ثامناً تا سعاً عاشراًکتابوں کے جُھوٹے حوالے دینا کذب و افتراء اور وہ بھی علماء پر اور وہ بھی امورِ دین میں، یہ سب سخت گناہ ہیں ،مسائل میں علماء پرا فتراء ،شرع پر افتراء اور شرع پر افتراء خدا پر افتراء ۔
قال اﷲ تعالٰی
لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام لتفتروا علی اﷲ الکذب ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لا یفلحون۳؎۔
ارشاد ربّانی ہے اورنہ کہو اسے جو تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اﷲ تعالٰی پر جھوٹ باندھو ،بے شک جو اﷲ تعالٰی پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔(ت)
(۳؎ القرآن ۱۶/۱۱۶)
اور جنازہ کی جب ایک بار ہوچکی تو ہمارے علمائے کرام کے نزدیک اس کا اعادہ جائز نہیں مگر یہ کہ صاحبِ حق یعنی ولی میّت کے بے اذن دیئے عام لوگوں سے کسی نے پڑھا دی اور ولی شریک نہ ہُوا تو اُسے اعادہ کا اختیار ہے پھر بھی جو پہلے پڑھ چکے اب نہ ملیں کہ اس کی تکرار مشروع نہیں۔
فی الدرالمختار فان صلی غیرالولی ممن لیس لہ حق التقدم علی الولی ولم یتابعہ الولی اعاد ولوعلی قبرہ ان شاء لاجل حقہ لالاسقاط الفرض ولذا قلنالیس لمن صلی علیھا ان یعید مع الولی لان تکرارھا غیر مشروع وان صلی من لہ حق التقدم او من لیس لہ حق التقدم وتابعہ الولی لایعیدوان صلی الولی بحق بان لم یحضر من یقدم علیہ لایصلی غیرہ بعدہ۱؎اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے اگر نمازِ جنازہ ولی کے علاوہ کسی ایسے شخص نے پڑھا دی جس کو ولی پر مقدم ہونے کا حق نہ تھا اور ولی نے اس کی متابعت نہ کی تو ولی اگر چاہے تو قبر پر بھی اعادہ کرسکتا ہے یہ اعادہ اس کے اپنے حق کی وجہ سے ہے نہ کہ اسقاطِ فرض کے لئے ۔اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ جس نے پہلے جنازہ پڑھ لیا ہو وہ ولی کے ساتھ اعادہ نہ کرے کیونکہ جنازہ کا تکرار مشروع نہیں۔ اگر جنازہ کسی ایسے شخص نے پڑھا یا جس کو ولی پر حق تقدم تھا(مثلاً قاضی یا نائب یا امام مسجد) یا اس شخص نے پڑھا دیا جس کوولی پر حق تقد م نہ تھا مگر ولی نے شرکت کرلی تو پھر جنازہ کا اعادہ نہیں کیاجاسکتا اور اگر ولی نے اپنے استحقاق کے بموجب جنازہ پڑھایا بایں طور پر وہاں اور کوئی صاحب حق تقدم نہیں تھا تو اس کے بعد کوئی دوبارہ جنازہ نہیں پڑھ سکتا اھ ملخصاً(ت)
اور پانچ تکبیریں تو ہمارے ائمہ بلکہ ائمہ اربعہ بلکہ جمہور ائمہ کے نزدیک منسوخ ہیں بلکہ امام ابو عمر یوسف بن عبدالبرمالکی نے فرمایا چار پر اجماع منعقد ہوگیا و لہذا ہمارے علماء کرام حکم فرماتے ہیں کہ امام پانچویں تکبیر کہے تو مقتدی ہر گز ساتھ نہ دیں خاموش کھڑے رہیں ، یہی صحیح ہے، اور بعض روایات میں تو یہاں تک ہے کہ وہ تکبیر پنجم کہے تو یہ سلام پھیر دیں کہ اتباع منسوخ کا رد خوب واضح ہوجائے۔
فی الدرالمختار لو کبرامام خامسالم یتبع لانہ منسوخ فیمکث المؤتم حتی یسلم معہ اذاسلم بہ یفتی۔۲؎
درمختار میں ہے اگر مقتدی کے امام نے پانچویں تکبیر کہی تو وُہ امام کی اتباع نہ کرے کیونکہ یہ منسوخ ہے پس مقتدی ٹھہرا رہے اور امام کے ساتھ سلام پھیرے، اسی پر فتوٰی ہے۔(ت)
وروی عن الامام انہ یسلم للحال ولا ینتظر تحقیقا للمخالفہ۳؎ط۔
ۤامام اعظم سے یہ بھی مروی ہے کہ مقتدی فی الفور سلام کہہ دے امام کا انتظار نہکرے تاکہ کُھلی مخالفت ہوجائے ط(ت)
(۳؎ ردالمحتارباب صلٰو ۃ الجنازۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۶۴۵)
زید کہ یہ حرکت بھی وہی جہل و جرأت ہے یا غیر مقلدی کی آفت و علت ۔بہر حال اس کے اقوال مذکورہ سوال شاہد عدل کہ وہ فاسق و بیباک ہے اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ناقص و خراب ہوتی ہے۔
صرح بہ فی الغنیۃ شرح المنیۃ والیہ اشار فی فتاوی الحجۃ وربما جنح الیہ فی ردالمحتار واوضحناہ فی رسالتنا النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید۔
غنیـہ شرح منیہ میں اس پر تصریح ہے اور اسی کی طرف فتاوی الحجہ میں اشارہ ہے اور ردالمحتار میں اسی کی طرف میلان ہے، اور ہم نے اس کی وضاحت اپنے رسالے النھی الاکید عن الصلٰوۃ وراء عدی التقلیدمیں کی ہے۔(ت)
پس حتی الامکان ہرگز اس کی اقتدا نہ کریں اور جتنی نمازیں اس کے پیچھے پڑھ چکے ہوں سب پھیریں اور ان باتوں پر جواس کے ممدومعاون ہیں وہ بھی گناہ میں اُس کے شریک ہیں۔ قال اﷲ تعالٰی
ولا تعاونواعلی الاثم والعدوان۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا گناہ اور حد سے بڑھنے میںایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
(۱؎ القرآن ۵/۲)
مسئلہ نمبر ۵۷۷: ۱۸ محرم الحرام ۱۳۱۱ھ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید حافظ قرآن ہے مگر نوکری خانساماں (بیرا) گیری کرتا ہے اب اس نوکری سے اس نے توبہ کی اور اب اس کے پیچھے لوگ نماز پڑھنے میں کراہت کرتے ہیں آیا کراہت کرنا اُن لوگوں کا جاسے یا بیجا ہے؟ صاف صاف کتاب اﷲ و حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے فرمایئے: بینوا توجروا
الجواب: اگر صرف اس وجہ سے کراہت کرتے ہیں کہ اس نے وہ نوکری کی تھی اگرچہ اب توبہ کرلی تواُن کی کراہت بیجا ہے کوئی گناہ بعد توبہ باقی نہیں رہتا ۔حدیث میں ہےحضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
التائب من الذنب کمن لاذنب لہ ۲؎۔
گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہوجاتا ہے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔(ت)
(۲؎؎ سنن ابن ماجہ بابذکرالتوبہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۳۲۳)
واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ نمبر ۵۷۸ ، ۵۷۹: از علی گڑھ کارخانہ مہر مرسلہ حافظ عبداﷲ صاحب ٹھیکیدار ۶جمادی الاولی ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی مولوی مقلدین حنفیہ کو ذریۃً الشیطان اور کتاب و سنّت کا منکر لکھے اور غیر مقلدی کی اشاعت میں ہمہ تن مصروف ہو اور مسائل خلافیہ مقلدین کا سخت مخالف اور غیر مقلدین کا حامی اور معاون ہو اور مسائل حنفیہ کو مثلاً آمین بالخفا کو اپنی تحریرات میں خرافات لکھے اور بعض اوقات کسی مصلحت دنیوی سے اپنے آپ کو حنفی المذہب ظاہر کرے ایسے شخص کی اقتداء اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور ایسے شخص کو حنفی کہا جائے گا یا نہیں؟
دومؔ جس امام ِ شہر سے شہر کے مسلمان بوجہ شرعی ناراض ہوں اور اسکے پیچھے نماز نہ پڑھیں تو اس حالت میں اُس کا امام ہونا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب :اللھم انا نعوذ بک من الشیطٰن الرجیم
جو ذریۃ الشیطان کتاب و سنّت کا منکر حنفیہ کرام خصہم اﷲ تعالٰی باللطف والاکرام کا نام رکھتا ہے پر ظاہر کہ وُہ گمراہ خود کا ہے کو حنفی ہونے لگا اگر چہ کسی مصلحت دنیوی سے براہ تقیہ شنیعہ اپنے آپ کو حنفی المذہب کہے کہ اُس کے افعال و اقوال مذکورہ سوال اُس کی صریح تکذیب پر دال ،منافقین بھی تو زبان سے کہتے تھے :
نشھد انّک لرسول اﷲ۱؎ ۔
ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور اﷲ کے رسول ہیں۔
(۱؎ القرآن ۶۳/۱)
مگر ان ملاعنہ کے گفتار و کردار اس جُھوٹے اقرار کے بالکل خلاف تھے، قرآن عظیم نے اُن کے اقرار کو ان کے منہ پر مارا:
واﷲ یعلم انک لرسولہ واﷲ یشھد ان المنٰفقین لکٰذبون۲؎۔
اﷲ خوب جانتا ہے کہ تم بیشک اس کے رسول اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ مبافق جھُوٹے ہیں۔