| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ) |
مسئلہ نمبر ۵۰۰: ازبنارس تھانہ بہلولپورہ محلہ احاطہ روہیلہ مرسلہ عبدالرحمٰن رفو گر ۲۸ محرم ۱۳۳۲ھ حضرت کی خدمت میں یہ عرض ہے کہ اذاجائکے آخرمیں جو پڑھا کرتے ہیںانہ کان تواباکے پاس پڑھا کرتے تھے مولٰینا امجد علی صاحب تو وہ ذرا سا لکھ دیجئے گا،فقط۔
الجواب: مستحب طریقہ یہ ہے کہ آخر سورہ میں اگر نامِ الہی جیسے سورہ اذاجاء میں انہ کان تواباتو اس پر وقف نہ کرے بلکہ رکوع کی تکبیر اﷲ اکبرکا ہمزہ وصل گرا کر اس سورہ کا آخری حرف لام اﷲ سے ملادے جیسے اذاجاءمیں توابانِ اﷲ اکبر،ب قیام کی حالت میں اور دونوں لام سے ملتا ہوا رکوع کے لئے جھُکنے کی حالت میں اس طرح کہ رکوع پورا نہ ہونے تک اکبر کی رختم ہوجائے یونہی سورہ والتین میں احکم الحاکمین کے ن کو زَبر دے کر اﷲ اکبرکے ل میں ملادے ، اور جس سورہ کے آخر میں نامِ الہی نہ ہو اور کوئی لفظ نامِ الہی کے مناسب بھی نہ ہو وہاں یکساں ہے چاہے وصل کرے یا وقف ،جیسے الم نشرح میں فارغب اﷲ اکبراور جہاں کوئی لفظ اسمِ الہی کے نامناسب ہو جیسے سورہ کوثر کے آخر میں ھوالابتروہاں فصل ہی چاہئے وصل نہ چاہئے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر۵۰۱: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ صبح کی نماز طلوع آفتاب سے کس قدر پہلے ہونا چاہئے اور کتنی آیتیں پڑھنا چاہئے اور اگر کوئی خرابی نماز میں ہوجائے تو کیا اسی آیت کو جو کہ پہلے پڑھی گئی اُس کی مقدار پڑھنا چاہئے یا کم ، بینوا تو جروا۔
الجواب: نماز صبح میں بحال گنجائش وقت و عدمِ عذر چالیس سے ساٹھ تک آیت پڑھنا چاہئے اور طلوع آفتاب سے اتنے پہلے ختم ہوجانا چاہئے کہ اگر نماز میں کوئی خرابی ظاہر ہو تو چالیس آیتوں سے قبل طلوع اعادہ ہوسکے اوراس کے لئے دس منٹ کافی ہیں اور اگر وقت کم رہ گیا اور خرابی ظاہر ہوئی تو بقدر گنجائش وقت آیات پڑھے اگر چہ سورہ کوثر و اخلاص ہو،واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۰۲: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے نماز پڑھائی والعصر ان الانسان لفی خسر الا الذینمیںالّاپڑھ کر وقف کیا پھر الا الذین اٰمنوسے آخر تک ختم کیا نماز درست ہے یا نہیں وقیل من (سکتہ) راق وظن انہ الفراق میں سکتہ کیسا ہے اور لفظ من کے نون کو راق کی رامیں ادغام نہ کرنا کیسا ہے؟
الجواب: نماز ہوگئی ہر آیت پر وقف جائز ہے اگر چہ آیت لاہو ہماری یعنی امام حفص کی قرأت میں نون پر سکتہ ہے کہ ادغام سے کلمہ واحدہ نہ مفہوم ہو۔ مراق بر وز ن براق اور تمام باقی قرأ ادغام کرتے ہیں ،تو دونوں ہیں مگر یہاں عوام کے سامنے ادغام نہ کرے کہ وہ معترض نہ ہوں ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۰۳:از موضع گھورنی ڈڈاکخانہ کرشن گڑھ ضلع انڈیا ۶جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ ض را مشابہ صوت ظ مجمعہ باید خواند یا مماثل صوت دال مہملہ ،و ہر کہ دال محض خواند نمازش روابود یا نہ ودریں ملک را تقریباً ہمہ خواص و عوام مشابہ دال می خوانند و خوائند ہ ض مشابہ ظ از بس قلیل بینوا تو جروا۔
ض کو ظاء معجمہ کی آواز یا دال مہملہ کی آواز کے مشابہ پڑھنا چاہئے اور جو اسے محض دال پڑھے اس کی نماز درست ہوگی یا نہ؟ ہمارے ملک میں تقریباً تما م خواص و عوام اسے دال سے مشابہ پڑھتے ہیں ظاء کے مشابہ بہت قلیل لوگ پڑھتے ہیں جواب دے کر اجر پاؤ۔(ت)
الجواب: صوت ایں حرف را خالق عزوجل از ہمہ حروف جدا آفریدہ است حقیقۃ ہیچ حرف مشابہ با ونیست فرض قطعی آنست کہ مخرجش آموز وطرز ادایش یا دگیردو قصد حرف منزل من اﷲ کند واز پیش خویش نہ ظا خواند نہ دال کہ ہر دومباین اوست و شبانہ روز سعی موفور بجائے آورد تا آنکہ می کو شد چہ برآید روا باشد لا یکلف اﷲ نفساً الا وسعھا ۱؎فامااگر برصحیح قادر نہ شود امامت صحیح نتواں کرد درفتاوٰی خیریہ است امامۃ الثغ با تفصیح فاسدہ فی الراجح الصحیح۲؎ وبراد فرض باشد کہ تاپس صحیح خواند نماز تواں یافت تنہا نہ گزارد کہ دراقتدا ازقرأت بے نیاز باشد وآنکہ مخرج نیا موخت یا درصحیح او سعی نہ کرد اگر از زبالش ظا یا دال ادا شود ہرچہ بافساد معنی شود نماز فاسد شود ورنہ نے واگر بہر دو فساد نعنی رونماید چنانکہ مغظوب و مغذوب بہر دوفاسد شودایں ہم آنگاہ ہست کہ قصد حرف منزل من اﷲ کند وزبان یادری نہ دہد ظا یا دال اداشود چنانکہ صورت اخیرہ درعوام ہند و بنگالہ است واگربالقصد بجائے او حرفے دیگر نشاندن خواہد حکم او سخت تر شود زیرا کہ تبدیل کلام اﷲ میکند چنانکہ بعض نامقلدان تصریح کردہ اند کہ ضادنتواں ظا خواند امام اجل ابوبکرمحمد بن الفضل رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ دریں صورت حکم کفر فرمودہ است کما فی منح الروض الازہر ومارادریں مسئلہ رسالہ ایست مختصرہ جامعہ الجام الصاد عن سنن الضاد آنجا ایں را رنگ تفصیل دادہ ایم وباﷲ التوفیق واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی نے اس حرف کی ادائیگی اور آواز کو دوسرے تمام حروف سے جُدا پیدا فرمایا ہے حقیقی طور پر کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں اس لئے فرض قطی یہ ہے کہ اس کا مخرج سیکھا(جانا) جائے ،اس کی ادائیگی کا طریقہ یاد کیا جائے اور اس حرف کا ارادہ کیا جائے جو اﷲ کی طرف سے نازل ہے ، اپنی طرف سے نہ اسے ظا پڑھا جائے اور نہ ہی دال ،کیونکہ یہ دونوں اس کے مخالف ہیں شبانہ روز کی محنت و کوشش کے بعد جو پڑھا جاسکے وہ درست ہوگا کیونکہ اﷲ تعالٰی کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگراس کی طاقت بھر ۔اگر حرف کی صحیح ادائیگی پر قادر نہ ہوا تو اس کو امامت کرانا درست نہیں ، فتاوٰی خیریہ میں ہے کہ توتلے کا فصیح کی امامت کرنا راجح اور صحیح مذہب میں فاسد ہے اور ایسے شخص پر فرض ہے کہ وہ کسی صحیح کی اقتداء میں نماز ادا کرے اگر اقتداء ممکن ہو تنہا نہ پڑھے کیونکہ اقتداء کی صورت میں وہ قرأت سے بے نیاز ہوجائے گا ،اور وہ شخص جس نے ض کا مخرج نہ سیکھا یا اس کی صحت کے لئے کوشش نہ کی ہو اگر اس کی زبان سے ضاد کی جگہ ظا یا دال ادا ہو جس کے ساتھ فسادِ معنی ہوگا اس سے نماز بھی فاسد گی اور جس کے ساتھ فساد معنٰی نہ ہوگا تو اس سے نماز ہوجائیگی اور اگر دونوں صورتوں میں فساد معنی ہو مثلاً مغظوب اور مغدوب تو دونوں صورتوں میں نماز فاسد ہوگی۔یہ تمام اس وقت ہے جب اس سے قصد اسی حرف کا ہو جو اﷲ تعالٰی کی طرف سے نازل کردہ ہے مگر زبان معاون نہ بنی اورظا یا دال ادا ہوگیا جیسے کہ عوام اہل ہند و بنگالہ کا معاملہ آخری صورت میں اسی طرح ہے اور اگر قصداً اس کی جگہ کوئی دوسرا حرف پڑھا تو ا سکا حکم شدید ترین ہوگا کیونکہ یہ توا ﷲ تعالٰی کے کلام میں تبدیلی کرنا ہے جیسا کہ بعض غیر مقلدین نے تصریح کی کہ ضاد کو نہ پڑھا جاسکے تو ظاء پڑھے۔امام ابوبکر محمد بن فضل رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے مذکورہ صورت میں کفر کا حکم جاری فرمایا ہے جیسا کہ منح الراض الازہر میں موجود ہے،ہم نے اس موضوع پر ایک مختصر مگر جامع رسالہ لکھا ہے جس کا نام الجامع الصاد عن سنن الضاد رکھا ہے۔اس مسئلہ کی تفصیل وہاں خوب کی ہے وباﷲ التوفیق واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ القرآن ۲/۲۸۶) (۲؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/۱۰)
مسئلہ نمبر ۵۰۴: از رادھن پور گجرات قریب احمد آباد مرسلہ حکیم محمد میاں صاحب ۱۷ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ جمعہ کی اذان کے بعد بہت آدمی مسجد میں جمع ہو کر سورہ کہف پڑھتے ہیں بلند آواز سے اور بغیر پڑھے جو لوگ ہیں یعنی اَن پڑھ نمازی بھی ہوتے ہیں جن کو کلام مجید پڑھنا ہی نہیں آتا وہ نمازی سورہ کہف شوق سے سنتے ہیں اور بعض نمازی جو دیر سے آتے وہ نفل پڑھ کر سنتے ہیں نفل پڑھنے والے کہتے ہیں سورہ کہف بلند آواز سے مت پڑھو ہمارے نفل میں خرابی آتی ہے نفل کا ثواب زیادہ ہے یا سورہ کہف پڑھنے کا ، بعد ختم سورہ کہف کے تمام نمازی سنتیں پڑھتے ہیں مولوی مذکور فرماتے ہیں زور سے ہر گز مت پڑھو نفل نماز میں خرابی آتی ہے آیا سورہ کہف کو بلند آواز پڑھیں یا نہیں یا نفل نماز چھوڑ دیں؟
(۱؎ القرآن ۷/۲۰۴)
مسئلہ نمبر ۵۰۵:از کھنوڑہ ڈاکخانہ خاص ضلع ہوشیار پور مرسلہ امجد علی خان صاحب معرفت مولوی شفیع احمد صاحب متعلم مدرسہ اہلسنّت ۱۲ جمادی االاخری ۱۳۳۶ھ زید کہتا ہے کہ مخارج حروف معلوم کرنا اور ان سے حروف نکالنا فرض ہے ہاں باوجود کوشش کے اگرما ینبغی ادا نہ ہوئے تو اس قدر میں معذور رہے گا اور اگر مخارج ہی نہیں معلوم یا معلوم ہیں نکالتا نہیں تو نماز ہر گز نہ ہوگی اگر صحیح ہے تو اکثر مسلمان فرض کو چھوڑدیں یا کسی حرام کے مرتکب ہوں تو اس فعل سے ساقط یاحلال نہ ہوجائے گا یوں تو اکثر مسلمان نماز ہی نہیں پڑھتے اورجو پڑھتے ہیں اُن میں اکثر مواضبت نہیں کرتے سَو میں ننانوے۹۹ یا اس کے قریب غیبت سے پر ہیز نہیں کرتے تو قول زید صحیح ہے یا نہیں؟
الجواب: زید کے ا قوال مذکورہ سب صحیح ہیں سوائے اتنے لفظ کے کہ اگر مخارج معلوم نہیں تو نماز صحیح نہ ہوگی مخارج معلوم ہونا ضرور نہیں حروف صحیح ادا ہونا ضرور ہے بہتیرے ہیں کہ سُن سُن کر صحیح پڑھتے ہیں اگر اُن سے پوچھا جائے تو مخارج بتا نہیں سکتے اردو زبان والا ہر جاہل اپنی زبان کے حروف ٹھیک ادا کرتا ہے اور مخارج نہیں بتا سکتا ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔