| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ) |
مسئلہ نمبر ۵۰۶ : ازبریلی مرسلہ حضرت محمد میاں صاحب مد ظلہ العالی یہ ارشاد فرمائیں کہ قرآن کریم کی اس قدر تجوید کہ حرف اپنے غیر سے ممتا ز رہے فرض عین ہے کتب فقہ میں مذکور ہے اگر ہے تو کس کتاب میں کس جگہ ؟ جناب کی نظر میں اس بارہ میں صرع تصریح کس کتاب کی ہے؟ اوراگر کوئی حدیث اس بارہ میں اس وقت پیشِ نظر ہو تو اُس کا ارشاد ہو۔
الجواب: تمام کتابوں مین تصریح ہے کہ ایک حرف کی جگہ دوسرے سے تبدیل اگر عجزاً ہو تو مذہب صحیح و معتمد میں اور خطئًا ہو تو ہمارے ائمہ مذہب کے نزدیک مفسد نماز ہے جبکہ مفسد معنی ہو یا امام ابی یوسف کے نزدیک جبکہ وُہ کلمہ قرآن کریم میں نہ ہو اور اس سے بچنا بے تعلم تمایز حروف ناممکن اور فساد نماز سے بچنا فرض عین ہے۔قال اﷲ تعالٰی
ولا تبطلو اعمالکم ۱؎
(اﷲتعالٰی کا فرمان ہے تم اپنے اعما ل باطل نہ کور۔ت)
(۱؎ القرآن ۴۷/۳۳)
مقدمہ امام جزری میں ہے :
اذواجب علیھم محتم قبل الشروع اوّلا ان یعلموا مخارج الحروف والصفات، لینطقوا بافصح اللغات ۲؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
قرآن پاک میں شروع ہونے سے پہلے اوّلا قاریان قرآن پر حروف کے مخارج و صفات (ذاتیہ و عرضیہ) کا جاننا قطعاً ضروری ہے تاکہ قاریان قرآن صحیح ترین لغات کے ساتھ قرآن پاک کا نطق کرسکیں (یعنی پڑھ سکیں)۔(ت)
(۲؎ مقد مہ جزریہ خطبۃ الکتاب مطبوعہ سعیدیہ کتب خانہ قصہ خوانی بازار پشاور ص ۴)
مسئلہ نمبر ۵۰۷: ازماہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ درگاہ شریف مرسلہ صاحبزادہ حضرت سیّد شاہ محمد میاں صاحب دامت برکاتہم والا نامہ میں متعلق تجویدارشاد جناب ہے دو ایک حرف کہ دوسرے سے تبدیل اگر عجزاً ہو تو مذہب صحیح و معتمد میں مفسد نماز ہے جبکہ مفسد معنی ہو یا امام ابی یوسف کے الخ مجھے اس میں تامل ہے کہ الثغ کی نماز صحیح ہے جبکہ وہ اپنی سعی و کوشش اور صحیح حروف نکالنے میں کوتاہی نہ کرتا ہو اس کوشش کے بعد کوئی تقیید مفسد معنی یا غیر مفسد معنی کی خود جناب نے بھی اپنے اصلاح رسالہ مباحث امامت میں نہیں زائد فرمائی۔
الجواب: الثغ کی نماز جبھی تو صحیح ہے کہ وہ تصحیح حرف میں کوشش کئے جائے یہ بھی بے تعلیم صحیح ناممکن ،یہی تعلیم تجوید ہے تو اس کی فرضیت قطاً ثابت، اگر صحیح کو نہ سیکھے یا سیکھے اور اس کے ادا کرنے کی کوشش نہ کرے تو نماز ضرور باطل ہوگی تو علم و عمل دونوں فرض ہوئے ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۰۸: از اردہ نگلہ ڈاکخانہ اچھیزہ ضلع آگرہ حرف ضاد کو بصورتِ دواد یعنی دال پر پڑھتے ہیں یہ صحیح ہے یا غلط؟ اگر غلط ہے تو نماز فاسد ہوتی ہے یا نہیں ؟ اور اکثر لوگ ض اور ظ میں بسبب ہونے مشابہت کے فرق نہیں کرسکتے ان کی نماز درست ہوتی ہے یا نہیں؟
الجواب: یہ حرف نہ د ہے نہ ظ صورتیں تین ہیں : (۱) قصداً حرف منزّل من اﷲ کی تبدیل کرے یہ دواد والوں میں نہیں وُہ اپنے نزدیک ضاد ہی پڑھتے ہیں نہ یہ کہ اس سے ہٹ کر دال مفخم اُس کی جگہ بالقصد قائم کرتے ہیں البتہ ظا والوں میں ایسا ہے ان کے بعض نے تصریحاً لکھ دیا کہ ض کی جگہ ظ پڑھو اور سب مسلمانوں اس پر عمل پیرا ہوجاؤ یہ حرام قطعی ہے اور اشد اخبث کبیرہ بلکہ امام اجل ابوبکر فضلی وغیرہ اکابر ائمہ کی تصریح سے کفر ہے
کما فی منح الروض الازھر والفتاوی عالمگیریۃ وغیرھما
(جیسا کہ منح الروض الازہر ،فتاوٰی عالمگیری اور دیگر کتب میں ہے۔ت) ان کی نماز پہلی ہی بار مغظوب پڑھتے ہی ہمیشہ باطل ہے۔ (۲) خطئًا تبدیل ہو یعنی ادائے ض پر قادر ہے اُسی کا قصد کیا اور زبان بہک کر دال یا ظ ادا ہوئی اس میں متاخرین کے اقوال کثیرہ و مضطرب ہیں اور ہمارے امام مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا یہ مذہب ہے اگر فساد معنی ہو تو نماز فاسد ورنہ صحیح۔ (۳) یہ کہ عجزاً تبدیل یعنی قصد توض کا کرتا ہے مگر ادا نہیں کر سکا د یا ظ ادا ہوتی ہے اور ہندوستان میں اکثر دُواد والے ایسے ہی ہیں ان پر فرض عین ہے کہ ض کا مخرج اور اسکا طریقہ ادا سیکھیں اور شبانہ روز حد درجے کی کوشش اُس کی تصحیح میں کریں جب تک کوشاں رہیں گے اُن کی نماز صحیح کہی جائے گی، جبکہ صحیح خواں کے پیچھے اقتداء پر قادر نہ ہوں اُن کی اپنی بھی باطل اوران کے پیچھے اوروں کی بھی باطل ،یہی حکم ظائیوں کا ہے جبکہ قصداً تبدیل نہ کرتے ہوں یہ خلاصہ حکم ہے اور تفصیل ہمارے رسالہ الجام الصاد عن سنن الضادمیں ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۰۹: از جڑودہ ضلع میرٹھ مرسلہ سیّد صابر جیلانی صاحب کیا سورہ تبّت کانماز میں پڑھنا بہتر ہے؟
الجواب: سورہ تبّت کے پڑھنے میں استغفراﷲ اصلاً کوئی حرج نہیں۔
مسئلہ نمبر ۵۱۰: از شہر بریلی محلہ سودگران مدرسہ منظرالاسلام مولوی محمد افضل صاحب۶ جمادی الاخری ۱۳۳۷ھ چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ در لَمَا یتفجر منہ الانھٰرخواندہ شد لمّا نماز شدبغیر کراہت یا نہ ؟
اس مسئلہ میں علمائے دین کی کیا رائے ہے کہ ایک شخص نے لما یَتَفَجَّرُ مَنْہُ الْاَنْھٰرمیں لَمَّاشد کے ساتھ پڑھا نماز بغیر کراہت کے درست ہوگی یا نہیں؟
الجواب : نماز درست باشد وبحال سہو وزلت کراہت نیست وحذف جزا برائے دلالت برعظمت شانش شائع است قال اﷲ تعالٰی
فلما اسلما وتلہ للجبین واندینٰہ ان یا ابراھیم۱؎
جزاذکر نفر مود ہمچناں ایں جا تاویل شود کہ وان منھا مایکون منہ شیئ عجیب لمّا یتفجّر منہ الانھٰربالجملہ دریں صورت فساد معنی نیست۔واﷲ تعالٰی اعلم
نماز درست ہوگی ،بھُول اور پھسل جانے کی صورت میں کراہت نہیں ، اس کی عظمت ِشان کے پیشِ نظر جزا کا حذف مشہور و معروف ہے، اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے فَلَمَّااَسْلَمَا وَتَلَّہ، لِلْجَبِیْنِ وَنَادَیْنٰہُ اَنْ یَّا اِبْرَاھِیْم یہاں جزا کو ذکر نہیں فرمایا اسی طرح مذکورہ مقام میں تاویل ہوسکتی ہے کہ ان میں بعض وہ ہیں جس سے شیئ عجیب صادر ہوتی ہے کہ جب وہ پھٹتے ہیں تو اس سے نہریں جاری ہوتی ہیں ،الغرض اس صورت میں فساد معنی نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ القرآن ۳۷/۱۰۳)