Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
89 - 185
غنـیہ میں ہے :
الشرط الثانی کون الامام فیھا السلطان اومن اذن لہ السلطان۲؎۔
دوسری شرط یہ ہے کہ جمعہ کا امام خود سلطان یا ایسا شخص ہو جسے سلطان نے اجازت دی ہو۔(ت)
 (۲؎ غنیـۃ المستملی شرھ منیۃ المصلی    فصل فی صلٰو ۃ الجمعۃ        مطبوعہ سہیل اکیدمی لاہور    ص۵۵۳)
جامع الرموز میں ہے :
اقامۃ الجمعۃ حق الخلیفۃ الا انہ لم یقدر علی ذلک فی کل الامصار فیقیم غیرہ نیابۃ ۳؎۔
جمعہ کا قیام خلیفہ وقت کی ذمہ داری ہے چونکہ وہ تمام شہروں میں امامت پر قادر نہیں ہوسکتا لہذا اسکے حکم پر اسکا کوئی نہ کوئی نائب ہونا چاہئے۔(ت)
 (۳؎ جامع الرموز ، فصل صلٰو ۃ الجمعۃ         مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران        ۱/۲۶۳)
درمختار میں ہے :
ونصب العامۃ الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر،اما مع عدمھم فیجوز للضرورۃ ۴؎ ۔
اشخاص مذکورہ کے ہوتے ہوئے عوام کا خطیب مقرر کرنا معتبر نہیں ، ہاں اگر اشخاص مذکورہ(خلیفہ وقاضی یعنی سلطان یا قاضی) نہ ہوں توضرورتاً عوام کا خطیب مقرر کرلینا جائز ہوگا(ت)
 (۴؎ درمختار ، باب الجمعۃ ،  مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ،  ۱/۱۱۰)
جامع الفصولین میں ہے :
کل مصرفیہ وال من مسلم من جہۃ الکفار تجوز فیہ اقامۃ الجمع والاعیاد وامافی بلاد علیھا ولاۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع والاعیاد۵؎۔(ملخصا)
ہر وہ شہر جہان کافروں کی طرف سے مسلمان والی مقرر ہو وہاں جمعہ اورعیدین قائم کرنا جائز ،رہا معاملہ ان شہروں کا جہاں کا فر حاکم ہوں تو وہاں عامۃ المسلمین جمہ اور عیدین کی نمازیں قائم کر سکتے ہیں۔(ت)
 (۵؎ جامع الصفولین        الفصل الاول فی القضاء الخ    مطبوعہ اسلامی کتب خانہ علّامہ بنوری ٹاؤن کراچی    ۱/۱۴)
ایسی ہی جگہ جہاں تحقیق بعض شرائط میں شبہہ ہو احتیاطی رکعتیں رکھی ہیں نہ بر بنائے مراعات خلاف فی المذہب کافی ومحیط وعالمگیریہ میں ہے:
فی کل موضع وقع الشک فی جواز الجمعۃ لوقوع الشک فی المصر وغیرہ واقام اھلہ الجمعۃ ینبغی ان یصلوا بعد الجمعۃ اربع رکعات الخ ۱؎ ۔
ہر و مقام جہاں شہر وغیرہ کسی شرط کے ہونے میں شک کی بناء پر جوازِ جمعہ میں شک ہوا ور وہاں کے لوگ نمازِ جمعہ پڑھتے ہوں تو وہاں کے لوگوں کو چاہئے کہ وُہ جمعہ کے بعد چار رکعت (بنیّتِ ظہر) ادا کریں الخ(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    الباب السادس عشرفی صلٰو ۃ الجمعۃ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۴۵)
فتح القدیر و بحرالرائق میں ہے :
قد وقع شک فی بعض قری مصر ممالیس فیھا وال وقاض نازلان بھابل لھا قاضی یسمی قاضی الناحیۃ وھو قاض یولی الکورۃ باصلہا فیاتی القریۃ احیانا فیفصل ما اجتمع فیھا من التعلقات وینصرف ووال کذلک ھل ھومصر نظراالی ان لہا والیا وقاضیا اولا نظرا الی عدمھما بھاواذااشتبہ علی الانسان ذلک ینبغی ان یصلی اربعا بعد الجمعۃ ۲؎ الخ۔
شک واقع ہوا ہے مصر کے بعض علاقوں میں جہاں والی اور قاضی مستقل نہیں بلکہ ان کے لئے ایک عارضی قاضی ہو جسے''قاضی ناحیہ'' کہا جاتا ہے یعنی وہ بالاصل ضلع کا قاضی ہے جو اس قریہ میں کبھی کبھی آتا ہے اور جمع شدہ معاملات کے فیصلے کرکے واپس چلا جاتا ہے اسی طرح کا والی ہے کیا انھیں شہر کہاجائے گا؟اس بنا پر کہ انکا والی اور قاضی ہے یا شہر نہیں کہا جائیگا؟ اس بنا پرکہ وہ دونوں یہاں رہتے نہیں لہذا جب اس طرح کا کسی انسان پر اشتباہ پیدا ہوجائے تواسے وہاں جمعہ کے روز چار رکعت (بنیت ظہر) ادا کرنی چاہئیں الخ(ت)
 (۲؎ فتح القدیر        باب صلٰو ۃ الجمعۃ        مطبوعہ مکتبہ نو ریہ رضویہ سکّھر    ۲/۲۵)
شہر میں متعدد جمعے ہوں اور سابق نامعلوم تو اس میں احتیاطی رکعات کا حکم جنہوں نے دیا وہ بھی مجرد رعایت خلاف کے لئے نہیں کہ ایک امرمستحب ہے بلکہ شدّت قوت خلاف کے باعث جس کے سبب براء ۃ عہدہ بالیقین نہیں ان کے نزدیک یہاں احتیاط اسی معنی پر ہے۔حلیہ میں ہے:
قد یقع الشک فی صحۃ الجمعۃ بسبب فقد شروطھا ومن ذلک ما اذا تعددت فی المصر الواحد وجھل اسبق او علمت المعیۃ علی القول بعدم جواز التعدد وھی واقعۃ اھل مَرَؤ فیفعل ما فعلوہ قال المحسن امرتھم باداء الاربع بعد الجمعۃ حتما احتیاطا۱؎ ۔
بعض اوقات شرائطِ جمعہ نہ پائے جانے کی وجہ سے صحتِ جمعہ میں شک واقع ہوجاتا ہے ان میں یہ صورت بھی ہے کہ ایک شہر میں متعدد مقامات پر جمعہ ہوتا ہے اور سب سے پہلے ہونے والے سے آگاہی نہیں یا معیت کا علم ہے لیکن اس قول پر ہے جس میں متعدد مقامات پر جمعہ جائزنہیں اور اہل مرو کا معاملہ اسی طرح کاہے پس آدمی انہی کی طرح کرے۔محسن نے فرمایا کہ ایسی صورت میں جمعہ کے بعد چار رکعت کی ادائیگی انکے لئے احتیاطاً ضروری ہے۔ (ت)
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
غنیـہ میں ہے :
امامن حیث جواز التعدد وعدمہ فالاول ھو الاحتیاظ لان فیہ قوی اذا الجمعۃ جامعۃ للجماعات ولم تکن فی زمن السلف تصلی الافی موضع واحد من المصر وکون الصحیح جوازالتعدد للضرورۃ للفتوی لایمنع شرعیۃ الاحتیاط للتقوی۲؎۔
رہا مسئلہ جواز تعداد اور عدم جواز تعدد کا تو پہلے قول میں احتیاط ہے کہ اس میں قوّت ہے کیونکہ جمعہ نام ہے تمام جماعتوں کے جمع کرنے کا ،اور زمانہ اسلاف میں شہر میں فقط ایک ہی جگہ جمعہ ادا کیا جاتا رہا ہے ضرورت کے لئے متعدد جگہ جمعہ کے جواز پر فتوی کا صحیح ہونا اس بات سے مانع نہیں کہ تقوٰی کے پیش نظر شرعاً احتیاطاً چار رکعت کا ادا کرنا جائز نہ ہو۔(ت)
 (۲؎ غنیـۃ المستملی شعح منیۃ المصلی    فصل فی صلٰو ۃ الجمعۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۵۵۲)
منحۃ الخالق میں ہے :
ھو مبنی علی ان ذلک الاحتیاط ای الخروج عن العھدۃ بیقین لتصریحہ بان العلۃ اختلاف العلماء فی جوازھا اذاتعددت وفیہ شبہۃ قویۃ۳؎۔
وہ اسی احتیاط پر مبنی ہے یعنی آدمی کے ذمے سے فریضہ بالیقین ساقط ہوجائے کیونکہ ان کی تصریح ہے کہ اس کی علت متعدد مقامات پر جوازِ جمعہ میں علماء کا اختلاف ہے اور اس میں اشتباہ قوی ہے۔(ت)
 (۳؎ منحۃ الخالق مع البحرالرائق    باب صلاۃ الجمعۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۲/۱۴۳)
ظاہراً عیدین کی نماز مذہبِ امام شافعی میں سرے سے واجب ہی نہیں نہ شہر نہ گاؤں میں اگرچہ اسلامی ہو ،ہاں سنّت ہے ،اور غیر اسلامی آبادی اُن کے نزدیک بھی محلِ جمعہ و عیدین نہیں ،اورسب سے قطع نظر ہو تو رعایت خلاف وہاں تک ہے کہ اپنے مذہب کا مکروہ لازم نہ آئے نہ کہ فاسد و ناجائز محض ۔ایک گناہ تو یہ ہوا ،پھر جمعہ کہ صحیح نہیں نفل بتداعی ہوئے اور یہ بدعت ہے،پھر جہاں ظُہر فرض ہے اور جماعت واجب اگر جمعہ کے سبب ظہر اصلاً نہ پڑھیں تارکِ فرض ہوں، اور تنہا تنہا بلکہ بذریعہ رکعات احتیاطی پڑھیں تو ترک جماعت کے سبب تارک واجب کہ اول ہر بار اور ثانی بعد تکرار کبیرہ ہے۔دُرمختار میں ہے:
یندب للمخرج عن الخلاف لکن بشرط عدم لزوم ارتکاب مکروہ مذھبہ ۱؎۔
اس طرح عمل کرنا خلاف نہ رہے مستحب ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہاںایسی چیز کا ارتکاب لازم نہ آئے جواسکے مذہب میں مکروہ ہو۔(ت)
(۱؎ درمختار        کتاب الطہارۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۲۷)
باایں ہمہ اپنا یہ مسلک ہے کہ ایسی جگہ عوام جس طرح بھی اﷲ اور رسول کا نام لیں روکا نہ جائے نہ خود شرکت کی جائے اگر عدمِ شرکت میں فتنہ نہ ہو ورنہ بہ بنیتِ نفل مشارکت ممکن کہ
اختار اھونھما
 (دونوں میں سے آسان کا اختیار رکھا گیا ہے۔ت)درمختار میں ہے:
کرہ تحریما وکل مالایجوز مکروہ صلاۃ مع شروق الا العوام فلا یمنعون من فعلھا لانھم یترکونھا والاداء الجائز عند البعض اولی من الترک کما فی القنیۃ وغیرھا ۲؎۔
یہ مکروہ تحریمہ طلوع آفتاب کے وقت مطلق نماز اور ہر وہ عمل جو جائز نہیں وہ مکروہ ہے،مگر عوام لوگوں کو اس وقت نماز کی ادائیگی سے روکا نہ جائے کیونکہ وہ بکل ہی ترک کردیں گے، اور اداء جائز بعض علماء کے نزدیک بالکل چھوڑ دینے سے بہتر ہے ۔جیسا کہ قنیہ وغیرہا میں ہے۔(ت)
 (۲؎ درمختار   کتاب الصلٰو ۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۶۱)
ردالمحتار میں ہے:
وعزاہ صاحب المصفی الی الامام حمیدالدین عن شیخہ الامام المحبوبی والی شمس الائمۃ الحلوانی وعزاہ فی القنیۃ الی الحلوانی والنسفی۳؎۔
صاحب مصفی نے اس قول کی نسبت امام حمید الدین کی طرف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسے اپنے استاد امام محبوبی کے حوالے سے بیان کیا اورشمس الائمہ حلوانی کی طرف بھی اسے منسوب کیا ہے اور قنیہ میں اسے حلوانی اورنسفی کی طرف منسوب کیا ہے۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار        کتاب الصلٰو ۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۷۳)
نیز درمختار باب العیدین میں ہے :
لا یکبر فی طریقھا ولا یتنفل قبلھا مطلقا وکذا بعدھا فی مصلاھا فانہ مکروہ عندالعامۃ وھذا للخواص اما العوام فلا یمنعون من تکبیر ولا تنفل اصلالقلۃ رغبتھم فی الخیرات بحروفی ھامشہ بخط ثقۃ ان علیا رضی اﷲ تعالٰی عنہ رأی رجلا یصلی بعد العید فقیل اما تمنعہ یا امیرالمومنین فقال اخاف ان ادخل تحت الوعید قال اﷲ تعالی ارأیت الذی ینھی عبدا اذاصلی۱؎۔
نماز عید کے لئے عیدگاہ کو جاتے ہوئے راستے میں تکبیرات نہ کہے اور اس سے پہلے نفل نہ پڑھے کیونکہ یہ اکثر علماء کے نزدیک مکروہ ہیں اور یہ معاملہ خواص کا ہے ،رہا عوام کا معاملہ تو انھیں نہ تکبیر سے روکا جائے اور نہ ہی نفل پڑھنے سے کیونکہ بھلائی میں ان کی رغبت بہت کم ہوتی ہے بحر اور اسکے حاشیہ میں ثقہ تحریر میں ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ایک شخص کو عید کے بعد نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا آپ سے عرض کیا گیا اے امیر المومنین ! اسے آپ منع کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے فرمایا : مجھے خوف آتا ہے کہ کہیں میں اﷲ تعالٰی کی بیان کردہ اس وعید کے تحت داخل نہ ہوجاؤں ارشاد باری تعالٰی ہے:ـ کیا آپ نے اس کو نہیں دیکھا جو بندے کو نماز سے منع کرتا ہے۔(ت)
 (۱؎ درمختارشرح تنویرالابصار        باب العیدین         مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۱۴)
دارِحرب حکومت اسلام سے دارالاسلام ہوجاتی ہے اور عیاذاً باﷲ عکس کے لئے فقط حکومت کفر کافی نہیں بلکہ شرط ہے کہ وہ جگہ کسی طرف دارالحرب سے متصل ہو اور کوئی مسلم ذمی پہلے امان پر نہ رہے اور شعائر اسلام اُس سے بالکل بند کر دیئے جائیں والعیاذ باﷲ تعالٰی جب شعائر اسلام سے کچھ بھی باقی ہے بدستور دارالاسلام رہے گی۔
تنویر میں ہے :
لا تصیر دارالاسلام دارحرب الا باجراء احکام الشرک وباتصالھا بدارالحرب وبان لایبقی فیھا مسلم او ذمی بالامان الاول ودارالحرب تصیر دارالاسلام باجراء احکام اھل الاسلام فیھا وان بقی فیھا کافر اصلی وان لم تتصل بدارالاسلام۲؎۔
دارا لاسلام اس وقت دارالحرب بنتا ہے جب وہا ں احکامِ شرک جاری ہوں (یعنی معاذاﷲ وہاں شعائر اسلام بالکل ختم کر دئیے جائیں) اور وُہ جگہ کسی طرف سے دارالحرب سے متصل ہوا ور وہاں کوئی مسلمان اور ذمی پہلے امان پر نہ رہے اور دارالحرب اس وقت دارالاسلام بنتا ہے جب وہاں احکامِ اسلام جاری ہوں اگر چہ وہاں کافر اصلی موجود ہون اور اگرچہ وہ کسی طرف سے دارالاسلام کے ساتھ متصل بھی نہ ہو۔(ت)
 (۲؎ درمختار  شرح تنویرالابصار        فصل فی استیمان الکافر    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۳۴۷)
جامع الرموزمیں ہے :
لا خلاف ان دارالحرب یصیر دارالاسلام باجراء بعض احکام الاسلام فیھا واما صیر ورتھا دارالحرب نعوذ باﷲ منہ فعندہ بشروط احدھا اجراء احکام الکفر اشتھارا بان یحکم الحاکم بحکمھم ولا یرجعون الی قضاۃ المسلمین کمافی الخیرۃ والثانی الاتصال بدار الحرب والثالث زوال الامان الاول وقال شیخ الاسلام والامام الاسبیجابی ان الدارمحکومۃ بدارالاسلام ببقاء حکم واحد فیھا کما فی العمادی وغیرہ۱؎۔

ۤ
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ بعض احکامِ اسلامی کے اجراء سے دارالحرب دارالاسلام بن جاتا ہے لیکن دارالاسلام کا نعوذباﷲ دارالحرب بننے کے لئے امام صاحب کے ہاں کچھ شرائط ہیں، ان میںسے ایک یہ ہے کہ احکامِ کفر اعلانیہ جاری ہوں مثلاً حاکم کفر کے مطابق فیصلہ کرے اور لوگ مسلمان قاضیوں سے رجوع نہ کرسکیں جیسا کہ خیریہ میں ہے ، دوسری یہ کہ وہ جگہ دارالحرب کے ساتھ متصل ہو، تیسری یہ کہ پہلی امان ختم ہوجائے ،شیخ الاسلام اورامام اسبیحابی کہتے ہیں اگر وہاں ایک حکم بھی اسلام کا باقی ہے تو اسے دارالاسلام ہی کہا جائے گاجیسا کہ عمادی وغیرہ میں ہے۔(ت)
(۱؎ جامع الرموز    کتاب الجہاد    مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کنبد قاموس ایران     ۴/۵۵۶)
طحطاوی علی الدر میں ہے:
  ذکرالاستروشنی فی فصولہ عن ابی الیسر ان دارالاسلام لا تصیردارالحرب مالم یبطل جمیع مابہ صارت دارالاسلام ،ذکرہ فی احکام المرتدین وذکر الاسبیجابی فی مبسوطہ ان دارالاسلام محکوم بکونہا دارالاسلام فیبقی ھذاالحکم ببقاء حکم واحد فیھا ولا تصیر دارحرب الا بعد زوال القرائن ودارالحرب تصیر دارالاسلام بزوال بعض القرائن وھو انتجری فیھا احکام اھل الاسلام وذکر اللامشی فی واقعاتہ انھا صارت دارالسلام بھذہ الاعلام الثلثلۃ فلا تصیردارحرب مابقی شیئ منھا وذکرالامام ناصرالدین فی المنشور ان دارالحرب صارت دارالاسلام باجراء احکام الاسلام فما بقیت علقۃ من علائق الاسلام یترجح جانب الاسلام ۱؎ انتھی وﷲ الحمد واﷲ تعالٰی اعلم۔
شیخ استروشنی نے اپنی فصول میںشیخ ابوالیسر سے بیان کیاہے کہ دا رالاسلام اس وقت تک دارالحرب نہیں بن سکتا جب تک وہ تمام احکام باطل نہ ہوجائیں جن کی وجہ سے وُہ دارالاسلام بنا تھا اس کو احکامِ مرتدین میں ذکر کیا ہے۔اوراسبیجابی نے اپنی مبسوط میں ذکر کیا ہے کہ دارالاسلام اس وقت تک دارالاسلا م ہی رہے گاجب تک اس میں کوئی ایک حکمِ اسلام موجود ہو اور تمام قرائن اور شعائر کے زوال کے بعد ہی دارالحرب بنے گا لیکن دارالحرب بعض قرائن کے زوال سے دارالاسلام بن جاتا ہے وہ اس طرح کہ اس میں بعض احکامِ اسلامی کا اجرا ہوجائے ،اور لامشی نے واقعات میں ذکر کیاہے کہ ان تین علامات کے پائے جانے پر وُہ دارالاسلام بن جاتا ہے لیکن وہ دارالحرب اس وقت تک نہیں بن سکتا جب تک ان میں سے ایک کا وجود وہاںباقی رہے اور امام ناصر الدین نے منشور میں کہا ہے کہ احکامِ اسلامی کے اجرا سے وہ دارالاسلام بن جاتا ہے اور جب تک قرائنِ اسلام میں سے کوئی ایک پایا جائے تو جانب اسلا م کو ہی ترجیح ہوگی انتہی اور تمام تعریف اﷲ تعالٰی کے لئے ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    فصل فی استیمان الکافر    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۲/۴۶۱)
Flag Counter