Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
73 - 185
الجام الصّاد عن سُنن الضّاد

(ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
مسئلہ نمبر ۴۷۷: ازدربھنگہ محلہ اسمٰعیل گنج ڈاک خانہ لہریا سرائے مرسلہ مولوی محمد ٰیسین صاحب

۱۰ جمادی الاخری ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ ان اطراف بنگالہ وغیرہ میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوئے ہیں کہ ض معجمہ کو قصداً ظ یاذ بلکہ ز معجمات پڑھتے ہیں اور اسی کا دوسروں کو امر کرتے ہیں اور عام عوام ہندوستان میں جس طرح یہ حرف ادا کیا جاتا ہے جس سے بوئے دال مہملہ پیدا ہوتی ہے اُس سے نماز مطلقاً فاسد و باطل بتاتے ہیں اور اپنے دعووں کی سند میں اہل ندوہ وغیرہ ہندیان زمانہ کے چھ ۶ فتوے دکھاتے ہیں جن کا خلاصہ کلام و محصل مرام نماز میں ض کو مشابہ د مہملہ پڑھنے پرحکم ِ فساد اوراس پر ان دو وجہ سے استناد ہے: اوّلاً: فی فتاوٰی قاضی خان:
ولو قرأالظآلین بالظاء وبالذال لاتفسد صلاتہ ولوقرأ الدالین بالدال تفسد۱؎۔
اگر الضآلین کو الظآلین یا الذآلین پڑھا جائے تو نماز فاسد نہ ہوگی اگر دآلین میں دال کے ساتھ پڑھا تو فاسد ہوجائے گی۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان     فصل فی قرأۃ القرآن خطاء الخ    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ        ۱/۶۹)
ثانیا: ضاد  مشابہ ظا کے ، نہ دال کے ، میان ضاد ودال کے صفتوں کا فرق ہے جب ضادو دال میں صوتاً تغایر ہے تو فصل اُن میں بلا مشقت ممکن۔

فتوٰی ندوہ کی عبارت یوُں ہے: ایسی صورت میں نماز فاسد ہوجائے گی کہ ضاد ودال دو حرف متغایر المعنٰی ہیں جن میں امتیاز بلا مشقت ممکن اور ایسی صورت میں فقہاء فسادِنماز کو لکھتے ہیں شامی کہتے ہیں:
  اذا ذکر حرفا مکان حرف وغیرالمعنی ان امکن الفصل بینھما بلا مشقۃ تفسد والایمکن الا بمشقۃ کالظاء مع الضاد قال اکثرھم لاتفسد۱؎۔(ملخصاً)
جب کسی حرف کی جگہ دوسرا بولا جائے اور معنی بدل جائے اگر ان کے درمیان امتیاز بغیر مشقت ممکن نہ ہو جیسا کہ ظا اورضاد کا معاملہ ہے، تو اکثر علماء نے کہا ہے کہ نماز فاسد نہ ہوگی۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار، مطلب مسائل زلۃ القاری،  مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۶۸)
پانچ فتووں کا حاصل تو صرف اسقدر ہے اور ایک یعنی پانچویں میں اتنا بیان اورہے کہ ظآلین پڑھنا بھی غلط ہے لیکن چونکہ ان میں تشابہ صوتی ہے اور امتیاز متعسر اکثر فقہاء کے نزدیک نماز فاسد نہیں ہوتی لیکن تعمد یہاں بھی مفسد ہے، یہی مذہب مختار ہے
کما فی البزازیۃ
(جیساکہ بزازیہ میں ہے ۔ت) ان فتووں کا کیا حال ہے اور یہ ان لوگوں کے موافق وموید ہیں یا نہیں، اور جولوگ ض ہی کا قصد کریں اورض سمجھ کر پڑھیں مگر بوجہ عدم قدرت صاف ادا نہ ہو اور سننے میں دال سے مشابہ ہو تو ان کی نماز ہوگی یا نہیں ؟ اور جو قصداً ض کو ز پڑھے اُس کی نماز کا کیاحکم ہے؟ اور ہنگام تغیر حرف و تفاوت معنی میں جو حکم فساد ہے وہ صرف ض و د و ظ ہی خاص ہے یا باقی حروف مثل (ا،ع،ت،ط،س،ث،ص،ح،ہ) کو بھی عام ہے اگر عام ہے تو آج کل یہ جھگڑا اسی حرف میں کیوں ہے جواب مختصر ہو کہ عوام مطول کو نہیں پڑھتے ۔بینواتو جروا۔
الجواب

اللھم ھدایۃ الحق والصواب

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

الحمد ﷲ الذی نزہ سبیل الرشاد عن تحریف کل صاد ، وعد بالعذاب من حاد وضاد والصلٰوۃ والسلام علی الکریم الجواد علی مولی العباد مولی المراد واٰلہ الاسیادوصحبہ الا مجاد ما اھملت الصاد واعجمت الضاد ،
کشف صواب وایضاح جواب کو چند مجمل جملےملحوظ ہیں:

اوّل:ض ظ ذ  ز معجمات سب حروف متبائنہ متغائرہ ہیں ان میں کسی دوسرے سے تلاوت قرآن میں قصداً بدلنا اس کی جگہ اسے پڑھنا نماز میں خواہ بیرونِ نماز حرام قطعی و گناہِ عظیم ،افتراء علی اﷲ و تحریفِ کتابِ کریم ہے۔ فقیر نے اپنے رسالہ نعم الزاد لروم الضاداس پر دلائل قاہرہ باہرہ قائم کئے ہیں یہاں تک کہ امام اجل ابوبکر محمد بن الفضل فضلی وامام برہان الدین محمود صاحبِ ذخیرہ وغیرہ وعلامہ علی قاری مکی رحم اﷲ تعالٰی تصریح فرماتے ہیں کہ جو قصداً ض کی جگہ ظ پڑھے کافر ہے ،محیط برہانی میں ہے:
سئل الامام الفضلی عمن یقرأ الظاء المعجمہ مکان الضاد المعجمۃ اوعلٰی العکس فقال لایجوزامامۃ ولو تعمد یکفر۱؎۔(ملخصا)
امام فضلی سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے ضاد کی جگہ ظا یا ظا کی جگہ ضاد پڑھا تو فرمایا اس کی امامت جا ئزنہیں اور اگر اس نے قصداً ایسا کیا تو یہ کفر ہے۔ (ت)
 (۱؎ منح الروض الازہر شرح فقہ اکبر     بحوالہ محیط فصل فی القرأۃ والصلوٰۃ     مطبوعہ مطبع قیومی کانپور        ص۲۰۵)
منح الروض الازہر میں ہے :
امّاکون تعمدہ کفر فلاکلام فیہ ۲؎
 (عمداً ایسا کرنا کفر ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ت)
 (۲؎ منح الروض الازہر شرح فقہ اکبر     فصل فی القرأۃ والصلوٰۃ        مطبوعہ مطبع قیومی کانپور        ص۲۰۵)
عالمگیری میں ض کی جگہ زعمداً پڑھنے کو کفر لکھا :
حیث قال سئل عمن یقرأ الزاء مقام الضاد وقرأ اصحاب الجنۃ مقام اصحٰب النار قال لایجوز امامتہ ولو تعمد یکفر۳؎اھ فی النسخۃ الھندیۃ الضاد المعجمۃ وفی المصریۃ الصاد وکلا ھما محتمل والحکم واحد لایتبدل۔
عبارت یہ ہے سوال یہ کیا گیا کہ کوئی ضاد کی جگہ زااور اصحٰب النارکی جگہ اصحب الجنۃپڑھے توکیاحکم ہے؟ فرمایا اس کی امامت جائز نہیں اور اگر اس نے ایسا عمداً  کیا تو اسے کافر قرار دیا جائے گا اھ اس فتاوٰی کے ہندوستانی نسخہ میں ضاد اورمصری میں صاد ہے اور ان دونوں کا احتمال ہے حکم ایک ہی ہوگا اس میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔(ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ        الباب التاسع فی احکام المرتدین    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/۲۸۱)
اس طائفہ حادثہ کا حکم تو یہیں سے ظاہر ہوگیا۔

دوم: قاری سے بے قصد تبدیل اگرض مشابہ د بلکہ عین د ہُوا تو اس پر مطلقاً فسادِ نماز کا حکم غلط و فاسد ہے،عبارت امام قاضی میں اگر ذکر ہے تو صرف ایک لفظ کا نہ کہ بر بنائے تباین صوت و سہولت تمیز ، حکم مطلق ،حنفیہ کرام کا اصل مذہب یعنی مذہب مہذب امام محمد رضی اﷲ عنہ کہ جماہیر محققین نے اُسی کی تصحیح کی اُس پر اعتماد فرمایا ،خود واضح وآشکار کہ اس میں صرف اصلاح و فساد معنی پر بنائے کار تو جہاں ض کی جگہ د پڑھ جانے سے معنی نہ بگڑ یں فساد ہر گز نہ ہوگا
مثل افید وابتضمین معنی المن والانعام فی قولہ تعالٰی افیضوا علینا من الماء ومثل اکواب مود وعۃ موضع موضوعۃ ورادیۃ مردیۃ مکان راضیۃ مرضیۃ کما بیناہ فی نعم الزاد۔
جیسا کہ اﷲ تعالٰی کے ارشاد گرامی افیضواعلینا من الماء میں افیضواکی جگہ افیدواجواحسان و انعام کے معنی پر مشتمل ہے اور اکواب موضوعۃکی جگہ اکواب مودعۃ اور راضیۃ مرضیۃ کی جگہ رادیۃ مردیۃپڑھناجس پر تفصیلی گفتگو ہم نعم الزاد میں کرچکے ہیں۔(ت)

یہ علمائے متاخرین کہ عوام کی ہرآسانی کے لئے عسر و یسر تمیز کا لحاظ رکھتے ہیں کیا آسانی تمیز کی حالت میں مطلقاً حکم فساد دیں گے اگر چہ معنی معتبر نہ ہوں یہ اصل مذہب سے آسانی ہوئی یا اور شدت وگرانی نہیں،ان کاحکم قطعاً اس صورت میں مقصود جہاں معنی بگڑیں اور ان حرفوں میں تمیز آسان ہو ،دیکھنے والے اگر کلمات علما پرنظر رکھتے اس امر کے نصوص واضح ملتے، یہی امام اجل قاضی خان اپنے اس فتاوٰی میں فرماتے ہیں:
اذااخطأ بذکر حرف مکان حر ف کلمۃ ولم یتغیر المعنی بان قرأ ان المسلمون ان الظالمون وما اشبہ ذلک لم تفسد صلٰوتہ لانہ لا یغیر المعنی ، وان ذکر حرفا مکان حرف وغیرالمعنی فان امکن الفصل بین الحرفین من غیر مشقۃ کالطاء مع الصاد فقرأ الطالحات مکان الصلحٰت تفسد صلٰوتہ عند الکل، وان کان لایمکن الفصل بین الحرفین الا بمشقۃ قال اکثرھم لاتفسد صلوتہ ۱؎ اھ مختصرا
جب خطا ءً ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف ایک کلمہ میں پڑھ دیا لیکن معنی میں تبدیلی واقع نہ ہوئی مثلاً ان المسلمون اوران الظالمون اسی کی طرح دیگر مقامات ،تو نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ اس سے معنی متغیر نہیں ہوتا اور اگر ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھنے سے معنی میں تبدیلی آجائے تو اگر دونوں حروف کے درمیان بغیر مشقت کے امتیاز ممکن تھا جیسے طا اور صاد یعنی صالحات کی جگہ طالحات پڑھا تو تمام کے نزدیک اس کی نماز فاسد ہوجائیگی اور اگر دونوں حرفوں کے درمیان مشقت کے بغیر امتیاز ممکن نہ تھا تو اکثر علماء کا قول یہی ہے کہ نماز فاسد نہ ہوگی اھ اختصارا۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان     فصل فی قرأۃ القرآن خطاء الخ    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ    ۱/۶۸)
اسی طرح فتاوی ہندیہ میں فتاوٰی خانیہ سے منقول، ابن امیر الحاج حلیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں:
فی الخانیۃ والخلاصۃ انہ ان لم یتغیر المعنی جاز مطلقا وان تغیر المعنی فان لم یشق التمییز بین الحرفین فسدت عند الکل وان شق فاکثرھم لاتفسد۲؎۔
خانیہ اورخلاصہ میں ہے اگر معنی میں تبدیلی نہیں آئی تو نماز (مطلقاً) ہر حال میں جائز ،اور اگرمعنی میں تبدیلی آجائے تو اب ان دونوں حروف کے درمیان امتیاز مشکل نہیں تو تمام کے نزدیک نماز فاسد ،اور اگر امتیاز میں مشقت ہے تو اکثر کے نزدیک فاسد نہ ہوگی۔(ت)
 (۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
Flag Counter