سألت استاذنا برھان الائمۃ المطرزی عمن قرأفی صلاتہ کلمۃ فیھا جیم بالچیم اوالباء پاء ھل تفسد فتأمل فیہ کثیرا ثم تقرر رأیہ علی انہ لحن مفسد قلت ینبغی ان لاتفسد علی ما اختارہ المتأخرون انہ اذا تقارب المخرج لا یکون لحنامفسدا ۱؎ الخ ملخصا۔
میں نے اپنے استاذ برہان الائمہ المطرزی سے اس شخص کے بارے میں پُوچھا جو نماز میں جیم کی جگہ چ یاباء کی جگہ پاء پڑھتا ہے کیا اس کی نماز فاسد ہوگی یا نہیں ؟ انھوں نے بڑے غور وفکر کے بعد اپنی اس پختہ رائے کا اظہار کیا کہ یہ لحن ہے جو مفسد نماز ہے،میں کہتا ہوں اس صورت میں نماز فاسد نہیں ہونی چاہئے جیسا کہ متاخرین نے اس بنا پر سے اختیار کیاہے کہ جب مخارج قریب ہوں تو لحن مفسد نہیں ہوتا الخ تلخیصات(ت)
یہ مسئلہ مسئلہ الثغ ہے اور اس کی تفصیل و تحقیق ہمارے فتاوٰی میں ہے اور عامہ ائمہ کا مفتی بہ یہی ہے اس کی امامت صحیح نہیں اور نماز اُس کے پیچھے فاسد ہے۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے کہ الثغ(توتلا) کا صحیح پڑھنے والے کاامام ہونا راجح اور صحیح قول کے مطابق فاسد ہے، (یعنی درست نہیں)۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الصلٰو ۃ مطبوعہ بیروت ۱/۱۰)
تو پی لیلۃ الکھدرپڑھنے والے کے پیچھے صحیح خواں کی نماز باطل ہے اور اسے امام کرنا حرام ،
ھذا جملۃ الکلام وللتفصیل غیرذلک من المقام
(یہ خلاصہ کلام ہے اور تفصیل کے لئے اس کے علاوہ مقام ہے ۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
باب الامامۃ
(امامۃ کا بیان)
مسئلہ نمبر۵۶۴: اگر امام رفع یدین کرتا ہے اور آمین پکارتا ہے اور سب مقتدی حنفی المذہب ہیں کہ آمین بالجہر اور رفع یدین نہیں کرتے اور مقتدی اس کی امامت سے پناہ مانگتے ہیں مگر وہ نماز جبراً پڑھاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس فعل کو ہر گز نہیں چھوڑوں گا خواہ میرے پیچھے کوئی نماز نہ پڑھے اور وہ علم بھی رکھتا ہے پس ایسے امام کے واسطے کیا حکم ہے ا س کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ؟ کیا حکم شرع شریف دیتی ہے؟
الجواب: ان بلاد میں آمین بالجہر و رفع یدین والے غیر مقلدین ہیں اور غیرمقلدین گمراہ بددین اور ان کے پیچھے نمازناجائز،
کما حققنا فیالنھی الاکید عن الصلٰوۃ وراء عدی التقلید
(اس کی پُوری تحقیق ہم نے اپنے رسالے النھی الاکید عن الصلٰوۃ وراء عدی التقلیدمیںکی ہے۔ت)(جو آگے آرہا ہے) اور اگر بالفرض کوئی سُنّی صحیح العقیدہ شافعی مذہب بھی آگیا ہو تو اسے ہرگز حلال نہیں کہ کراہت جمیع جماعت و نفرت جملہ مقتدیان کے ساتھ بالجبر اُن کی امامت کرے۔رسول اﷲصلی ا ﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں تین شخصوں کی نماز ان کے کانوں سے بالشت بھر اُوپرنہیں اُٹھتی یعنی مردود ہے قبول بارگاہ کی طرف بلند نہیں کی جاتی
واحد منھم من ام قوماوھم لہ کارھون۱؎
اُن میں ایک وہ ہے جو لوگوں کی امامت کرے اور وہ ناراض ہوں___ (دوسراغلام ہے جو اپنے آقا سے بھاگ جائے ،تیسری وہ عورت ہے جو رات اس طرح گزارے کہ اس کا شوہر اس پر غضبناک رہے۔
(۱؎ المصنّف لعبدالرزاق باب الآبق من سیّدہ مطبوعہ المجلس العلمی بیروت ۱۱/۲۴۷)
مسئلہ نمبر ۵۶۵: ایک شخص حافظ قرآن ہے مگر آدھا کلمہ لا الٰہ الااﷲ پڑھتاہے اور خود ولی بن کر عورتوں مردوں کو نصف کلمہ پڑھاتا ہے اورمحمد رسول اﷲبظاہراس کی زبان سے نہیں سُنا جاتا اور وُہ امامت بھی کرتا ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز امّت محمدیہ حنفیہ علٰی صاحبہا الصلٰو ۃ والسلام کی درست ہے یا نہیں؟
الجواب: صوفیہ کرام نے تصفیہ قلب کے لئے ذکرشریف لا الٰہ الا اﷲ رکھا ہے کہ تصفیہ حرارت پہنچانے سے ہوتا ہے اور کلمہ طیّبہ کا یہ جز گرم وجلالی ہے اور دوسرا جز کریم سرد خنک جمالی ہے، اگر ایسے ہی موقع پرصرف لاالٰہ الا اﷲکی تلقین کرتا ہے تو کچھ حرج نہیں اوراگر خود کلمہ طیبہ پڑھنے میں صرف لاالٰہ الا اﷲکافی سمجھتا ہے اور محمد رسول اﷲ سے احتراز کرتا ہے تو اس کی امامت ناجائزہے کہ یہ ذکر پاک محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے معاذ اﷲ بے پرواہی پر دلیل ہے اور اگر واقعی اسے محمد رسول اﷲ کہنے سے انکار ہے یا یہ ذکر کریم اُسے مکروہ و ناگوار ہے توصریح کافرو مستوجب تخلید فی النار ،والعیاذ باﷲ تعالٰی،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۶۶: ۴ جمادی الاخری ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اگرامام نماز پڑھائے جماعت کی اور اﷲ آواز سے کہے اوراکبر نہ کہے کہ کسی مقتدی کو نہ سنائی دے جائز ہے یا ناجائز؟
الجواب: اﷲ اکبرپورا با آواز کہنا مسنون ہے سنّت ترک ہوئی نماز میں کراہت تنزیہی آئی مگر نماز ہوگئی، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۶۷: از ورڈ ضلع نینی تال ڈاک خانہ کچھا مرسلہ عبدالعزیز خان ۴رمضان المبارک۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے رباعی نماز سے ایک رکعت آخری پائی اور وُہ شخص قعدہ اولٰی کے واسطے دُوسری رکعت میں قعدہ کرے گا، یااس کو چاہئے کہ دوسری میں قعدہ کرے یا تیسری میں اور اگر تیسری میں قعدہ اولٰی کیا تواُس پر سجدہ سہوآئے گا یا نہیں؟بینوا توجروا ۔
الجواب : قول ارجح میں اسے یہی چاہئے کہ سلام ِامام کے بعد ایک ہی رکعت پڑھ کر قعدہ اولٰی کرے پھر دوسری بلا قعدہ پڑھ کر تیسری پر قعدہ اخیرہ کرے ،دُرمختار میں ہے:
یقضی اول صلاتہ فی حق قرأۃ واٰخرھا فی حق تشھد فمدرک رکعۃ من غیر فجر یاتی برکعتین بفاتحۃ وسورۃ وتشھد بینھما وبرابعۃ الرباعی بفاتحۃ فقط ولایقعد قبلھا۱؎۔
مسبوق قرأت کے باب میں اپنی نماز کا اوّل اور تشہد کے باب میں اپنی نماز کا آخر پڑھے(یعنی فوت شدہ نماز کو قرأت کے حق میں شروع نماز سمجھے اور تشہد کےحق میں امام کےساتھ پڑھی ہوئی کو بھی ملائے) پس نمازِفجر کے علاوہ ایک رکعت پانے والا دورکعت میں فاتحہ اور سورت دونوں پڑھے اور انکے درمیان تشہد بیٹھے اورچاررکعتوں والی نماز کی چوتھی رکعت میں صرف فاتحہ پڑھے اور چوتھی رکعت سے پہلے تشہد نہ بیٹھے۔(ت)
مگراس کا عکس بھی کیا کہ دو۲ پڑھ کر بیٹھا پہلی پر قعدہ نہ کیا پھر تیسری پر قعدہ اخیرہ کیا تو یوں بھی نماز جائز ہوگی سجدہ سہو لازم نہ آئے گا۔ردالمحتار میں ہے:
قال فی شرح المنیۃ ولو لم یقعد جاز استحسانا لاقیاسا ولم یلزمہ سجود السہو لکون الرکعۃ اولٰی من وجہ۲؎۔
شرح المنیہ میں ہے کہ اگر وہ پہلی رکعت پر قعدہ نہ بیٹھا تو استحسا ناً جائزہے قیاسا نہیں اور چونکہ یہ من وجہ پہلی رکعت ہے لہذا اس پر سجدہ سہو لازم نہ ہوگا۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۴۱)
اقول :(میں کہتا ہوں۔ت) یہ فیصلہ بعینہا فتویٰ سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہے
کما ذکرہ محرر المذہب محمد رحمہ اﷲ تعالٰی
(جیسا کہ محرر مذہب امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے ذکر کیاہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم