Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
78 - 185
مسئلہ نمبر ۴۸۲تا ۴۸۷:     ۱۰ جمادی الاولٰی ۱۳۱۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:

۱۔ اﷲ کے الف کو حذف کرکے پڑھے تو جائز ہے یا نہیں؟

۲۔ الف کے لام کو پُر کرنا سنّت ہے یا نہیں؟

۳۔ الف اﷲ کو تکبیرات میں کچھ دراز کرکے پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

۴۔ قعدہ اولٰی میں شک ہُوا مگر یقین نہیں اور سجدہ سہو کا کیاتو نماز جائز یا نہیں؟

۵۔ جس نماز میں سہو نہ ہوا اور سجدہ سہو کا کیا تو نماز جائز ہے یا نہیں؟

۶۔ ہاتھ ملا کر دُعا چاہئے یا علیحدہ علیحدہ کرے۔بینوا تو جروا۔

الجواب

(۱) نماز جائز مگر قصداً کرے تو حرام و گناہ۔

(۲) ہاں سنّت متوارثہ ہے جبکہ اس سے پہلے فتحہ یا ضمہ ہو۔

(۳) تھوڑا دراز کرنا تو مستحب ہے اسے مدِ تعظیم کہتے ہیں اور زیادہ دراز کرنا کہ حدِ اعتدال سے خروج فاحش ہو مکروہ اور اگر معاذ اﷲ تان کے طور پر ہو کہ کچھ حروف زوائد پیدا  ہوں مثل اَ اَ تو مفسد نماز ہے۔

(۴) جائز ہے

(۵) بے حاجت سجدہ سہو نماز میں زیادت اور ممنوع ہے مگر نماز ہوجائے گی ۔ہاں اگر یہ امام ہے تو جو مقتدی مسبوق تھا یعنی بعض رکعات اس نے نہیں پائی تھیں وُہ اگر اس سجدہ بے حاجت میں اسکا شریک ہو ا تو اس کی نماز جاتی رہے گی
لانہ اقتدی فی محل الانفراد
 (کیونکہ اس نے محل انفراد میں اس کی اقتدا کی ۔ت)

(۶) دونوں ہاتھوں میں کچھ فاصلہ ہو ،
فی الدرالمختار یبسط یدیہ حذاء صدرہ نحوالسماء لانھا قبلۃ الدعاء ویکون بینھما فرجۃ۱؎ فی ردالمحتار ای وان قلت قنیۃ ۲؎ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
دُرمختار میں ہے وہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینہ کے برابرآسمان کی طرف پھیلائے کیونکہ آسمان دُعا کا قبلہ ہے اور ان کے درمیان فاصلہ ہو۔ردالمحتار میں ہے اگرچہ تھوڑا فاصلہ ہی ہو ،قنیہ(ت)
 (۱؎ درمختار     فصل واذارادلشروع فی الصلوٰۃ الخ        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۷۷)

(۲؎ ردالمحتار    فصل فی بیان تالیف الصلوٰۃ            مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۳۷۵)
مسئلہ نمبر ۴۸۸: ازشہر کہنہ بانس بریلی کانکر ٹولہ        ۱۷ شوال ۱۳۱۹ھ

نماز چار رکعت میں زید اس طرح پڑھتا ہے اول رکعت میں بعد سورہ فاتحہ سورہ یس شریف ،دوسری میں سورہ دخان شریف، تیسری میں سورہ تنزیل ، چوتھی میں سورہ ملک ،اس طرح سے یہ نماز پڑھنا خلافِ ترتیب ہوگا یانہیں اور تنزیل سے کون سی سورۃ مراد ہے؟بینوا تو جروا۔
الجواب: یہ نماز اسی ترتیب سے حدیث میں حفظِ قرآن کے لئے ارشاد ہوئی ہے،جامع ترمذی شریف میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مروی ہے سورہ تنزیل سورہ الم تنزیل السجدۃ ہے۔

روایت ترمذی میں یہی پُو را نام آیا ہے اس میں خلافِ ترتیب اصلاً نہیں کہ نفل کا ہر شفع نماز جداگانہ ہے اور شک نہیں کہ ترتیبِ قرآن عظیم سورہ یسین شریف حم الدخان سے مقدم ہے اور تنزیل السجدہ سورہ ملک سے، تو رعایت ترتیب ہر شفع میں ہو گئی اگر چاروں کے لحاظ سے سب سے پہلے تنزیل السجدہ ہے پھر یس  پھر دخان  پھر ملک یہ مخالف ترتیب نہیں کہ ہر شفع صلاۃ علیحدہ ہے ۔واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۸۹:    ۲رمضان المبارک    ۱۳۳۰ھ

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص نماز میں سورہ فاتحہ میں لفظ نستعین اورمستقیم کی جگہ نسعین اورمسقیم بدون تاء کے پڑھے تو اس کی نماز باطل ہو گی یا مکروہ یا نہیں ؟ جواب دیجئے مؤجبِ ثواب ہے۔
الجواب نماز ہوجائے گی
لاجل الادغام
(ادغام کی وجہ سے۔ت)مگر کراہت ہے۔
لاجل الاحداث فلا ادغام صغیرا فی الفاتحۃ کما نص علیہ فی غیث النفع
(کیونکہ اس نے یہ خود ایجاد کیا ہے فاتحہ میں ادغام نہیں ہے جیسا کہ غیث النفع میں اس پر تصریح موجود ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۹۰: ۲۰ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین ان مسائل میں کہ سورہ فاتحہ سے ایک آیت کا تلاوت کرنا نماز میں فرض ہے یا اس کے ماسوا دوسری سورت میں سے ایک آیت پڑھنا فرض ہے مثلاً زید نے نماز پڑھی اور فقط الحمدﷲ رب العٰلمین پڑھ کر بھُول گیا اور رکوع و سجود کیا اور سجدہ سہو کیاسلام پھیرا اس حالت میں نماز زید کی ہوئی یا نہیں ؟ اور نیز دوسری صورت یہ ہے کہ امام صاحب نے نماز پڑھائی اور وہ تشہد کرنا اول کا بھول گئے اور مقتدی نے دومرتبہ کھڑے ہونے امام سے پیشتر کہا التحیات ﷲ مگر امام صاحب کھڑے ہوگئے اور قرأت بالجہر پڑھی اور فقط سورہ فاتحہ پڑھ کر رکوع کیا اور سجدہ سہو کیا اس صورت میں مقتدی کی نماز میں کوئی نقصان آیا یا نہیں؟ اور نیز اس صورت میں کہ امام صاحب قرأت بھول گئے اور مقتدی نے لقمہ دیا اور امام صاحب نے نہیں لیا تو نماز مقتدی میں کوئی نقصان آیا یا نہیں ؟اوروقتِ ظہر میں اگر جماعت ہو رہی ہو تو شریک ہو جاوے اور چار رکعت سنّت جو رہیں ان کا پڑھنا کس وقت اولٰی ہے آیا دو پہلے پڑھے یا چار؟ بینواتو جروا۔
الجواب: قرآن مجید کی ایک آیت سورہ فاتحہ سے ہو خواہ کسی سورت سے پڑھنا فرض ہے نہ خاص فاتحہ کی تخصیص ہے نہ کسی سورت کی، جو فقط الحمد ﷲ رب العٰلمین پڑھ کر بھول گیا اور رکوع کر دیا نماز کا فرض ساقط ہو جائیگا مگر ناقص ہوئی کہ واجب ترک ہوا الحمد شریف تمام وکمال پڑھنا ایک واجب ہے اوراس کے سوا کسی دوسری سورت سے ایک آیت بڑی یا تین آیتیں چھوٹی پڑھنا واجب ہے،اگر الحمد ﷲ بھُولا تھا اور واجب اول کے ادا کرنے سے باز رکھا گیا تو واجب دوم کے ادا سے عاجز نہ تھا فقط ایک ہی آیت پر قناعت کرکے رکوع کردینے میں قصداً ترک واجب ہوا،
علی ماھوالظاھر وترتیب السورۃ علی الفاتحۃ واجب ثالث کماان ترک الفصل بینھما باجنبی واجب رابع فاسقاط وجوب السورۃ للعجز عن الفاتحۃ لا یظھر فیما یظھرواﷲ تعالٰی اعلم۔
جیسا کہ واضح ہے فاتحہ اور سورت میں ترتیب تیسرا واجب جس طرح ان کے درمیان اجنبی کے ساتھ ترکِ فصل چوتھا واجب ہے پس بظاہر فاتحہ سے عاجز آنا وجوبِ سورت کے اسقاط کا سبب نہیں بن سکتا ،واﷲ تعالٰی اعلم(ت)

اور جو واجب قصداً چھوڑا جائے سجدہ سہو اس کی اصلاح نہیں کرسکتا تو واجب ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے ، ہاں اگر ایسا بھُولا کہ نہ بقیہ فاتحہ یاد آتا ہے نہ قرآن عظیم سے کہیں کی آیتیں اور نا چار رکوع کردیا اور سجدے میں جانے تک فاتحہ وآیات یاد نہ آئیں تو اب سجدہ سہو کافی ہے اور اگر سجدہ کو جانے سے  پہلے رکوع میں خواہ قومہ بعد الرکوع میں یاد آجائیں تو واجب ہے کہ قرأت پوری کرے اور رکوع کا پھر اعادہ کرے اگر قرأت پُوری نہ کی تواب پھر قصداً ترک واجب ہوگا اور نماز کا اعادہ کرنا پڑے گا اور اگر قرأت بعدا لرکوع پُوری کرلی اور رکوع دوبارہ نہ کیا تو نماز ہی جاتی رہی کہ فرض ترک ہوا۔
وذلک لان الرکوع یرتفض بالعود الی القرأۃ لانھا فریضۃ وکل مایقرأ ولوالقراٰن العظیم کلہ فانما یقع فرضا کما نصواعلیہ۔
اس لئے کہ قرأت کی طرف لوٹنے کی وجہ سے رکوع ختم ہوگیا کیونکہ قرأت فرض ہے اور قرأت جتنی بھی کی جائے خواہ تمام قرآن پاک کی قرأت ہو اس سے ایک ہی فرض ادا ہوگا جیسا کہ اس پر فقہاء نے تصریح کی ہے۔(ت)
(۳)جبکہ امام پہلاقعدہ بھُول کر اُٹھنے کو ہوا اورابھی سیدھا نہ کھڑا ہو ا تھا تو مقتدی کے بتانے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بتانا ہی چاہئے ،ہاں اگر پہلا قعدہ چھوڑ کر امام پُورا کھڑا ہوجائے تو اس کے بعد بتانا جائز نہیں اگر مقتدی بتائے گا تو اس کی نماز جاتی رہے گی اور اگر امام اس کے بتانے پر عمل کرے گا تو سب کی جائیگی کہ پُورا کھڑا ہوجانے کے بعد قعدہ اولٰی کے لئے لوٹنا حرام ہے تو اب مقتدی کا بتانا محض بیجا بلکہ حرام کی طرف بلانا اور بلا ضرورت کلام ہُوا وہ مفسد نماز ہے قرات میں صحیح لقمہ دینا مطلقا جائز ہے نماز فرض ہو خواہ نفل امام تین آیات سے زائد پڑھ چکا ہو خواہ کم تو اس صورت میں لقمہ دینے سے مقتدی کی نماز میں کچھ نقصان نہیں ،ہاں اگر وہ غلطی کہ امام نے کی مغیر معنی مفسد نماز تھی اور مقتدی نے بتایا اور اس نے نہ لیا اُسی طرح غلط پڑھ کر آگے چل دیا تو امام کی نماز جاتی رہی اور اس کے سبب سے سب مقتدیوں کی بھی گئی اور اگر غلطی مفسدِ نماز نہ تھی تو سب کی نماز ہو گئی اگر چہ امام غلطی پر قائم رہا اور لقمہ نہ لیا اور امام نے صحیح پڑھا مقتدی کو دھوکا ہُوا کہ اس نے غلط بتایا تو اس مقتدی کی نماز ہر طرح جاتی رہی پھر اگر امام نے نہ لیا تو امام اور دیگر مقتدیوں کی نماز صحیح رہی اور اگر لے لیا تو سب کی گئی ۔ظہر کی پہلی سنتیں نہ پڑھی ہوں تو علماء کے دونوں قول ہیں اور دونوں باقوّت ہیں ایک یہ کہ فرض کے دوسنتیں پہلے پڑھے پھر وہ چا ر سنتیں پڑھے دوسرے اس کا عکس کہ فرض کے بعد پہلے چار پہلی پڑھے پھر دو،اور پہلا قول زیادہ قوی ہے
لمطابقۃ لنص الحدیث الصریح
 (کیونکہ وہ حدیث صریح کے الفاظ کے مطابق ہے۔ت) واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۹۱:    ۱۴شوال ۱۳۲۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نمازِ فجر وعشاء میں سورہ طوال پڑھنا مسنون ہے یا نہیں؟ اور اگر ایسے وقت کہ ابتدائی وقت ہو او ر طولٰی بآسانی پڑھی جائے گی اور الم تر وغیرہ سے پڑھا دے اور مقتدی جماعت سے محروم رہیں تو جماعت خلاف سنت اور مخالفت سے جماعت مکروہ ہوگی یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب: قرآن عظیم سورہ حجرات سے آخر تک مفصل کہلا تا ہے اس کے تین حصے ہیں حجرات سے بروج تک طوال مفصل ،بروج سے لم یکن تک اوساط مفصل ،لم یکن سے ناس تک قصار مفصل ۔سنّت یہ ہے کہ فجر و ظہر میں ہر رکعت میں ایک پوری سورت طوال مفصل سے پڑھی جائے اور عصر و عشاء میں ہر رکعت میں ایک کامل سورت اوساط مفصل سے اورمغرب کے ہر رکعت میں ایک سورت کاملہ قصار مفصل سے۔ اگر وقت تنگ ہو یا جماعت میں کوئی مریض یا بوڑھا یا کسی شدید ضرورت والا شریک جس پر اتنی دیر میں ایذا و تکلیف و حرج ہوگا تو اس کا لحاظ کرنا لازم ہے جس قدر میں وقت مکروہ نہ ہونے پائے اور اس مقتدی کو تکلیف نہ ہو اسی قدر پڑھیں اگر چہ صبح میں انا اعطینا و قل ھواﷲ احد ہوں یہی سنت ہے اور جب یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو اس طریقہ مذکورہ کا ترک کرنا صبح یاعشاء میں قصارمفصل پڑھنا ضرور خلاف سنت و مکروہ ہے مگر نماز ہوجائے گی واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۹۲:    ۲۱ ربیع الاخر ۱۳۲۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ امام کے پیچھے لفظِ آمین کو کس قدر آواز سے کہے اگر برابر والے نمازی جو اس سے دوسرے یا تیسرے درجے پر ہیں سنیں تو کوئی حرج ہے یا نہیں؟

(۲) سوائے لفظ اٰمین کے اور کچھ پڑھے تو کس قدر آواز سے پڑھنا چاہئے؟

(۳) حقّہ ، تمباکو کو  پینے والے کے منہ کی بُو نماز میں دوسرے نمازی کو معلوم ہوئی تو کوئی قباحت تو نہیں؟

بینوا تو جروا۔
الجواب

(۱-۲)اٰمین سب کو آہستہ کہنا چاہئے امام ہو خواہ مقتدی خواہ اکیلا یہی سنّت ہے ،اور مقتدی کو سب کچھ آہستہ ہی پڑھنا چاہئے آمین ہو خواہ تکبیر ، خواہ تسبیح ہو خواہ التحیات و درود ،خواہ سبحنک اللھم وغیرہ ۔اورآہستہ پڑھنے کے یہ معنٰی ہیں کہ اپنے کان تک آواز آنے کے قابل ہو اگر چہ بوجہ اس کے یہ خود بہرا ہے یا اس وقت کوئی غُل وشور ہورہا ہے کان تک نہ آئے اور اگر آواز اصلاً پیدا نہ ہوئی تو صرف زبان ہلی تو وہ پڑھنا پڑھنا نہ ہوگا اور فرض و واجب و سنّت و مستحب جو کچھ تھا وہ ادا نہ ہوگا فرض ادا نہ ہوا تو نماز ہی نہ ہوئی اور واجب کے ترک میں گنہگار ہوا اورنماز پھیرنا واجب رہا اور سنت کے ترک میں عتاب ہے اور نماز مکروہ اور مستحب کے ترک میں ثواب سے محرومی پھر جو آوا زاپنے کان تک آنے کے قابل ہوگی وہ غالب یہی ہے کہ برابر والے کو بھی پہنچے گی اس میں حرج نہیں ایسی آواز آنی چاہئے جیسے راز کی بات کسی کے کان میں منہ رکھ کر کہتے ہیں ضرور ہے کہ اس سے ملا ہُوا جو بیٹھا ہو وہ بھی سُنے مگر اسے آہستہ ہی کہیں گے، واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۳) منہ میں بدبو ہونے کی حالت میں نماز مکروہ اور ایسی حالت میں مسجد میں جانا حرام ہے جب تک منہ صاف نہ کرلے ، اور دوسرے نمازی کو ایذا پہنچی حرام ہے اور دوسرا نمازی نہ بھی ہو تو بدبو سے ملئکہ کو ایذا پہنچتی ہے،حدیث میں ہے:
ان الملئکۃ تتاذی بمایتاذی بہ بنو اٰدم ۱؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم  کیونکہ ملائکہ ہر اس شے سے اذیّت پاتے ہیں جس سے بنی آدم اذیت پاتے ہیں۔(ت)
 (۱؎ صحیح مسلم        باب نہی من اکل ثواماً اوبصلاً الخ     قدیمی کتب خانہ اصح المطابع کراچی ۱/۲۰۹)
Flag Counter