Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
87 - 185
اس میں سکک وا سواق ورساتیق کا ذکر نہیں اور عبارت آتیہ غیاثیہ میں بجائے سکک جماعات ہیں اور رساتیق مذکور نہیں،اُسی کی دوسری عبارت میں فتاوٰی سے رساتیق کا ذکر فرمایا سکک واسواق کو ترک کیا کہ
فی الفتاوی الوصلی الجمعۃ فی قریۃ بغیر مسجد جامع والقریۃ کبیرۃ لھا قری وفیھا وال وحاکم جازت الجمعۃ بنوا المسجد اولم یبنوہ وان کان بخلاف ذلک لایجوز وھذاقول ابی القاسم الصفار و ھذا اقرب الاقاویل الی الصواب ۱؎۔
فتاوٰی میں ہے اگر کسی نے قریہ میں بغیر جامع مسجد کے جمعہ پڑھا اور قریہ اتنا بڑا ہو جس کے کچھ دیہات ہوں اور اس میں کوئی حاکم و والی بھی موجود ہو تو نمازِجمعہ درست ہوگی خواہ وہ مسجد بنائیں یا نہ بنائیں، اور اگر اس کے خلاف ہو تو جمعہ درست نہ ہو گا یہ شیخ ابوالقاسم الصفار کے قول کے مطابق ہے اور تمام اقوال میں سے یہ رائے صواب کے زیادہ قریب ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی غیاثیہ ، باب الجمعۃ وشرائطہا   ،  مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ        ص۳۹)
اور محصل ایک ہے کہ عادۃً والی و قاضی ایسی جگہ ہوتے ہیں جس میں آبادی کثیر ہو اور اسے تعدد محلہ ووجود اسواق لازم اور ہرگاؤں میں نیا حاکم مقر رکرنا نہ معہود ہے نہ متیسر بلکہ گرد وپیش کے دیہات آبادی کبیر کے حاکم کے متعلق کردئے جاتے ہیں اسے ضلع یا کم از کم پرگنہ ہونا لازم، غنیـہ میں ہے:
صاحب الھدایۃ ترک ذکر السکک والرساتیق بناء علی الغالب اذالغاب ان الامیر والقاضی شانہ القدرۃ علی تنفیذ الاحکام واقامۃ الحدود لایکون الا فی بلد کذلک فالحاصل ان اصح الحدود ما ذکرہ فی التحفۃ لصدقۃ علی مکۃ والمدینۃ وانھما الاصل فی اعتبار المصریۃ ۲؎۔
صاحبِ ہدایہ نے محلوں اور بازاروں کا ذکر اس لئے ترک کیا کہ غالب یہی ہے کہ ایسے حاکم اور قاضی جو احکام کا نفاذ اور حدود کا قیام کرسکتے ہیں وہ ایسے شہر میں ہی ہوتے ہیں جو بڑا ہو، حاصل یہ ہے کہ تحفہ میں بیان کردہ شہر کی تعریف اصح ہے کیونکہ وہ مکّہ اور مدینہ پر صادق آتی ہے اور شہر ہونے میں یہ دونوں اصل ہیں۔(ت)
 (۲؎ غنیـہ المستملی شرح منیۃ المصلی     فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ         مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور         ص۵۵۱)
پھر ظاہر ہے کہ ان کتب میں تنفیذ و اقامت سے قدرت مراد ہے کہ حاکم کا خلافِ حکم حکم کرنا شہر کو شہر ہونے سے خارج نہیں کرتا ولہذاعلامہ محقق ابراہیم حلبی نے اسی سے پہلے غنیـہ میں فرمایا:
الحد الصحیح ما اختارہ صاحب الھدایۃ انہ الذی لہ امیر وقاض ینفذالاحکام ویقیم الحدود والمراد القدرۃ علی اقامۃ الحدود ماصرح بہ فی تحفۃ الفقھاء عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۳؎۔
صحیح تعریف وُہ ہے جسے صاحب ہدایہ نے اختیار کیا ہے وُہ یہ ہے کہ ایسا شہر ہو جس میں حاکم وقاضی ہو جو احکام کا نفاذ اور حدود کا قیام کرے اور اس سے مراد قیامِ حدود پر قدرت ہے جیسا کہ تحفۃ الفقہاء میں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے منقول ہے (ت)
(۳؎ غنیـہ المستملی شرح منیۃ المصلی     فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ         مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۵۵۰)
امام اکمل نےعنایہ میں فرمایا:
المراد بالامیر وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم ۴؎۔
(امیر سے ایسا والی مراد ہے جو ظالم سے مظلوم کو انصاف دلانے پر قادر ہو۔ت)
 (۴؎ العنایۃ مع فتح القدیر ، باب صلٰوۃ الجمعۃ ،  مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر  ،   ۲/۲۴)
اسی طرح درمختار میں بلفظ یقدرتعبیر کیا اور خود نص امام مذہب سے اُس کی تصریح گزری۔ لہذا امام شمس الائمہ سرخسی نے مبسوط میں یوں تعبیر فرمایا:
ظاہر المذہب (عندنا) ان یکون فیہ سلطان وقاضی لا قا مۃ الحدود وتنقیذ الاحکام۱؎۔
 (مصر جامع کی تعریف میں) ہمارے ہاں ظاہر مذہب کے مطابق وہاں اقامت حدود اوراحکام کے نفاذ کے لئے کسی حاکم یا قاضی کا ہونا ضروری ہے(ت)
 (۱؎ مبسوط سر خسی    باب صلاۃ الجمعۃ    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت        ۲/۲۳)
پھر ہدایہ وغیرہا میں امیر وقاض اور مبسوط میں سلطان وقاض دو لفظ ہیں کہ عادۃ والی شہر اور ہوتا ہے اوروہ قاضی مقرر کرتا ہے اور مقصود فیصلہ مقدمات ہے و لہذا امام مذہب نے ذکر والی پراقتصاد فرمایا اور وہی سلطان سے مراد اس پر اس حدیث سے استناد
اربع الی الولاۃ منھا الجمعۃ ۲؎
 (چار چیزیں حکمرانوں کی ذمی داری ہے ان میں سے ایک جمعہ ہے۔ت)
 (۲؎مبسوط سر خسی    باب صلاۃ الجمعۃ    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۲/۲۵)
جواہر خلاطی وغیرہ میں نائب والی بھی اضافہ فرمایا کہ
وفیھا وال اونائبہ یقدر علی انصاف المظلوم الی قولہ وھوالاصح۳؎
 (وہاں والی یا اس کا ایسا نائب ہو جو مظلوم کو انصاف دلانے پر قادر ہو، آگے چل کر فرمایا اور یہی اصح ہے۔ت)
 (۳؎ جواہر الاخلاطی    فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ     غیر مطبوعہ نسخہ            ص ۲۴)
اور علّامہ قاسم نے تصحیح القدوری پھر علامہ حصکفی میں در منتقی پھرعلامہ شامی نے ردالمحتارمیں کہا :
یکتفی بالقاضی  عنالامیر۴؎
 (امیر کی جگہ قاضی ہی کافی ہے۔ت)
 (۴؎ ردالمحتار ، باب الجمعۃ،  مطبوعہ مصطفی البابی مصر   ۱/۵۹۰)
یہاں قاضی کےساتھ مفتی کی شرط نہ کی کہ اُن زمانوں میں قاضی نہ ہوتے مگر علماء ۔

ردالمحتار میں ہے:
لم یذکر المفتی اکتفاء بذکر القاضی لان اقضاء فی الصدر الاول کان وظیفۃ المجتھدین۵؎۔
ذکر قاضی پر اکتفا کرتے ہوئے مفتی کا ذکرنہیں کیا کیونکہ صدر اول میں قضاء (فیصلہ کرنا) ائمہ مجتہدین کی ہی ذمہ داری ہوتی تھی۔ت)
 (۵؎ردالمحتار        باب الجمعۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۹۰)
اور بعض نے شرطِ مفتی اضافہ کی ۔جامع الرموز میں ہے۔
ظاہر المذہب ان مافیہ جماعت الناس وجامع واسواق ومفت وسلطان اوقاض یقیم الحدود وینفذالاحکام و قریب منہ ما فی المضمرات وفیہ انہ الاصح۱؎۔
ظاہر مذہب یہ ہے کہ شہر وہ جہاں کچھ محلے جامع مسجد ، بازار، مفتی ،حاکم یا ایسا قاضی ہو جو حدود کا قیام اوراحکام کا نفاذ کرسکے ۔مضمرات کے الفاظ بھی اس کی تائید کرتے ہیں اور اسی میں ہے کہ یہی اصح ہے۔(ت)
 (۱؎ جامع الرموز        فصل صلٰوۃ الجمعۃ         مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/۲۶۲)
اکابر نے اس کی یہ توجیہ فرمائی کہ حاکم عالم نہ ہو تو عالم کا ہونا بھی لازم ۔ غیاثیہ میں ہے۔
قال الشمس الائمۃ السرخسی ظاہر المذہب ان المصر الجامع مافیہ جماعت الناس واسوق التجارات وسلطان اوقاض یقیم الحدود وینفذالاحکام ای یقدر علی ذلک و یکون فیہ مفت ان لم یکن القاضی او السلطان بنفسہ مفتیا۲؎۔
شمس الائمہ سرخسی فرماتے ہیں کہ ظاہر مذہب یہ ہے کہ جامع شہر وُہ ہوگا جس میں کچھ محلے ہوں اور بازارِ تجارت ، سلطان یا قاضی جو حدود کو قائم اور احکام کو نافذ کرے یعنی اس میں ان کے قیام اور نفاذ کی قدرت ہو اوراگر قاضی یا سلطان خود مفتی نہ ہوں تو وہاں کسی نہ کسی مفتی کا ہونا بھی ضروری ہے(ت)
 (۲؎ فتاوٰی غیاثیہ    باب الجمعۃ وشرائطہا         مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ        ص ۳۸)
امام طاہر بخاری نے فرمایا:
قال امام السرخسی فی ظاہر المذھب عندنا ان یکون فیہ سلطان وقاض لاقامۃ الحدود وتنفیذ الاحکام ویشترط المفتی اذالم یکن القاضی اوالو لی مفتیا۳؎۔

ۤ
امام سرخسی نے فرمایا ہے کہ ظاہر مذہب میں ہمارے ہا ں یہی ہے کہ وہاں اقامتِ حدود اور تنفیذِ احکام کے لئے قاضی یا سلطان کاہوناضروری ہے اور جب قاضی یا والی خود مفتی نہ ہو تو وہاں امام سرخسی نے مفتی کا ہونا شرط قرار دیا ہے (ت)
 (۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی    الفصل الثالث والعشرون فی صلاۃ الجعۃ    مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئتہ        ۱/۲۰۷)
Flag Counter