مسئلہ نمبر ۴۹۵ : الحمد شریف قرآن شریف سے ہے نماز میں کیوں واجب کی گئی؟ اور سورت کا ملانا کیوں فرض رکھا گیا؟اور اگر مصلّی الحمد بھُول جائے تو اس پر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے اور آیتیں پڑھنا بھُول جائے تو نماز جاتی رہتی ہے ا ُس کے بدلے سجدہ سہو نہیں رکھا گیا اس کی کیا وجہ ہے اور الحمد واجب ٹھہری اور مقتدی پیچھے امام کے الحمد نہیں پڑھتا ہے اورالحمد کے نہ پڑھنے سے سجدہ سہو لازم آتا ہے تواُ س مقتدی کی نماز بغیر سجدہ سہو کئے ہوئے کیونکر صحیح ہوجاتی ہے؟ بینوا توجروا
الجواب: سورۃ ملانا بھی فرض نہیں ، نہ اس کے ترک سے نماز جائے وہ بھی مثل فاتحہ واجب ہی ہے اور اس کے ترک کی بھی سجدہ سہو سے اصلاح ہوجاتی ہے جبکہ بھُول کر ہو ،یہی حال فاتحہ کا ہے ،تو یہ مسئلہ ہی سائل کو غلط معلوم ہے جس کی بنا پر طالب فرق ہے، فرض صرف ایک آیت کی تلاوت ہے سورہ فاتحہ سے ہو یا کسی سورت سے۔
قال اﷲ تعالٰی
فاقرأواماتیسر من القراٰن ۱؎۔
اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے جو آسان ہو وہ پڑھو۔(ت)
(۱؎ القرآن ۷۳/۲۰)
سورہ فاتحہ اور فرضوں کی پہلے دو۲ رکعتوں میں ضم سورت کا وجوب سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی مواظبت اور بعض احادیث احاد قولیہ سے ثابت ہُوا یہ وجوب ہمارے ائمہ کے نزدیک صرف امام و منفرد پر ہے مقتدی پر نہیں تو لزوم سجدہ کی کوئی وجہ نہیں نہ ترک قصدی میں نہ سہو مقتدی سے اُس پر سجدہ لازم آئے گا اگر چہ دس واجب ترک ہوں، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۹۶ : ۲۶ صفر ۱۳۱۷ھ
امام نے جمعہ میں ایک آیت پڑھی بسبب بھول جانے کے اُس کو دوسری بار پڑھ کر دوسری آیتوں کی طرف منتقل کیا ایسی صورت میں نماز مکروہ تحریمی یا تنزیہی یا جائز بلاکراہت یا سجدہ لازم ہے یا نہیں ؟ بینوا تو جروا
الجواب : جبکہ بمجبوری سہو تھا کچھ کراہت نہیں اور اگر آیت کے یاد کرنے میں بقدرر کن ساکت نہ رہا تو سجدہ سہو بھی نہیں ورنہ سجدہ لازم ہے۔
کما فی الدرالمختار۲؎
(جیسا کہ دُرمختار میں ہے ۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎ درمختار باب السجود سہو مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۱۰۲)
مسئلہ نمبر ۴۹۷: کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ نماز میںمثل سورہ والّیل کے درمیان چھوڑ کر پڑھنا اگر چہ سہواً ہو کیسا ہے مثلاً رکعت اولٰی میں والشمس اور رکعت ثانیہ والضحٰی پڑھے ۔
الجواب : فرضوں میں قصداً چھوٹی سورت بیچ میں چھوڑدینا مکروہ ہے اور سہواً اصلاً کراہت نہیں والّیل والشمس سے پانچ آیت زائد ہے ایسی صورت میں کراہت نہیں،
فی الدرالمختار یکرہ الفصل بسورۃ قصیرۃ اھ۳؎اھ۔
در مختار میں ہے کہ چھوٹی سورت کے ساتھ فاصلہ(چھوڑ دینا ) مکروہ ہے اھ۔
(۳؎ درمختار فصل ویجہر الامام مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۸۱)
فی ردالمحتار اما بسورۃ طویلۃ بحیث یلزم منہ اطالۃ الرکعۃ الثانیۃ فلا یکرہ شرح المنیۃ ۱؎ الخ ۔
ردالمحتار میں ہے کہ اگر وہ چھوڑی جانے والی سورت اتنی بڑی ہے کہ اس سے دوسری رکعت کا پہلی رکعت سے نہایت ہی طویل ہونا لازم آتا ہو تو پھر مکروہ نہیں شرح المنیۃ الخ ۔
(۱؎ ردالمحتار ، فصل ویجہر الامام مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۰۴)
فی الدر اطالۃ الثانیۃ علی الاولی یکرہ تنزیھا اجماعا ان بثلث اٰیات ان تقاربت طولا وقصرا والا اعتبر الحروف الکلمات واعتبر الحلبی فحش الطول لاعدد الایات ،واستثنی فی البحر ماوردت بہ سنۃ واستظھرفی النفل عدم الکراھۃ مطلقا وان باقل لایکرہ لانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصلی بالمعوذتین۲؎ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
درمختار میں دوسری رکعت کو پہلی پر تین آیتوں کی مقدار لمبا کرنا بالاجماع مکروہ تنزیہی ہے اگر دونوں رکعتوں کی آیتیں بڑی اور چھوٹی ہونے میں قریب قریب ہوں اگر آیتیں ایک سی نہ ہوں تو حروف اور کلمات کا اعتبار ہوگا ۔اورحلبی نے فحشِ طول کا اعتبار کیا ہے نہ کہ آیتوں کے شمار کا ۔اور بحرالرائق میں ان سورتوں کو مستثنٰی کہا ہے جن کے متعلق حدیث وا رد ہے(یعنی ان کے پڑھنے میں کراہت نہیںہے)اور نفلوں میں مطلقاً (یعنی اس کے متعلق حدیث وارد ہو یا نہ ہو) عدمِ کراہت کو ترجیح ہے اگر دوسری رکعت کی زیادتی تین آیات سے کم ہو تو مکروہ نہیں، کیونکہ سرکار دوعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے معوذتین سے فجر کی نماز پڑھائی ہے واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (ت)
(۲؎ درمختار فصل ویجہر الامام مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۸۰)
مسئلہ نمبر ۴۹۸: اس میں کیا حکمت ہے کہ فرضوں کی دو کعت خالی اور دورکعت بھری پڑھی جاتی ہیں اور سنّت اور نفلوں میں قرأت لازم ہو کر چاروں بھری ہوگئیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم
الجواب: نماز میں صرف دو ہی رکعت میں تلاوتِ قرآن مجید ضرور ہے سنّت و نفل کی ہر دورکعت نماز جداگانہ ہے لہذاہر دورکعت میں قرأت لازم ہو کر چاروں بھری ہو گئیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۹۹: زید نے اوّل وقت نماز پڑھی اور بعد فراغ سنن مغرب سے دورکعت نفل جماعت سے بالجہر سوا پارے سے پڑھے پھراُس کے متصل نمازِ عشاء کا وقت آیا یہ دونوں نفل جو ما بین عشاء و مغرب باجماعت جہر سے پڑھے جائز ہیں یا نہیں؟
الجواب: اگر اس جماعت نفل میں صرف دو یا زیادہ سے زیادہ تین مقتدی تھے اور ان میں کسی پر اتنی قرأت طویل گراں تکلیف دہ نہ تھی تو یہ جماعت و قرأت جائز بلامنع وکراہت ہوئی ورنہ مکروہ و ممنوع ،
بحرالرائق میں ہے:
قال شمس الائمۃ الحلوائی ان کان سوی الامام ثلثۃ لایکرہ بالاتفاق وفی الاربع اختلف المشائخ والاصح انہ یکرہ اھ ھکذا فی شرح المنیۃ ۱؎۔
امام شمس الائمہ حلوائی فرماتے ہیں جماعت نفل میں اگر امام کے علاوہ تین افراد ہوں تو بالاتفاق کراہت نہیں ،چار میں مشائخ کا اختلاف ہے، اصح یہی ہے کہ مکروہ ہے اھ شرح المنیہ میں اسی طرح ہے۔(ت)
ظاہر یہی ہے کہ نماز میں طوالت مکروہ تحریمی ہے کیونکہ تخفیف کے لئے امروارد ہے جو سوائے صارف کے اور اس لئے کہ یہاں غیر کو نقصان ہوتا ہے اھ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)