Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
82 - 185
مسئلہ نمبر ۵۱۱:  از الہ آباد محلہ نخاس کہنہ بر مکان دھوم شاہ صاحب مرسلہ محمد ناظم آزاد حقانی مظفر پوری مقیم حال الہ آباد     ۱۱ رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین اس مسئلہ مین کہ نماز ِ جمعہ میں اما م الحمدکی تین آیتوں سے زیادہ پڑھ چکا ہو اور قرأت سے رک گیا ہو پیچھے سے کسی مقتدی نے لقمہ دیا اس نے بجائے لقمہ لینے کے خود سورت کو اعادہ کیا، جس آیت پر رُکا تھا اس آیت کو نکال کر سورت کو پُورا کیا بعد ازاں رکوع و سجود وغیرہ کیا بعد میں لقمہ دینے والے مقتدی سے امام نے کہا کہ تمہاری نماز باطل ہوگئی اب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں مقتدی کو لقمہ دینا چاہیئے یا نہیں ؟اور ایسی صورت میں لقمہ دینا جائر ہے یا نہیں ؟ اور صورت مسئولہ میںمقتدی کی نماز ہوگئی یا نہیں؟
الجواب: مقتدی و امام سب کی نماز ہوگئی مقتدی لقمہ دے سکتا ہے اگر چہ امام سَو آیتیں پڑھ چکا ہو یہی صحیح ہے،امام نے جس خیال پر نمازِ مقتدی باطل مانی امام کی خود کب ہوئی، اگر وہ خیال صحیح ہو تو امام کی بھی باطل ہوئی کہ لقمہ دینا کلام ہے اور وہ باجازتِ شرع رکھا گیا ، اگر تین آیتوں کے بعد اجازت ِشرع نہ تھی تو مقتدی کی نماز گئی اور اس کے لقمہ دینے سے امام کو یاد آگیا تو اس نے خارج از نماز سے تعلیم پاکر آیت پڑھی اور شروع سورت سے اعادہ کرنا اس یاد دہانی کو باطل نہیں کرسکتا توامام کی اپنی بھی گئی اور اس کے سبب سے سب کی گئی ۔رہا یہ کہ صرف اس مقتدی کی نماز باطل ہوئی امام و جماعت کی ہوگئی یہ محض باطل ہے اور صحیح وہ ہے کہ سب کی ہوگئی۔
دُرمختار میں ہے:
فتحہ علی امامہ فانہ لا یفسد مطلقا لفاتح واٰخذ بکل حال الا اذا سمعہ الموتم من غیر مصل ففتح بہ تفسد صلاۃ الکل۱؎۔
 (۱؎ دُرمختار        باب ما یفسد الصلٰوۃ الخ        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۹۰)
مقتدی کا اپنے امام کو لقمہ دینا نماز کے لئے مطلقاً ہر حال میں فاسد نماز نہیں ہوتا ،مطلقاً کا مطلب یہ ہے کہ نہ لقمہ دینے والے کی نماز ٹوٹتی ہے اور نہ لینے والے کی اور ہر حال میں اسکا مطلب یہ ہے کہ برابر ہے امام اس قدر بڑھ چکا ہو جس سے نماز درست ہوتی ہے یا نہ پڑھ چکا ہوالبتّہ اس صورت میں تمام کی نماز فاسد ہوجائے گی جب مقتدی نے کسی غیر نمازی سے سنا اور اپنے امام کو لقمہ دے دیا اور امام نے لے لیا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ بکل حال ای سواء قرأ الامام ما تجوز  بہ الصلاۃ ام لا انتقل الی اٰیۃ اخری ام لا تکرر الفتح ام لا ھو الاصح نھر، قولہ الا اذا سمعہ المؤتم الخ فی البحرعن القنیۃ یحب ان تبطل صلاۃ الکل لان التلقین من خارج اھ واقرہ فی النھر ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ ردالمحتار        باب مایفسد الصلٰوۃ الخ                مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/۴۶۰)
مصنف کے قول ''بکل حال''سے مراد یہ ہے کہ خواہ امام نے اتنی قرأت کر لی ہو جس سے نماز ہوجاتی ہے یا نہ کی ہو ،وہ کسی دوسری آیت کی طرف منتقل ہوگیا یا نہ،خواہ لقمہ بار بار دیا گیا ہو یا نہ، اصح یہی ہے نھر۔ اس کا قول الا اذاسمعتہ المؤتم الخبحر میں قنیہ سے ہے کہ تمام کی نماز باطل ہوجانا ضروری ہے کیونکہ اس صورت میں خارج نماز شخص سے تلقین پائی گئی، اور اسے نھر میں چابت رکھا گیا ،واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ نمبر ۵۱۲: از ضلع سیونی چھپرہ محلہ قاضی قریب مسجد حنفیہ مرسلہ ظہور الحسن طالب علم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ تجوید سے پڑھنا فرض ہے کیونکہ قرآن کاصحیح طور سے پڑھنا فرض ہے ،تو صحیح پڑھنا بغیر تجوید کے آہی نہیں سکتا تو اس وجہ سے تجوید بھی فرض ہے بتائیے کہ کون حق پر ہے ؟ فقط محمد ظہور الحسن طالب علم
الجواب: بلاشبہ اتنی تجوید جس سے تصحیح حرف ہوا ور غلط خوانی سے بچے فرض عین ہے،بزازیہ وغیرہ مین ہے
اللحن حرام بلا خلاف ۲؎
 (لحن بلا خلاف حرام ہے ۔ت) جو اسے بدعت کہتا ہے اگر جاہل ہے اسے سمجھا دیا جائے ،اور دانستہ کہتا ہے تو کفر ہے فرض کو بدعت کہتا ہے ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ     بحوالہ بزایۃ    الباب الرابع فی الصلٰوۃ والتسبیح و قرأۃ القرآن الخ      مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/۳۱۷)
مسئلہ نمبر ۵۱۳: جو شخص حافظ ہو قاری نہ ہو اعراب میں غلطی کرتا ہو یعنی زیر کا زبر جےسے غیر المغضوب کے غ پر  زیر  پڑھتا ہو اور  ایّاک کے کاف پر زیر پڑھتا ہو نماز مکروہ تحریمی ہو سکتی ہے یا نہیں اور معنی بدلتے ہیں یا نہیں اور داڑھی بھی کترواتا ہے۔ اور مغرور و متکبّرجو جس ہوا پر کھڑا زیر جیسے ربّہٖ اس کو آیت پر وقف آجانے پر وقف کے وقت ربّہ پڑھے یا ربّہٖ۔
الجواب: ایّاک نعبد وایّاک نستعین میں اگر کاف کو زیر پڑھے گا معنی فاسد ہوں گے اور نماز باطل ،غیرالمغضوب کے غ کو لوگ زیر پڑھتے بلکہ صحیح ادا پر قادر نہ ہونے کے سبب بُوئے کسرہ پیدا ہوتی ہے اور یہ مفسد ِنما ز نہیں ،داڑھی کتروانے والے کو امام بنانا گناہ ہے اوراس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ،اور مغرور متکبر اس سے بھی بد تر جبکہ وہ علی الاعلان تکبّر سے معروف و مشہور ہو۔ وقف کی حالت میں ربّہ پڑھا جائے گا اور ربّہٖ کوئی چیز نہیں ،اور  ربّہ میں سنّت یہ ہے کہ محض کسرہ نہ ہو بلکہ خفیف بوئے یا پیدا ہو نہ یہ کہ بالکل ہی اس کا فرق ادا زبان سے سُن کر معلوم ہوسکتا ہے تحریر میں آنے کا نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۱۴-۵۱۵: از شہر مسئولہ     احسان علی طالب علم     مدرسہ منظر الاسلام    ۵ شوال ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ پارہ دوم ۲ نواں رکوع تیسری آیت یعنی کانَ النَّاسُ امّۃً وَّاحدۃً کو باظہار تنوین پڑھنا چاہئے یاوقف کے ساتھ یعنی واحدۃً یا واحدہ    

(۲) اوّل رکعت میں ایک بڑی آیت اور دوسری رکعت میں دو تین چار چھوٹی آیتیں پڑھ سکتے ہیں یا نہیں جیسے آیت مذکور کو پُوری اوّل رکعت میں پڑھا اور دوسرے میں ام حسبتم ان تد خلوا الجنّۃسے دو ۲ آیتیں وما تفعلوامن خیر فان اﷲ بہ علیم تک ،تو جائز ہے یا نہیں۔بینوا تو جروا
الجواب: دونوں صورتیں جائز ہیں یہاں علامت قف ہے اور وصل اولٰی ہے۔

(۲) بے شک جائز بلا کراہت ہے اور یہ صورت خاصہ ان خاص آیتوں سے کہ سورۃ میں لکھی عین عدل ہے کہ یہ دو۲ آیتیں اُس آیت کے تقریباً بلکل مساوی ہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر۵۱۶: از شہربریلی مدرسہ منظرالاسلام مولوی احسان علی صاحب     ۱۱ شوال ۱۳۳۷ھ: کیا فرماتی ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آیت ما یجوز بہ صلٰوۃ کتنی مقدار ہے؟
الجواب: وُہ آیت کہ چھ حرف سے کم نہ ہو اور بہت نے اُس کے ساتھ یہ بھی شرط لگائی کہ صرف ایک کلمہ کی نہ ہو تو ان کے نزدیک مُدھَامّتٰناگرچہ پُوری آیت اور چھ ۶ حرف سے زائد ہے جوازِ نماز کو کافی نہیں ،اسی کو منیہ وظہیریہ وسراج وہاج و فتح القدیر و بحرالرائق و درمختار وغیرہا میں اصح کہا اور امام اجل اسبیحابی وامام مالک العلماء ابو بکر مسعود کاشانی نے فرمایا کہ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک صرف مدھامّتٰن سے بھی نمازجائز ہے اور اس میں اصلاً ذکر خلاف نہ فرمایا دُرمختار میں ہے:
اقلھا ستۃ احرف ولو تقدیر اکلم یلد الا اذاکانت کلمۃ فالاصح عدم الصحۃ ۱؎۔
اس آیت کے کم از کم چھ حروف ہوں اگر چہ وُہ لفظاً نہ ہوں بلکہ تقدیراً ہوں مثلاًلم یلد(کہ اصل میں لم یولد تھا) مگر اس صورت میں کہ جب وُہ آیت صرف ایک کلمہ پر مشتمل ہو تو اصح عدمِ صحتِ نماز ہے(ت)
 (۱؎ درمختار            فصل ویجہر الامام        مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۸۰)
Flag Counter