ایسے شخص کی اقتداء اور اُسے امام بنانا ہرگز روا نہیں کہ وہ مبتدع گمراہ بد مذہب ہے اور بد مذہب کی شرعاً توہین واجب اورامام کرنے میں عظیم تعظیم تو اُس سے احتراز لازم ۔علامہ طحطاوی حاشیہ دُرمختار میں نقل فرماتے ہیں:
من شذعن جمھور اھل الفقہ والعلم والسوادالاعظم فقد شذفیما یدخلہ فی النار فعلیکم معاشر المؤمنین باتباع الفرقۃ الناجیۃ المسماۃ باھل السنۃ والجماعۃ فان نصرۃ اﷲ تعالٰی و حفظہ وتوفیقہ فی مواقتھم وخذلانہ وسخطہ ومقتہ فی مخالفتھم وھذہ الطائفۃ الناجیۃ قد اجتمعت الیوم فی مذاھب اربعۃ وھم الحنفیون والمالکیون والشافعیون والحنبلیون رحمہم اﷲ تعالٰی ومن کان خارجا عن ھذہ الاربعۃ فی ھذاالزمان فھومن اھل البدعۃ والنار۱؎۔
یعنی جو شخص جمہور اہل علم وفقہ سوادِ اعظم سے جُدا ہوجائے وُہ ایسی چیز میں تنہا ہُوا جو اُسے دوزخ میں لے جائے گی۔تو اے گروہ مسلمین ! تم پر فرقہ ناجیہ اہلسنت وجماعت کی پیروی لازم ہے کہ خدا کی مدد اور اس کا حافظ و کارساز رہنا موافقت اہلسنت میں ہے اوراس کا چھوڑ دینا اور غضب فرمانا اور دشمن بنانا سُنیوں کی مخالفت میں ہے اور یہ نجات دلانے والا گروہ ا ب چار مذاہب میں مجتمع ہے حنفی، مالکی ، شافعی ، حنبلی اﷲ تعالٰی ان سب پر رحمت فرمائے۔ اس زمانہ میں ان چار سے باہر ہونے والا بدعتی جہنمی ہے۔
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الذبائح مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۴/۱۵۳)
اور ان لوگوں کے بدعتی ہونے کا روشن بیان ہم نے اپنے رسالہ النھی الاکیدمیں لکھا
من شاء فلیرجع الیھا
(جو شخص تفصیل چاہتا ہے وہ ہمارے اس رسالہ کا مطالعہ کرے۔ت) اور حدیث میں ہے حضور پر نور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۲؎ ۔رواہ ابن عساکر وابن عدی عن ام المؤمنین الصدیقہ و ابو نعیم فی الحلیۃ والحسن بن سفیان فی مسندہ عن معاذبن جبل والسنجری فی الابانۃ عن ابن عمر وکابن عدی عن ابن عباس والطبرانی فی الکبیر وابونعیم فی الحلیۃ عن عبداﷲ بن بسر رضی اﷲ تعالٰی عنھم موصولا والبیھقی فی الشعب عن ابراہیم بن مسیرۃ المکی التابعی الثقۃ مرسلا۔
جو کسی بدعتی کی توقیر کرے اس نے دین ِاسلام کے ڈھانے میں مدد کی ۔اس کوابن عساکر اورابن عدی نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اور ابو نعیم نے حلیہ میں ، حسین بن سفیان نے اپنی سند میں حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے،سنجری نے ابانہ میں حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے،اور مثل ابن عدی کےحضرت ابن عباس سے،اورطبرانی نے کبیر میں،ابو نعیم نےحلیہ میں حضرت عبداﷲ بن بسر رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے متصلاً روایت کیا ہے اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں ابراہیم بن میسرہ مکی تابعی ثقہ سے اسے مرسلاً روایت کیا ہے(ت)
(۲؎ شعب الایمان حدیث ۹۴۶۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۷/۶۱)
توایسے شخصوں کو امام کرنا گویا دینِ اسلام ڈھانے میں سعی کرنا ہے العیاذ باﷲ تعالٰی سنن ابن ماجہ میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لا یؤمّن فاجر مؤمنا الا ان یقھرہ بسلطانہ یخاف سیفہ اوسوطہ۱؎۔
ہر گز کوئی فاجر کسی مومن کی امامت نہ کرے مگر یہ کہ وُہ اُسے اپنی سلطنت کے زور سے مجبور کردے کہ اس کی تلوار یا تازیانہ کا ڈر ہو۔(ت)
(۱؎ سنن ابن ماجہ باب فرض الجمعۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۷۷)
صغیری شرع منیہ میں ہے :
یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم وعند مالک لایجوز تقدیمہ وھوروایۃ عن احمد وکذاالمبتدع ۲؎۔
فاسق کی تقدیم مکروہ تحریمی ہے اور امام مالک رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیک فاسق کی تقدیم جائز ہی نہیں ، امام احمد بن حنبل رحمہ اﷲ سے بھی ایک روایت اسی طرح ہے ،بدعتی شخص کا حکم بھی یہی ہے ۔(ت)
مراقی الفلاح میں ہے:
فتجب اھانتہ شرعا فلا یعظم بتقدیمہ للامامۃ واذا تعذر منعہ ینتقل عنہ الی غیر مسجدہ للجمعۃ وغیرہا۳؎۔
شرعاً فاسق کی اہانت لازم ہے پس امامت کے لئے مقدم کرکے اس کی تعظیم نہ کی جائے ،اگر اس کی تقدیم سے روکنا دشوار ہو تو جمعہ اور دیگر نمازوں کے لئے کسی دوسری مسجد کی طرف چلا جانا چاہئے ۔(ت)
(۳؎ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فی بیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص ۱۶۵)
حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
الکراھۃ فی الفاسق تحریمۃ علی ماسبق ۴؎
(امامۃ فاسق میں کراہت تحریمی ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ت)
(۴؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی بیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص ۱۶۵)
محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں:
روی محمد ابن ابی حنیفہ و ابی یوسف رحمھما اﷲ تعالٰی ان الصّلٰوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز۵؎۔
امام محمد نے امام ابو حنیفہ اور امام ابویوسف رحمہم اﷲ تعالٰی سے نقل کیا ہے کہ اہلِ بدعت کے پیچھے نماز جائز نہیں۔(ت)
(۵؎ فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱/۳۰۴)
غیاث المفتی پھر مفتاح السعادۃ پھر شرح فقہ اکبر میں سیّدنا امام ابو یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے:
لا تجوز خلف المبتدع ۱؎
( بدعتی کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ت)
(۱؎ شرح الفقہ الاکبر، خطبۃ الکتاب ،مطبوعہ مصطفی البابی مصر، ص ۵)
ففیر غفراﷲ تعالٰی نے ان حضرات غیر مقلدین کے پیچھے نماز جائز و ممنوع ہونے کے باب میں ایک مفصل رسالہ مسمّی بہ النھی الاکید عن الصلاۃ وراء عدی التقلیدلکھا اور اس میں مقدمات مذکورہ کو اس وجہ پر تحقیق اور متعدد دلائل قاہرہ سے ان کے پیچھے نماز ممنوع ہونے کا ثبوت دیا۔
از انجملہ یہ کہ اُنھوں نے نماز وطہارت وغیرہا کے مسائل میں آرام نفس کی خاطر وہ باتیں ایجاد کی ہیں جو مذاہب اربعہ عموماً مذہب مہذّب حنفی خصوصاًکے بالکل خلاف ہیں مسح سر کے عوض پگڑی کا مسح کافی مانتے ہیں ،لوٹے بھر پانی میں تولہ بھر پیشاب پڑ جائے اُس سے وضو جائز ٹھہراتے ہیں کہ یہ مسائل اور ان کے امثال ان کی کتب میں منصوص ہیں، پھر دین میں ان کی بیباکی وسہل انگاری وبے احتیاطی و آرام جوئی مشہور و مشہود و عام گروہ اہل حق بالخصوص حضرات حنفیہ کے ساتھ ان کا تعصّب معروف و معہود تو ہر گز مظنون نہیں کہ یہ برعایت مذہب حنفیہ اپنے ان مسائل پر عمل سے بچیں بلکہ بحالت ِ امامت بنظرِ توصب و عداوت اس کاخلاف ہی مظنون ۔پھر جمہور ائمہ کرام ارشاد فرماتے ہیں کہ شافعی المذہب کی اقتداء بھی اُسی حالت میںصحیح ہوسکتی ہے کہ مواضع خلاف میں مذہب حنفیہ کی رعایت کرتاہو حنفیہ سے بغض نہ رکھتا ہو ور نہ اصلاً جا ئز نہیں تو یہ بد مذہب کہ چاروں مذہب سے خارج ومہجور اور رعایت مذہب حنفیہ سے سخت نفور اور بغض و تعصّب میں معروف و مشہور ،ان کے پیچھے نماز کیونکر روا ہوسکتی ہے۔
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
الاقتداء بشافعی المذھب انما یصح اذا کان الامام یتحامی مواضع الخلاف بان یتوضأ من الخارج النجس من غیرالسبیلین کالفصد ولایکون متعصباولا یتوضأ فی الماء الراکد القلیل وان یغسل ثوبہ من المنی ویفرک الیابس منہ ویمسح ربع راسہ ھکذا فی النھایۃ والکفایۃ ولا یتوضأ بالماء القلیل الذی وقعت فیہ النجاسۃ کذا فی فتاوٰی فاضی خان ۲؎ اھ ملخصا۔
شافعی المذہب (امام) کی اقتداء اس وقت جائز ہے جب وہ مواضع خلاف سے بچتا ہو مثلاً غیر سبیلین سے خارج نجاست مثلاً رگ کاٹنے کی وجہ سے وضو کرتا ہو ،مسلک میں متعصب نہ ہو، کھڑے تھوڑے پانی سے وضو نہ کرنے والا ہو، منی لگنے کی صورت میں کپڑا دھوتا ہو یا خشک ہوجانے کی صورت میں اسے کھرچ دیتا ہو ، سر کے چوتھائی حصے کا مسح کرتا ہو، نہایہ اور کفایہ میں اسی طرح ہے اور اس تھوڑے پانی سے وضو جائز نہ سمجھتا ہو جس میں نجاست واقع ہوئی ہو فتاوی قاضی خان میں اسی طرح ہے اھ تلخیصاً(ت)
(۲؎ فتاوی ہندیہ الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماما لغیرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۸۴)
اسی طرح جامع الرموز ومجمع الانہر وحاشیہ طحطاویہ علی مراقی الفلاح وغیرہ میں ہے
والتفصیل فی رسالتنا المذکورۃ
(اس کی تفصیل ہمارے مذکورہ رسالے میں ہے۔ت) واﷲ الموافق سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
جواب سوال دوم: صورت مسؤلہ میں اسے امام ہونا حلال نہیں، جو اسے امام بنائے گا گناہگار ہوگا۔حضور پُر نور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لا یقبل اﷲ منھم صلوۃ من تقدم قوما وھم لہ کارھون ۱؎۔
تین شخصوں کی نماز اﷲ تعالٰی قبول نہیں فرماتا ایک وہ جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اسے ناپسند رکھتے ہوں۔
(۱؎ سنن ابی داؤد باب الرجل یؤم القوم وھم لہ کارھون مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۸۸)
رواہ ابوداؤد وابن ماجۃ عن ابن عمر وابن خزیمۃ عن انس والترمذی وحسنہ عن ابی امامۃ وابن ماجۃ وابن حبان ابن عباس وفی الباب عن طلحۃ التیمی رضی اﷲ تعالٰی عنھم عندالطبرانی فی الکبیر۔
اس کوابو داؤداورابن ماجہ نے حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے،ابن خزیمہ نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ اورترمذی نے اسے حضرت ابوامامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کر کے حسن کہا ہے۔ابن ماجہ اور ابن حبان نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے ،اور اس مسئلہ میں طبرانی نے کبیر میں حضرت طلحہ التیمی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بھی روایت کیا ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے :
لو ام قوماوھم لہ کارھون ان الکرھۃ لفساد فیہ اولانھم احق بالامامۃ منہ کرہ لہ ذلک تحریما۲؎۔
اگر کسی نے کسی قوم کی امامت کی حالانکہ وہ قوم اسے ناپسند کرتی ہو خود اس میں فساد کی وجہ سے کراہت ہو یا اس لئے کہ دیگر لوگ فاسق سے زیادہ امامت کے اہل تھے اس صورت میں فاسق کا امام بننا مکروہِ تحریمی ہے۔(ت)
(۲؎ دُر مختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۸۳)