اقول: والظاھر ان ھذہ الاختیارات ترجع الی شق الجواز عند الخطأ اما الفساد عند العمد فینبغی الاتفاق علیہ کما تقدم ما یفیدہ عن الحلیۃ والتصریح بہ عن الطحطاوی وھومعنی استظھارالاکمل انہ مجمل ما فی جمیع الفتاوی کیف واذا جعلواالتعمد من الردۃ فما بقاء الصلٰوۃ ھذا واضح جدا۔
اقول (میں کہتا ہوں ) ظاہر یہ ہے کہ تمام اختلافات میں مختار اقوال جواز کی طرف اسی صورت میں راجع ہوتے ہیں جب ایسا معاملہ خطاءً واقع ہو۔رہا معاملہ عمداً کا تو اس صورت میں فساد نماز پر اتفاق ہے جیسا کہ حلیہ کے حوالے سے افادہ کے طور پر گزرا ۔اورطحطاوی کی تصریح گزری ،اور اکمل کا بطور استظہار کہنا کہ فتاوی جات کا اجمال یہی ہے ــ'' کا معنی بھی یہی اور یہ کیسے نہ ہو حالانکہ انہوں نے عمداً ایسا کرنے سے ارتداد کا حکم لگایا تو نماز کے باقی رہنے کا کیا معنی! اوریہ نہایت ہی واضح ہے۔(ت)
پنجم ضاد و دال میں فرق صفات کا ذکر لغو و فضول اور محل بحث سے یکسر معزول،متقد مین کا مسلک معلوم ہے کہ اُن کے یہاں تشابہ و عدم تشابہ پر اصلاً نظر نہیں اور متاخرین قرب مخرج یا عسر تمیز پر لحاظ کرتے ہیں صفات سے انہیں بھی بحث نہیں ،نہ صفات خواہی نہ خواہی آسانی تمیز کو مستلزم ،نہ اُن کا تشارک دشواری پر حاکم ط مہملہ دال مہملہ سے سوائے اطباق کے کچھ فرق نہیں اور فرق تمیز کی آسانی مبین اورتائے مثناۃ سے متعدد صفات میں تباین تام اور دشواری فصل منصوص اعلام ، ط مجہورہ ومستعلیہ مطبقہ قلقلہ ہے ادرت مہموسہ مستفلہ منضحہ بے قلقلہ خانیہ و خلاصہ و حلیہ وہندیہ و ردالمختاروغیرہا میں ہے:
ان کان لا یمکن الفصل بین الحرفین الا بمشقۃ کالطاء مع التاء۱؎۔الخ
اگر دو۲ حرفوں کے درمیان مشقت کے بغیر امتیاز ممکن نہ ہو جیسے طاء اور تء الخ(ت)
قال الرمانی وغیرہ لولا الاطباق لصارت الطاء دالالانہ لیس بینھما فرق الا الاطباق۔۲؎
رمانی وغیرہ نے کہا کہ اگر اطباق نہ ہو تو طاء دال ہو جائے گی اس لئے کہ اطباق کے علاوہ ان دونوں کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں۔(ت)
(۲؎ المنح الفکریہ شرح المقد مۃ الجزریۃ مطلب بیان ان الاسنان علی اربعۃ اقسام مطبوعہ تجارت الکتب حاملی محلہ بمبئی ص ۱۵)
ششم: فتوی ندوی کا قول کہ ضاد ودال دو حروف متغایرالمعنی عجیب ، الفاظ متغایر المعنی ہیں اگر مسمی مراد تو ان کے لئے معنی کہاں ،بھلا بتائیے تو کہ مجرد حرف ض کے کیا معنی ہوئے ،اور اگر اسماء مقصود یعنی حدود دال تو نہ دو حرف نہ اُن میں مقال ،شاید یہ کہنا چاہا اور کہنا نہ آیا کہ ض و د دو حرف جداگانہ ہیں، کسی کلمے میں اُن کاتغیر معنی کے لئے مستلزم تغایر، یہ معنی فی البطن اگر مقصود بھی ہوں تو اوّلاً اطلاق ممنوع ، ثانیاً ہر تغیر میں تغییر بحدِ فساد مدفوع ،دیکھو ضالین و دالین میں کس قدر تغایر معنی ہے مگر محقق حلبی نے تغیر نہ مانا
وھذا ببداھتہ غنی عن ابانۃ
(یہ بات بدیہی ہونے کی وجہ سے محتاج بیان نہیں۔ت)
ہفتم: دونوں حرفوں میں تغایر صوت ہر گز سب کے لئے سہولت تمییز کو مستلزم نہیں ح،خ کی آوازیں کتنی جدا ہیں مگر ترک کو ان میں تمیز سخت دشوار۔غنیـہ میں ہے:
ذکر محمد بن الفضل فی فتاواہ ان الترک لایمکنہ اقامۃ الحاء الا بمشقۃ ۳؎الخ۔
محمد بن فضل نے اپنے فتاوٰی میں تحریر کیا کہ ترک لوگوں کے لئے حاء کی ادائیگی مشقت کے بغیر ممکن نہیں الخ(ت)
(۳؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۲-۴۸۱)
ان سے زیادہ ہمزہ و ق کی آوازوں کا تباین ہے مگر علامہ شامی فرماتے ہیں ہمارے زمانے کے عوام پر اُن میں تمیز کمال مشکل ہے۔ردالمحتار میں ہے:
فی التتار خانیۃ اذالم یکن بین الحرفین اتحاد المخرج ولاقربہ الا انہ فیہ بلوی العامۃ کالذال مکان الصاد والظاء مکان الضاد لاتفسد عند بعض المشائخ اھ قلت فینبغی علی ھذا عدم الفساد فی ابدال القاف ھمزۃ کما ھو لغۃ عوام زماننافانھم لا یمیزون بینھما ویصعب علیھم جدا کالذال مع الزاء وھذا کلہ قول المتاخرین ۱؎ اھ باختصار
تتار خانیہ میں ہے جب دو حرفوں کے درمیان اتحادِ مخرج نہ ہو اور نہ ہی قرب مخرج ہو مگر اس صورت میں ضرورت عامہ ہو مثلاً صاد کی جگہ ذال یا ضاد کی جگہ ظاء پڑھا تو بعض مشائخ کے نزدیک نماز فاسد نہ ہوگی اھ میں کہتاہوں اس بناء پر قاف کو ہمزہ کے ساتھ بدلنے میں جیسا کہ ہمارے زمانے کے عوام کی زبان ہے بھی فساد نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ ان دونوں کے درمیان امتیاز نہیں کرسکتے جیسے ذال اور زاء کے درمیان فرق کرنا ان پر نہایت ہی دشوار و مشکل ہے،یہ تمام متاخرین کے قو ل پر ہے اھ باختصار(ت)
ان عبارات سے واضح ہُوا کہ دشواری تمیز میں ہرقوم کے لئے اُس کاحال معتبر ہے۔ قرب مخرج یا تشابہ وغیرہ کچھ ضرور نہیں ،تو عوام ہند اگر ض و د میں تمیز پر قادر نہیں تو وہ اُن کے لئے اسی مشقت فصل کی فصل میں ہیں جس میں ض و ظ و ت ، ط کا شمار ہوا اب عبارت شامی منقولہ،فتوی ندوہ اور اس کے مثل تمام عبارات بحث سے محض بیگانہ بلکہ استناد کرنے والوں کے صریح خلاف مراد ہوں گی اور دالین پر بطور متاخرین حکمِ جواز دیا جائے گا اورقصداً مغظوب پڑھنے والے پر باتفاق متقدمین و متاخرین حکم بطلانِ نماز۔
ہشتم: یہاں تک مدارک ابنائے عصر پر کلام تھا مگر جانِ برادر عربی عبارت میں "مِنْ ، عَلٰی ،فِیْ "کا ترجمہ سمجھ لینا اور بات ہے اور مقاصد و مراد ومرام علمائے اعلام تک رسائی او ر ؎
ایں سعادت بزورِ بازو نیست تانہ بخشد خدائے بخشندہ
مشقت جس سے فتوی ندوہ نے استناد کیا اس بحث سوال سے اصلاً متعلق ہی نہیں علماء کا وہ قول صورت خطا وزلّت میں ہے کہ لغزش زبان سے باوصف قدرت ایک حرف کی جگہ دوسرا نکل جائے اور یہاں صاف صورت عجز ہے کہ یہ ظالین یا اس کے مشابہ دالین پڑھنے والے ہرگز ادائے "ض" پرقادر نہیں جس طرح خزانۃ الاکمل و حلیہ کی عبارت گزری کہ
ان السنۃ الاکراد واھل السواد والاتراک غیر طائعۃ فی مخارج ھذہ الحروف۱؎۔
کرد، عراقی ،ترک لوگوں کی زبانیں ان حروف کی ادائیگی پر قادر نہیں۔(ت)
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
فتاوٰی امام قاضی خان وغیرہ کی عبارت اوپر گزری کہ اس قول کو
اذااخطأ بذکر حرف مکان حرف۲؎۔
(یعنی اگر ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف خطاءً زبان سے نکل گیا ۔ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فی قرأۃ القرآن خطاءً الخ مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ، ۱/۶۸)
میں ذکر فرمایا اب محقق علی الاطلاق کا ارشاد اجل و اجلی سنیے، فتح میں فرماتے ہیں:
اما الحروف فاذاوضع حرفا مکان غیرہ فاماخطأ واماعجزا فالاول ان لم یغیر المعنی لاتفسد و ان غیرفسدت فالعبرۃ فی عدم الفساد عدم تغیر المعنی، وحاصل ھذا ان کان الفصل بلا مشقۃ تفسد وان کان بمشقۃ قیل تفسد واکثرھم لا تفسد ھذاعلی رأی ھو لاء المشائخ ، ثم لم تنضبط فروعھم فاورد فی الخلاصۃ ما ظاھرہ التنافی للمتامل فالاولی قول المتقدمین والثانی وھوالاقامۃ عجزا کالحمدﷲ الرحمٰن الرحیم بالھاء فیھااعوذ بالمھملۃ الصمد بالسین ان کان یجھداللیل والنھار فی تصحیحہ ولا یقدر فصلٰوتہ جائزۃ ولوترک جھدہ ففاسدۃ ولایسعہ ان یترک فی باقی عمرہ اھ مختصرا۱؎۔
رہا معاملہ حروف کا، توجب ایک حرف کو کسی دوسرے حرف کی جگہ رکھ دیا جائے تو یہ خطاءً ہوگا یا عجزاً، پہلی صورت میں اگرمعنی نہیں بدلا تو نماز فاسد نہیں ہوگی اور اگر معنی بدل گیا ہو تو نماز فاسد ہوجائے گی ، پس نماز کے عدمِ فسا د میں معنی کے تبدیل نہ ہونے کا اعتبار ہے اس کلام کا حاصل یہ ہے کہ اگر حروف میں امتیاز بغیر مشقت کے ممکن ہو تو نماز فاسد ہوگی ، اور اگر اس میں مشقت ہو تو بعض نے کہا نماز فاسد ہوگی لیکن اکثر کے نزدیک فاسد نہ ہوگی یہ ان مشائخ کی رائے کے مطابق ہے، پھر ان کی تمام فروعات و جزئیات کو منضبط نہیں ۔ پس خلاصہ میں ایسی چیز کو وارد کیا گیاہے جو بظاہر صاحب غور وفکر کے ہاں منافی ہے ، پس متقدمین کا قول اولٰی ہے اور دوسری صورت کہ یہ عمل عجزاً ہو مثلاً الحمدﷲ ، الرحمٰن الرحیم میں "ھا"کے ساتھ ،اعوذمیں دال کے ساتھ اور الصمدمیں سین کے ساتھ پڑھتا ہے،اس صورت میں اگر اس نے تصحیح کے لئے شب وروز محنت کی اور قادر نہ ہوسکا تو اسکی نماز درست ہوگی اور جدو جہد ترک کردی تو نماز فاسد ہوگی اور اس کے لئے باقی عمر میں جدوجہد ترک کرنے کی گنجائش نہیں۔اھ اختصارًا(ت)
(۱؎ فتح القدیر شرح ہدایہ فصل فی القرأۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۲۸۱)
دیکھو خطا و عجز کو صاف دو صورتیں متقابل قرار دیا اور وہ فرق مشقت کا قول صرف صورت خطا میں ذکر کیا صورتِ عجز میں اس تفرقے کا اصلاً نام نہ لیا بلکہ س و ص ود و ذ کی مثالوں سے صرف متشابہ الصوت و غیر متشابہ دونوں کا یکساں حکم ہونا صراحۃً ظاہر فرما دیا تو بحالت عجز مغضوب مغذوب بلکہ بالفرض مغکوب مغموب سب کو قطعاً ایک حکم شامل اور حرف و دو حرف کا فرق باطل۔
نہم مانا کہ نہ ظاء طائفہ جدیدہ کی قصدیت پر نظر ہوئی نہ دال عوام پر نہ اقوالِ علماء میں فرق عجز و خطا وغیرہ پر اور باتباع بعض علمائے متاخرین ارشاد اقدس اصل ائمہ مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہم مصحح ومختار جمہور محققین بھی پسند نہ آیا ،یہ سب مسلّم مگر متاخرین کا صرف ایک ہی قول تفرقہ مشقت نہ تھا متعدد اقوال تھے ازانجملہ امام قاضی ابوعاصم و امام محمد ابن مقاتل و امام اسمٰعیل زاہد وغیرہم اکابراماجد کا قول بہت قوّت تھا جس پر امام زاہد نے فتوٰی دیا،امام محسن و صاحبِ خزانۃ الاکمل نے احسن کہا،خزانۃ الفتاوٰی وحلیہ وغیرہما میں مختار بتایا،وجیز کردری و ہندیہ وغیرہما میں اعتدال الاقاویل فرمایا کہ یہ سب عبارات زیرِ امر چہارم گزریں یعنی اگر خطاءً ایک حرف کی جگہ دوسرا زبان سے نکل گیا یا تمیز نہیں جانتا تو نماز فاسد نہیں، اس قول میں مشقت وغیرہ کا کچھ تفرقہ نہ تھا صرف خطاءً یا عدم تمیز پر حکم ہے اس تقدیر پر واجب تھا کہ ظ و د کا ایک حال ہو اور بحال عدم تعمد صحت نماز پر فتوٰی دیا جائے کون سی فقہی نظر موجب ہوئی کہ قولِ متاخرین ہی لینا تھا تو یہ قول جلیل نہ لیا جائے حالانکہ اس کی قوت جلیلہ ،شانے دارد،پھر جس مصلحت کے لئے قول ائمہ متقدمین سے عدول ہوا یعنی عوام پرآسانی ، وہ بھی اسی میں اتم وازید ، ہاں اگر منظور ہی یہ ہو کہ وہابیہ غیر مقلدین ندوی کے برادران معظمین کی نماز میں درستی پائیں اور عوام اہلسنت کی نمازیں برباد ہوجائیں،اس لئے وہ قول تفرقہ اختیار کیا تو اختیار ہے۔
دہم: بلکہ یہاں ایک اور قول باقوّت تھا جسے امام ابوالقاسم صفار و امام محمد سلمہ وغیرہما اجلّہ ائمہ نے اختیار فرمایا اور بہت مشائخ نے اُس پر فتوی دیا کہ نظر عموم بلوی پر ہے جہاں ابتلائے عام ہو صحت پر فتوٰی دیں گے اسی شامی میں یہیں تھا:
وفی التاتار خانیۃ عن الحاوی حکی عن الصفار انہ کان یقول الخطاء اذا دخل فی الحروف لایفسد لان فیہ بلوی عامۃ الناس لانھم لایقیمون الحروف الابمشقۃ اھ وفیھا اذالم یکن بین الحرفین اتحاد المخرج ولاقربہ الاان فیہ بلوی العامۃ لا تفسد عند بعض المشائخ ۱؎ اھ مختصرا وقد مر تمامہ ۔
تاتار خانیہ میں حاوی سے منقول ہے کہ امام صفار کہا کرتے تھے کہ حروف میں خطا ہوجائے تو نماز فاسد نہیں ہوتی کیونکہ اس میں عوام الناس کو شدید ضرورت ہے کیونکہ وہ مشقت کے بغیر ان حروف کو ادا نہیں کرسکتے اھ، اسی میں ہے جب دوحرفوں کے درمیان اتحاد مخرج اور قرب مخرج نہ ہو البتہ اس میں عموم بلوی ہو تو بعض مشائخ کے ہاں نماز فاسد نہ ہوگی اھ اختصارا اور تمام عبارت پیچھے گزر چکی ہے۔(ت)
حلیہ میں ہے:
قال بعضھم لاتفسد منھم ابوالقاسم الصفار ومحمد بن وسلمۃ وکثیر من المشائخ افتوابہ لعموم البلوی فان العوام لا یعرفون مخارج الحروف ۲؎
۔(۲؎ حلیۃ المحلی منیۃ المصلی)
بعض علماء نے کہا کہ نماز فاسد نہیں ہوگی ،انہی میں شیخ ابوالقاسم الصفار اورمحمد بن سلمہ ہیں،اور کثیر مشائخ نے ضروریاتِ عامہ کی بنا پر اسی پرفتوٰی دیا ہے کیونکہ عوام مخارج حروف سے واقفیت نہیں رکھتے۔(ت)
ا س قول پر تو صراحۃً عکس مراد ہوتا تھا۔ یہاں ظ خاص طائفہ قلیلہ ذلیلہ وہابیہ پڑھتے ہیں اور د یا مشابہ د میں عام ابتلا خود انہیں فتووں سے سائل نے نقل کیاکہ ایک بلا عام اس زمانے میں یہ ہوگئی ہے کہ ض کو بصورت د پڑھتے ہیں اب تو لازم تھا کہ ان ظائیوں ندویوں کے بھائیوں کی نماز فاسد کرتے اور عامہ عوام کی نماز صحیح
الحمد ﷲ تلک عشرۃ کاملۃ وقدبقی خبایافی زاویا لو لا ان السائل اوصی بالاجمال لاتینابھا
(تمام تعریف اﷲ تعالٰی کے لئے ہے یہ دس۱۰ کامل دلائل مکمل ہیں، ابھی کچھ دلائل خفا کے گوشے میں رہ گئے ہیں اگر سائل نے اجمالاً لکھنے کا نہ کہا ہوتا توہم ان کا بھی تذکرہ کردیتے ۔ت) یہاں تک ان فتووں کی حالتیں ظاہر ہو گئیں اور یہ بھی کہ وہ اس طائفہ حادثہ کو مفید اصلاً نہیں ،امور مسئولہ میں صرف اس کا جواب رہا کہ یہ نزاع خاص اس حرف میں کیوں ہے جہل اور عوام اہلسنت کے جہلا کا علم ض کا دشوار ترین حروف ہونا تو ظاہر ادا نہ ہوسکنے میں وُہ علما اور یہ جہلا برابرمگر فرق یہ ہے کہ ہمارے عوام نے معاذاﷲ کلام اﷲ وتحریف حرف منزل من اﷲ کا قصد نہ کیا ، وہ یہی چاہتے ہیں کہ جو حرف یہاں اﷲ عزّو جل نے اتارا ہے اسی کو پڑھیں اُسی کا ارادہ کرتے اُسی کی نیّت رکھتے اور اپنے زعم میں یہی سمجھتے کہ یہ حرف جہاں تک ہم سے ادا ہوسکتا ہے اس کی یہی آواز ہے۔مگر علمائے وہابیہ کو کہاں تاب کہ عجز و جہل کے طعنے سمجھیں ، دقّتوں دشواریوں کی کشاکش میں رہیں وہاں تو مذہب کی بنا ہی آرام پروری ہے۔تراویح کی آٹھ ، وتر کی ایک رکعت میں قسمت سے انھیں اوروں کے قو ل مل گئے ورنہ اصل مقصود ہی آرامِ نفس ہے۔ جاڑا لگتا ہے تیمم کرلو ، جماع میں انزال نہ ہو غسل نہ کرو، سال دو سال عورت کی خبر نہ آئے عورت کا نکاح کردو ،تین طلاقیں ایک جلسہ میں کہیں بے حلالہ سمجھو، چھ چیز کے سوا سب میں سود روا ،خون ومردار وغیرہ دو ایک چیزیں ناپاک،باقی تمام اشیاء حتی کہ شراب بھی طاہر ۔بے باک رفع ضرورت کو زنا سے خود اپنی بیٹی رضاعی، بھتیجی، سوتیلی خالہ سب حلال بلکہ سگی پھوپھی کے لئے بھی یہی خیال ۔انتہائے آرام طلبی یہ کہ وضو میں سر سے عمامہ دشوار اوپر ہی سے مسح کرلو، مولٰی سبحٰنہ تعالٰی نے وامسحوا رؤ سکم فرمایاتم بعمامتکم سمجھو، وہ تو وہ مشکل یہ ہے کہ ہاتھوں کے لئے حکمِ غسل آیا اور ان کے دھونے سے آستین دھونا دشوار تر کہ پہنچے بھی بھیگے اور کپڑا بھی تر، ورنہ انہیں ایدیکم کی جگہ آستینکم بنالینا کیا دشوارتھا ،یہاں ایک غیر مقلد صاحب کا قول تھا صاحبو تم نے تہجد میں آپ دشواریاں لگالی ہیں ہماری تو جاڑے میں جب آنکھ کُھلی تکیے پر ہاتھ مار کر منہ پر پھیر لئے اور چارپائی پر بیٹھے بیٹھے دو۲ رکعتیں پڑھیں اور لحاف میں دُبک رہے۔مسلمانو کریمہ''لم تجد واماء''کے معنی سمجھے یعنی جب چارپائی پر رکھا ہوا گھڑا نہ ملے تو تکیہ پر ہاتھ مار لو اگر چہ نام کو مٹی نہ غبار، نہ تکیہ دار کو مرض نہ آزار،
ولا حول ولا قوۃ الّا باﷲ الواحد القہار۔یوں بھی جبکہ وہ قصدی تحریف ہے اور یہ عجز یا جہل یا خطا کی تصحیف ،تو وہی احق بالانکار ہے اور عوام کا ان کے علماء سے اعلم ہونا واضح آشکار ، اصل اس قدر ہے،آگے افراط وتفریط واجب الحذر ۔ یہ جواب امور مسئولہ ہے اور اس مسئلہ خاص میں حق تحقیق حقیق بالقبول و عطر تنقیح اکابر فحول یہ ہے کہ مولٰی عزوجل وتبارک و تعالٰی نے قرآنِ عظیم اتارا اور ہمیں بحمداﷲ اس کے نظم و معنی دونوں سے متعبد کیا ہر مسلمان پر حق ہے کہ اُسے جیسا اترا ویسا ہی اداکرے، حرف کی آواز بدلنے میں بیشمار جگہ الفاظ مہمل رہتے یا معنی کچھ سے کچھ ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ معاذاﷲ کفر واسلام کا فرق ہوجاتا ،آواز صحیح سے جو معنی تھے ایمان تھے اور بدلنے پر جو پیدا ہوئے ان کا اعتقاد صریح کفر تو معاذاﷲ وہ کلام اﷲ کیونکر ہوا،آجکل یہاں عوام بلکہ کثیر بلکہ اکثر خواص نے اس امر خطیر میں مداہنت و بے پروائی اپنا شعار کرلی فقیر نے بگوشِ خود مولوی صاحبوں ، اصحابِ وعظ ودرس وفتوٰی کو خاص پنچایت میں برملا پڑھتے سناقل ھو اﷲ اھدحالانکہ ہرگز نہ اﷲ نے اھدفرمایا نہ امینِ وحی علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے اھد پہنچایانہ صاحب قرآن صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اھد پڑھایا پھر یہ قرآن کیونکر ہوا،احدکے معنی ایک اکیلاشریک و نظیر سے پاک نرالا اور اھدکے معنی معاذاﷲ بزدل کمزور
فی القاموس الاھد الجبان زادفی تاج العروس الضعیف۱؎
(قاموس میں ہے الاھد بزدل، تاج العروس میں کمزور کا اضافہ کیا ہے۔ت)
(۱؎ تاج العروس شرح قاموس فصل الھاء من باب الدال مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۵۴۴)