Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
83 - 185
ہندیہ میں ہے :
الاصح انہ لا یجوز کذافی شرح المجمع لابن ملک ،وھکذا فی الظہیریۃ والسراج الوھاج وفتح القدیر۲؎۔
اصح یہی ہے کہ اس سے نماز جائز نہیں شرح مجمع لابن مالک میں اسی طرح ہے۔ظہیریہ ،السراج ، الوہاج اورفتح القدیر میں بھی یوں ہی ہے۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ         الباب الرابع فی صفۃ الصلٰوۃ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۶۹)
فتح القدیر میں ہے :
لو کانت کلمۃ اسماً او حرفاً نحو مدھامتٰن ص ق ن فان ھذہ اٰیات عند بعض القراء اختلف فیہ علی قولہ  والاصح انہ لا یجوز لانہ یسمی عادا لا قارئا ۳؎۔
اگروُہ آیت ایک کلمہ پر مشتمل ہے خواہ اسم ہو یا حرف مثلاً مدھامتٰن ،ص،ق،ن کیونکہ یہ بعض قراء کے نزدیک آیات ہیں ان کے قول پر اس میں اختلاف ہے اور اصح یہی ہے کہ یہ جواز ِ نماز کے لئے کافی نہیں کیونکہ ایسے شخص کو قاری نہیں کہا جاتا بلکہ شمار کرنے والا کہا جاتا ہے۔(ت)
 (۳؎ فتح القدیر شرح الہدایۃ، فصل فی القرأۃ ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر، ۱/۲۸۹)
بحرالرائق میں اسے ذکر کرکے فرمایا :
کذا ذکرہ الشارحون وھومسلم فی ص و نحو امافی مدھا متٰن فذکر الاسبیجابی وصاحب البدائع انہ یجوز علی قول ابی حنیفۃ من غیر ذکر خلاف بین المشائخ۴؎۔
شارحین نے اسے یوں ہی بیان کیا ہے اور یہ بات ص وغیرہ میں تو مسلم مگر مدھامتٰن کے بارے میں اسبیجابی اور صاحبِ بدائع نے کہا کہ امام ابو حنیفہ کے قول کے مطابق یہ جوازِ نماز کے لئے کافی ہے اور انہوں نے مشائخ کے درمیان کسی اختلاف کا ذکر نہیں کیا۔(ت)
 (۴؎ البحرالرائق شرح کنزالدقائق    فصل واذاارادالدخول فی الصلٰوۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱/۳۳۸)
بدائع میں ہے :
فی ظاھر الروایۃ قدر  ادنی المفروض  بالاٰیۃ التامۃ طویلۃ  کانت  اوقصیرۃ  کقولہ تعالٰی مدھامتٰن  وماقالہ  ابوحنیفۃ اقیس ۱؎ ۔
ظاہر الروایہ کے مطابق فرض قرأۃ کی مقدار کم ازکم ایک مکمل آیت ہے وہ آیت لمبی ہو یا چھوٹی ۔جیسے اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے مدھامتٰناورامام ابو حنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی نے جو کچھ فرمایا ہے وہی زیادہ قرینِ قیاس ہے۔(ت)
 (ا؎ بدائع الصنائع    فصل فی ارکان الصلٰوۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۱۲)
اقول:  اظہر یہی ہے مگر جبکہ ایک جماعت اُسے ترجیح دے رہی ہے تو احتراز ہی میں احتیاط ہے خصوصاً اس حالت میں کہ اس کی ضرورت نہ ہوگی مگر مثل فجر میں جبکہ وقت قدر واجب سے کم رہا ہو ایسے وقت ثم نظرکہ بالاجماع ہمارے امام کے نزدیک ادائے فرض کو کافی ہے مدھامتٰن سے جلد ادا ہوجائے گا کہ اس میں حرف بھی زائد ہیں اور ایک مد متصل ہے جس کا ترک حرام ہے ،ہاں جسے یہی یاد ہو اُس کے بارے میں وُہ کلام ہوگا اور احوط اعادہ ۔واﷲ تعالٰی۔
مسئلہ نمبر ۵۱۷: مسئولہ احسان علی مظفر پوری طالب علم مدرسہ منظر الاسلام بریلی بتاریخ ۳ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آیت (oلا ) پر ٹھہرنایا رکوع یا وقف کرنا کیسا ہے کیا قباحت ہے اگر جس آیت پر(لا)ہے اُس پررکوع کر دیا تو جائز ہے یا نہیں ،مثلاً  اُوپر سے پڑھتا آیا اور صم بکم عمی فھم لا یرجعون پر رکوع کردیا تو جائز ہے یا کچھ حرج بھی ہے؟
الجواب: ہر آیت پر وقف مطلقاً بلا کراہت جائز بلکہ سنت سے مروی ہے،رہا رکوع اگر معنی تام ہوگئے جیسے آیت مذکورہ میں اس کے بعد دوسری مستقل تمثیل ارشاد ہے جب تو اصلاً حرج نہیں، اگر معنی بے آیت آئندہ کے نا تمام ہیں تو نہ چا ہئے خصوصاً امثال فویل للمصلین(oلا ) میں نہایت قبیح ہے اور ثم رددناہ اسفل سافلین میں قبیح اس سے کم ہے نماز بہر حال ہوجائے گی۔
مسئلہ نمبر ۵۱۸: ازمانیا والا ڈاکخانہ قاسم پور گڈھی ضلع بجنورمرسلہ سیّد کفایت علی صاحب ۵ ربیع الاوّل شریف ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام نے پہلی رکعت میں قل اعوذ برب الناس پڑھی دوسری میں قل اعوذ برب الفلق پڑھی اور آخر میں سجدہ سہو کیا اس مسئلہ کا حکم بیان فرمایئے۔بینوا توجروا
الجواب:  اگر بھول کر ایسا کیانماز میں حرج نہیں اور سجدہ سہو نہ چاہئے تھا اور قصداً ایسا کیا تو گناہگار ہوگا نماز ہوگئی سجدہ سہو اب بھی نہ چاہئے تھا توبہ کرے ،پہلی میں اگر سورہ ناس پڑھی تھی تو اُسے لازم تھا کہ دوسری میں بھی سورہ ناس ہی پڑھتا کہ فرض کی دونوں رکعتوں میں ایک ہی سُورت پڑھنا خلافِ اولٰی ہے اور ترتیب اُلٹا کر پڑھنا حرام ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۱۹: ازبیکانیر مارواڑ محلہ مہاوتان مرسلہ قاضی تمیز الدین صاحب     ۹ربیع الاوّل شریف ۱۳۳۸ھ

میں نے ایک معلم صاحب کی زبانی سنا ہے کہ نماز میں تین آیت شریف سے کم مضمون پڑھا جائے گا یعنی دو۲ آیت شریف پڑھی جائے گی تونماز نہیں ہوگی اگر غلطی سے پڑھی گئی تو نماز دہرانا چاہئے ۔ایک امام نے پہلی رکعت میں ایک رکوع پڑھا دوسری رکعت میں وان یکاد الذین کفرو الیزلقونک بابصارھم لما سمعو الذکر ویقولون انہ لمجنون وما ھو الا ذکر للعٰلمین تو قبلہ و کعبہ یہ دوسری رکعت میں جو پڑھا گیا وُہ میں نے لکھا ہے یہ صرف دو آیت شریف ہیں آیا نماز صحیح ہوگئی یا نہیں یا دُہرانا پڑے گی۔ بینوا توجروا
الجواب: نماز میں ایک آیت پڑھنا فرض ہے مثلاً الحمد ﷲ رب العٰلمین اس کے ترک سے نماز نہ ہوگی اور پُوری سورہ فاتحہ اور اس کے بعد تین آیتیں چھوٹی چھوٹی یا ایک آیت تین چھوٹی آیتوں کے برابر ہو پڑھنا واجب ہے ، اگر اس میں کمی کرے گا نماز تو ہوجائے گی یعنی فرض ادا ہو جائے گا مکروہ تحریمی ہوگی، بھول کر ہے تو سجدہ سہو واجب ہوگا اور قصداً ہے تو نماز پھیرنی واجب ہوگی ،اور بلا عذر ہے تو گناہگار بھی ہوگا مثلاً تین آیتیں ہیں ثم نظر o ثم عبس وبسر o ثم ادبر واستکبر o۱؎ یا یہ الرحمٰنo علم القراٰن oخلق الانسان۲؎ ظاہر ہےکہ وہ دو۲ آیتیں وان یکاد الذین کفروا بلکہ اس میں کی پہلی ہی آیت ان تین چھوٹی آیتوں سے بڑی ہے تو نماز مع واجب ادا ہوگئی دُہرانے کی حاجت نہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ القرآن  ۷۴/ ۲۱، ۲۲، ۲۳ )

(۲؎ القرآن    ۵۵/۱)
مسئلہ نمبر۵۲۰: ۲۴ ربیع الاوّل شریف    ۱۳۳۸ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:

(۱) امام کو قرأت میں مغالطہ لگا اور امام ایک آیت کلاں یا ایک چھوٹی تین آیت سے زیادہ پڑھ چکا ہے باوجود اس کے کوئی مقتدی امام کو لقمہ دے اور بتادے تو امام کو لقمہ لینے یا مقتدی کو لقمہ دینے میں کوئی نماز میں فساد یا نقصان نہ آوے گا؟

(۲) امام کو متشابہ لگا اور اوپر کی دو ایک آیت کو لوٹایا اور دُہرایا تو اس صورت میں دُہرانے سے نماز میں کچھ خلل تو نہ آئے گا؟ اور آئے گا تو کیا سجدہ سہو کرنے سے جبر نقصان ہوجائیگا یا نہیں؟
الجواب: کسی کے نماز میں صحیح بتانے سے کچھ فساد نہ آئے گا اگرچہ ہزار آیتیں پڑھ چکا ہو دہرانے سے کچھ نقصان نہیں ،ہاں اگر تین بار سبحان اﷲ کہنے کی قدر چُپکا کھڑا رہا تو سجدہ سہو آتا واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۲۲: از ریاست رام پور دُکان ملّا حمید محلہ کنڈہ مرسلہ محمد اسد الحق صاحب    ۱۳ رمضان ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قل ھواﷲ احد میں دال پر تنوین ہے اس کو کسرہ دے کر مابعد سے وصل کرکے نماز میں پڑھے ،ہوگئی یا نہیں ؟ اور گناہ تو نہیں ؟ ضروری ہے یا جائز یا منع؟
الجواب : نون تنوین کو کسرہ دے کر لام میں ملا کر پڑھنا جائز ہے کوئی حرج نہیں ،نہ اس سے نماز میں کوئی خلل ،اور یہاں وقف بھی ج کا ہے جو وصل کی اجزت دیتا ہے۔و ھواﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر۵۲۳: از سرائے چھبیلہ ضلع بلند شہرمرسلہ راحت اﷲ امام مسجد جامع ۱۹ رمضا ن ۱۲۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام قرأت میں مما قالو ا وکان عنداﷲ وجیھاکی جگہ وکان الخ پڑھ جائے تو نماز درست ہوگی یا نہیں مگر اوّل مما قالوپڑھاپھر خیال ہو کہ کانواہے ۔
الجواب: کہ نمازہر طرح ہوگئی کہ فساد نہیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter