مسئلہ نمبر ۵۶۸: ۱۷ جمادی الاولیٰ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک اندھا ہے لیکن حافظ قرآن اور قاری ہے اور مسائل روزہ ونماز سے بھی اچھی طرح واقف ہے اور نیز آیاتِ قرآن مجید کا ترجمہ کرسکتا ہے اور بہت سی حدیثیں بھی جانتا ہے اور اس لیاقت کا کوئی شخص اس محلہ میں نہیں ہے اُس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟
الجواب: ہر جماعت میں سب سے زیادہ مستحقِ امامت وہی ہے جو اُن سب سے زیادہ مسائل نمازوطہارت جانتا ہے اگرچہ اور مسائل میں بہ نسبت دوسروں کے علم کم ہو مگر شرط یہ ہے کہ حروف اتنے صحیح ادا کرے کہ نماز میں فساد نہ آنے پائے اور فاسق وبد مذہب نہ ہو،جوشخص ان صفات کا جامع ہو اس کی امامت افضل،اگرچہ اندھا ہو کہ زیادتِ علم کے باعث کراہت نابینائی زائل ہوجاتی ہے، ہاں فاسق وبدمذہب کی امامت بہر حال مکروہ اگرچہ سب حاضرین سے زیادہ علم رکھتا ہوں ۔یوں ہی حرف ایسے غلط ادا کئے کہ نماز گئی تو امامت جائز ہی نہیں اگر چہ عالم ہی ہو ۔
امامتِ نماز کے زیادہ لائق وہ شخص ہے جو فقط احکامِ نمازمثلاً صحت وفساد نماز سے متعلق مسائل سے زیادہ آگاہ ہو بشرطیکہ وُہ ظاہری گناہوں سے بچنے والا ہو اھ تلخیصاً(ت)
(۱؎ دُرمختار ، باب الامامۃ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی،۱/۸۲)
کافی میں ہے:
الاعلم باسنۃ اولی الا ان انیطعن علیہ فی دینہ۲؎۔
جو شخص سنّت سے زیادہ واقف ہو وہ امامت کے لئے سب سے بہتر ہوتا ہے، مگر اس صورت میں نہیں جب اس کے دین پر اعتراض ہو۔(ت)
(۲؎ کافی)
بحرالرائق میں ہے :
قید کراھۃ امامۃ الاعمی فی المحیط وغیرہ بان لایکون افضل القوم فان کان افضلھم فھواولی۳؎۔
محیط وغیرہ میں تصحیح امامت اعمی کی کراہت اس بات سے مقید کی ہے کہ جب وہ قوم سے افضل نہ ہو، اگر وہ افضل ہو تو اس کا امام بننا بہتر ہے (ت)
اما الفاسق فقد عللوا کراھۃ تقدیمہ بانہ لایھتم لامردینہ ،وبان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ولا یخفی انہ اذاکان اعلم من غیرہ لاتزول العلۃ فانہ لایؤمن ان یصلی بھمبغیر طھارۃ فھو کالمبتدع تکرہ امامتہ بکل حال ۱؎الخ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فاسق کی امامت کے مکروہ ہونے کی فقہاء نے یہ علّت بیان کی ہے کہ وہ اپنے دین کی تعظیم و اہتمام نہیں کرتا اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ امامت کے لئے اس کی تقدیم میں تعظیم ہوگی حالانکہ شرعاً لوگوں پر اسکی اہانت کا حکم ہے۔ واضح رہے کہ جب فاسق دوسروں سے زیادہ صاحبِ علم ہو تو یہ علت زائل نہیں ہوجاتی کیونکہ ممکن ہے وہ بغیر طہارت کے ہی نماز پڑھا دے بہر حال وہ بدعتی کی طرح ہے۔جس کی امامت ہر حال میں مکروہ ہے الخ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۱۴)
مسئلہ نمبر ۵۶۹: ازچھاؤنی کامٹی ضلع ناگپور مرسلہ حافظ محمد یقین الدین صاحب رضوی ۱۹ شعبان ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جن مسجدوں میں کئی درجے ہوں اور ہردرجہ سہ درجہ پنج درجہ امام کو اُن کی ہر محراب ودر میں کھڑا ہونا مکروہ ہے یا صرف اندرونی محرابوں یا وسطانی دروں میں۔بینوا توجروا
الجواب: محرابیں وہی ہیں جووسط میں قیامِ امام کی علامت کے لئے بنائی جاتی ہیں باقی جو فرجے دو۲ ستونوں کے درمیان ہوتے ہیں درہیںاور امام کو بلاضرورت تنگی مسجد ،ہر محراب و درمیں کھڑا ہونا مکروہ ہے، پھر اطراف کے دروں میں قیام نافیِ کراہت نہیں بلکہ بسااوقت اور کراہتوں کا باعث ہوگا کہ امام راتب کو محراب چھوڑ کر ادھر اُدھر کھڑاہونا مکروہ ہے اور اگر مسجد کی صف پوری ہوئی تو اس صورت میں امام وسط صف کے محاذی نہ ہوگا یہ ہر امام کے لئے مکروہ ہے اگر چہ غیر راتب ہو،
تنویر الابصار میں ہے:
کرہ قیام الامام فی المحراب مطلقا۲؎اھ مخلصا
(امام کا محراب میں کھڑا ہونا مطلقاً مکروہ ہے اھ تلخیصاً۔ت)
(۲؎درمختار شرح تنویر الابصار باب ما یفسد الصلٰو ۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱/۹۲)
بحر الرائق میں ہے:
مقتصی ظاہرالروایۃ الکراھۃ مطلقا۳؎
(ظاہر الروایۃکا تقاضایہی ہے کہ یہ مطلقاً مکروہ ہے ۔ت)
(۳؎ بحرالرائق ، باب ما یفسد الصلٰو ۃ ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۲۶)
ردالمحتار میں ہے :
فی معراج الدریۃ من باب الامامۃ الاصح ماروی ان یقوم بین الساریتین او زاویۃ اوناحیۃ المسجد او الی ساریۃ لانہ بخلاف عمل الامۃ اھ وفیہ ایضا السنۃ ان یقوم الامام ازاء وسط الصف الا تری ان المحاریب مانصبت الا وسط المساجد وھی قدعینت لمقام الامام اھ وفی التاتارخانیۃ ویکرہ ان یقوم فی غیر المحراب الالضرورۃ اھ ومقتضاہ ان الامام لو ترک المحراب وقام فی غیرہ یکرہ ولوکان قیامہ وسط الصف لانہ خلاف عمل الامۃ وھوظاہرفی الامام الراتب دون غیرہ والمنفرد فاغتنم ھذہ الفائدۃ ۱ ؎ اھ
معراج الدرایہ کے باب الامامت میں ہے کہ امام صاحب سے جو کچھ مروی ہے اس میں اصح یہ ہے کہ امام کا دو ۲ ستونوں کے درمیان یامسجد کے کسی گوشے میں یا مسجد کی کسی ایک جانب یا کسی ستون کی طرف کھڑا ہونا مکروہ ہے کیونکہ یہ امّت کے عمل کے خلاف ہے۔اھ اور اس میں یہ بھی ہے کہ امام کا وسطِ صف میں کھڑا ہونا سنّت ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ محراب مساجد کے درمیان میں ہوتے ہیں اور یہ امام کے کھڑے ہونے کےلئے متعین ہوتے ہیں اھ اورتاتارخانیہ میں ہے امام کا ضرورت کے بغیر محراب کے علاوہ کسی جگہ کھڑا ہونا مکروہ ہے اھ اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر امام محراب چھوڑ کر کسی دوسری جگہ کھڑا ہوگیا اگرچہ اس کا قیام وسطِ صف میں ہو تب بھی وہ مکروہ ہوگا کیونکہ یہ عمل امّت کے خلاف ہے، اور یہ بات مقررامام کے بارے میں ہے، اگر امام مقرر نہیں یا تنہا نمازی ہے(توپھر یہ پابندی نہیں) پس اس فائدہ کو قیمتی جان اھ(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب مایفسد الصلٰو ۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۷۸)
اُسی میں ہے:
عن المعراج عن حلوانی عن ابی اللیث لایکرہ قیام الامام فی الطاق عند الضرورۃ بان ضاق المسجد علی القوم ۲؎اھ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
معراج سے وہ حلوانی سے امام ابواللیث کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ امام کا ضرورت کے وقت طاق میں کھڑا ہونا مکروہ نہیں مثلاً اگر مسجدنمازیوں کے لئے تنگ ہو تو ایسا کیا جاسکتا ہے اھ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب مایفسد الصلٰو ۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۷۸)
مسئلہ نمبر ۵۷۰ :از پیلی بھیت مسجد جامع مرسلہ مولوی احسان صاحب ۳۰ رجب ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کو کہ نہ حافظ قرآن ہے نہ مسائل دان نہ علمِ قرأت سے واقف ایک معمولی اردوخواں بلکہ بازار میں کتب فروشی و نعلین فروشی کی دکان کرنےوالا ہے ایک مسجد کا امام بننا چاہتا ہے حالانکہ دو عالم متقی ومحتاط اسی مسجد میں اور بھی موجود ہیں اور مہتمم مسجد واکثر نمازی اس شخص کی امامت سے راضی نہیں اس صورت میں ایسے امام کے حق میں کیا حکم ہے اور ان علماء کی اقتداء کی نسبت کیا ارشاد ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب: صورتِ مسئولہ میں اُس شخص کو امام بننا جائز نہیں اگر امامت کرے گا گنہگار ہوگا جب لوگ اسکی امامت اس وجہ سے ناپسند رکھتے ہیں کہ اُس سے زیادہ علم والے موجود ہیں تو اُسے امامت کرنا شرعاً منع ہے۔درمختار میں ہے :
لو ام قوماوھم لہ کارھون ان الکراھۃ لفساد فیہ اولانھم احق بالامامۃ منہ کرہ لہ ذلک تحریما۱؎الخ
اگرکوئی کسی قوم کا امام بنا حالانکہ وہ لوگ اس کو برا جانتے ہیں تو اگران کی نفرت امام کے اندر کسی خرابی کی وجہ سے ہے یا اس وجہ سے کہ وہ لوگ بنسبت امام مذکور کے امامت کے زیادہ مستحق ہیں تو اس شخص کو امام ہونا مکروہِ تحریمی ہے الخ۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۸۳)
پس شخص مذکور ہر گز امامت نہ کرے بلکہ جو سنّی صحیح العقیدہ غیرفاسق کہ حروف بقدر صحت نماز ٹھیک ادا کرتا اور وہاں کے نمازیوں میں سب سے زیادہ مسائلِ نماز کا علم رکھتا ہو اسی کوامام کیا جائے کہ حق صاحبِ حق کو پہنچے اور مقتدیوں کی نماز بھی خوبی و خوش اسلوبی پائے ۔حدیث شریف میں ہے :
ان سرکم ان تقبل صلٰوتکم فلیؤمکم علماؤکم۲؎ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن مرثد الغنوی رضی اﷲ تعالٰی عنہ وفی الباب عن ابی عمر وعن ابی امامۃ الباھلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اگر تمھیں اپنی نماز مقبول ہونا منظور ہے تو چاہئے کہ تمھارے علماء تمھاری امامت کریں۔ اس کوطبرانی نے المعجم الکبیر میںحضرت مرثد غنوی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے اور اس مسئلہ کے بارے میں حضرت ابو عمرو اورحضرت ابو امامہ الباہلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بھی حدیث بیان کی گئی ہے۔
(۲؎ مجمع الزوائد باب الامامۃ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۲/۶۴
المعجم الکبیر مااسند مرثد لغنوی مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳/۳۲۸)
نوٹ: المعجم الکبیر میں فلیؤمکم علماء کم کی جگہ فلیومکم خیارکم ہے اور مجمع الزوائد فلیومکم علماء کم ہے اس لئے مجمع الزوائد سے حوالہ نقل کیا ہے (نزیر احمد سعید )