Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
88 - 185
امام مذہب نے اس طرف خود ہی اشارہ فرمایا تھا کہ
لعلمہ علم غیرہ
 (وہ قاضی خود عالم ہویا عالم اس کا معاون ہو۔ت)

فتح میں فرمایا:
اذ کان القاضی یفتی ویقیم الحدود اغنی عن التعدد۴؎۔
جب قاضی خود فتوٰی دیتا ہواور حدود نافذ کرتا ہوتو وہاں الگ مفتی کا ہونا ضروری نہیں۔
 (۴؎ فتح القدیر ،  باب الصلٰوۃ المجعۃ ،   مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر      ۲/۲۵)
 (بالجملہ عبارات مختلف ہیں اور مقصود واحد۔ان تمام عبارات اوران کے امثال صدہا اور خود نص صریح امام مذہب سے جس طرح جمعہ کے لئے اشتراط مصر ظاہر یونہی احکام وو حدود مفتی کے الفاظ اور ان کی تفاریع مذکورہ کتب مذہب سے روشن کہ شہر سے یقینااسلامی شہر مراد ہے نہ یہ کہ مثلاً بت پرستوں کا کوئی شہر ہوبادشاہ بت پرست اور دس لاکھ کی آبادی سب بت پرست ،چار پانچ مسلمان وہاں تاجرانہ جائیں اور پندرہ بیس دن ٹھہر نے کی نیت کریں اُن پر وہاں جمعہ قائم کرنا فرض ہوجائے گا جبکہ وہ بادشاہ مانع نہ آتا ہو ہر گز شرح مطہر سے اُس کا کوئی ثبوت نہیں عموما ت قطعاً اجماعاً مخصوص ہیں اورظاہر الروایہ واصل مذہب کی تعریفات یقینااسلامی شہر سے خاص بلکہ وُہ ضعیف روایت نادرہ مرجوحہ مہمورہ
مالا یسع اکبر مساجدہ اھلہ
 (اس مقام کی سب سے بڑی مسجد وہاں مقیم لوگوں کے لئے ناکافی ہو۔ت) کہ محققین کے نزدیک اصلاً وجہ صحت نہی رکھتی اور بعذر توانی فی الحدود اس کے اختیار کی راہ اُسی ارادہ قدرت سے مسدود اور ظاہر الرایۃ و نص صریح امام اعظم مصح و مرجح کے ہوتے ہوئے روایت نوادر کی طرف رجوع بوجوہ ممنوع و مدفوع
کما حققنا کل ذلک فی فتاوئنا
(جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کردی ہے۔ت) اس سے زیادہ اُس کی غلطی کیا ہوگی کہ اس پر مکّہ معظّمہ ومدینہ طیبہ ہی گاؤں ہوجاتے ہیں اور اُن میں زمانہ اقدس سے آج تک جمعہ ناجائز و باطل قرار پاتا ہے،

مجمع الانہر میں ہے :
قالو ان ھذاالحد غیر صحیح عند المحققین ۱؎۔
بلا شبہ یہ تعریف محققین کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔(ت)
 (۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    باب الجمعۃ        مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت        ۱/۱۶۶)
غنیـہ میں ہے :
الفضل فی ذلک ان مکۃ والمدینۃمصران تقام بھما الجمعۃ من زمنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی الیوم فکل موضع کان مثل احدھما فھو مصر وکل تفسیرلا یصدق علی احدھما فھو غیر معتبر حتی الذی اختارہ جماعۃ من المتأخرین حتی الذی اختارہ جماعۃ من المتاخرین وھو مالو اجتمع اھلہ فی اکبر مساجد لایستعھم فانہ منقوض بھما اذ مسجد کل منھمایسع اھلہ وزیادۃ۱؎ ۔
اس میں تفصیل یوُں ہے کہ مکّہ اورمدینہ دونوں شہر ایسے ہیں جن میں حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ظاہری حیات سے لے کر آج تک جمعہ ادا کیا جاتا رہاہے تو جس جگہ اس طرح کے انتظامات ہوں گے وہ شہر ہے اور جو تعریف ان میں سے کسی ایک پر صادق نہیں آئے گی وہ معتبر نہیں ہوسکتی حتی کہ متاخرین کی ایک جماعت نے جو اختیار کیا ہے شہر کی تعریف یہ ہے کہ وہاں کے لوگ سب سے بڑی مسجد میں اگر جمع ہوں تو وہ مسجد لوگوں کے لئے کافی نہ ہو ،یہ درست نہیں کیونکہ مکہ اور مدینہ دونوں کی مساجد وہاں کے لوگوں اور مزید دوسرے لوگوں کے لئے کافی ہیں(ت)

اسے ابن شجاع ثلجی نے امام ابو یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہی سے روایت کیا ،ہدایہ میں تعریف ظاہر الراویۃ بیان کرکے فرمایا:
ھذا عند ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی وعنہ انھم اذا اجتمعوا فی اکبر مساجد ھم لم یسعھم والاول اختیار الکرخی وھو الظاہر والثانی اختیار الثلجی۲؎۔
یہ امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیک ہے اور انہی سے مروی ہے کہ جب وہاں کے وہ لوگ جن پر جمعہ فرض ہے سب سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو وہ مسجد ناکافی ہو، پہلے قول کو امام کرخی نے پسند فرمایااور یہی ظاہر ہے اور دوسرے امام ثلجی نے پسند فرمایا ۔(ت)
 (۲؎ الہدایۃ    باب صلٰوۃ الجمعۃ     مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی        ۱/۱۴۸)
خود امام ابو یوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے الفاظ کہ امام ملک العلماء نے بدائع پھر امام ابن امیر الحاج نےحلیہ میں ذکر کئے یہ ہیں کہ فرمایا:
اذااجتمع فی قریۃ منلایسمعھم مسجد واحد بنیلھم جامعا ونصب لھم من یصلی بھم الجمعۃ ۳؎۔
جب کسی قریہ کے لوگ ایک مسجد میں جمع ہوں اور وہ مسجد انکے لئے ناکافی ہو تو ان کے لئے جامع مسجد بنائی جائے اور وہاں کوئی ایسا شخص مقرر کیاجائے جو انھیں جمعہ پڑھائے۔(ت)
 (۳؎ بدائع الصنائع        فصل فی بیان شرائط الجمعۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/۲۵۹)
بد یہی ہے کہ بنی او نصب کی ضمیریںسلطانِ اسلام کی طرف ہیں اور اسی پر وُہ حدیث ناطق جس سے طبقۃً فطبقۃً ہمارے ائمہ و علماء اسی باب شرائط جمعہ میںاستدلال فرماتےرہے کہ
لہ امام عادل او جائر
 (اس کے لئے امام عادل یا ظالم ہو۔ت) 

مبسوط امام سرخسی میں ہے:
لنا ماروینا من حدیث جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولہ امام جائر ا وعادل فقد شرط رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الامام لا لالحاقہ الوعید بتارک الجمعۃ ۱؎۔
ہماری دلیل وہ روایت ہے جوحضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ اس کے لئے امام ظالم یا عادل کا ہونا  ضروری ہے تو نبی اکرم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے تارکِ جمعہ پر وعید لاحق ہونے کو امام کے ساتھ مشروط فرمایا ہے۔(ت)
 (۱؎ مبسوط سرخسی         باب صلوٰۃ الجمعۃ        مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت        ۲/۲۵)
فتح القدیر میں ہے :
الحدیث رواہ ابن ماجۃ وغیرہ حیث شرط فی لزومھا الامام کما یفیدہ قید الجملۃ الواقعۃ حالا ۲؎۔
اس حدیث کو ابن ماجہ وغیرہ نے روایت کیا ہے اس میں جمعہ کے لزوم کے لئے امام کا ہونا شرط قرار دیا ہے جیسے کہ اس کا فائدہ بطور حال واقع ہونے والے جملہ کی قید سے حاصل ہو رہا ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتح القدیر ،  باب صلٰو ۃ الجمعۃ ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکّھر ،   ۲/۲۷)
غرض بوجوہ ظاہر ہُوا کہ محلیت جمعہ کو اسلامی شہر ہونا لازم
ومن ادعی خلافہ فعلیہ البیان
 (اور جو شخص اس کے خلاف کا مدعی ہے اس پر دلیل کا لانا ضرور ی ہے۔ت) شہر کی نسبت عرفاً بھی باعتبار آبادی ہوتی ہے یا بلحاظ سلطنت ،مثلاً جس شہر کا میں نہ سیّد آباد ہیں نہ اُن میں سیّدوں کی عملداری ہے ، یہ تھی اُسے سیدوں کا شہر نہیں کہہ سکتے ،یونہی جبکہ وہاں عام آبادی کفار ہیں اوراسلامی سلطنت نہ اب ہے نہ کبھی تھی تو اگر چہ اس بنا پرحکام کی طرف سے مسلمانوں کو پناہ اور نماز وغیرہ کی اجازت ہے انھیں امان کے شہرکہیں مگر مسلمانوں کے شہر نہ کہلائیں گے تو اعم منتفی ہے چہ جائے اخص، لہذا محلِ جمعہ وعیدین نہیں ہوسکتے ،عیدین کے لئے بھی سوائے خطبہ وہی شرائط ہیں جو جمعہ کے واسطے تنویر الابصار ودرمختار باب العیدین میں ہے :
تجب صلاتھما علی من تجب علیہ الجمعۃ بشرائطھا المقدمۃ سوی الخطبۃ۳؎۔
عیدین کی نماز جمعہ کی سابقہ شرائط کےساتھ سوائے خطبہ کے انہی لوگوں پر واجب ہے جن پر نمازِ جمعہ واجب ہے۔(ت)
 (۳؎ درمختار  ،    باب العیدین  ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ،  ۱/۱۱۴)
ہاں جہاں ثابت نہ ہوکہ پہلے کبھی اسلامی سلطنت تھی مسلمانوں کا آزاد خود مختار شہر تھا اور دونوں صورتوں میں غیر مسلم نے مسلط ہوکر شعائر اسلام بند نہ کئے وہ بدستوراسلامی شہر و ملک رہے گا جیسے تمام بلادِ ہندوستان ،اور وہاں حسبِ سابق جمعہ فرض اور عیدین واجب رہیں گے لیکن جمعہ و عیدین کی اقامت کو یہ ضرور ہے کہ بادشاہ یا والی خود امامت فرمائے یا دوسرے کو ان نمازوں میں اپنا نائب ٹھہرا کر امام بنائے ،جہاں یہ صورت میسر نہ رہے۔وہاں بضرورت مسلمان جمع ہوکر جسے ان تین نمازوں کا امام مقرر کرلیں گے پڑھائے گا اور یہ فرض وواجب ادا ہوجائےگا ، متنِ کنز میں ہے:
شرط ادائھا السلطان ونائبہ۱؎
 (جمعہ کی ادائیگی کے لئے حاکم یا اس کے نائب کا ہونا شرط اورضروری ہے۔ت)
 (۱؎ کنز الدقائق        باب صلٰو ۃ الجمعۃ        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۴۸)
Flag Counter