Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
101 - 158
علامہ زین العابدین بن ابراہیم بن محمدمصری نے کتاب الاشباہ میں غایہ و شمنی و فتح کی عبارات کہ نوازل میں قنوت رواہے نقل کرکے فرمایا:
فالقنوت عندنا فی النازلۃ ثابت وھو الدعاء برفعھا ولاشک ان الطاعون من اشدالنوازل۱؎۔
یعنی ان عباراتِ علما سے ثابت ہوا کہ ہمارے نزدیک بلاسختی کے وقت قنوت پڑھنا ثابت ہے اور وہ یہی ہے کہ اس بلاکے دفع کی دعاکی جائے اور شک نہیں کہ طاعون سخت تربلاؤں میں سے ہے۔
 (۱؎ الاشباہ والنظائر    فائدہ فی الدعالرفع الطاعون        مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۲ /۲۶۲)
اسی طرح علامہ سیداحمدمصری نے حاشیہ نورالایضاح اور علامہ سیدمحمد دمشقی نے حاشیہ تنویرمیں دفع طاعون کے لئے قنوت پڑھنے کی تصریح فرمائی اور انہیں بحرمحقق صاحب بحرکاحوالہ دیا ان کی عبارت ان شاء اﷲ تعالٰی عنقریب آتی ہے اور ثانی نے زیرقول شارح مدقق
لایقنت لغیرہ الالنازلۃ
 (شدید مصیبت کے بغیرقنوت نہ پڑھی جائے۔ت) فرمایا:
قال فی الصحاح النازلۃ الشدیدۃ من شدائد الدھر ولاشک ان الطاعون من اشد النوازل اشباہ۲؎۔
صحاح میں ہے نازلہ اس مصیبت کوکہاجاتاہے جو شدائد دہرمیں سے ہو، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ طاعون شدیدترین مصیبتوں میں سے ہے، اشباہ(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        مطلب فی القنوت للنازلۃ        مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی            ۲ /۱۱)
تنبیہ: ان بیانوں سے چند امرروشن ہوئے:
اول یہ کہ طاعون ووباء اور ان کے مثل ہربلیہ عامہ کے لئے قنوت صحیح حدیثوں کے اطلاقات سے ثابت ہے تو زید یعنی مصنف ''ضروری سوال'' کاقنوت نوازل کوجائزوثابت مان کراسے بعض نازلہ سے خاص کرنا اور باقی کی نسبت کہنا جب تک شریعت سے کسی کام کی اصل نہ ملے وہ کام یاتوبدعت ہوگا یاگناہ محض بے معنی ہے کیااطلاق احادیث اس شخص کے نزدیک کوئی اصل شرعی نہیں کہ اس کے حکم کو بے اصل وگناہ مانتاہے۔
دوم قنوت طاعون ووبا کو نہ صرف اطلاقات کلام علمابلکہ ان کی صاف تعمیمیں شامل جن میں خود امام اجل ابوجعفر طحاوی بھی داخل، تو اس کی بنا پر زید کا ادعا کہ ''نہ اقوال خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے ثابت اور نہ ہمارے امام صاحب کے توابعین کے اقوال سے، وہ ایک زائد بات ہے'' صریح نافہمی ہے۔
سوم اطلاق وعموم سے استدلال نہ کوئی قیاس ہے نہ مجتہد سے خاص
کمابینہ خاتم المحققین سیدنا الجد قدس سرہ الامجد فی کتابہ المستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد
 (جیسا کہ ہمارے والدگرامی خاتم المحققین قدس سرہ نے اپنی مبارک کتاب ''اصول الرشاد لقمع مبافی الفساد''میں بیان کیاہے۔ت) مثلا اس اخیرزمانہ فتن میں طرح طرح کے نشے، قسم قسم کے باجے ایسے پیدا ہوئے جن کی حرمت کاذکر نہ قرآن مجید میں ہے نہ حدیث شریف میں نہ اقوال ائمہ میں، مگر انہیں حرام ہی کہاجائے گا کہ وہ
کل مسکر حرام
 (ہرنشہ آورشے حرام ہے۔ت) کے عموم اور یہ حدیث
یستحلون الحر والحریر والخمر والمعازف۱؎۔
(وہ ریشم، شراب اور مزامیر کوحلال سمجھیں گے۔)
وکریمہ من الناس من یشتری لھو الحدیث۲؎۔
 (اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں۔ت)
(۱؎ صحیح بخاری        کتاب الاشریہ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۸۳۷)

 (۲؎ القرآن الکریم    ۳۱ /۶)
کے شمول واطلاق میں داخل، اب اگرکوئی جاہل کہہ اُٹھے کہ یہ توتم قیاس کرتے ہو احادیث میں کہیں تصریح نہیں پائی جاتی نہ ہمارے امام صاحب کے تابعین سے، ہماراتمہارا قیاس مسائل فقہیہ دینیہ میں بےکار ہے تو اس سے یہی کہنا چاہئے کہ اے ذی ہوش! یہ قیاس نہیں بلکہ جب ایک مطلق یا عام احادیث وکلمات علمائے کرام میں وارد ہے تو اس کے دائرے میں جوکچھ داخل سب کووہ حکم محیط و شامل، توثابت ہوا کہ زید کا''ضروری سوال'' میں خود ہی یہ سوال قائم کرنا کہ ''جب قنوت عندالنازلہ ثابت اور جائز ہوتی توہرقسم کی بلااور مصیبت پرجائز ہونی چاہئے'' اور اس کایہ مہمل جواب دینا کہ''ہماراتمہارا قیاس مسائل فقہیہ دینیہ میں بے کار ہے احادیث میں کہیں تصریح نہیں پائی جاتی نہ ہمارے امام صاحب کے توابعین کے اقوال سے'' صریح نادانی ہے۔
چہارم اگرصرف یہی اطلاق وعموم احادیث واقوال ائمہ ہوتے تو ثابت کہنے کے لئے کافی تھے ایسے مسئلے کوہرگز کذب وبہتان نہیں کہہ سکتے، دوسرے دلائل کی نظر سے راجح اور ارجح کااختلاف دوسری بات ہے مگر آپ اوپرسن چکے کہ طاعون وو باء قحط وغیرہاکے لئے قنوت کی صاف صریح تصریحیں امام اجل ابوزکریانووی شارح صحیح مسلم شریف (جن کی جلالت شان پرعلمائے جمیع مذاہب حقہ کااجماع ہے) اور امام جلیل شرف الدین حسن بن محمد طیبی شارح مشکوٰۃ وامام شہاب الحق والدین احمد بن حجرمکی ہاشمی و علامہ عبداللطیف بن عبدالعزیز شہیربابن فرشتہ از اجلہ علمائے حنفیہ ومحقق فقیہ زین بن نجیم مصری عمدہ حنفیہو مولٰیناعلی محمدسلطان محمدہروی قاری مکی حنفی و فاضل جلیل سیداحمدمصری طحطاوی حنفی و عالم نبیل سیدمحمد آفندی شامی حنفی نے فرمائیں اور امام ابن حجرمکی نے اسے امام مجتہد عالم قریش سیدنا امام ابوعبداﷲ محمد بن ادریس شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے نقل کیا تو مصنف ''ضروری سوال'' کاقول کہ ''طاعون یاوبا کے لئے قنوت ثابت نہیں وہ ایک قسم کاکذب اوربہتان ہے اگرخطاء ً ایساکلمہ بے موقع کسی سے سرزد ہوجائے جناب الٰہی میں توبہ واستغفار جلد کرلے'' محض کذب وبہتان اور اب ائمہ کرام وعلمائے اعلام کی جناب میں گستاخی وتوہین شان ہے، زیدپرلازم ہے کہ اپنی اس خطا اور بے موقع کلمے سے جناب الٰہی میں توبہ واستغفار کرے اگربفرض باطل یہ قنوت نوازل صرف امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا مذہب ہوتا اور ہمارے ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم بالاتفاق اس سے انکار فرماتے تو غایت یہ کہ مسئلہ ائمہ مجتہدین کا اختلافیہ اور ہمارے مذہب کے خلاف ہوتا، اسے کذب وبہتان کہنا اس حالت میں بھی حلال نہ تھا نہ کہ اس صورت میں کہ خود ہمارے ائمہ وعلماء کے بھی اطلاق وعموم ونصوص سب کچھ موجود، اور اگر اسے خصوص نقل فعل کامنکر ٹھہرائیے تو اول تویہاں اس کامحل نہیں کہ اس خصوص کامدعی کون تھا جس کے رَد میں زید یہ الفاظ لکھتا۔
ثانیا اوپرواضح ہوا کہ زید نے اس تحریر''ضروری سوال'' میں نہ ہمارے متون مذہب کے ظاہر پر عمل کیانہ ہمارے شارحین اعلام کا قول لیا بلکہ اپنی طرف سے ایک نیافتوٰی گھڑدیا۔
بلی قد وقع مایوھمہ فی کلام بعض ائمۃ الحدیث فی تقریر مذھب الامام احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ و فی کلام بعض ائمتنا فی توجیہ مذھب بعض الصحابۃ رضوان اﷲ تعالٰی علیھم ثم لم یعتمدہ ولاجعلہ مذھب علمائنا ولاذکرہ فی تقریر کلامھم مع انہ قد اثر عنہ التعمیم صریحا فیحتمل ان یکون القصر ھھنا وقع وفاقا لاحصرا وایا ماکان فجعل ھذا مذھبا لنالاسلف لزید فیہ فیما اعلم واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
ہاں مذہب امام احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی تفصیل کرتے ہوئے بعض ائمہ حدیث کے کلام اور بعض صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے مذہب کی توجیہ کرتے ہوئے ہمارے بعض ائمہ کے کلام میں کچھ ایسی گفتگو واقع ہوئی ہے جو ایساوہم پیداکرتی ہے پھر اس پرکسی نے اعتماد نہیں کیا نہ ہمارے علماء کامذہب ہے اور نہ ہی یہ ان کے کلام میں مذکورہے باوجودیکہ ان کی عموم پرتصریح منقول ہے لہٰذا ممکن ہے کہ یہاں قصراتفاقاً واقع ہوگیا ہو اور حضرِ مقصود نہ ہو، جوبھی ہوا اسے ہمارامذہب بنادیاگیا میرے علم کے مطابق اس میں زید کے لئے کوئی فائدہ نہیں۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
Flag Counter