Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
85 - 185
مسئلہ نمبر ۵۳۰:از محلہ سوداگران مدرسہ منظرالاسلام    ۱۷ جمادی الثانی۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کو تین آیتوں کے بعد غلطی ہوئی معنٰی بگڑ گیا جبکہ سورہ یوسف شریف میں چار آیت بعدرَأَیْتُھُمْ کی جگہ رَأَ یْتَھُمْ پڑھا اس حالت میں نماز ہوگئی یا نہیں؟
الجواب فسادِ معنی اگر ہزار آیت کے بعد ہو نماز جاتی رہے گی ،مگر یہاں رایئتھم میں ت کا زبر پڑھنا مفسدِ نماز  نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۳۱: از ہ بروگ    مسئولہ محمد علی     ۶ رجب المرجب پنجشنبہ ۱۳۳۶ھ

قبلہ و کعبہ جناب مولوی صاحب دام اظلالکم ، السلام علیکم بعداوائے آداب دست بستہ تسلیمات گزارش خدمت میں یہ ہے کہ نمازِ ظہر و عصر کے وقت امام کے پیچھے مقتدی کو حسبِ معمول پڑھنا چاہئے یا سکوت واجب ہے؟

(۲) نمازِ مغرب و عشاء کے فرضوں کی ادائیگی میں مقتدی کو چاروں رکعتوں میں سکوت لازم ہے یا اوّل کی دو ۲ میں اور آخری دو میں نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: مطلقاً کسی نماز کی کسی رکعت میں مقتدی کو قرأت اصلاً جائز نہیں نہیں قطعاً خاموش کھڑا رہے ،صرف سبحٰنک اللھُم شامل ہوتے وقت پڑھے جبکہ امام نے قرأت بجہر شروع نہ کی ہو۔دُرمختار میں ہے :
المؤ تم لا یقرأ مطلقا ولا الفاتحۃ فی السریۃ  اتفاقا بل یستمع اذاجھر وینصت اذا اسر۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
سری نماز میں، اور نہ ہی سری نماز میں فاتحہ بالاتفاق (یعنی اس پر ائمہ ثلثہ کا اتفاق ہے) بلکہ جب امام جہراً پڑھے تو سُنے اور جب امام سِتراً پڑھے تو مقتدی چُپ رہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ درمختار ،   فصل ویجہر الامام    مطبوعہ مجتبائی دہلی     ۱/۸۱)
مسئلہ نمبر ۵۳۳، ۵۳۴: از ہزار ضلع بلذانہ اسٹیشن بسوہ متعلق ملکہ پور مسئولہ سراج الدین ۱۳ رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ:

(۱) آیت قرآن شریف کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے نماز میں پڑھنے کے متعلق شرع شریف میں کیا حکم ہے؟

(۲) سورہ ٰیسۤ شریف میں سلم قول کی جگہ سلام قولا  پڑھنا یا سلام پر آیت کرنا صحیح کس طرح پر ہے؟
الجواب: 

(۱) سائل نے صاف بات نہ لکھی کہ ٹکڑے کرنے سے کیا مراد ہے،اگر آیت بڑی ہے اور ایک سانس میں نہیں پڑھ سکتا تو جہاں سانس ٹوٹ جائے مجبوراً وقف کرے گا موقع موقع پرٹھہرتا ہوا چلا جائے گا، ہاں بلاضرورت بے موقع ٹھہرنا خلافِ سنت ہے ،واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۲) دونوں صحیح اور دونوں جائز ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۳۵: از جے پور بیرون اجمیری دروازہ مکان عبدالواحد خان مسئولہ حامد حسین قادری ۱۴ رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید کا خیال ہے کہ عام لوگ تکبیر انتقال نماز میں اﷲ اکبرکی را کو اس قدر کھینچتے ہیں کہ اُس کی وجہ سے نماز میں نقصان واقع ہوتا ہے اﷲ اکبر کی را کو اس طرح خارج کرنا کہ عام لوگ بجائے ر کے دال محسوس کریں کیسا ہے؟
الجواب: اکبرمیں رکو د پڑھنا مفسد نمازہے کہ فسادِ معنی ہے، اور یہ بات کہ وہ  ر پڑھتا اور سب سننے والے د سنتے ہیں بہت بعید ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۳۶: از شہر ممباسہ ضلع مشرقی افریقہ دکان حاجی قاسم اینڈ سنز مسئولہ حاجی عبداﷲ حاجی یعقوب ۲۶رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اول رکعت میں سورہ کٰفرون پڑھی دوسری میں کوثر کی ایک آیت پڑھی پھر اس کو چھوڑ کر اخلاص پڑھی ، ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟اور نمازمیں کچھ خلل واقع ہوگا یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب: نماز تو ہو گئی مگر ایسا کرنا ناجا ئز تھا ، جس سورت کا ایک لفظ زبان سے نکل جائے اُسی کا پڑھنا لازم ہوجاتا ہے خواہ وہ قبل ہو یا بعد کی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۳۷: ازمانا دوارہ کاٹھیاواڑ     مرسلہ ماسٹر اسمٰعیل صاحب    ۲ شوال ۱۳۳۹ھ

نماز مین قرآن شریف اس طرح پڑھنا کہ اول میں الم ترا،دوسری میں قل ھواﷲ، تیسری میں لا یلٰف،چوتھی میں پھر قل ھواﷲ مکرہ تنزیہی ہے یا نہیں حالانکہ لا یلٰف اورپھر ترتیب وار بھی پڑھ سکتا ہے۔
الجواب: نوافل میں مکروہ نہیں کہ اس کی ہر دو رکعت نماز علیحدہ ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۳۸: ازدھمی پور ضلع بیہڑی    مرسلہ مستقیم خان     ۲۴ رمضان المبارک ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی حافظ مسجد میں تراویح میں کلام مجید صحیح پڑھتا ہو اور اچانک اس کے پیچھے دُوسرا کوئی حافظ اس کو بہکانے آجائے تو ایسا کرنا اور نما ز میں آکر فساد ڈالنا جائز ہے یا ناجائز ؟ بینوا تو جروا۔
الجواب: اگر فی الواقع اس نے دھوکا دینے اور نماز خراب کرنے کے لئے قصداً غلط بتایا تو سخت گناہ ِ عظیم میں مبتلا ہوا اور شرعاً سخت سزا کا مستحق ہے، ایسے لوگ مسجدمیں آکر فساد ڈالیں اور ناجائز غل مچائیں اور بلاوجہ فوجداری پر آمادہ ہوں جیسا کہ سائل نے بیان کیا موذی ہیں اور موذی کی نسبت حکم ہے کہ اُسے مسجد میں نہ آنے دیا جائے
کما نص علیہ العلامۃ البدر العینی فی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری و عنہ فی الدرالمختار وغیرہ
 (جیسا کہ علامہ بدرالدین عینی نےعمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں تصریح کی ہے اور اس کے حوالے سے درمختار وغیرہ میں بھی مذکور ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۳۹:         بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

چہ می فرمایند جوہر شناسان نکات فرقانی و دقیقہ رسان علم حبیب رحمانی اندریں باب کہ امام در قرأت نمازِ مغرب و خفتن وفجر و جمعہ و عیدین درمیان قرأت سہ آیۃ یا زائد از سہ آیۃ سہو کرد و مقتدی او رامیان نماز مذکورہ بالا لقمہ دادو مقتدی خود گرفت نماز امام و مقتدی درست شد یا نہ ۔بینو ا تو جروا
قرآنی نکات اور حبیبِ خدا کے ارشادات  عالیہ سے آگاہ وواقف اہلِ علم و دانش اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ امام نمازِ مغرب ،عشاء ،فجر،جمعہ اور عیدین میں قرأت کرتے ہوئے تین آیات سے زائد پڑھ کر بھول گیا ایسی صورت میں مقتدی نے لقمہ دیا اور امام نے اس کا لقمہ قبول کرلیا تو امام اور مقتدی کی نمازدرست ہوگی یا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب: صحیح است مطلقا در ہر نماز و بہر حال اگر چہ بعد سہ آیت باسد ہمیں است قول صحیح الدر المختارفتحہ علی امامہ لایفسدمطلقا بفاتح واٰخذ بکل حال۱؎الخ فی ردالمحتار ای سواء قرأ الامام قدر مایجوز بہ الصلٰوۃ ام لا انتقل الی اٰیۃ اخری ام لا تکرر ام لاھو الاصح نھر۲؎ واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم ۔
نماز مطلقاً درست ہے ہر نماز میں ہر حال میںؓ لقمہ اگرچہ وُہ تین آیات کے بعد ہو درست اور صحیح قول یہی ہے ۔دَرمختار میں ہے امام کو لقمہ دینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی نہ لقمہ دینے والے کی اور نہ لینے والے کی ہر حال میں الخ ردالمحتار میں ہے خواہ امام نے اتنی قرأت کرلی ہو جس سے نماز ہوجاتی ہے یا نہ کی ہو امام کسی اور آیت کی طرف منتقل ہوچکا ہو یا نہ ہوا ہو ، لقمہ بار بار ہو یا نہ ہو ،اصح یہی ہے نہر۔ واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم
 (۱؎ درمختار      باب ما یفسد الصلٰوۃ وما یکرہ فیہا      مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۹۰)

(۲؎ ردالمحتار    باب ما یفسد الصلٰوۃ وما یکرہ فیہا        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/۴۶۰)
Flag Counter