Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
100 - 158
ثانیاً ''میں اطلاق سے احتجاج کرتاہوں'' کلمات علماء میں صاف تعمیم موجود ہے عامہ عبارت مذکورہ دیکھئے لفظ نازلۃ یا بلیۃ نکرہ موضع شرط میں واقع ہوا کہ اگرکوئی سختی یا کسی قسم کی بلاآئے تونمازفجر میں قنوت پڑھے یہ صراحۃً ہرمصیبت ناس کو عام ہے '
'لما نصوا ان النکرۃ فی حیزالشرط تعم''
(کیونکہ علماء نے تصریح کی ہے کہ نکرہ شرط کے تحت ہو توعام ہوتاہے۔ت) تو زید کا ان کے معنی میں وہ حکم لگادینا کلمات علماء کابگاڑنا بدلناہے۔
ثالثاً ابن حبان نے اپنی صحیح بالتقاسیم والانواع میں بطریق ابراہیم بن سعد عن الزہری عن سعید و ابی مسلمہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی:
قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایقنت فی صلٰوۃ الصبح الا ان یدعوا لقوم او علی قوم۲؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نمازِ صبح میں قنوت نہ پڑھتے مگرجب کسی قوم کے لئے ان کے فائدے کی دعافرماتے یا کسی قوم پر ان کے نقصان کی دعافرماتے۔
 (۲؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ    باب القنوت الفصل الثانی        مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان            ۳ /۱۸۲)
فتح القدیر و غنیہ و مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرمایا:
 وھو سند صحیح۳؎
یہ سند صحیح ہے۔
 (۳؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ    باب القنوت الفصل الثانی        مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان        ۳ /۱۸۲)
خطیب بغدادی نے کتاب القنوت میں بطریق محمدبن عبداﷲ الانصاری ثناسعید بن ابی عروبۃ عن قتادہ حضرت انس بن مالک رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کی:
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان لایقنت الا اذا دعا لقوم اودعا علی قوم۱؎۔
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قنوت نہ پڑھتے مگرجب کسی قوم کے لئے یا کسی قوم پردعا فرمانی ہوتی۔
 (۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ        باب القنوت الفصل الثانی        مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان    ۳ /۱۸۲)
کتب ثلٰثۃ مذکورہ میں ہے:
ھذا سند صحیح قالہ صاحب تنقیح التحقیق۲؎
یہ سند صحیح ہے صاحب تنقیح التحقیق نے اس کی تصریح کی۔ امام زیلعی نصب الرایہ میں یہ دونوں حدیثیں ذکرکرکے فرماتے ہیں:
 (۲؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ        باب القنوت الفصل الثانی        مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان    ۳ /۱۸۲ )
قال صاحب التنقیح وسند ھذین الحدیثین صحیح وھما نص فی ان القنوت مختص بالنازلۃ۳؎۔
یعنی صاحب تنقیح نے کہا ان دونوں حدیثوں کی سند صحیح ہے اور ان میں صاف تصریح ہے کہ قنوت وقت مصیبت کے ساتھ خاص ہے۔
 (۳؎ نصب الرایہ لاحادیث الہدایۃ    باب احادیث القنوت فی الفجر    مطبوعہ مکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۲ /۱۳۰)
یہ دونوں حدیثیں بھی مطلق ہیں ان میں کوئی تخصیص فتنہ وغلبہ کفار کی نہیں اور شک نہیں کہ مثلا رفع طاعون، دفع وبا، زوال قحط کے لئے دعابھی ''دعا لقوم'' کے اطلاق میں داخل کہ یہ بھی مسلمانوں کے لئے دعائے نفع ہے، توصحیح حدیثوں سے اس کا جواب ثابت ہوا۔
فان اعتل بحمل المطلق علی المقید، قلنا لیس ھذا محلہ فان ذکر واقعۃ عین داخلۃ فی اجمال بیان لایحصرہ فیھا عند احد علی انہ انما ھو مسلک الشافعیۃ وانت تظھر من نفسک الاعتماد علی مذھب الحنیفۃ وقد انبأت فی غضون کلامک انک ھھنا بصدد اثبات مذھبھم وصرحت فی اٰخر الرسالۃ انھا علی اصول مذھب امامناالاعظم ابی حنیفۃ النعمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعن مقلدیھم اھ بلفظک مع ان الصحیح فی المسئلۃ الاصولۃ قولنا فقد اقام ائمتنا علیھا براھین لاقیل لاحدبھا فیتم الالزام ولایبقی لاحد مجال کلام۔
اگر کوئی یہ علت بیان کرے کہ مطلق کومقید پرمحمول کیاگیا ہے توہم کہیں گے کہ یہ اس حمل کامحل ہی نہیں اگرکوئی مخصوص ایساواقعہ ذکرکرے جوبیان اجمال میں داخل ہو تو اس بات کاحصر مخصوص واقعہ میں کسی کے ہاں درست نہیں، علاوہ ازیں یہ شوافع کامسلک ہے حالانکہ آپ مذہب حنفیہ پراعتماد کااظہارکررہے ہیں، آپ کی یہ گفتگو آگاہ کررہی ہے کہ آپ احناف کا مذہب ثابت کرنے کے درپے ہیں، حالانکہ آخر رسالہ میں آپ نے یہ تصریح کی ہے یہ رسالہ ہمارے امام ابوحنیفہ نعمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے اور ان کے مقلدین کے اصولوں پرہےاھ یہ تمہارے اپنے الفاظ ہیں باوجودیکہ صحیح مسئلہ اصول میں ہمارا قول ہے ہمارے ائمہ نے اس پرایسے دلائل قائم کئے ہیں کہ کوئی ان پرقیل وقال نہیں کرسکتا، پس الزام تام ہوا اور اس کے بعد کسی کو کلام کی مجال و طاقت نہیں(ت)
رابعاً مرقات شرح مشکوٰۃمیں ہے:
قال ابن حجر اخذ منہ الشافعی انہ لیسن القنوت فی اخیرۃ سائر المکتوبات للنازلۃ التی تنزل بالمسلمین عامۃ کوباء قحط وطاعون اوخاصۃ ببعضھم کأسر العالم او الشجاع ممن تعدی نفعہ و قول الطحاوی لم یقل بہ فیھا غیر الشافعی غلط منہ بل قنت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی المغرب بصفین اھ و نسبۃ ھذا لقول الی الطحاوی علی ھذا المنوال غلط، اذ أطبق علمائنا علی جواز القنوت عند النازلۃ۱؎۔
ابن حجر نے فرمایا کہ امام شافعی نے یہاں سے یہ بات اخذ کی ہے کہ اس وقت تمام فرائض کی آخری رکعت میں قنوت نازلہ پڑھنا سنت ہے جب عام مصیبت مسلمانوں پرمثلاً وباقحط، طاعون نازل ہو یاخاص مصیبت بعض لوگوں پر نازل ہو مثلاً کسی عالم یابہادر جس کے نفع کثیرہوں، کامقید ہوجانا، اور امام طحاوی کا یہ قول کہ نازلہ میں اس بات کاقول امام شافعی کے علاوہ کسی نے نہیں کیا، یہ ان کی طرف سے غلطی ہے بلکہ حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے مقام صفین پرمغرب کے وقت قنوت پڑھی ہےاھ اور اس قول کی اس طریق پرامام طحاوی کی طرف نسبت کرنا غلط ہے کیونکہ ہمارے علماء شدیدمصیبت کے وقت قنوت نازلہ پرمتفق ہیں۔(ت)
 (۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ    باب القنوت        مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان    ۳ /۱۷۸)
اُسی میں ہے:
قال الامام النووی القنوت مسنون فی صلٰوۃ الصبح دائما واما فی غیرھا ففیہ ثلثۃ اقوال والصحیح المشہور انہ اذا نزلت نازلۃ کعدوا وقحط اووباء اوعطش اوضرر ظاھر فی المسلمین ونحو ذلک قنتوا فی جمیع الصلوات المکتوبۃ والافلا ذکرہ الطیبی وفیہ ان مسنونیتہ فی الصبح غیر مستفادۃ من ھذا الحدیث۱؎۔
امام نووی نے فرمایا فجر کی نماز میں ہمیشہ قنوت سنت ہے اس کے علاوہ باقی نمازوں کے بارے میں تین اقوال ہیں، صحیح اور مشہوریہ ہے کہ جب کوئی شدید مصیبت آئے مثلاً دشمن کاحملہ، قحط، وبا، پیاس یا کوئی ضررمسلمانوں پرغالب ہو تو تمام فرائض نمازوں میں قنوت پڑھیں ورنہ نہیں، اس کو طیبی نے ذکرکیا۔ اور اُسی میں ہے کہ اس حدیث سے نمازصحیح کے اندرقنوت کی سنت مستفاد نہیں ہوسکتی۔(ت)
 (۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ    باب القنوت        مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان    ۳ /۱۷۹)
دیکھو مولٰینا علی قاری نے امام ابن حجرمکی سے تصریح صریح نقل فرمائی کہ جس نازلہ کے لئے قنوت پڑھی جاتی ہے وہ وباء وقحط وطاعون وغیرہا سب کوشامل ہے اور امام طیبی سے انہوں نے امام اجل ابو زکریانووی سے نقل کیا کہ نازلہ میں قحط ووبا وتشنگی وغیرہا سب داخل ہیں اور ان اقوال کومسلم ومقرر رکھا اور بعض بیان کہ خلاف مذہب سمجھے اُن پراعتراض کردیا، اسے برقراررکھا بلکہ نازلہ کے معنی مذکورنقل کرکے صاف فرمادیا کہ امام طحاوی کی طرف قنوت نازلہ کاانکار، اس طرح نسبت کردینا ٹھیک نہیں کہ اس کے جواز پرتوہمارے علماء کااتفاق ہے اس سے صاف مفہوم کہ وہی نازلہ جس کے معنی ابھی بیان ہوچکے کہ قحط ووباء وطاعون سب اس میں داخل ہیں اسی کے لئے ہمارے علماء جواز قنوت کے قائل ہیں۔
خامساً کیوں راہ دور سے نشان معنی مقصود، دیجئے، کلمات علماء سے صاف صریح تصریحیں لیجئے، اسی مرقاۃ شریف میں ہے:
قال ابن الملک وھذا یدل علی ان القنوت فی الفرض لیس فی جمیع الاوقات بل اذا نزلت بالمسلمین نازلۃ من قحط وغلبۃ عدووغیرذلک۲؎۔
یعنی علامہ ابن ملک نے فرمایا اس حدیث سے ثابت ہے کہ فرض میں قنوت ہمیشہ نہیں بلکہ خاص اس وقت ہے جب معاذاﷲ مسلمانوں پرکوئی سختی آئے، جیسے قحط اور دشمن کاغلبہ وغیرہ۔
 (۲؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ    باب القنوت        مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان    ۳ /۱۸۱)
Flag Counter