Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
77 - 185
پھر ایسی حالت میں عند الانصاف اشتراک صفات خواہ اشتباہ اصوات کسی کی تخصیص نہیں ہوسکتی کہ براہِ عجز ہے اختیاری نہیں اور غیر اختیاری پر حکم جاری نہیں
کما قد منا فی جعل الاتراک الحاء خاءً وعوام عصر العلامۃ الشامی القاف ھمزۃ
 (جیسا کہ ہم نے پیچھے بیان کیا کہ ترک لوگ حاء کو خاء اور علامہ شامی کے زمانہ کے لوگ ق کو ہمزہ بنادیتے ہیں۔ت)واضح ہوا کہ یہ طائفہ جدیدہ جس نے قصداً ضاد پڑھنا ٹھہرالیا ان کی نماز تو باجماع ائمہ متقدمین واتفاق اقوال مذکورہ متاخرین کبھی ولاالضالین تک نہیں پہنچنے پاتی ،پہلی ہی رکعت میں مغضوب کی مغظوب پڑھا اور نماز رخصت ہوئی اب افعال بے معنی کئے جاؤ۔ اسی طرح اگر کوئی جاہل حرف منزل ض کا قصد نہ کرے بلکہ عمدا اس کو دال خواہ کوئی حرف پڑھنا ٹھہرالے اس کی نماز بھی مغدوب سے آگے نہ چلے گی تعلم مخر وج طریق اداوقصد صحیح بقدر قدرت ہر شخص پر لازم پھر جو کچھ ادا ہوا فتوی تیسیر صحت پر حاکم۔
نسأل اﷲ تیسیر کل عسیرانہ ولیہ وعلیہ قدیر وصلی اﷲ تعالٰی علی البشیر والنذیر واٰلہ وصحبہ۔
ہم اﷲ تعالٰی سے سوال کرتے ہیں وہ ہر مشکل کوآسان فرمادے کیونکہ وہی مالک ہے اور اس پر وہ قادر ہے ، اللہ کی رحمتیں نازل ہوں اس ذاتِ اقدس پر جو بشیر و نذیر ہے آپ کی آل اور اصحاب پر بھی ۔(ت)

بالجملہ عمداً ظا یا داد دونوں حرام ، جوقصد کرے کہ بجائے ض ظ یاد پڑھوں گا ان کی نماز کبھی تام فاتحہ تک بھی نہ پہنچے گی مغذوب و مغظوب کہتے ہی بلا شبہہ فاسد و باطل ہوجائے گی اور جو حروف منزل ہی کا قصد رکھتا اور اسی کو ادا کرنا چاہتا ہے پھر اگر ایسی جگہ غلطی پڑے جس سے معنٰی نہ بدلے تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر معنی بدل گئے تو دو حال سے خالی نہیں یا تو یہ شخص ادائے حرف پر قادر تھا براہ لغزش زبان یا جہلاً یا سہواً زبان سے نکل گیا تو ہمارے مذہب سیدناامام اعظم رحمہ اﷲ تعالٰی و محرر مذہب سیدنا امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک نماز مطلقاً فاسد، اور اگر یہ بدلا ہوا کلمہ قرآن مجید میں نہیں تو امام ابو یوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کا بھی اتفاق ہوکر اجماع ائمہ  متقدمین کہ نماز باطل ہے اور متاخرین کے اقوال کثیرہ و مضطرب ہیں۔
مسئلہ نمبر۴۷۸: از دلیر گنج پرگنہ جہاں آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ خلیفہ الہی بخش    ۱۸رجب ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر جہلا کو قواعدِتجوید سے انکار ہے اور ناحق جانتے ہیں۔
الجواب:  تجوید بنص قطعی قرآن و اخبار متواترہ سید الانس والجان علیہ وعلی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والسلام واجماع تام صحابہ و تابعین وسائر ائمہ کرام علیہم الرضوان المستدام حق و واجب اور علم دین شرع الہی ہے قال اﷲ تعالٰی
ورتل القراٰن ترتیلا ۱؎
 (اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ت)
 (۱؎ القرآن         ۷۳/۵)
اسے مطلقاً ناحق بتانا کلمہ کفر ہے والعیاذ باﷲ تعالٰی ۔ہاں جو اپنی ناواقفی سے کسی قاعدے پر انکار کرے وہ اسکا جہل ہے اسے آگاہ و متنبّہ کرنا چاہئے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
مسئلہ نمبر ۴۷۹: ازبریلی محلہ ذخیرہ مرسلہ محبت حسین یکم ربیع الاوّل ۱۳۱۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اکثر نمازی معنٰی نماز کے نہیں جانتے ہیں اور نہ کلمہ شریف کے معنٰی جانتے ہیں پس جاننا معنی کلمہ شریف اور نماز کے اوپر عمل کرنا بہت ضروری ہے پس اگر اہلِ عرب اور عربی جاننے والے عربی میں پڑھیں اور باقی اہل زبان اپنی اپنی زبان میں عربی کا ترجمہ کرکے پڑھیں تو نماز درست اور صحیح ہے یا نہیں یعنی انگریزی خواں انگریزی میں اور ناگری والے ناگری میں اور اردو والے اردو میں پنجگانہ نماز پڑھیں ؟ بینوا تؤجروا(بیان کرو اور اجر پاؤ۔ت)
الجواب:گمراہی کہہ کر نہیں آتی، گمراہی کا پہلا پھاٹک یہی ہے کہ آدمی کے دل سے اتباع سبیل مومنین کی قدر نکل جائے تمام  امّت مرحومہ کو بیوقوف جانے اور اپنی رائے الگ جانے رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں یہی عجمی لوگ مشرف باسلام ہوئے حضرت بلال حبشی تھے۔حضرت صہیب رومی،حضرت سلمان فارسی و ابو ہریرہ وغیرہم رضی اﷲ تعالٰی عنہم جمیعا اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے زمانہ میں جو ہزاروں بلادِ عجم فتح ہوئے لاکھوں عجمی مشرف باسلام ہُوئے کبھی بھی حکم فرمایا ؟کہ تم لوگ اپنی زبان میں نماز پڑھا کرو ،اب تیرہ سو برس کے بعد یہ مصلحت بعض ہندی بے علموں کو سوجھی اس قدر کا ملاحظہ اتنا سمجھنے کو کافی ہے کہ الہامِ رحمٰن نہیں بلکہ وسوسہ شیطان ہے،قرأتِ قرآن فرض ہے اور وہ خاص عربی ہے غیر عربی میں ادا نہ ہوگی اور نماز نادرست ہوگی اور اس کے ماورا میں گنہگاری ہے،ہاں جو عاجز محض ہوتو مجبوری کی بات جُدا ہے واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۸۰: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی عادت ہمیشہ نمازِمغرب میں باقرأت ایک یا نصف رکوع یا سورہ والضحٰی یا الہٰکم یا والشمس حالتِ امامت میں پڑھنے کی ہے بعض مقتدی اس کو ناپسند کرتے ہیں اور بعض اس طریقہ کو ناپسند بوجہ طوالت ،ایسی صورت میں امام اپنی عادت کے موافق کرے یا مقتدیوں کی تابعداری اختیار کرے اور یہ سورتیں ایسے وقت میں کچھ زیادہ تو نہیں ،ایک روز نمازِمغرب میں زید نے ۱۶ پارہ کا ۳ رکوع "افحسب الذین کفروا"اور دوسری رکعت میں ۲۹ پارہ کا آخری رکوع "ان المتقین فی ظلٰل" پڑھا اس سے زیادہ پڑھنے پر مقتدی نہایت شاکی ہوئے ،اور ایک مولوی صاحب نے فرمایا کہ یہ امام گنہگار ہوتے ہیں اتنا بڑا رکوع پڑھنے سے ایسی صورت اور ایسے وقت میں نہیں چاہئے منع آیا ہے،پست ہمّت مقتدیوں کی شکایت شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اورامام صاحب پر شرعاً کیا الزام اور گناہ ہے؟ سو آدمی کی جماعت میں دومقتدی علیل پیرانہ سالی کی وجہ سے زیادہ شکایت اور امام کو بُرا جانیں وہ بھی الزام دینے سے گناہگار ہیں یا نہیں؟
الجواب:  نمازِحضر یعنی غیر سفر میں ہمارے ائمہ سے تین روایتیں ہیں:



اوّل فجر و ظہر میں طوال مفصل سے دو سورتیں پوری پڑھے ہر رکعت میں ایک سورت اور عصر و عشاء میں اوساطِ مفصل سے دو سورتیں اور مغرب میں قصار مفصل سے۔مفصل قرآن کریم کے اس حصہ کو کہتے ہیں جو سورہ حجرات سےاخیر تک ہے اس کے تین حصے ہیں حجرات سے بروج تک طوال ،بروج سے لم یکن تک اوساط ،لم یکن سے ناس تک قصار

دوم فجر و ظہر میں سورہ فاتحہ کے علاوہ دونوں رکعت کی مجموع قرأت چالیس پچاس آیت ہے اور ایک روایت میں ساٹھ آیت سے سوَ تک ۔اور عصر وعشاء کی دونوں رکعت کا مجموعہ پندرہ بیس آیت ،اور مغرب میں مجموعہ دس آیتیں ۔

سوم کچھ مقرر نہ رکھے جہاں وقت و مقتدیان و امام کی حالت کا مقتضی ہو ویسا پڑھے، مثلاً نمازِفجر میں اگر وقت تنگ ہو یا مقتدیوں میں کوئی شخص بیمار ہے کہ بقدر سنّت پڑھنا اس پر گراں گزرے گا یا بوڑھا ضعیف ناتواں یا کسی ضرورت والا ہے کہ دیر لگانے میں اُس کاکام حرج ہوتا ہے اُسے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوگا توجہاں تک تخفیف کی حاجت سمجھے تخفیف کرے، خودحضو اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نمازِ فجر میں ایک بچے کے رونے کی آواز سن کر اس خیال رحمت سے کہ اُس کی ماں جماعت میں حاضر ہے طولِ قرأت سے اُدھر بچہ پھڑکے گا اِدھر ماں کا دل بیچین ہوگا صرف قل اعوذ برب الفلق اورقل اعوذ بربّ الناس سے نماز پڑھا دی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی آلہٖ واصحابہٖ وبارک وسلم اجمعین، اور اگر دیکھے کہ وقت میں وسعت ہے اور نہ کوئی مقتدیوں میں بیمار نہ ویسا کامی تو بقدر سنّت قرأت ان روایات میں پہلی اور تیسری روایت مختار و معمول بہ ہے
وانا اقول لاخلاف بینھما وانما الثالثۃ تقیید الاولی کما لا یخفی
(میری رائے میں ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تعارض نہیں تیسری پہلی کو مقید کررہی ہے جیسا کہ واضح ہے۔ت) تو حاصل مذہب معتمدیہ قرار پایا کہ جب گنجائش بوجہ وقت خواہ بیماری وضعف وحاجت مقتدیان کم دیکھے تو قدرِ گنجائش پر عمل کرے ورنہ وہی طول واوساط وقصار کا حساب ملحوظ رکھے او رقلت گنجائش کے لئے زیادہ مقتدیوں کا ناتواں یا کام کا ضرورت مند ہونا درکار نہیں بلکہ صرف ایک کا ایسا ہونا کافی ہے یہاں تک کہ اگر ہزار آدمی کی جماعت ہے اور صبح کی نماز ہے اور خوب وسیع وقت ہے اور جماعت میں ۹۹۹ آدمی دل سے چاہتے ہیں کہ امام بڑی بڑی سورتیں پڑھے مگر ایک شخص بیمار یا ضعیف بوڑھا یا کسی کام کا ضرورت مند ہے کہ اس پرتطویل بار ہوگی اسے تکلیف پہنچے گی تو امام کو حرام ہے کہ تطویل کرے بلکہ ہزار میں سے اس ایک کے لحاظ سے نماز پڑھائے جس طرح مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صرف اس عورت اور اسکے بچے کے خیال سے نمازِ فجر معوذتین سے پڑھا دی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، اور معاذ ابن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ پر تطویل میں سخت ناراضی فرمائی یہاں تک کہ رخسار ہ مبارک شدّتِ جلال سے سرخ ہوگئے اورفرمایا:
افتان انت یا معاذ افتان انت یامعاذ افتان انت یا معاذ؎۱ کما فی الصحاح وغیرھا وفی الھدایۃ مرفوعالقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام من ام قوما فلیصل بھم صلٰوۃ اضعفھم فان فیھم المریض والکبیر و ذالحاجۃ۲؎۔
کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے ، کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے اے معاذ ! جیسا کہ صحاح وغیرہا میں ہے ہدایہ میں نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے کہ جو شخص کسی قوم کا امام بنے وہ انھیں ان کے ضعیف کے اعتبار سے نماز پڑھائے کیونکہ ان میں مریض ،بوڑھے اور صاحب حاجت بھی ہوں گے(ت)
 (۱؎ صحیح بخاری        باب اذاطول الامام الخ        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۹۸-۹۷، ۲/۹۰۲)

(۲؎ الہدایۃ        باب الامامۃ            مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی        ۱/۱۰۱)
اس بیان سے واضح ہوا کہ اما م کا مغرب میں سورہ والشمس یا والضحٰی یااول میں افحسب الذین کفروا دوسری میں ان للمتقین یہ دونوں رکوع پڑھنا خلاف سنّت اور تینوں سے الگ ہوا کہ نہ یہ قصار مفصل سے ہے نہ دونوں رکعت میں صرف دس۱۰ آیت نہ یہی کہ مقتدیوں پر گراں نہ گزرا ایسی حالت میں مقتدیوں کی شکایت برمحل ہے اور امام پر ضرور لازم ہے ہاں الھٰکم التکاثرایک رکعت میں اور اس سے پہلی میں القارعۃ یا دوسری میں والعصرپڑھنامطابق سنّت ہے یہاں مقتدیوں کی شکایت حماقت ہے مگر اُس حال میں کہ کوئی بیمار یا بوڑھا ناتواں اس قدر کا تحمل نہ رکھتا ہو تو وہاں اس سے بھی تخفیف کا حکم ہے
فی فتح القدیر قد بحثنا ان التطویل ھو الزیادۃ علی القرأۃ المسنونۃ فانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھی عنہ وکانت قرأتہ ھی المسنونۃ فلا بد من کون مانھی عنہ غیر ماکان دابہ الالضرورۃ۱؎ اھ وباقی ماذکرنا من المسائل معرفۃ فی الدرالمختار وردالمحتار وغیرھما من الکتب المتداولۃ فلا حاجۃ بایراد العبارات۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
فتح القدیر میں ہے ہم نے اس پر بحث کی ہے کہ قرأۃمیں طوالت وہ زیادتی ہے جو قرأت مسنونہ پر ہو، کیونکہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایسی ہی زیادتی سے منع فرمایا ہے اور آپ کی قرأت قرأۃ مسنونہ ہی تھی لہذا جس سے آپ نے روکا وہ اس مسنو نہ کے علاوہ ہوئی مگر ضرورت کے وقت اھ اور دیگر مسائل جو ہم نے ذکر کئے وہ درمختار ،ردالمحتار اور دیگر متداول کتب میں معروف ہیں اس لئے تمام عبارات کے تذکرے کی ضرورت نہیں (ت)
مسئلہ نمبر۴۸۱:    ۲۷شوال ۱۳۱۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے نماز میں بعد الحمد ﷲ اور تین یا زائد آیتوں کے کہا قال رسول اﷲ پھر رکوع کردیا یا قرآن مجید اور تلاوت کی تو اس صورت میں نماز ہوئی یا نہیں؟ اور سجدہ سہو حاجت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب: اگر اس لفظ سے اُس نے کسی شخص کی بات کا جواب دینے کا قصد کیامثلاً  کسی نے  پوچھا فلاں حدیث کس طرح ہے اُس نے  کہا قال رسول اﷲ اورمعاً نماز کا خیال آگیا خاموش ہو رہا یا ابتداءً کسی سے خطاب کا ارادہ کیا مثلاً کسی کو کوئی فعلِ ممنوع کرتے دیکھا اسے حدیثِ ممانعت سنانی چاہی اس کے خطاب کی نیت سے کہا قال رسول اﷲ پھریاد آگیا آگے نہ کہا تو ان دو۲ صورتوں میں ضرور نماز فاسد ہوجائیگی ۔
کما نصواعلیہ فیماھو ذکر و ثنا محض کلا الٰہ الااﷲ ولا حول ولاقوۃ الّا باﷲ وانا الیہ راجعون و غیرذلک اذا قصد بہ الجواب اوالخطاب فکیف ما لیس کذلک۔
جیسے کہ فقہاء نے ان الفاظ کے بارے میں تصریح کی ہے جو کہ فقط ذکر و ثناء ہی ہیں مثلاً لا الٰہ الا اﷲ ، لاحول ولا قوۃ الا باﷲ اور انّا ﷲ وانا الیہ راجعون اور دیگر کلمات جب ان سے مقصد کسی کا جواب یا کسی کو خطاب ہو تو ان کلمات کا کیا حال ہوگا جو محض ذکر و ثنا نہیں (ت)
 (۱؎ فتح القدیر شرح ہدایہ     باب الامامۃ   مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۳۰۵)
اور اگر یہ صورتیں نہ تھیں تواس کا جزئیہ اس وقت نظر میں نہیں اور ظاہر کلامِ علمائے کرام سے یہ ہے کہ اگر یہ شخص حدیث خوانی کا عادی تھا اُس عادت کے مطابق زبان سے قال رسول اﷲ نکلاتو نماز فاسد ہوگئی لا نہ من کلامہ و لیس ثناء اودعاء بل اخبار(کیونکہ یہ اس کا اپنا کلام ہے ثنا اور دعا نہیں بلکہ خبر دینا ہے۔ت)اور اگر ایسا نہ تھا تو نماز فاسد نہ ہوگی کہ یہ جملہ آیت کریمہ کا ٹکڑا ہے قال اﷲ تعالٰی
فقال لھم رسول اﷲ ناقۃ اﷲ وسقیھا ۱؎
 (اﷲ تعالٰی کا ارشاد مبارک ہے تو ان سے اﷲ کے رسول نے فرمایا اﷲ تعالٰی کے ناقہ اوراس کی پینے کی باری سے بچو۔ت)
 (۱؎ القرآن     ۹۱/۱۳)
بحرالرائق و درمختار وغیرہما میں ہے:
لو جری علی لسانہ نعم ان کان ھذاالرجل یعتاد فی کلامہ نعم تفسد صلٰوتہ و ان لم یکن عادۃ لہ لا تفسد لان ھذہ الکلمۃ فی القراٰ ن فتجعل منہ ؎۲۔
اگر کسی زبان پر لفظ نعم جاری ہوگیا تو اگر وہ آدمی ایسا ہے جو اپنے کلام میں لفظ نعم کو اکثر لاتا رہتا ہے تو نماز فاسد ہوگی، اور اگراس کلمہ کو ذکر کرنا اس کی عادت نہیں تو نماز فاسد نہ ہوگی ،کیونکہ یہ کلمہ قرآن پاک میں موجود ہے لہذا اسے کلام کی بجائے قرآن پاک کا حصہ ہی سمجھا جائے گا (ت)
 (۲؎ البحرالرائق     باب یفسد الصلوٰۃ الخ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/۸)
اور سجدہ سہو کی کسی حالت میں حاجت نہیں مگر یہ کہ صورت اخیرہ پائی گئی ہو جس میں جوازِ نماز ہے اور بوجہ سہو اتنی دیر تک چپکا کچھ سوچتا رہا ہو جس قدر دیر میں ایک رکن ادا ہوسکے تو اس سقوط کے با عث سجد ہ سہو  لازم آئے جگا
کما فی التنویر
 (تنویر میں اسی طرح ہی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter