Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
90 - 185
مسئلہ نمبر ۵۵۵:  ازقلعہ چھرہ ضلع علی گڑھ مسئولہ مقبول احمد صاحب    ۴رمضان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک حافظ صاحب نے نماز میں پڑھاورحمۃ للمؤمنین ولا یزید نون کو ساکن پڑھا اورسانس توڑ دی پُورا وقف کیا یہ خیال تھا کہ یہاں آیت ہے پھر اپنے کئے پر اصرار کیا، دوسرے صاحب نے کہا یہاں لاہے وصل ضرورتھا حافظ صاحب نے خیال نہ کیا انھوں نے نماز کا اعادہ کیا حافظ صاحب نے کہا اعادہ درست نہیں گو عمداً غلط پڑھا لیکن معنی میں کچھ فساد نہیں ہوا نماز صحیح ہے انھوں نے کہا عمداً کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قرآن کو جان کر غلط پڑھو یہ توسخت گناہ ہوگا،حافظ نے کہا گناہ ہوگا لیکن نماز صحیح ہے ارشاد فرمائیےکہ اعادہ درست ہوا یا وہی نماز صحیح ہے جس کتاب سے سند ہو اُس کا پورا پتہ تحریر ہو۔بینواتوجروا۔
الجواب: وقف ووصل میں اتباع بہتر ہے مگراس کے نہ کرنے سے نماز میں اصلاً کچھ خلل نہیں آتا خصوصاً ایسی جگہ کہ کلام تام ہے قصداً وقف میں بھی حرج نہیں اعادہ محض بے معنی تھا ہاں قصد مخالفت البتہ گناہ بلکہ بعض صورتوں میں سب سے سخت تر حکم کا مستوجب ہوگا مگر وہ مسلمان سے متوقع نہیں،عالمگیریہ میں ہے:
اذوقف فی غیر موضع الوقف اوابتداء فی غیر موضع الابتداء ان لم یتغیر بہ المعنی تغیرا فاحشا نحوان یقرأ ان الذین اٰمنو وعملوالصلحت ووقف ثمّ ابتدأ بقولہ اولئک ھم خیر البریۃ لاتفسد بالاجماع بین علمائنا ھکذا فی المحیط ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب ایسی جگہ وقف کیا جو وقف کی جگہ نہ تھی  جگہ تھی یا وہاں سے شروع کیا جو شروع کا مقام نہ تھا،اگر معنی میں فحش تبدیلی نہیں آئی مثلاًان الذین اٰمنو وعملوالصّٰلحٰت پڑھ کر وقف کیاپھر اولئک الخ(سے ابتداء کی تو ہمارے علماء کا اتفاق ہے کہ نماز فاسد نہ ہوگی، محیط میں اسی طرح ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    الفصل الخامس فی زلۃ القاری    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۸۱)
مسئلہ نمبر ۵۵۶، ۵۵۷:     از ککرالہ ضلع بدایوں     مرسلہ یٰسین خان    ۷ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ

(۱) درمیان میں ایک سُورت ترک کرنے سے نماز میں کچھ حرج ہے یا نہیں؟

(۲) امام نے آٹھ دس آیتیں پڑھ کر ایک یا دو آیتیں ترک کرکے پھر قرأت شروع کی اور دس۱۰ بارہ۱۲ آیتیں پڑھ کر رکوع کیا نماز میں کچھ حرج ہوا؟
الجواب :

(۱) چھوٹی سورت بیچ میں چھوڑنا مکروہ ہے جیسے اذاجاء کے بعدقل ھو اﷲاور بڑی سورت ہوتو حرج نہیں جیسے والتین کے بعد انّا انزلنا۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔

(۲) اس سے نماز میں حرج نہیں جبکہ سہواً ہو اور قصداً د و ایک آیت بیچ میں چھوڑ دینا مکروہ ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر۵۵۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نماز فرض میں تین آیت کے بعد لقمہ دینا چاہئے یا نہیں ؟اور تراویح نماز ایک مسجد میں دو۲ مصلّے جائز ہے یا نہیں۔بینوا توجروا
الجواب: امام جہاں غلطی کرے مقتدی کو جائز ہے کہ اُسے لقمہ دے اگر چہ ہزار آیتیں پرھ چکا ہو ،یہی صحیح ہے ،ردالمحتار میں ہے:
الفتح علی امامہ غیر منھی عنہ بحر۲؎
 (اپنے امام کو لقمہ دینا منع نہیں ،بحر ۔ت)
 (۲؎ ردالمحتار        مطلب مسائل زلۃ القاری        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۹۰)
اُسی میں ہے:
سواء قرأالامام قدر مایجوزبہ الصلٰوۃ ام لا انتقل الی اٰیۃ اخری ام لا تکرر الفتح ام لا ھوالاصح نھر۳؎۔
خواہ امام نے اتنی قرأت کرلی ہو جو نماز کے لئے کافی تھی یا نہ کی ہو،خواہ وُہ دوسری آیۃ کی طرف منتقل ہوگیا یا نہ ہواہو ،لقمہ بارباردیا ہو یا ایک ہی بار دیا ہو اصح یہی ہے نہر۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار ، مطلب مسائل زلۃ القاری ،  مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۹۰)
تراویح کی دو یا زائد جماعتیں ایک مسجد میں ایک وقت میں جبکہ ایک کی آواز سے دوسرے کو اشتباہ نہ ہو ، دُوردُور فاصلے پر ہوں جیسی مکّہ معظّمہ مسجد الحرام شریف میں ہوتی ہیں جائز ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۵۹: کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے نماز میں آخر سورہ بقرہ پڑھا اوربجائے ربنا لا تواخذنا،ربنا ولا تواخذنایعنی با ز د یا د حرف واؤ سہواً پڑھ گیا تو نماز اس کی ہوئی یا نہیں؟
الجواب: ہوئی لانھا لم توثرخللافی المعنی(کیونکہ اس سے معنی میں خلل واقع نہیں ہوتا۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۶۰: امام نے غیرالمغضوب پڑھا اورعلیھم از راہِ سہو چھوٹ گیا نماز صحیح ہوئی یا فاسد؟
الجواب: نماز صحیح ہوگئی فرض اُتر گیا
لصحۃ المعنی فان حذف امثال الصلات شائع کثیرا ومنہ المغفور بمعنی المغفور لہ کما فی ط بل رأیتہ فی حدیث عن ابی بکر الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ
 (معنی درست ہونے کی وجہ سے، کیونکہ صلہ کاحذف مشہور و کثیر ہے ،اسی طرح لفظ مغفورہے اصلاًمغفورلہ ہے جیسا کہ ط میں ہے بلکہ میں نے اس حدیث میں بھی دیکھا ہے جو سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے۔ت) مگر واجب کہ قرأت سورہ فاتحہ بتمامہا تھی اس کی ادا میں قصور ہواسجدہ سہو چاہئے تھا اگر نہ کیا اعادہ نماز چاہئے ۔ردالمحتار میں علّامہ رحمتی سے ہے:
بترک شیئ منھا ایۃ او اقل ولو حرفا لا یکون اٰتیا  بِکُلِّھا الذی ھوالواجب ۱؎۔
فاتحہ سے کوئی آیت چھوٹ گئی یا اس سے کم اگرچہ ایک ٖحرف ہو تو ایسے شخص کو تمام فاتحہ(جوواجب تھی) کا پڑھنے والا قرار نہیں دیا جاسکتا۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب صفۃ الصلٰو ۃ    مطبوعہ مصطفی البابی    ۱/۳۳۸)
مسئلہ نمبر ۵۶۱، ۵۶۲:    ۱۶ جمادی الاخری    ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس(۱) لفظ کے بارے میں اگر یرزقکم کو یرزکم پڑھا جائے تو کیا خرابی اور کس قسم کا گناہگار ہوگا م خطبہ اولٰی میں لکھا ہے یرزقکم اورقاری صاحب پڑھتے ہیں یرزکم اسلئے میں غلطی پکڑا ہوں اس میں اگر میرا قصور ہو تو میں تسلیم کروں اور قاری صاحب کی غلطی ہو تو ان پر کیا ؟(۲) لفط فاطمۃ الزھراء مدچارالف ہے۔

قاری صاحب نے بے مد کے ادا کیا ، کیا یہ لفظ خطا ہے؟ اس کے اول لفظ شدائد میں چار الف اس نے دراز نہیں کیا اس میں کیا ہے؟
الجواب :

(۱)اگر خطبہ میں اس نے یرزقکم کی جگہ یرزکم بلا تشدیدِ کاف پڑھا تو ضرور غلط پڑھا اور گرفت صحیح ہے مگر خطبہ میں ایسی غلطی کا اثر نماز پر نہیں پڑتا نماز ہوجائے گی اور یرزکم بہ تشدیدکاف پڑھا تو غلطی بھی نہیں
کقولہ تعالٰی الم نخلقکم من ماء مھین ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۲) یہ مد متصل ہے اور متصل واجب ہے تلاوت میں اس کا ترک حرام ہے
کما نص علیہ فی ردالمحتار
(جیسے کہ ردالمحتار میں اس پر تصریح ہے۔ت) مگر خطبہ کا حکم تلاوت کا سا نہیں ہوسکتا وہ ایک بات چیت ہے کہ امام مقتدیوں سے کرتا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter