مسئلہ نمبر ۵۲۵: ازنوشہرہ تحصیل جامپور ضلع ڈیرہ غازنوں مرسلہ عبدالغفور صاحب ۱۴ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کی نمازِظہر و عصر میں جو قرأت باجہر نہیں پڑھی جاتی باقی شام اور عشاء و فجر کی نماز میں بالجہر پڑھی جاتی ہے اس کی وجہ اور رموزات سے مطلع فرمائیے؟
الجواب: یہ احکام ہیں بندے کو حکم ماننا چاہیئے حکمت کی تلاش ضرور نہیں ۔اس کے دو۲ سبب بتائے جاتے ہیں ایک ظاہری کہ کفار قرآن عظیم سُن کربیہودہ بکا کرتے تھے ظہر و عصر دونوں ان کی بیداری کے تھے اس لئے ان میں قرأت خفی کوئی کہ وہ سُن کرکچھ بکیں نہیں، فجرو عشا کے وقت وہ سوئے ہوتے تھے اور مغرب کے وقت کھانے میں مشغول ،لہذا ان میں قرأت بالجہر ہوئی ، مگر یہ سبب چنداں قوی نہیں ۔دوسرا سبب صحیح و قوی باطنی وہ ہے جو ہم نے اپنے رسالہ انھارالانوارمیں ذکر کیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۲۶: ازشہر کہنہ محلہ کانکڑ ٹولہ مسئولہ ننھے خان صاحب ۱۵ محرم ۱۳۳۹ھ: قرأت کتنی فرض ہے اورواجب اور سنّت اور مستحب کہاں تک؟
الجواب: قرأت ایک آیت فرض ہے اور الحمد اور اس کے بعد اُس کے متصل ایک بڑی آیت یا تین آیتیں چھوٹی پڑھنا واجب ، اور فجر و ظہر میں حجرات سے بروج تک دونوں رکعتوں میں ۲دو سورتیں، اور عصر و عشاء میں بروج سے لم یکن تک ، اور مغرب میں لم یکن سے ناس تک سنّت ،یا ان کی مقدار دوسرے مقام سے، اور جماعت میں کوئی مریض یاضعیف وغیرہ ایسا ہو کہ طویل سے مشقّت ہوگی تو اسکے حالت کی رعایت واجب اور نوافل میں جس قدر تطویل اپنے اوپر شاق نہ ہو مستحب ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۲۷: ازشہرمحلہ ملو کپور مسئولہ شفیق احمد خان صاحب ۲۶ محرم الحرام۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان ِشرع متین اس مسئلہ میں کہ ہر نماز میں کتنی مرتبہ اور کس کس مقام پر بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم پڑھنا چاہئے؟
الجواب سورہ فاتحہ کے شروع میں بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم سنّت ہے اور اس کے بعد اگر کوئی سورت اوّل سے پڑھے تو اس پر بسم اﷲ کہنا مستحب ہے اور کچھ آیتیں کہیں اور سے پڑھے تو اس پر کہنا مستحب نہیں ، اور قیام کے سوا رکوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اﷲ پڑھنا جائز نہیں کہ وہ آیہ قرآنی ہے اور نماز میں قیام کے سوا کسی جگہ کوئی آیت پڑھنی ممنوع ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۲۸: از شہرمحلہ سوداگران مسئولہ مولوی احسان علی مرحوم کا طالب علم مدرسہ منظر الاسلام
۱۸ صفر ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اوّل رکعت میں ایک رکوع یا سورہ پڑھی دوسری رکعت میں اگر اس سے مقدم کی سورہ یا رکوع زبان پر سہواً جاری ہوجائے تو اس کو پڑھے یا مؤخر کی سورہ یا رکوع پڑھے اس کو چھوڑ کر، اگر پڑھ کر نماز تمام کرلی تو ہوئی یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب زبان سے سہواً جس سورہ کا ایک کلمہ نکل گیا اسی کا پڑھنا لازم ہوگیا مقدم ہو خواہ مکرر ،ہاں قصداً تبدیلِ ترتیب گناہ ہے اگر چہ نماز جب بھی ہوجائے گی۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر۵۲۹: از تحصیل اترولی ضلع علی گڑھ مسئولہ محمد حسین محرر جو ڈیشل ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۳۹ھ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ، نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
ایک مسئلہ پر بحث درپیش ہے اور آپس میں مباحثہ لفظی ہو رہا ہے وہ یہ کہ امام نے بوقتِ نمازِ مغرب رکعت اوّل میں سورہ دھرقرأت کی اور اس قدر پڑھا اور سہو ہ ہو گیا پھر رکوع کردیا یطاف علیھم باٰنیۃ من فضۃواکواب کانت قواریرا۔قواریرا من فضۃ نشانی آیت پر حرف لاموجودہے اما م اعظم صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کے یہاں اس قدر قرأت پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں؟
الجواب: نماز بے تکلف بلا کراہت ہوگئی ، تین آیات کی قدر واجب ادا ہوجاتاہے اور یہ تو پندرہ آیتیں ہوگئیں بلکہ مغرب میں اتنی تطویل مناسب بھی نہ تھی کہ اس میں قصار مفصل یعنی لم یکن سے آخر تک ہر رکعت میں ایک سورت پڑھنے کا حکم ہے یہ اُس سے زائد ہوگیا،تنویر ودرمختار میں ہے:
یسن فی الحضرالامام ومنفرد طوال المفصل فی الفجر والظھر واوساطہ فی العصر والعشاء وقصارہ فی المغرب ای فی کل رکعۃ سورۃ ۱؎۔
(مقیم ہونے کی صورت میں امام و منفرد دونوں کی ) نمازِ فجر اور ظہر کی نماز میں طوال مفصل اورعصر و عشاء میں اوساط مفصل اور نمازِمغرب میں قصار مفصل پڑھنا مسنون ہے یعنی ہر رکعت میںایک سورۃ ان سورتوں میں سے جو مذکور ہوئیں پڑھے(ت)
(۱؎ و۲؎ درمختار فصل و یجہر الامام مطبوعہ مطبر مجتبائی دہلی ا/۸۹)
من الحجرات الی اٰخری البروج ومنھا الٰی اٰخر لم یکن اوساطہ وباقیہ قصارہ ۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
حجرات سے آخر بروج تک طوال مفصّل بروج سے لم یکن کے آخر تک اوساط مفصل، اور سورتوں کا بقیہ حصہ قصارمفصل کہلا تا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ و۲؎ درمختار ، فصل و یجہر الامام ، مطبوعہ مطبر مجتبائی دہلی ، ا/۸۹)