Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
74 - 185
سوم:قطع نظر اس سے کہ دال ومشابہ دال میں فرق بدیہی دعوٰی میں یہ تھا اور سند میں وہ۔اور قطع نظر اس سے عبارتِ خلاصہ میں اگر دال مہملہ ہے تو مستدل کے صریح خلاف،اور معجمہ ہے تو مہملہ کا ذکر اصلاً نہیں ،تو سند دعوٰی سے بے علاقہ صاف ، ہمیں عبارت قاضی خان سے بحث کرنی ہے جس سے فتوٰی ندوہ نے بھی استناد کیا اس عبارت میں دال و ذال کے صرف اسماء لکھے ہیں انھیں صفت مہملہ و معجمہ سے مقید نہ فرمایا اور نقول خصوصاً مطابع میں نقاط کا تغیر کوئی نئی بات نہیں مگر علامہ محقق ابرہیم حلبی نے غنیـہ شرح منیہ اورعلامہ محقق مولانا علی قاری مکی نےمنح فکریہ مقدمہ جزریہ میں یہی عبارت قاضی خان بتصریح اہمال و اعجام نقل فرمائی جس میں صراحۃً مذکور کہ ضالین کی جگہ دالین بہ دال مہملہ پڑھے تو نماز نہ جائیگی اور ذالین بہ ذال معجمہ پڑھے تو جاتی رہے گی ، اول نے فرمایا ہے:
ھذا فصل وھو ابدال احد ھذہ الاحرف الثلٰثۃ اعنی الضاد والظاء والذال من غیرہ فلنور دماذکر ہ فی فتاوٰی قاضی خان من ھذہ القبیل قرأ ولاالضالین بالظاء المعجمۃ والدال المھملۃ لاتفسدلوجود لفظھما فی القراٰن وقرب المعنی ولوقرأبالذال المعجمۃ تفسد لبعد معناہ ۱؎ملتقطا۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ ان تین حروف یعنی ضاد،ظاء اور ذال کو کسی دوسرے حرف سے تبدیل کر کے پڑھنا اس سلسلہ میں فتاوٰی قاضی خان میں جو کچھ بیان ہوا اس کا عنقریب ہم تذکرہ کرتے ہیں اگر ضالین کی جگہ ظالین اعجاما یا دالین اہمالا پڑھا تو نمازفاسد نہ ہوگی کیونکہ ان دونوں کا وجود قرآن میں ہے اور معنی بھی قریب ہی ہے اور اگر ذالین ذال کےساتھ پڑھا تو نماز فاسد ہوگی کیونکہ اس کے معنی میں بُعد ہے ملخصاً(ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی احکام زلۃ القاری        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۴۷۸)
ثانی نے فرمایا:
فی فتاوی قاضی خان ان قرأغیرالمغضوب بالظاء اوبالدال المھملۃ لا تفسد ولو بالذال المعجمۃ تفسد ۲؎۔
فی فتاوی قاضی خان ان قرأغیرالمغضوب بالظاء اوبالدال تفسد صلاتہ ولا الضالین با الظاء المعجمۃ او الدال المہملۃ لا تفسد ولو بالذال المعجمۃ تفسد ۲؎۔
فتاوٰی قاضی خان میں ہے اگر کسی نے غیرالمغضوب کو ظاء یا دال کے ساتھ پڑھا تو نمازفاسد ہوجائے گی اور ولا الضالین کو ظاء یا دال کے ساتھ پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوجائے گی اور اگر ذال کے ساتھ پڑھاتو نماز فاسد ہو جائے گی ۔(ت)
 (۲؎ المنح الفکریۃ شرح مقدمہ جزریۃ    باب التحذیرات       مطبوعہ تجارت الکتب بمبئی        ص۴۳)
اب اس سے استناد کرنے والے دیکھیں کہ عبارت قاضی خان ان دونوں اکابر کی نقل پر اُن کے صریح مخالف و عکس مراد ہے،ندوے کا دارالافتاء اپنا مبلغ علم دکھائے ورنہ تحقیق بالغ وتنقیح بازغ کے لئے بحمداﷲ تعالٰی فقیر کا رسالہ نعم الزاد ہے۔

چہارم: ض و ط میں دشواری تمیز اس طائفہ حادثہ کا اصلاً مفید نہیں وہ ایک گروہِ متاخرین کے نزدیک ہنگام لغزش، و خطاسبیل آسانی ہے نہ کہ معاذاﷲقصداً بتبدیل کلام اﷲ کی دستاویز جو بالقصد مغضوب کی جگہ مغظوب، مغذوب، مغزوب پڑھے اُس کی نماز بلا شبہہ فاسد اور وہ پڑھنے والے مغضوب ومفسد،تو یہ سب فتوٰی اس کے حق میں بیکار و نامؤید ۔علامہ طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں فرماتے ہیں۔
محل الاختلاف فی الخطأ والنسیان اما فی العمد فتفسد بہ مطلقا بالاتفاق اذا کان ممایفسدالصلاۃ اما اذکان ثناء فلا یفسد ولوتعمد ذلک افادہ ابن امیرالحاج۳؎۔
محلِ اختلاف خطاء ونسیان کی صورت میں ہے،رہا عمداً کا معاملہ تو اس صورت میں مطلقاً بالاتفاق نماز فاسد ہوگی بشرطیکہ وہ ایسی قرأت میں ہو جس سے نماز فاسد ہوسکتی ہو اور اگرایسا معاملہ ثناء میں ہوا تو نماز فاسدنہ ہوگی اگرچہ عمداً ہوابن امیر الحاج نے اس طرح بیان کیا ہے۔(ت)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی     باب ما یفسد الصلوٰۃ        مطبوعہ نور محمد کتب خانہ        ص۱۸۶)
حلیہ میں ہے:
ثم ما سنذکرمن الخلاف من المتقدمین والمتاخرین فی ھذا علی مافی الخانیۃ ینبغی ان یکون محلہ ما اذالم یتعمد فتنبہ لہ۱؎۔
پھر اس مسئلہ میں متقدمین و متاخرین کا جو اختلاف خانیہ کے حوالے سے بیان کریں گے اس کا محل و مقام اسی صورت میں ہے جو عمداً نہ ہو ، تو اس پر توجّہ کرو(ت)
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
پانچویں فتوی کی عبارت سوال میں مذکور ،اس میں تو صراحۃً تعمد ظ پر حکم فساد مسطور ، پھر اُسے مفید سمجھنا کس قدر عقل و فہم سے دور، اس خاص جزئیہ کی عبارتیں بکثرت ہیں ، حلیہ میں خزانۃ الفتاوی وغیرہا سے منقول :
  غیر المغضوب بالظاء والظلمین بالذال اوبالضاد قال بعضھم لا تفسد، ھم ابوالقاسم الصفار ومحمدبن سلمۃ وکثیر من المشائخ افتوابہ لعموم البلوی فان العوام لا یعرفون مخارج الحروف وقال الامام ابوالمحسن والقاضی الامام ابوعاصم ان تعمد ذلک تفسد وان جری علی لسانہ اولم یکن ممن یمیزبین الحرفین لاتفسد وھوالمختار۲؎۔
اگرغیرالمغضوب کوظاء کے ساتھ ،الظالمین کوذال یا ضاد کے ساتھ پڑھا تو علماء کی رائے یہ ہے کہ نماز فاسدنہ ہوگی ان کے اسماء یہ ہیں ابوالقاسم الصفار، محمد بن سملہ اور متعدد مشائخ نے عموم بلوی کی وجہ سے اسی پر فتوی دیا ہے کیونکہ عوام مخارجِ حروف سے آگاہ نہیں ہوتے اور امام ابوالمحسن اور قاضی امام ابوالعاصم نے کہا اگرایسا عمداً کیاتو نماز فاسد ہوگی اور اگر زبان پر ازخود جاری ہوگیا تو دونوں حروف میں امتیاز کرنے والا نہیں تو نماز فاسد نہ ہوگی اور یہی مختار ہے(ت)
 (۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
اسی میں خز ا نۃ الاکمل سے ہے:
اذاقرأ مکان الظاء ضادااومکان الضاد ظاء فقال القاضی المحسن الاحسن ان یقال ان تعمد ذلک تبطل صلاتہ عالما کان اوجاھلا امالوکان مخطئا ارادالصواب فجری ھذا علی لسانہ اولم یکن ممن یمیز بین الحرفین فظن انہ ادی الکلمۃ کما ھی فغلط جازت صلٰوتہ وھو قول محمد بن مقاتل وبہ کان یفتی الشیخ اسمٰعیل الزاھد وھو احسن لان السنۃ الاکراد واھل السواد والاتراک غیرطائعۃ فی مخارج والظاھر ان ھذامجمل ما فی جمیع الفتاوٰی ۱؎۔
جب کسی نے ظاء جگہ کی ضاد یا ضاد کی جگہ ظاء پڑھا تو قاضی محسن نے کہا احسن یہ ہے کہ اگر اس نے عمداً ایسا کیا تو کہا جائے کہ نماز باطل ہے خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، لیکن اگر خطاءً  ایسا ہوا یعنی درست پڑھنے کا ارادہ تھا مگر زبان پر ازخود جاری ہوگیا یا وہ دونوں حرفوں میں امتیاز نہ کرنے والا ہو اور اس کا گما ن یہی ہو کہ اس نے کلمہ صحیح ادا کیا ہے لیکن درحقیقت غلط تھا تو اس کی نماز ہوجائیگی۔یہی محمد بن مقاتل کا قول ہے اورشیخ اسمٰعیل الزاہدنے اسی پر فتوی دیا ہے اور یہی احسن ہے کیونکہ کرد،عراقی اورترکی لوگوں کی زبانیں ان حروف کی صحیح ادائیگی پر قادر نہیں اور اس میں بہت تنگی ہے، اور ظاہر یہی ہے کہ تمام فتاوٰی جات کی گفتگو کا اجمال بھی یہی ہے۔(ت)
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
اقول انما یشیر الی اطلاق الفساد فی العمد انہ مطمح انظارھم جمیعا والا فاطلاق عدمہ فی الخطاء لایمکن ان یحمل علیہ ما فی جمیع الفتاوی فان منہم من یفصل بعسر الفصل ومنھم من یفرق بقرب مخرج۔
میں کہتا ہوں یہ جو مطلقاً فساد کی طرف اشارہ ہے یہ قصد کی صورت میں ہے کیونکہ ان تمام کی آراء کی مطمح یہی ہے ورنہ خطا کی صورت میں عدمِ فساد کا اطلاق ہوگا اور اس پر ان کے کلام کو محمول نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بعض ان میں سے عسرِ امتیاز کے ساتھ اور بعض قربِ مخرج کی بناء پر فرق کرتے ہیں۔(ت)
منیہ میں ہے:
اما اذاقرأمکان الذال ظاء اومکان الضاد ظاء اوعلی القلب فتفسد صلٰوتہ وعیلہ اکثرالائمۃ وروی عن محمد بن سلمۃ رحمۃ اﷲ تعالٰی انھا لاتفسد لان العجم لایمیزون بین ھذہ الحروف وکان القاضی الامام الشھید المحسن یقول الاحسن فیہ ان یقول ان جری علی لسانہ ولم یکن ممیزاوفی زعمہ انہ ادی الکلمۃ علی وجھھا لا تفسد و کذا روی عن محمد بن مقائل والشیخ الامام اسماعیل الزاہد ۲؎۔
جب کسی نے ذال کی جگہ ظاء یاضاد کی ظاء یا اس کا عکس کیاتو اسکی نماز فاسد ہوجائیگی ،اور اکثر ائمہ اسی پر ہیں محمد بن سلمہ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے مروی ہے کہ نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ عجمی لوگ ان حروف میں امتیاز نہیں کرسکتے ،اور قاضی امام الشہید المحسن فرمایا کرتے تھے کہ احسن یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ اگر زبان پر اس طرح ازخودجاری ہوگیا۔اور وہ امتیازکرنےوالا نہ تھا اور اس کا گمان یہی تھا اس کلمہ کو صحیح طور پر ادا کیا ہے تو نماز فاسد نہ ہوگی،محمد بن مقائل اور شیخ اسمٰعیل الزاہد سے بھی اسی طرح مروی ہے۔(ت)
 (۲؎ منیۃ المصلی     فصل فی زلۃ القاری         مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامع نظامیہ رضویہ لاہور        ص۴۴۱)
بزازیہ میں دربارہ مغظوب ذالین وظالین ہے:
قال القاضی ابوالمحسن والقاضی ابو عاصم ان تعمد فسد وان جری علی لسانہ اوکان لا یعرف التمیز لایفسد وھواعدل الاقاویل وھوالمختار۲؎۔
قاضی ابوالحسن اورقاضی ابو عاصم نے کہا کہ اگر ایسا عمداً کیا تو نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر زبان پر از خود اس طرح ہوگیا یا وہ امتیاز نہ کر سکتا تھا تو نماز فاسد نہ ہوگی اور یہ تمام اقوال میں معتدل ہے اور یہی مختار ہے۔(ت)
 (۲؎ فتاوی بزازیہ علٰی حاشیۃ فتاوٰی ہندیۃ فصل فی زلۃ القاری    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور             ۴/۴۲)
Flag Counter