Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
94 - 185
کیا یہ شخص جس کے جہل کے باعث اکثر نمازی اس کی امامت سے ناراض ہین اُن سخت وعیدوں سے خوف نہیں کرتا جو ایسے امام کے حق میں آئیں ۔حضور پُر نورسید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایقبل اﷲ منھم صلٰوۃ من تقدم قوماوھم لہ کارھون ۔۳؎ ۔
تین اشخاص ہین جن کی نماز اﷲ تعالٰی قبول نہیں فرماتا ایک وہ جو لوگوں کی امامت کرے اور وہ اسے ناپسند رکھتے ہوں ۔
 (۳؎ سنن ابی داؤد    باب الرجل یؤم القوم ھم لہ کارھون    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/۸۸ )
اخرجہ ابوداؤدوابن ماجۃ عن عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ وفی الباب عن ابن عباس وعن عمرو ابن حارث وعن جنادۃ ابن امیۃ وعن ابی امامۃ الباھلی رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
اسکو ابوداؤد اورابن ماجہ نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔اور اس بارے میں حضرت ابن عباس ، حضرت عمروبن حارث ،حضرت جنادہ بن امیہ اور حضرت ابو امامہ باہلی رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے بھی حدیث مروی ہے۔
دوسری حدیث میں ہے :
من ام قوما وفیھم اقرأ لکتاب اﷲ منہ و اعلم ،لم یزل فی سفال الی یوم القیامۃ ۱؎۔اخرجہ العقیلی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
جو کسی قوم کی امامت کرے اور اُن میں وہ شخص موجود ہو جو اس سے زیادہ قارئ قرآن و ذی علم ہے وہ قیامت تک پستی و خواری میں رہے گا۔اس کو عقیلی نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے نقل کیا ہے۔
 (۱؎ کتاب الضعفاء الکبیر   ترجمہ نمبر ۱۹۶۳ء   الہیثم بن عقاب کوفی  مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت    ۴/۳۵۵)
مسئلہ ۵۷۱:    ۱۲ ربیع الاوّل شریف ۱۳۱۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایک مسجد میں ہمیشہ سے امامت کے واسطے معین ہے اور ایک شخص اس سے افضل کسی شہر سے آیا چند آدمیوں نے چاہا کہ یہ شخص فاضل ہے اس وقت کی نماز یہی پڑھائے ، امام قدیم سے پُوچھا کہ آپ کی اجازت ہے یا نہیں؟ اس نے انکار کیا، مگر چند آدمیوں نے اس مسافر کو کھڑا کردیا یہ لوگ اور مسافر امام قدیم کے مؤاخذہ دار ہوئے یا نہیں۔بینوا تو جروا
لا یؤمن الرجل فی سلطانہ ۲؎  رواہ احمد ومسلم عن ابی مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
امام مسجد کی موجودگی میں کوئی دوسراشخص امامت نہ کرائے ۔اس حدیث کو امام احمد اورامام مسلم نے حضرت ابو مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
 (۲؎ صحیح مسلم     باب من احق بالامامۃ         مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۲۳۶)
دوسری حدیث میں ہے :
من زارقوما فلا یؤمھم ولیؤ مھم رجل منھم ۱؎ رواہ احمد و ابوداؤد والترمذی والنسائی عن مالک ابن الحویرث رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو شخص کسی قوم کا مہمان ہے وہ ان کی امامت نہ کروائے بلکہ اُس قوم میں سے کوئی شخص ان کا امام بنے۔ اس کو احمد،ابوداؤد، ترمذی اورنسائی نے حضرت مالک بن حویرث رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
 (۱؎ سنن ابو داؤد     باب امامۃ الزائر    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/۸۸)
درمختار میں ہے :
صاحب البیت ومثلہ امام المسجد الراتب اولی بالا مامۃ من غیرہ مطلقا۲؎الخ
صاحب خانہ اور مقرر امام مسجد کا امامت کروانا دوسرے لوگوں سے مطلقاً بہتر ہے الخ(ت)
 (۲؎ درمختار ، باب الامامۃ ،مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ،  ۱/۸۳)
ردالمحتار میں ہے :
ای وان کان غیرہ من الحاضرین من ھو اعلم واقرأمنہ ۳؎۔
یعنی اگر چہ حاضرین میں سے کوئی شخص اس گھر والے یا مقرر کردہ امام مسجد سے زیادہ عالم اور قاری ہو۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار ،  باب الامامۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۱۳)
پس صورت مستفرہ میں اگر اس امام قدیم میں اس قسم کا کوئی خلل نہ تھا تو بلاشبہ باوصف اُس کی ممانعت کے اس مسافر کا امام بننا ناحق اسکے حق میں دست اندازی کرنا ہوا اور یہ خود اور وہ چند آدمی جنہوں نے ایسی حالت میں اسے امام بنایا مبتلائے کراہت و مخالف حکم شریعت ہُوئے۔واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۷۲:     از سیتا پور محلہ تامس گنج مرسلہ حضور نور العارفین صاحب دام ظلہم المعین    ۱۹ربیع الاول شریف ۱۳۰۹ہجری

بخدمت علمائے متبحرین ملتمس ہُوں مثلاً کوئی لڑکا عمر اس کی تیرہ ۱۳یا چودہ۱۴ برس کی ہے اور وہ قرآ ن شریف پڑھا ہے لیکن کبھی نماز نہیں پڑھتا اور باوجود ہونے متصل مسجد مکان کے بیٹھا رہتا ہے اور نماز جمعہ کی قصداً نہیں پڑھتا اور نابالغ ہے اور اپنے گھر کی عورت کو لے کر میلہ ہنود میں جیسے کہ میلہ کُنبھ اور میلہ ردنا وغیرہ میں جاتا ہے عورتیں اُس گھر کی دھوبلاپوش ہیں اور پرستش رسمِ ہنود کی کرتی ہیں ،اُس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ اور اگر ایسا لڑکا نمازِ جنازہ پڑھائے تو درست ہے یا نادرست؟بینوا توجروا۔
الجواب :اگر فی الواقع اس کے یہاں کی عورات غیر خدا کو پوجتی ہیں یعنی حقیقۃً دوسرے کی عبادت کہ شرک حقیقی ہے(نہ صرف وہ بعض رسومِ جاہلیت یا افعالِ جہالت کہ حدِفسق وگناہ سے متجاوز نہیں گو اہلِ تشدد انھیں بنام شرک و پرستش غیر تعبیر کریں) اور وہ اس شرکِ حقیقی پر مطلع اوراس پر راضی ہے تو خود کافر ومرتد ہے
فان الرضا بالکفر کفر
 (کیونکہ کفر کے ساتھ رضامندی بھی کفر ہے۔ت) اس تقدیر پر وُہ بالغ ہو نابالغ کسی بچے کی بھی کوئی نماز اس کے پیچھے صحیح نہیں ہوسکتی نہ اسکے پڑھنے سے نمازِجنازہ کا فرض ساقط ہو
فان الکافر لیس من اھل العبادۃ اصلا
 (کیونکہ کافر عبادت کا ہرگز اہل نہیں ۔ ت) اوراگر ان عوارت کے افعال حدِکفر تک نہیں یا ہیں مگر یہ ان پر راضی نہیں تو مسلمان ہے پس اگر فی الواقع نابالغ ہے تو بالغین کی نماز اُس کے پیچھے صحیح نہیں اگر چہ نمازِجنازہ ہی ہو، ہاں جنازہ میں امامت کرے گاتو ظاہراً نماز فرض کفایہ تھی ادا ہوجائے گی کہ گو اوروں کی نماز اس کے پیچھے نہ ہو اس کی اپنی توبہ تو ہوگئی سقوطِ فرض کے لئے اسی قدر بس ہے کہ نمازِ جنازہ میں جماعت شرط نہیں ،ولہذا اس میں عورت کی امامت سے بھی فرض ساقط ہوجاتا ہے۔
فی الدرالمختارلایصح اقتداء رجل بامرأۃ وخنثی وصبی مطلقاولو جنازۃ۱؎۔
درمختار میں ہے کہ کسی مرد کا کسی عورت،خنثی یا بچّے کی اقتداء کرنا صحیح نہیں، اگرچہ وہ نمازِ جنازہ ہی کیوں نہ ہو۔(ت)
 (۱؎ درمختار ، باب ا لامامۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی    ۱/۸۴)
اُسی کے صلاۃ الجنائز میں ہے :
لوام بلا طہارۃ والقوم بھا اعیدت و بعکسہ لاکما لوامت امرأۃ ولواٰمۃ لسقوط فرضہا بواحد۲؎۔
اگر امام نے بغیر طہارت کے نماز پڑھائی اور قوم باطہارت تھی تو نماز لوٹائی جائے گی اگر اس کے برعکس ہو تو نہیں جیسا کہ کسی عورت نے امامت کرائی خواہ وہ لونڈی ہی ہو کیو نکہ شخص واحد سے فرض ساقط ہوگیا(ت)
 (۲؎ درمختار        باب صلٰو ۃ الجنائز    مطبوعہ مطبع مجتبائی    ۱/۱۲۱)
Flag Counter