Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
96 - 185
مسئلہ نمبر ۵۷۵:     مسئولہ مرزا باقی بیگ صاحب رامپوری    ۴صفر ۱۳۰۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کو دَر میں یعنی دو۲ ستونوں کے بیچ میں کھڑا ہونا کیسا ہے؟بینوا توجروا۔
الجواب:  مکروہ ہے۔
فی مکروھات الصلوۃ من ردالمختار عن معراج الدریۃ باب الامامۃ الاصح ماروی عن ابی حنیفہ انہ قال اکرہ للامام ان یقوم بین الساریتین (الی قولہ) لانہ بخلاف عمل الامۃ انتھی۲؎۔
ردالمحتار کے مکروہات صلٰو ۃ میں معراج الداریہ کے باب الامامت کے حوالے سے ہے کہ امام ابو حنیفہ سے اصح طور پر یہی مروی ہے کہ میں امام کے دوستونوں کے درمیان کھڑے ہونے کو مکروہ جانتا ہُوں (آگے چل کر فرمایا) کیونکہ یہ عملِ امّت کے خلاف ہے انتہی (ت)واﷲ سبحٰنہ تعالی اعلم۔
 (۲؎ ردالمحتار ، مطلب مکروہات الصلٰو ۃ    فصل فی الامامۃ   مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱/۴۷۸)
مسئلہ نمبر۵۷۶: ازاُجین گوالیار    مرسلہ مولوی یعقوب علی خان    ۱۵ جمادی الاخری ۱۳۰۹ھ

کیا فرماتے ہیں علما ئے دین ومفتیانِ سنّت وجماعت اس مسئلہ میں کہ زید مسائل فقہ سے محض ناواقف اور نہ عبورِ حدیث وتفسیر،باوجود ان اوصاف کے بلادلائل شرعیہ بیان کرے کہ جو مرد اپنی بی بی سے قربت کرےاور جب تک نہ نہاوے موردِ لعنت ہے اور کہے کہ جوشخص دروازہ مسجد کو بحفاظتِ مسجد بعد نمازِ عشاء مقفل کرے اُس مسجد میں نماز قطعی حرام ہے وُہ آدمی سنگسار کیا جائے اوربغیر علم احادیث و تفسیر ترجمہ قرآن مجید کرے اور فرض کو سنّت اور واجب کو مستحب بیان کرکے جُھوٹے حوالے کتاب کے دے اور بعد ہونے نماز جنازہ بارہ دوم تکبیر پانچ منسوخہ سے نماز جنازہ پڑھاوے اور بلا وقفیت مسائل وارکان نماز پیش امامی کرے نماز اسکے پیچھے جائز ہے یا نہیں؟ اور جائز کو ناجائز کے کہے اُس کے حق میںاور اُس کے ممدومعاون کے حق میں شرعاً کیا حکم ہے؟
احکموا ﷲ بحوالۃ الکتاب
 (اﷲ تعالٰی کا حکم بیان کرو حوالہ کتاب کے ساتھ۔ت)
الجواب زید جاہل ، سخت جری،بیباک ہے۔

اوّلاً اس کاعلی الاطلاق کہنا کہ جو اپنی بی بی سے قربت کرے جب تک نہ نہائے معاذ اﷲ موردِ لعنت ہے شریعتِ مطہرہ پر سخت افترائے ناپاک ہے حکم صرف اس قدر ہے کہ مھما امکن(جتنا جلدی ممکن ہو۔ت) نہانے میں تعجیل مندوب ومحبوب ہے اگر نہ نہائے تو وضو کررکھے کہ جہاں جنب ہوتا ہے وہاں فرشتے آنے سے احتراز کرتے ہیں مگر غسل میں تعجیل نہ کرنے والامعاذاﷲ موردِ لعنت ہونا درکنار سرے سے گناہگار بھی نہیں جب تک تاخیر باعثِ فوتِ نماز یا دخول وقت کراہت تحریمی نہ ہو، خود صاحب شرع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تعلیمِ جواز کے لئے بعض اوقات بلکہ خاص شبہائے ماہِ مبارک رمضان میں صبح تک تاخیرِ غسل فرمائی ہے کہ حضور پُرنور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس فعل سے امّت کو دو۲ مسئلہ تخفیف ورحمت معلوم ہوں ایک یہی غسل میں تعجیل گو بہتر ہے پر واجب نہیں،نماز تک تاخیر کا اختیار رکھتا ہے دُوسرے یہ کہ بحالت ِجنابت صبح کرنے سے روزے میں کوئی خلل یا نقص نہیں آتا۔
احمدوبخاری ومسلم وام المومنین صدیقہ و ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے راوی: ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یصبح جنبا من جماع ثم یغتسل ویصوم زادفی زاویۃ فی رمضا ن ۱؎۔
نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (بعض اوقات) جماع کی وجہ سے جنبی حالت میں صبح کرتے پھر غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے، ایک روایت میں رمضان کا بھی اضافہ ہے۔(ت)
 (۱؎ صحیح بخاری        باب الصائم یصبح جنبا        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۲۵۸

صحیح مسلم        باب صحۃ صوم من طلع علیہ الفجر         مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۳۵۴

مسند احمد بن حنبل    مروی عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا        مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۲/۳۱۳)
ثا نیاً و ثالثاً:مسئلہ مسجد میں خدا ورسول پر دو ۲ افترااور کئے ،ایک یہ کہ اس مسجد میں نماز حرام ، دوسرا یہ کہ وہ آدمی سنگسار کیاجائے۔ پہلے افترا سے وہ اُن لوگوں میں داخل ہوا جنہیں قرآن عظیم نے فرمایا:
ومن اظلم ممن منع مسٰجد اﷲ ان یذکر فیھا اسمہ وسعٰی فی خرابہا۱؎۔
اُس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی مسجدوں کو ان میں یاد الہی ہونے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے۔(ت)
 (۱؎ القرآن        ۲/۱۱۴)
اور دوسرے سے وہ بے گناہ مسلم کے ناحق قتل کا فتوی دینے والا ہوا،علماء صاف اجازت دیتے ہیں کہ حاجت کے وقت غیر اوقات نماز میں حفاظت کے لئے دروازہ مسجد بند کرنا جائز ہے۔
کرہ خلق الباب المسجد الالخوف علی متاعہ بہ یفتی۲؎ درمختار۔
مسجد کے سامان کوچوری سے محفوظ کرنے کے لئے مسجد کو بند رکھنا جائز ہے ورنہ بلا ضرورت مسجد کو بند رکھنا مکروہ ہے۔ اسی پر فتوٰی ہے۔درمختار(ت)
 (۲؎ درمختار        باب مایفسد الصلٰو ۃ الخ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۹۳)
ھذا ھوالصحیح ۳؎ تبیین الحقائق والمسألۃ فی الفتح والبحر والنھر وغیرھا عامۃ کتب المذہب۔
  یہی صحیح ہے، تبیین الحقائق۔اور یہ مسئلہ فتح ،بحر ،نہر اور دیگر مشہور کتب میں یونہی مذکور ہے۔(ت)
 (۳؎ تبیین الحقائق    فصل کرہ استقبال القبلۃ بالفرج الخ    مطبوعہ المطبعۃ الکبری الامیریۃ بولاق مصر    ۱/۱۶۸)
ہاں بے حاجت یا غیر وقت حاجت خصوصاً اوقات ِ نماز میں بند کرنا ممنوع اور بند کرنےوالا گناہگار مگر نہ ایسا کہ سنگسار کرنے کے قابل،اور یہ سخت جہالتِ فاحشہ دیکھئے کہ اُس مسجد میں نماز حرام ۔سبحٰن اﷲ! اُس نے تو ایک آدھ وقت دروازہ بند کیا یہ ہمیشہ کو تیغا کٹے دیتا ہے وہ سنگسار کرنے کے قابل ہوا یہ کس سزا کے لائق ہوگا۔

رابعاً: بے علم ترجمہ قرآن مجید میں دخل دینا گناہ کبیرہ ہے، خودقرآن مجید فرماتا ہے:
ام تقولون علی اﷲ مالا تعلمون ۴؎۔
یا تم اﷲ کے بارے میں وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔(ت)
 (۴؎ القرآن ۲/۸۰)
حدیث میں ہے سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من قال فی القراٰن بغیر علم فلیتبوأ مقعدہ من النار۱؎۔ رواہ الترمذی وصححہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جو بغیر علم کے قرآن میں زبان کھولے وہ اپنا گھرجہنّم میں بنالے۔اسے ترمذی نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کرکے صحیح قرار دیا ۔
 (۱؎ جامع الترمذی    باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن برأیہ    مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ امین کمپنی دہلی    ۲/۱۱۹)
خامساً ،سادساً،سابعاًبے سمجھے بُوجھے مسائل شرعیہ میں مداخلت کرنا غلط سلط جو منہ پر آیا فرض کو سنّت، واجب کو مستحب، ناجائز کو جائزبتا دینا بھی گناہ عظیم ہے۔ حدیث شریف میں ہے حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :اجرؤکم علی الفتیا اجرؤکم علی النار ۲؎۔اخرجہ الدارمی عن عبیداﷲ بن ابی جعفر مرسلا۔

جو تم میں فتوی پر زیادہ بیباک ہے آتش دوزخ پر زیادہ جری ہے اس کو دارمی نے عبیداﷲ بن ابی جعفر سے مرسلاً ذکر کیا ہے۔
 (۲؎ سنن الدارمی     باب الفتیاومافیہ من الشدۃ        مطبوعہ نشر السنۃ ملتان  ۱/۵۳)
Flag Counter