Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
86 - 185
مسئلہ نمبر ۵۴۰: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا اناشانئک یالہ،کو لاہ یا لھم کو لاھم مغفرۃ باشباع فتحہ یا الحمد ﷲ  الحمد لیلہ باشباع کسرہ یاقل کو قول با شباع ضمہ پڑھنا عمداً یا سہواً مفسد صلٰوۃ ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
الجواب:  عمداً گناہ ِ عظیم ہے اور سہواً معاف اور فساد ِ نماز کسی حالت میں نہیں
لان الاشباع لغۃ مرقوم من العرب کالاکتفاء عن المدۃ بالحرکۃ کما نص علیہ فی الغنیۃ و غیرھما
 (کیونکہ اشباع عرب کی معروف لغت ہے جیسا کہ مدہ کی جگہ حرکت پر اکتفا کیا جاتا ہے غنیـہ اور دیگر کتب میں اس پر تصریح ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۴۱: مسئولہ احمد شاہ صاحب از موضع نگریا سادات ضلع بریلی     یکم ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ

اگر امام نماز پڑھاتا ہو اور و ُ ہ کسی صورت میں درمیان کے دو ایک لفظ چھوڑ گیا ہو تو وہ نماز صحیح ہوگی یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: اگر ان کے ترک سے معنی نہ بگڑے تو صحیح ہوگی ورنہ نہیں ، پھر اگر یہ سورۃ فاتحہ ہے تو اس میں مطلقاً کسی لفظ کے ترک سے سجدہ سہوواجب ہوگا جبکہ سہواً ہو ورنہ اعادہ۔ اور اور کسی صورت سے اگر لفظ یا الفاظ متروک ہوئے اور معنی فاسد نہ ہوئے اور تین آیت کی قدر پڑھ لیاگیا تو اس چھوٹ جانے میں کچھ حرج نہیں واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۴۲: مسئولہ مولوی عبدالجلیل صاحب متوطن بنگال     ۱۵ صفر ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے دو۲ رکعت فجر کی فرض پڑھائی بعد الحمد شریف کے ضم سورت میں کسی لفظ کو تین مرتبہ تکرار کیا بوجہ مشتبہ ہونے کے ،اب اس کی نماز شرعاً درست ہے یا نہیں ؟اگر اُس کا بقول شخصے اعادہ کیا جائے اگر لوگ آکر اقتدا کریں بعد والوں کی نماز درست ہے یا نہیں؟
الجواب : لفظ کے تکرار سے نماز میں فساد نہیں آتا اعادہ میں جونئے لوگ ملیں گے ان کی نماز نہ ہوگی
لانھم مفترضون خلف متنفل
 (کیونکہ وہ نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض ادا کر رہا ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۴۳، ۵۵۴: ازجنوبی افریقہ ٹرنسوال مقام کروگرس ڈروپ بکس نمبر ۳۳ مرسلہ ایم ایم داؤد احمد موسٰی جی سالوجی ۱۴ رمضان ۱۳۳۶ ھ

اوّلاً تحریر حال ملک ٹرنسوال کرتا ہُوں کہ اسئلہ ذیل کے جواب میں سہولت ہو یہاں پر حکومتِ کفار ہے اور یہاں کے باشندے بھی کفّار ہیں، ہاں کچھ لوگ مسلمان شافعی المذہب بھی ہیں باقی مسلمان انڈیا کے تاجر وغیرہ ہیں مگر مجموعہ مسلمان کفار کی نسبت بہت کم ہیں ،گاؤں کا تو میں ذکر نہیں کرتا مگر اس ملک کے شہرں میں تخمیناً مفصلہ ذیل تعداد ہوگی کسی جگہ ۱۰ دس ۲۰بیس کسی جگہ ۳۰ تیس ۴۰ چالیس کسی جگہ ۸۰اسی ۱۰۰سو سوائے ایک شہر کے میرے خیال کے موافق کہیں ۴۰۰ چارسو ۵۰۰ پانچ سو کا مجمع نہ ہوگا،مساجد کا یہ حال ہے کہ کہیں تو کرایہ میں مکان لیا ہوا ہے اور اُس میں نمازِ جمعہ و عید ادا کی جاتی ہے اور کسی جگہ مسجد ہے مگر بوجہ قلت وہ بھی نہیں بھرتی البتہ ایک جگہ تین مسجدیں ہیں اور مسلمانوں کی جماعت بڑی ہے تخمیناً ۵۰۰ پانچ سو سے کم نہ ہوگی نماز جمعہ و عید سب جگہ ادا کی جاتی ہے عید کے موقع پر گاؤں کے مسلمانان وُہ شریکِ نماز ہو کر تعداد بڑھا دیتے ہیں میرے علم میں یہاں کھبی اسلامی حکومت نہیں ہوئی اور حکام کی طرف سے کوئی حکم شر عی یہاں جاری نہیں مگر نمازِ جمعہ و عید کو منع نہیں کرتے جس جگہ کے لئے یہ تحریر کی جاتی ہے وہ بھی شہر ہے اورایک مسجد بھی ہے تعداد مسلمانان ساٹھ ستّر سے زیادہ نہیں مسجد نہیں بھر سکتی مگر عید کے موقع پر گاؤ ں والے شریک ہوتے ہیں اور مسجد بھر جاتی ہے۔

(۱) جمعہ کی ادا کے لئے شہر شرط ہے یا نہیں؟

(۲) شہرکس کو کہتے ہیں اکبر مساجد کی تعریف روایت مذہب ہے یا نہیں؟

(۳) جب قدرت اجرائے حدود شرط ہے اور بالفعل ضرور نہیں تو توانی کی وجہ سے تعریف مذکور کو اختیار کرنا اور ظاہر مذہب کو ترک کرنا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟

(۴) علمائے حنفیہ کے اختلاف کی وجہ سے احتیاطی ظہر تجویز ہوئی مگر جہاں حنفی مذہب کے موافق تحقیق شروط نہ ہو اور دیگر مذاہب کے موافق ہو وہاں کیونکر جائز نہیں ۔خروج اختلاف کی علت دونوں جگہ موجود ہے اعنی وہاں بھی جمعہ اور احتیاطی ظہر پڑھ لینا چاہئے؟

(۵) کل موضع لہ امیر وقاض الخ (ہروہ مقام جہاں کوئی ایسا امیر اور قاضی ہو الخ۔ت) سے استدلال عدم جواز جمعہ دار حرب پر ہو سکتا ہے یا نہیں؟

(۶) کیفیتِ مذکور کی رو سے کہاں جمعہ جائز ہے اور کہاں نہیں؟

(۷) جہاں ناجائز ہے انھیں منع کیا جائے یا نہیں ،اور ان کی ظہر کا کیا حکم ہے؟

(۸) جہاں بادشاہ مسلمان نہ ہو وہاں جمعہ کا کیا حکم ہے اور حکومت کفار میں جمعہ کیوں جائز ہے؟

(۹) یہ ملک دارِ حرب ہے یا نہیں؟

(۱۰) دارِ حرب کی کیا تعریف اور کس طور سے دارِ حرب دارِ اسلام بنتا ہے اور دارِ اسلام دارِ حرب بنتا ہے؟

(۱۱) جہاں شروطِ جمعہ نہ پائے جائیں وہاں عید کی نماز کا کیاحکم ، اگر جائز نہیں تو پڑھ لینے سے کیا خرابی ہے اگر اپنے مذہب کے طور پر واجب نہیں تو دوسرے مذہب مثل شافعی رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ کے تو واجب ہے اور خروج عن الاختلاف ہوجائے گا؟

(۱۲) ہماری جگہ شہر گنا جاتا ہے اور ایک مسجد ہے مصلی باشندے اسے بھر نہیں سکتے ،یہاں جمعہ کا کیا حکم ہے بینوا تو جروا۔
الجواب: جمعہ کے لئے ہمارے ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے اتفاق و اجماع سے شہر شرط ہے شہر کی صحیح تعریف مذہب حنفی میں یہ ہے جو خود امامِ مذہب سیّدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ارشاد فرمائی ،وہ آبادی جس میں متعدد محلّے اور دوامی بازار ہوں اور وہ ضلع یا پرگنہ ہواُس کے متعلق دیہات ہوں اور اس میں کوئی حاکم با اختیار ایسا ہو کہ اپنی شوکت اور اپنے یا دوسرے کے علم کے ذریعہ سے مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے ۔

امام علاء الدین سمر قندی نے تحفۃ الفقہاء اورامام مالک العلماء ابو بکر مسعود نے بدائع میں اسی کی تصریح فرمائی
غنیـہ شرح منیہ میں ہے:
صرح فی تحفۃ الفقھاء عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکک واسواق ولھارساتیق وفیھا والٍ یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحشمۃ وعلمہ او علم غیرہ یرجع الناس الیہ فیما یقع من الحوادث و ھذا ھوالاصح۱؎۔
تحفۃ الفقہاء میں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے تصریح ہے کہ بڑے شہر سے مراد وہ آبادی ہے جس میں محلے اور بازار ہوں، اس کے متعلق کچھ دیہات ہوں ،وہاں کوئی ایسا با اختیار شخص ہو جو اپنی حشمت اور علم یا دوسرے کے علم کے ذریعے مظلوم کو ظالم سے انصاف دلا سکے اور لوگ حوادثات کی صورت میں اس کی طرف رجوع کریں اور یہی اصح ہے۔(ت)
 (۱؎ غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ ایچ ایم سہیل اکیڈمی لاہور    ص۵۵۰)
کتبہ جلیلہ معتمدہ میں ظاہرا لروایہ یعنی مذہب مہذب حنفی سے بالالفاظِ مختلفہ جتنی نقول ہیں سب کا مآل یہی ہے مثلاً ہدایۃ ومتنِ کنز میں فرمایا:
ھو کل موضع لہ امیر وقاض ینفذا  الاحکام ویقیم الحدود۲؎۔
ہر وہ مقام جہاں کوئی ایسا امیر یا قاضی ہو جو احکام نافذ کر سکے اور حدود کا اجرا کرسکے۔(ت)
 (۲؎ کنز الدقائق   باب صلٰوۃ الجمعۃ     مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ،  ص۴۷)
Flag Counter