، اجتہادیات ائمہ دین کو ایسے احکام کاموردقراردیں کیسی بے باکی وجرأت ہے حاشاائمہ کرام اہلسنت کاکوئی مسئلہ ضلالت وفی النار کامصداق نہیں وہ سب حق وہدایت وسبیل جنت ہے۔