Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
91 - 185
مسئلہ نمبر ۵۶۳ : ازجونا گڑھ سرکل مدار المہام     مرسلہ مولوی امیرالدین صاحب    ۲۰ رجب ۱۳۱۶ھ

ایک مسجد کا امام آیہ اذا نوی للصّلٰوۃ من یوم الجمعۃ کو جموعۃمع الواؤ صاف پڑھتا ہے اور فی لیلۃ القدرکوپی لیلۃ الکھدرصاف پڑھتا ہے اب نماز ہوئی یا نہیں ؟ اور ایسے شخص کو امام بنانا چاہئے یا نہیں ؟بینوا توجروا۔
الجواب: یہ سوال دو مسئلوں پر مشتمل ہے:

مسئلہ اولیٰ:اشباع حرکات کہ اُن سے حروف پیداہو جائیں مثلاً فتحہ سے الف،ضمہ سے واو،کسرہ سے یاء۔اس میں متاخرین سے روایات مختلف ہیں۔عین الائمہ کرابیسی وجاراﷲ زمحشری نے کہا اگر  والصلوات کی جگہ واصلاوات پڑھانماز فاسد نہ ہوگی ۔عین الائمہ نے کہا نؤمن کونؤمین پڑھنے میں فساد نہیں ۔زمخشری نے کہا ھدیت کوھادیت پڑھنامفسد نہیں،اور انھیں عین الائمہ نے کہا لم یلدکولم یا لدپڑھاتو اعادہ نمازاحوط ہے، انہیں نے کہا اگر نشکرک یانکفرک یانترک میں اشباع کرکے نشکروک،نکفروک،نتروک پڑھانماز کا اعادہ کرے۔
قنیہ میں ہے:
عک وجاراﷲ والصلاوات لاتفسدعک ولو قرأنستعینک اوونؤمین بک لا تفسدجاراﷲ لوقرأ فی من ھادیت لاتفسدلانہ اشباع للفتحۃ عک فی الاخلاص لم یالد فالا عادۃ احوط وفی قولہ نشکروک ونکفروک ونتروک یعید۱؎ انتھی مختصرا
عین الائمہ کرابیسی اورجاراﷲ زمحشری نے کہا کہ اگر کسی نے والصلوات کی جگہ والصلاوات پڑھاتو نماز فاسد نہ ہوگی،عین الائمہ نے کہا اگر کسی نے نستعینک اورنؤمین بک پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی ۔جاراﷲ نے کہا اگرھدیت کوھادیت پڑھاتو اس میں نماز فاسدنہ ہو گی کیونکہ اس میں حرکت فتحہ کا اشباع ہے ۔عین الائمہ نے کہا اگر کسی نے سورہ اخلاص میں لم یالدپڑھا تو اعادہ نماز احوط ہے اوراگر کوئی نشکروک ،نکفروک اورنتروک پڑھے تو وہ اعادہ کرے انتہٰی مختصرا (ت)
 (۱؎ قنیۃ ،فتاوٰی قنیۃ        باب فی الحذف والزیادۃ    المطبعۃ المشتہرہ بالمہانیدۃ    ص۶۳)
اور ہمارے ائمہ متقدمین رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے قضیہ مذہب پر تفصیل ہے اگر وُہ محل محل اشباع ہے جیسے مقاماتِ وقف مثلاً نعبدُکی جگہ نعبد،(اگر چہ وہاں وقف نہ ہو جیسے اﷲُ اکبرمیں اﷲ،باشباعِ ھاکہ وقف ووصل کی تبدیلی اصلاً مفسد نہیں
کما فی الھندیۃ والدرالمختاروغیرھما
 (جیسا کہ ہندیہ،دُرمختار اور دیگر کتب میں ہے۔ت)یافیہ ،عنہ،منہ،یدخلہ ،تشکروہ وانْہَمیںاشباع ھا تو قطعاً مفسد نہیں ورنہ اگر اشباع سے معنی بتغیر فاحش متغیر ہوجائیں جیسے ربّناکی جگہ رابّنایااﷲُ اکبرمیں کلمہ جلالت کے عوض اﷲ اکبر کی جگہ اٰکبریاقول اصح میں ا کبار یا کلمہ مہمل ہوجائے جیسے بجائے نعبد ناعبود یا الحمد کی جگہ الحامدبسکون میم تو فساد ہے ورنہ نہیں، 

خانیہ میں ہے:
لوقرأایاک نعبد واشبع ضم الدال حتی یصیر واوًا لم تفسد صلاتہ ۲؎۔
اگر کسی نے ایاک نعبدکواس طرح پڑھا کہ ضمہ دال میں اشباع کیا حتی کہ وہ واؤ ہوگیا تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی قاضی خان        فصل فی قرأۃ القرآن خطاء الخ    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ        ۱/۶۸)
وجیز کردری میں ہے :
لوزادحرفا لایغیرالمعنی لاتفسد عندھما وعن الثانی روایتان کما لوقرأ  وانھی عن المنکر بزیادۃ الیاء أو انارادوہ والیک بزیادۃ واو  أو رودوھا علیّ بزیادۃ الواو أویتعد حدودہ یدخلہ ناراً وان غیرافسد الخ۳؎۔
اگر کسی حرف کا اضافہ کردیا مگر معنی نہ بدلا تو صاحبین کے نزدیک نماز فاسد نہ ہوگی اور دوسرے (یعنی امام ابویوسف) سے دو۲روایتیں ہیں جیسا کہ کسی نے وانہ عن المنکرکووانھی عن المنکرالف کی زیادتی کے ساتھ یا انا را دوہ الیک میں واؤکی زیادتی کے ساتھ یا رودھاعلیّ میں واؤ کی زیادتی کےساتھ یا یتعد حدودہ ید خلہ وناراًمیں ید خلہ کی  ہ کے بعد واؤ یتعدی کو یأ پڑھا اور اگر معنی بدل جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی الخ(ت)
 (۳؎ فتاوٰی بزازیۃ مع الفتاوی الھندیۃ     الثانی عشر فی زلۃ القاری    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۴۵)
دُرمختار میں ہے :
کبر بالحذف اذمد احدالمھزتین مفسدو تعمدہ کفروکذا الباء فی الاصح۱؎۔
شروع میں اﷲ اکبر کہے ہمزوں کوحذف کرنےکے ساتھ(یعنی بڑھا کر لمبا کر کے نہ پڑھے) کیونکہ دونوں ہمزوں میں سے کسی ایک کو لمبا کرنا نماز کو فاسد کردیتا ہے اوراگر عمداً لمبا کرتا ہے تو کفر ہے، اوراصح قول کے مطابق اکبر میں باء کو کرنا بھی مفسد نماز ہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار        فصل واذا ارادالشروع فی  الصلٰو ۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۷۴)
ردالمحتارمیں ہے:
المد فی اﷲ فان کان فی اولہ لم یصربہ شارعاوافسد الصلٰوۃ لوفی اثنائھا وان فی وسطہ کرہ وفی اخرہ فھوخطأ ولا یفسد ایضا والمد فی اکبر فی اولہ مفسد فی وسطہ افسد وقال الصدر الشھید یصح وفی اٰخر قد قیل یفسد کذا فی الحلیہ ملخصا اقول وینبغی الفساد بمدالھاء لانہ یصیر جمع لاہ کما صرح بہ بعض الشافیعۃ تامل۳؎اھ مافی ردالمحتار ملخصا۔
لفظ اﷲ میں مد کا معاملہ یُوں ہے کہ اگر اول میں ہو تو اس سے نماز شروع کرنے والانہ ہوگا اور و ہ نماز کو فاسد کردے گااگر ایسا دورانِ نماز ہو، اور اگر مد لفظ اﷲ کے درمیان میں ہو تو مکروہ ہے اور لفظ اﷲ کے آخر میں ہو تو و ہ خطا ہے اورنماز کو بھی فاسد نہیں کرتا ، اگر مدلفظِ اکبر میں ہو اگر مدابتداء میں ہوتو نماز فاسد،اور اگر وسط میں ہو تو وہ نماز کو فاسد کردے گا۔اور صدر الشہید کہتے ہیں کہ نماز صحیح ہوگی اگر مد آخر میں ہو تو کہا گیا ہے کہ نماز فاسد کردے گا کذافی الحلیۃ تلخیصاً ،میں کہتا ہوں ہاء کی مد سے بھی فسادِ نماز ہونا چاہئے کیونکہ ا س صورت میں وہ لاہ کی جمع ہوجاتا ہے جیسے کہ اس پر بعض شوافع نے تصریح کی ہے اچھی طرح غور کرو اھ یہ ردالمحتار کی عبارت کا خلاصہ ہے
 (۲؎ ردالمحتار        فصل واذاارادالشروع فی الصلٰو ۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۳۵۴)
ورأیتنی کتبت علی قولہ قد قیل یفسد مانصہ:
مجھے یاد آرہا ہے کہ میں نے اس کی عبارت قد قیل یفسدپر یہ حاشیہ لکھا ہے الفاظ یہ ہیں:
اقول:لایظہر الفراق بین مدالراء من اکبر والھاء من الجلالۃ وقد قال فی البحر عن المبسوط لومدھاء اﷲ فھوخطأ لغۃ وکذالومد راء ہ ۱؎اھ۔
اقول:  (میں کہتا ہوں ) اکبر کی راء کی مد اور اسم جلالت کی ہا میں مد کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں ہورہا۔بحر میں مبسوط کے حوالے سے ہے اگر لفظ اﷲ کی ھا میں مد کی تو یہ لغۃً غلط ہے ،اگر اکبر کی را میں مد کی تو اس کا معاملہ بھی یوں ہی ہے اھ۔
 (۱؎ جدالممتار        فصل اذاارادالشروع    الجمع الاسلامی مبارک پور    ۱/۳۳۸)
اقول: ویؤیدہ مایاتی فی الدرمن المفسدات عن البزازیۃ شرعا ان القراء ۃ بالالحان تفسد ان غیر المعنی والا  لا اھ وکتبت علی قولہ تأمل مانصہ فانہ خلاف المنقول عندناکما علمت وغایتہ ان یکون مترددا بین الاشباع وہو غیر مفسد للمعنی کما قدمنا عن الخانیۃ وبین جمع اللاھی و ھو مغیر وبالاحتمال لم یثبت التغیر کما تدل علیہ فروع جمۃ لاتکاد تحصی وسیصرح بہ المحشی فی المفسدات۲؎،حیث یقول عند الاحتمال ینتفی الفساد لعدم تیقن الخطا ۳؎اھ فالوجہ ماھوالمنقول۔
اقول: (میں کہتاہوں) شرعی طور پر اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے جو بزازیہ کے حوالے سے دُرمختار میں نماز کے مفسدات میں آرہا ہے کہ الحان کےساتھ قرأت نماز کو فاسد کردیتی ہے اگر معنی میں تبدیلی آجائے ورنہ نہیں اھ اورمیں نے ان کے لفظ''تامل'' پر یہ حاشیہ لکھا جس کے الفاظ یہ ہیں یہ ہمارے نزدیک خلاف منقول ہے جیسا کہ آپ جان چکے زیادہ سے زیادہ اس میں تردّد پیدا ہوتا ہے درمیان اشباع کے،اور اشباع کی صورت میں معنی میں فساد پیدا نہیں ہوتا جیساکہ ہم خانیہ کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں اور درمیان لاھی کی جمع کے ، اور وہ مغیرالمعنی ہے، مگر محض احتمال کے ساتھ تبدیلی ثابت نہیں ہوجاتی جیسا کہ اس پر بے شمار جزئیات دال ہیں اور عنقریب محشی آگے مفسداتِ نماز میں اس بات کی تصریح کررہے ہیں ،عبارت یہ ہے احتمال کے وقت فسادِنماز نہ ہوگا کیونکہ غلطی کا یقین نہیں اھ پس بہتر وہی ہے جو منقول ہے۔
 (۲؎ جدالممتار    فصل اذا اراد الشروع    الجمع الاسلامی مبارک پور    ۱/۳۳۸)

(۳؎ ردالمحتار    فصل واذا اراد الشروع فی الصلٰوۃ    مصطفی البابی مصر    ۱/۴۶۸)
اُس میں ہے :
قولہ بالالحان ای بالنغمات وحاصلہا کما فی الفتح اشباع الحرکات لمراعات النغم (قولہ ان غیرالمعنی) کما لو قرا ئالحمد ﷲ رب العلمین واشبع الحرکات حتی اتی بواوبعد الدال وبیاء بعد اللام والھاء وبالف بعد الراء ومثلہ قول المبلغ رابنالک الحامد بالالف بعد الراء لان الراب ھو زوج الام کمافی الصحاح والقاموس۱؎ اھ۔
اس کی عبارت بالحان سے مراد نغمات ہیں اور فتح کے مطابق اس کا حاصل یہ ہے''نغمہ کی رعایت کرتے ہوئے حرکات میں اشباع پیدا کرنا'' اور اس کی عبارت''ان غیرالمعنی''سے مراد یہ ہے جیسا کہ کسی نے الحمد ﷲ رب العلمین پڑھتے ہوئے حرکات میں اتنا اشباع کیا کہ دال کے بعد واو ،لام اور ہا کے بعد یا اور راء کے بعد الف بڑھا دیا اسی طرح کسی مبلغ (آواز پہنچانے والے) نے رابنا لک الحامد پڑھا یعنی را کے آگے الف بڑھا دیا کیوں کہ راب کا معنی ماں کے شوہر کے ہیں،جیسا کہ صحاح اور قاموس میں ہے اھ(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب یفسد الصلٰو ۃ الخ        مطبوعہ مصطفی البابی    ۱/۴۶۸)
اقول: ذکر اتیان الواو  بعد الدال  والیاء بعد الھاء وقع فی غیرموقعہ لما علمت انھما محل الاشباع ،ولا یتغیر فیہ المعنی وانما مشی المحشی رحمۃ اﷲ تعالٰی علی ماظن سابقا فی اشباع ھاء الجلالۃ وقد علمت انہ خلاف المقصود۔
اقول:  (میں کہتا ہوں) یہاں دال کے بعد واؤ اور ھا کے بعد یا کا تذکرہ اس محل ومقام کے مناسب نہیں کیونکہ ان دونوں حرفوں میں اشباع ہے مگر معنی تبدیل نہیں ہوتا۔محشی رحمہ اﷲ تعالٰی اپنے سابقہ گمان پر چلے ہیں جو انھیں اسم جلالت کی ہاء کے بارے میں ہوا تھا اور آپ نے جان لیا کہ یہ خلاف مقصود ہے(ت)

مختار محققین قول ائمہ متقدمین ہے کما بینہ فی الغنیہ(جیسا کہ غنیـہ میں بیان کیا ہے۔ت) اور ظاہرا لفظ جموعۃشق ثانی سے ہے کہ اس کے معنی معلوم نہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ثانیہ : حروف کو کچّی زبان سے ادا کرنا یہ اگر ایسی جگہ ہو کہ فسادِ معنی لازم نہ آئے جیسے لاتقھرکی جگہ لا تکھر توامام اعظم وامام محمد کے نزدیک مطلقاًمفسد نہیں ورنہ معتمد ائمہ مذہب ،مطلقاً فساد ہے اور پ یا چ یاگ بولنے میں فساد اظہر کہ یہ حروف کلام ا ﷲ تو کلام اﷲ ،کلام عرب ہی میں نہیں۔
Flag Counter