قال الامام الاستروشنی فی کتاب احکام الصغار الصبی اذاغسل المیت جاز۱؎ اھ ای یسقط بہ الوجوب فسقوط الوجوب بصلاتہ علی المیت اولی لانھا دعاء وھواقرب للاجابۃ من المکلفین۔
امام استروشنی نے کتاب الاحکام الصغار میں تصریح کی ہے کہ بچّہ اگر کسی میت کو غسل دے تو جائز اھ یعنی اس سے وجوب ساقط ہوجائے گا لہذا میّت پر بچّے کی نمازسے وجوب نماز بطریقِ اولٰی ساقط ہوجائے گا کیونکہ نمازِ جنازہ دُعا ہے اور بالغ لوگوں کی بنسبت بچّے کی دُعا جلدی قبول ہوتی ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب صلٰو ۃ الجنائز مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۶۴۱)
اُسی میں ہے:
نقل الاحکام عن جامع الفتاوٰی ،سقوطہا بفعلہ کردالسلام ۲؎ اھ وتمام تحقیقہ فیہ من الامامۃ ومن الجنائز۔
لیکن احکام میں جامع الفتاوٰی سے منقول ہے کہ بچّے کے نماز جنازہ پڑھانے سے اس کا سقوط ہوجاتا ہے جیسا کہ بچّہ اگرسلام کا جواب دے تو اس کے سلام کا جواب دینا درست ہے اھ اور اس بارے میں تمام تحقیق باب الاما مۃ اورباب الجنائز میں ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب صلٰو ۃ الجنائز مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۶۴۱)
اور اگر بالغ ہے تو ہر نماز یہاں تک کہ فرائض پنجگانہ بھی اس کے پیچھے ہو توجائیں گے کہ داڑھی مونچھ شرط صحتِ امامت نہیں بلوغ درکار ہے اور وہ ظہور آثار مثل احتلام وغیرہ سے لڑکوں میں بارہ۱۲ برس کی عمر سے ممکن لیکن جبکہ وُہ تارک الصلٰو ۃ اور بلا تاویل تارکِ جمعہ ہے اور بے عذر صحیح ترک مسجد اور ہنود کے میلوں میں جانے اوراپنی عورات کو لےجانے کا عادی ہے تو بوجوہ کثیر فاسق ہے کہ ان میں ہر امر فسق کے لئے کافی ، تو اس کے پیچھے نمازمکروہ ہے کہ پڑھی جائے تو شرعاً اس کا اعادہ مطلوب ۔
لما صرحوبہ من کراھۃ الصلٰوۃ خلف الفاسق وان کل صلٰوۃ ادیت مع کراھۃ فانھا تعاد وجوبا لو تحریمۃ وندبا لوتنزیھۃ وقداختارالمحقق الحلبی کراھۃ التحریم فی الفاسق وھو قضیۃ الدلیل لاسیما اذکان معلنا۔
جیسا کہ فقہا نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے،اور ہر وُہ نمازجو کراہت کے ساتھ ادا کی جائے تو مکروہ تحریمی کی صورت میں اس کالوٹانا واجب اور تنزیہی کی صورت میں لوٹانا مستحب ہے اور محقق حلبی نے اقتداءِ فاسق کے مکروہ تحریمی ہونے کو مختار قرار دیا ہے اوریہی دلیل کا تقاضا ہے خصوصاً جبکہ وہ فاسق ملعن ہو۔(ت)
اور نمازِ جنازہ میں اسے امام کرنا اور بھی زیادہ معیوب کہ یہ نماز بغرض دُعا و شفاعت ہے اور فاسق کو شفاعت کے لئے مقدم کرناحماقت ،تاہم اگر پڑھا ئے گا تو جوازِ نماز وسقوط فرض میں کلام نہیں
کما لا یخفی
(جیسا کہ مخفی نہیں ہے ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب ۔
مسئلہ نمبر ۵۷۳: ۲۷ربیع الاول شریف ۱۳۰۹ھ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس نے امام کے ساتھ کچھ رکعتیں نہ پائیں بعد سلام امام وُہ اپنی رکعات باقیہ ادا کرتا ہے اس صورت میں کسی نے اس کی اقتدا کی تو اس اقتدا کرنے والے کی نماز صحیح ہوگی یا نہیں؟ بینوا تو جروا
(تنویر الابصار میں ہے مسبوق منفرد ہے اس نماز میں کہ قضا کرتا ہے یعنی وہ نماز جو امام کے ساتھ نہیں ملی اس کے پڑھنے میں منفردہے مگر چار مسئلوں میں کہ وہ مثل مقتدی کے اوّل مسئلہ یہ ہے کہ اس کی اقتداء جائز نہیں (ت)واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ درمختار شرح تنویرالابصار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۸۶)
مسئلہ نمبر۵۷۴: یکم جمادی الاخری ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سُود خور کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے؟ اور اسے امام مقرر کرنا چاہئے یا نہیں ؟ بینواتوجروا
الجواب : سود خور فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز ناقص و مکروہ اگر پڑھ لی تو پھیری جائے اگر چہ مدت گزر چکی ہو، ولہذا اسے ہر گزامام نہ کیا جائے جہاں امامت کرتا ہو بشرط قدرت معزول کرکے امام متقی صحیح العقیدہ صحیح القرأۃ مقرر کریں،اگر قدرت نہ پائیں تو جمعہ کے لئے دوسری مسجد میں جائیں یونہی پنجگانہ میں خواہ اپنی دوسری جماعت یہیں کرلیں ۔ صغیری میں :
کرہ امامۃ الفاسق العالم لعدم اھتما مہ بالدین فتجب اھانتہ شرعا فلایعظم بتقدیمہ للامامۃ واذا تعذر منعہ ینتقل عنہ الی غیر مسجد للجمعۃ وغیرھا ۱؎۔
فاسق عالم کی امامت مکروہ ہے کیونکہ وہ دین کی اتباع کا اہتمام نہیں کرتا لہذا شرعاً اس کی تذلیل واجب ہے پس امامت کے لئے تقدیم کی صورت میں اس کی تعظیم درست نہیں جب اس کا روکنا دشوار ہو تو ایسے حضرات کو جمعہ وغیرہ کے لئے دوسری مسجد میں چلے جانا چاہئے۔(ت)
(۱؎ مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی فصل فی بیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ اصح المطابع کراچی ص۱۶۵)
فاسق کی تقدیم میں اس کی تعطیم ہے حالانکہ شرعاً اس کی اہانت ان پر لازم ہے، یہ بات اس پر دال ہے کہ فاسق کی تقدیم مکروہ ِ تحریمہ ہے اھ ابومسعود(ت)
(۳؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار باب الامامۃ مطبوعہ درالمعرفۃبیروت ، ۱/۲۴۳)
کبیری میں ہے:
لو استویافی العلم والصلاح واحد ھما اقرأ فقد موا الاخراساؤا ولا یاثمون فالاساء ۃ لترک السنۃ و عدم الاثم لعدم ترک الواجب لانھم قد موارجلا صالحا کذافی فتاوی الحجۃ و فیہ اشارۃ الی انھم لو قدموا فاسقا یا ثمون بناء علی ان کرھۃ تقدیمہ کراھۃتحریم لعدم اعتنائہ باموردینہ وتسا ھلہ فی الایتان بلوازمہ فلا یبعدمنہ الاخلال ببعض شروط الصلٰوۃ وفعل ماینافیھا بل ھو الغالب بالنظر الی فسقہ ولذا لم تجزالصلوۃ خلفہ اصلا عند مالک وروایۃ عن احمد ۱؎ الخ واﷲ تعالٰی اعلم
اگردو۲ شخص علم وصلاح میں برابر ہوں مگر ایک صاحبِ تجوید ہو تواگر دوسرے کو امام بنالیا تو وہ اساء ت کے مرتکب ہوئے البتہ گناہگار نہ ہوں گے۔اساء ت ترکِ سنّت کے سبب ہے اور عدم ِ گناہ عدم ترک واجب کی وجہ سے ہے کیونکہ انہوں نے ایک صالح شخص کو امام بنایا،فتاوٰی حجہ میں اسی طرح ہے، اسی میں اس طرف اشارہ بھی ہے کہ انہوں نے کسی فاسق کو مقدم کردیا تو گناہگار ہوںگے اس بنا پر کہ فاسق کا مقدم کرنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ وہ امورِ دین کی پرواہ نہیں کرتا اور دین کے لوازمات پر عمل کرنے سے تساہل برتتا ہے لہذا اس سے بعید نہیں کہ وہ نماز کے بعض شرائط فوت کر دے اور نماز کے منافی عمل کرے بلکہ اس کے فسق کے پیشِ نظر غالب گمان یہی ہے ،یہی وجہ ہے کہ امام مالک اور ایک روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل رحمہا اﷲتعالٰی کے نزدیک فاسق کے پیچھے نماز قطعاً جائز نہیں۔الخ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ ،مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳)