(ان میں بڑا فرق ہے یہ کہاں اور وہ کہاں)
لاجرم اس قدر تجوید کہ ہر حرف سے ممتاز اور تبدیل وتلبیس سے احتراز ہو ہر مسلمان پر لازم ہے تصحیح مخارج و اقامۃ حروف کا اہتمام فرض متحتم ،علمائے متاخرین کا فتوٰی معاذاﷲ پروانہ بے پروائی نہیں کہ قرآن کو کھیل بنائے اور خلاف ما انزل اﷲ جو جی میں آئے پڑھ لینا مناسب ، باوصف قدرتِ تعلم ،تعلّم نہ کرنا اور اس امراہم کو ہلکا سمجھنا غلط خوانی قرآن پر جمے رہنا کون جائز کہے گا ،اس سہل انگاری کی ایک نظیر سُن چکے ،اﷲ کواحدمانناعین اسلا م اور معاذ اﷲ اھدکہناصریح دشنام ،مانا کہ تمھیں قصدِ دشنام نہیں پھر اس سے کیا ہُوا کفر سے بچ گئے بات کی شناعت کیا جاتی رہے گی،تعریف کیجئے اور اسی کا قصد ہو مگر لفظ وُہ نکلیں جو صریح ذم ہوں کیا علمائے متاخرین اسے حلال بتاگئے ہیں ؟ کلّا ، واﷲ ، حاشاﷲ صحیح حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا نعس احدکم وھو یصلی فلیرقد حتی یذھب عنہ النوم فان احدکم اذاصلی وھوناعس لا یدری لعلہ یذھب لیستغفر فلیسب نفسہ۲؎۔
رواہ مالک والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا۔
جب تم میں کسی کو نماز میں اونگھ آئے تو سو جائے یہاں تک کہ نیند چلی جائے کہ اونگھتے میں پڑھے گا تو کیا معلوم شاید اپنے لئے دعائے مغفرت کرنے چلے اور بجائے دعا بد دعا نکلے اسے امام مالک ،بخاری،مسلم،ابوداؤد ،ترمذی اورابن ماجہ نے حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا ہے۔
(۲؎ مؤطا الامام مالک ماجاء فی صلوٰۃ الّلیل مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۱۰۰)
(صحیح البخاری باب الوضو من النوم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۴)
جب اونگھتے میں نماز سے منع کیا کہ احتمال ہے شاید اپنے لئے دعائے بد نکل جائے اگرچہ قصدِ دعا ہے تو خود جاگتے میں خود اﷲ عزوجل کی شان میں سخت گستاخی کا کلمہ نہ فقط احتمالاً بلکہ تجربۃً بارہا منہ سے نکالنا کیونکر گوارا ہوسکے اگرچہ قصد ثناہے۔اتقان شریف میں ہے:
من المھمات تجوید القراٰن وھوا عطاء الحروف حقوقھا ورد الحرف الی مخرجہ واصلہ ولا شک ان الامۃ کما ھم متعبدون بفھم معانی القراٰن واقامۃ حدودہ ھم متعبدون بتصحیح الفاظہ واقامۃ حروفہ علی الصفۃ المتلقاۃ من ائمۃ القرأۃ المتصلۃ بالحضرۃ النبویۃ وقد عدالعلماء القرأۃ بغیر تجوید لحنا۱؎ ملخصا۔
تجوید قرآن اہم امور میں سے ہے وہ حروف کو انکے حقوق دینا اور ہرحرف کو اسکے مخرج اور اصل کی طرف لوٹانا ہے، بلاشبہ امت مسلمہ جس طرح معانی قرآن کے فہم اور حدود قرآنی کے نفاذ میں پابند ہے اسی طرح وہ قرآن کے الفاظ کی تصحیح اور انہیں اسی طریقہ وصف پر ادا کرنے کی بھی پابند ہے جس طرح ان کو قرأت کے ائمہ نے ادا کیا جس کا سلسلہ سند نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تک متصل ہے اورعلما نے بغیر تجوید کے قرآن پڑھنے کو لحن قرار دیا ہے ملخصاً(ت)
(۱ الاتقان فی علوم القرآن الفصل الثانی من المہمات تجوید القرآن مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۰۰)
دیکھو کیسی تصریح ہے کہ علمائے کرام قرأت بے تجوید کو لحن بتاتے ہیں اور احسن الفتاوٰی فتاوٰی بزازیہ میں فرمایا:
ان اللحن حرام بلا خلاف۲؎لحن سب کے نزدیک حرام ہے۔ ولہذا ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ آدمی سے کوئی حرف غلط ادا ہوتا ہے تو اس کی تصحیح وتعلم میں اُس پر کوشش واجب ،اگرکوشش نہ کرے گا معذور نہ رکھیں گے اورنماز نہ ہوگی ،بلکہ جمہور علما نے اس سعی کی کوئی حد مقررنہ کی اور حکم دیا کہ تاعمر شبانہ روز ہمیشہ جہد کئے جائے کبھی اس کے ترک میں معذور نہ ہوگا ،یہی قول امام ابراہیم ابن یوسف وامام حسین بن مطیع کا ہےمحیط میں اسی کو مختارالفتوٰی فرمایا ،خانیہ وخلاصہ وفتح القدیر ومراقی الفلاح وفتاوی الحجۃ و جامع الرموز و درمختار و ردالمحتاروغیرہا میں اسی پرجزم کیا ، علامہ ابن الشحنہ نے اسی کو محرر بتایا،علامہ ابراہیم حلبی نے غنیـہ میں اسی کو معتمد فرمایا،اگرچہ امام برہان محمود نے ذخیرہ میں اس کو مشکل بتایا،امام بن الحاج نے اسی پر تعویل کی ،علّامہ طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں اسی طرف میل کیا
کما بیناکل ذلک فی فتاوٰنا
(جیسا کہ یہ سارے کا سارا ہمارے فتاوٰی میں بیان کیا گیا ہے ۔ت) تو کیونکر جائز کہ جہد وسعی بالائے طاق سرے سے حرف منزل من القرآن کا قصد ہی نہ کریں بلکہ عمدا اسے متروک و مہجور اور اپنی طرف سے دوسرا حرف اس کی جگہ قائم کردیں
ھذا مما لایبیحہ شرع ولا دین والعیاذ باﷲ رب العالمین
(شریعت اور دین اس کی ہر گز اجازت نہیں دیتے اﷲ تعالٰی کی پناہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ بحوالہ بزازیۃ الباب الرابع فی الصلوٰۃ والتسبیح و قرأۃ القرآن الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/۳۱۷)
فقیر کہتا ہے غفراﷲ تعالٰی لہ بعد اس کے عرش تحقیق مستقر ہوچکا کہ قرآن نظم و معنی جمیعا بلکہ نظم دال علی المعنی کانام ہے اور نظم یہ حروف بہ ترتیب معروف اور باہم متبائن اور تبدیل جز مستلزم تبدیل کل
فان المولف من مبائن مبائن للمولف من مبائن اٰخر
( ایک مبائن حروف کا مجموعہ دوسرے مبائن حروف کے مجموعے کے مبائن ہوتا ہے۔ت) میں نہیں جانتا کہ اس تبدیل قصدی و تحریف کلام اﷲ میں کیا تفاوت مانا جائے گا۔یہی منشا ہے امام فضلی و امام محمود وعلامہ قاری وغیر ہم کے اُس حکم کا جو قرآن مجید میں ض عمداًظ سے بدلے کافر ہے۔
اقول: ولا حاجۃ الی استثناء وما ھو علی الغیب بضنین ،فان ھھنا لیس اقامۃ الظاء مقام الضاد لان المکان لیس مکانھا خاصۃ بل مکانھما جمیعا علی التوارد حیث قرئ بھما فی القرآن فکان مثل صراط و سراط وبسطۃ و بصطۃ ویبسط ویبصط ومصیطر ومسیطر الی اشباہ ذلک بخلاف مغضوب مغظوب وبخلاف سجیل وصجیل فانہ تبدیل۔
اقول: میری رائے یہ ہے کہ وماھو علی الغیب بضنین کومستثنٰی کرنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ یہاں ظاء کو ضاد کی جگہ رکھنا لازم نہیں آتا کیونکہ یہ صرف ضاد ہی کا مقام نہیں بلکہ یکے بعد دیگرے دونوں کی جگہ ہے کیونکہ ان دونوں حروف کے ساتھ قرأتِ قرآنی ثابت ہے جیسے صراط اورسراط،بسطۃاور بصطۃ،یبسط اوریبصط، مصیطراورمسیطراوران کے ہم مثل دیگر الفاظ ،بخلاف مغضوب اورمغظوب کے اور بخلاف سجیل اورصجیل کے کیونکہ یہاں تبدیلی ہے۔(ت)
پس جزماً لازم کہ ہر حرف میں خاص حرف منزل من اﷲ ہی کا قصد کریں اور اسی کے مخرج سے اسے نکالنا چاہئے مخرج ضاد زبان کی دہنی یا بائیں کروٹ ہے یوُں کہ اکثر پہلوئے زبان حلق سے نوک کے قریب تک اسی جانب کی اُن بالائی داڑھوں کے طرف جو وسط زبان کے محاذی ہیں قریب ملاصق ہوتا ہوا کچیلوں کی طرف دراز ہو یہاں تک کہ شروع مخرج لام تک بڑھے زبان کی کروٹ داڑھوں سے متصل ہوتی باقی زبان اس حرکت میں اوپر کو میل کرکے تالوُ سے نزدیکی پائے دانتوں یازبان کی نوک کا اُس میں کچھ حصہ نہیں وہ ان قوی حرفوں میں ہے جو ادا ہوتے وقت اپنے مخرج پر اعتماد قوی مانگتے ہیں جس قدر سانس ان کی آواز میں سینے سے باہر آتی ہے سب کو اپنی کیفیت میں رنگ لیتے ہیں کہ کوئی پارہ سانس کا اُن کے ساتھ جُدا چلتا معلوم نہیں ہوتا جب تک ان کی آوازختم نہ ہولے سانس بند رہے گی ایسے حرفوں کو مجہورہ کہتے ہیں اور ان کے خلاف کو مہموسہ جن کا جامع فَحثَّہ شَخْصُ سَلَتَ ہے یاسَتَشْحَثُکَ خَصْفَہ ْمثلاً ثائے مثلثہ کو مکرر کرکے بولے ثلث تو آواز ثاکے ساتھ ایک حصہ ساکن کاجُدا معلوم ہوگا نفس بند نہ ہوا مجہورہ میں ایسا نہیں بلکہ تمام سانس جو شروع تلفّظ کے وقت موجود ہو اُنھیں کی آواز سے بھر جاتی ہے اور جب تک اُس کا تلفّظ ختم ہو دوسری نہیں آتی جیسے ز ز ز ظ ظ ظ یونہی ضضض یہ امر قوت اعتماد کولازم ہے کہ دہن یا حلق کے کسی حصے پر اعتماد قوی بے آواز بھی حابس دم ہے کما لا یخفی جب اس جگہ سے اس طور پر حرف نکلے گا تو وہ ض ہی ہوگا نہ اس کا غیر ۔فرق جو پڑتا ہے اُس کا منشا انھیں سے کسی بات کا رہ جانا ہے مثلاً زبان اگلے دانتوں کو لگی یا زبان کی نوک سے کام لیا کہ وہ آغاز مخرج لام کی طرف جھکی ۔پہلوئے زبان کا وسط داڑھوں کی جانب خلاف کو چلا حالانکہ اُن کی طرف میل درکار تھا یا زبان تالو کی طرف نہ اُٹھائی یا اُٹھانا چاہی مگر حرف کی دشواری و غرابت آڑے آئی کہ زبان دب گئی کما ینبغی اطباق نہ ہُوا جس طرح لڑائی میں ناتجربہ کار کا ہاتھ باوصف قصد جھجک کر اوچھا پڑتا ہے یا اعتماد میں ضعف رہا یا مخرج لام تک استطالہ نہ ہُوا یہ بیان دل پر لکھنے اور عمل میں رکھنے کا ہے کہ ان شاء اﷲتعالٰی صحت ادا میں اسکا مخرج و طریقہ استعمال جان بھی لے ادا کرنے والے مشابہت د سے تو اس تقریر آخری کا خیال کرکے بچ سکتے ہیں اور اگر آدمی تا آخر جو کچھ ہم نے محررہ صفات مین بیان کیا اُس سب کے مراعات ٹھیک طور پر ہوجائے تو یقینا اب جو حروف نکلے گا وہ خالص صحیح و فصیح ض ہوگااگر چہ ناواقف سننے والا اپنی ناشنائی کے باعث اسے کچھ سمجھے یا کچھ نہ سمجھے اور بقدر قدرت اُس کے برتنے میں کمی بھی نہ کرے تو اب جو کچھ بھی ادا ہوگا صحتِ نماز کا فتوٰی دیں گے کہ عسر متحقق ہولیا اور عذر واضح ہوچکا اور عسر جانب یسر ہے۔
قال اﷲ تعالٰی
لایکلّف اﷲ نفسا الا وسعھا۱؎
وقال اﷲ تعالٰی
یریداﷲ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر۲؎
وقال اﷲ تعالٰی
ماجعل علیکم فی دین من حرج ۳؎
وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یسروا ولا تعسروا بشروا ولا تنفروا۴؎ رواہ الشیخان عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اﷲتعالٰی کا ارشاد گرامی ہے اﷲ تعالٰی کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔ دوسرا فرمان ہے اﷲ تعالٰی تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا ۔تیسرے مقام پر فرمایا اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے آسانی پیدا کرو ،مشکل میں نہ ڈالو ، محبتیں پیدا کرو ،نفرت نہ دلاؤ۔اسے بخاری ومسلم نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے(ت)
(۱؎ القرآن ۲/۲۸۶)
(۲؎ القرآن ۲/۱۸۵)
(۳؎ القرآن ۲۲/۷۸)
(۴؎ صحیح بخاری باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یسروا اولاتعسروا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۹۰۴)