Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
72 - 185
اقول: وباﷲ التوفیق بتحقیقنا ھذا ظھرلک انخساف مازعم بعض النحاۃ وھو ابن الاعرابی الکوفی حیث کان یقول جائز فی کلام  العرب ان یعاقبوا بین الضاد والظاء ،فلایخطیئ من یجعل ھذہ فی موضع ھٰذہ، وینشد ؎

           ''الی اﷲ   اشکو    من  خلیل      اودّہ

   	ثلث خلال کلھا لی غائض بالضاد''۔

ویقول :ھکذاسمعتہ من فصحاء العرب۱؎ ۔
اقول: ( میں کہتا ہوں) اﷲ تعالٰی کی توفیق و عنایت سے جو ہم نے تحقیق کی ہے اس سے ایک نحوی ابن الاعرابی کوفی کے اس قول کی کمزوری بھی واضح ہوجاتی ہے جو اس نے کہا تھا کہ ضاد اور ظاء کو ایک دوسرے کی جگہ کلامِ عرب میں پڑھا جا سکتا ہے تو جو ایک کی جگہ دوسرے کو پڑھ دے اسے خطاوار نہیں کہا جائیگا اور اس نے یہ شعر پڑھا: ؎ 

اﷲ کے ہاں یہی میری شکایت ہے اپنے محبوب دوست کی تین عادتوں کی، جو مجھے نا پسند ہیں۔ 

(اس شعر میں غائض ضاد کے ساتھ ہے)

اور یونہی میں نے فصحاء عرب سے سُنا ہے ،
 (۱؎ وفیات الاعیان    ترجمہ محمدبن زیادابن الاعرابی ۶۳۳    مطبوعہ دارالثقافۃ       بیروت        ۴/۳۰۷)
نقلہ ابن خلکان فی وفیات الاعیان و ذلک لانہ لوکان مازعمہ صحیحا لما حکم ائمۃ الفقۃ وھم ماھم فی جمیع فنون العربیۃ وغیرھا من العلوم الدینیۃ بفساد الصلٰوۃ فی غیر المغضوب وامثالہ مما یفسد بہ المعنی، ولما فرقوا بینہ وبین ضنین وظنین فاین  ھذا  ممامر عن الحلیۃ عن الخزانۃ عن الائمۃ ان  فی جمیع القرآن  تفسد بہ  الصلٰوۃ ما خلاضنین ، ومن سوغ  فانما  نظر الی التیسیر علی العوام  لانہ صحیح  فی فصیح  الکلام ،اما البیت  فلا حجۃ لہ فیہ فقد یکون  من  غاضہ  اذا  نقصہ قال الاسود بن  یعفر؎

              اما ترینی    قدفنیت وغاضنی

   	ما نیل من بصری ومن اجلادی

قال فی تاج العروس معناہ نقصنی بعد تمامی وھذا ابن الاعرابی قد انشد بنفسہ ؎

                 ولو قد عض معطسہ جریری 

                    لقد    لانت عریکتہ وغاضا

وفسرہ فقال اثرنی انفہ حتی یذل وقد قال ابن سیدہ فی ذلک البیت  یجوز  عندی ان یکون غائض غیر بدل ولکنہ من غاضہ ای نقصہ ویکون معناہ حینئذ انہ ینقصننی ویتھضمنی ۱؎ نقلھافی التاج ایضا وعن ھذاحکم علماؤنابعدم الفساد فیما لو قرأ لیغیض بھم الکفار بالضاد مکان الظاء۲؎ کما فی الخانیۃ،
اسے ابن خلکان نے وفیات الاعیان میں نقل کیا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ اگر ان کا قول درست ہوتا تو یہ تمام ائمہ فقہ جو علومِ دینیہ اور فنون عربیہ کے ماہر ہیں غیر المغضوب اور اس جیسے دیگر الفاظ جن میں فسادِ معنی لازم آتا ہے سے نماز فاسد ہونے کاحکم جاری نہ کرتے اور ضنین و ظنین اورمذکورہ لفظ کے درمیان فرق نہ کرتے ، یہ اس میں سے کہا ہے حلیہ سے خزانہ سے ائمہ کے حوالے سے گزرا کہ ضنین کے علاوہ تمام قرآن میں (جب فسادِ معنی ہو) تو نماز فاسد ہوجائیگی ،اور جن لوگوں نے اسے جائز قرار دیا تھا انہوں نے عوام پرآسانی کی خاطر ایسا کیا یہ نہیں کہ ایسا کرنا فی الواقع فصیح کلام میں صحیح ہے، رہا معاملہ شعر کا وہ اس سلسلہ میں ان کی حجت نہیں بن سکتا تو کبھی یہ غاضہ سے آتا ہے اس وقت اس کا معنی نقص ہوتا ہے چنانچہ اسود بن یعفرنے کہا کیا تُو دیکھتی نہیں کہ میں فنا ہوچکا ہوں اور میری آنکھوں اور اعضاء کے عوارض نے مجھے ناقص کر دیا ہے۔ تاج العروس میں ہے :اس کا معنی یہ ہے اس نے مجھے کمال تک پہنچنے کے بعد ناقص کردیا ،اور اس ابن اعرابی نے خو د یہ شعر کہا:

اگر جریری نے اس کی ناک کو کاٹا ہے تو ضرور اس کی ناک ہڈی نرم اور ناقص ہوگی۔

اور اسکی شرح کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اس کی ناک کو داغدار کردیا حتٰی کہ وہ ذلیل ہو گیا۔اور ابن سیدہ نے اس(پہلے) شعر کے متعلق کہا کہ اس میں''غائض'' غا،ظ،ط سے نہیں بدلا بلکہ وہ غاض سے ہے جس کا معنی نقص ہے، لہذا  اب معنی یوں ہوگا اس نے مجھے ناقص کردیا ،اس کو تاج العروس نے بھی نقل کیا ہے ،اور اسی بناء پر ہمارے علماء نے فرمایا کہ اگر کسی نے لیغیظ بھم الکفار میں ظاء کی جگہ ضاد پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی ،
جیسا کہ خانیہ میں ہے۔
 (۱؎ تاج العروس            فصل العین من باب الضاد        مطبوعہ احیاء التراث العربی            ۵/۶۵- ۶۴)

(۲؎ فتاوٰی قاضی خان             فصل فی قراء ۃ القرآن خطائ        مطبوعہ نولکشور لکھنؤ                ۱/۶۸)
قال فی الغنیۃ لان معناہ مناسب ای لینقص بھم الکفار ۳؎اھ وکذاقال فی قولہ تعالٰی قل موتوا بغیظکم۴؎ وبالجملۃ فالفقہ لایوخذ من قول نحوی خالف نصوص الائمۃ بل الانصاف عند من نوراﷲ بصیرتہ تقدیم قولھم علی اقوال النحاۃ فی العربیۃ ایضا فان الاجتھادلا یتاتی الا لمتصلح منھا مقذوف فی قلبہ نور الالھی فاعرف ذلک فانہ نفیس مھم آرے مارا  انکار نیست کہ درکلام عرب معاقبہ میان ض و ظ اصلاً نیامدہ کلمات عدیدہ بہر دو حرف وارد شدہ چوں عض الحرب والزمان وعظ الزمان جنگ گزید وگزد رسانید وتماضوا و تماظوا باہم بجنگ افتاد ندوبریک دگر زبان گفتن کشادند وفاض فلاں وفاظ مرد و بظ الضارب اوتارہ وبض چنگ زن اوتار را برائے زدن جنبانید و مہیا نمود و تقریظ وتقریض مدح کردن و بیض وبیظ خایہ مور وبظرو بضر خروسہ الٰی غیر ذلک مماعداہ ابن مالک فی کتاب الاعتضاد فی معرفۃ الظاء والضاد اما ایں معنی مستلزم آں نباشدکہ ہرجا ابدال روا بود چنانکہ میان لام و راجاہا معاقبہ است ،
غنیۃ میں ہے کہ اس کا معنی مناسب ہی رہتا ہے یعنی ان سے کافروں میں نقص و اضطراب ہو اھ او ر اسی طرح اﷲ تعالٰی کے ارشاد گرامی۔قل موتوا بغیظکم میں کہا، بالجملہ دین و فقہ کا مسئلہ نحوی کے ایسے قول سے نہیں لیا جاسکتا جو ائمہ کی تصریحات کے خلاف ہو، بلکہ ہر شخص جسے اﷲ نے نورِ بصیرت سے نوازا ہے وُہ ائمہ کے اقوال کو فنون عربیہ میں بھی نحاۃ کے اقوال پر مقدم رکھے گا کیونکہ اجتہاد وہ کرسکتا ہے جس میں اسکی کامل صلاحیت ہو اور اسکا دل نورِ الٰہی سے پُر ہو اسے اچھی طرح محفوظ کرلو کیونکہ یہ نہایت ہی اہم اور قیمتی تحقیق ہے، البتہ ہمیں اس بات سے ہرگز انکار نہیں کہ کلامِ عرب میں ضاد اور ظا ایک دوسرے کی جگہ آہی نہیں سکتے بہت سے کلمات ان دونوں حروف کے ساتھ وارد ہیں مثلاً عض الحرب والزمان وعظّ زمان(دونوں کا معنی یہ ہے کہ جنگ نے کاٹا اور تکلیف پہنچائی ) تماضوا اورتماظوا  آپس میں جنگ وغیرہ کرنا اور ایک دوسرے پر زبان کھولنا ''فاض فلاں' ' اور ''فاظ'' فلاں فوت ہوا ، بظ الضارب اوتارہ اور بض صاحبِ موسیقی کا تار کو بجانے کے لئے حرکت دینا ۔تقریظ اور تقریض تعریف کرنا ۔بیض اور بیظ مور کا انڈا -بظر وبضر عورت اور شرمگاہ الی غیر ذلک یہ وہ ہیں جنھیں ابن مالک نے ''کتاب الاعتضاد فی معرفۃ الظاوالضاد'' میں شمار کیا ہے ۔لیکن یہ اس بات کو مستلزم نہیں کہ ابدال ہر جگہ جائز ہوگا مثلاً لام اور  را  کئی مقام پر ایک دوسرے کی جگہ آتے ہیں ۔
 (۳؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی زلۃ القاری       مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور     ص۴۷۸)

(۴؎ فتاوٰی قاضی خان             فصل فی قراء ۃ القرآن خطاء        مطبوعہ لکشور لکھنؤ                ۱/۶۹)
در مجمع بحار الانو ار آورد فیہ کان یکرہ تعطر النساء تشبھن بالرجال ارادعطرا یظھر ریحہ کما یظھر عطر الرجل وقیل اراد تعطل النساء باللام وھی من لاحلی علیھا ولاخضاب واللام والراء یتعاقبان ۱؎ وزنہار جائزنبود کہ ہر جا خواہند یکے بجائے دیگر ے خوانند، علماء تصریح فرمودہ اند کہ یوم تبلی السرائر سرائل یا در یوم ترجف الارض والجبال بجائے جبال جبار خواند نماز فاسد شو۲؎ کما فی الخانیۃ والمنیۃ وغیرھما باز ایں جملہ کہ گفتہ آمدیم درخصوص ظائے معجمہ است وحاشاکہ جاہلے وکنیزے و دہقانے از عرب بجائے ض ، د  یا طامہملتین یا ذ  یا  ز  معجمتین بر زباں راند سخن من درعرب خالص است نہ در قومے کہ باعجم مخالطہ شدہ ودر زبان نیز خالط و مالط شدندرجعت قہقری را گہگری گویند وثلثہ عشرراتلتعشر وخذکذا را خدکِدا خدکدا بکسرکاف و دال مہملۃ الٰی غیر ذلک من التغیرات المہملۃ و بابعضے ازا عراب واطرافِ یمن ملاقی شد م کہ ہکذا را ہچامی گفتند ومنک خطاب بانثی رامنچ بجیم فارسی و بعضے دیگر ویدم کہ جیم را کا ف فارسی مسجد را مسگدا وجمال راگمال مے گفتند
مجمع بحار الانور میں ہے کہ اس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خواتین کو خوشبو لگانے اور مردوں کے ساتھ مشابہت کرنے کوناپسند فرماتے تھے ۔ یہاں عطر سے وہ خوشبو مراد ہے جو اس طرح مہکد ار ہو جو مرد لگاتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ لام کے ساتھ را کی جگہ لام ہے یعنی تعطل النساء لام کے ساتھ یعنی عورت کا بغیر زیور اور مہندی کے ہونا مراد ہے کہ لام اور  را  ایک دوسرے کی جگہ مستعمل ہوتے ہیں (یہ اگر چہ جائز ہے) مگر یہ بعض مقام پر جائزنہیں ہوتا کہ جہاں چاہیں ایک کو دوسرے کی جگہ پڑھ لیں ۔علمانے تصریح کی ہے کہ یوم تبلی السرائر کی جگہ سرائل یا یوم ترجف الارض والجبال کی جگہ جبال کی جگہ جبار پڑھنے سے نماز فاسد ہو جائے گی ،جیسا کہ خانیہ اور منیہ وغیرہا میں ہے پھر یہ تمام گفتگو جو میں نے کی ہے یہ صرف ظاء معجمہ کے لئے خاص ہے ہوسکتا ہے کوئی جا ہل ،لونڈی یا دیہاتی از عرب ضاد کی جگہ دال،طا،ذال یا زا اپنی زبان پر جاری کردے کیونکہ ہماری گفتگو عرب خالص میں ہے نہ کہ اس قوم میں جو عجم کے ساتھ ملی ہو او راس کی زبان خلط ملط ہوگئی ہو مثلاً رجعتِ قہقری کی جگہ رجعتِ گہگری اور ثلثہ عشر کی جگہ تلتعشر ،خذکذا کو خد کدِا خد کدا کاف کے کسرہ اور دال کے ساتھ پڑھتے ہیں ان کے علاوہ دیگر بے مقصد و لایعنی تغیرات یاایسے بدوی اور یمنی لوگوں سے ملا ہوں جو ہکذا کوہچامی پڑھتے تھے مونّث کو خطاب کرتے ہیں منک کہ جگہ منچ پڑھتے ہیں ،بعض دیگر ایسے لوگ بھی میں نے دیکھے کہ جیم کو گاف کے ساتھ مثلاً مسگد، جمال کو گمال بولتے ہیں ۔
 (۱؎ مجمع بحارالانوار    لفظ عطر کے تحت مذکور ہے         مطبوعہ مطبع عالی منشی نولکشو لکھنؤ        ۲/۳۹۷)

(۲؎ فتاوٰی قاضی خان    فصل فی قراء ۃ القرآن خطائ        مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ            ۱/۶۸)
قال الرضی الباء التی کالفاء قال السیرفی ھی کثیرۃ فی لغۃالعجم واظن ان العرب انما اخذوا ذلک من العجم لمخالتطھم ایاھم ۱؎ باز اخراج  ز  معجمہ بجائے  ض  خالصاً یا  اشماماً در کلام علماء نقلش از عوام جہالی نیز بیادنیست البتہ بعض عامیاں زماں کہ تشابہ صورت شنیدہ اند بجائے ض ظ بر آور دن مے خواہند وبعض دیگر کہ تحفظ کنند و نتواں چیزے بین الضاد والظاء برمی آرند واولئک امثلھم طریقا نسأل اﷲ ان یرزقنا الحق فی کل باب تحقیقا۔
رضی نے کہا وہ باء جو فاء کی طرح ہے سیرفی کہتا ہے یہ لغت عجم میں کثرت کے ساتھ مستعمل ہے اور میرا گمان ہے کہ عرب نے عجم سے اختلاط کی وجہ سے یہ اخذ کیا ہے  پھر ضاد کی جگہ خالصاً یا اشماماً زا پڑھنے کے بارے میں جاہل لوگوں نے علماء کے کلام سے جو کچھ نقل کیا ہے وہ بھی محفوظ نہیں البتہ جن بعض عوام زمان سے متشابہ صوت سُنا گیا ہے کہ وہ ض کی جگہ ظاء پڑھنا چاہتے ہیں اور بعض دوسرے لوگ ادائیگی کی طاقت نہ رکھتے ہوئے بھی کوشاں رہتے ہیں ضاد اور ظا کے درمیان پڑھتے ہیں یہ لوگ بہتر اور اوسط راہ پر ہیں،ہم اﷲ تعالٰی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہر معاملہ تحقیقی حق پر چلنا نصیب کرے (آمین)
 (۱؎ شرح شافیہ للرضی    صفات الحروف    مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۳/۲۵۶)
بالجملہ  حق واضح ہمیں است کہ ایں ہمہ حروف باھم متبائن است و برہمہ مخرج جدا وابدال ضباہر حرفیکہ باشد مردود و ناروا ایں حرفے است کہ حق جل و علا او  را تنہا آفرید وہیچ حرفے را قرینش نگر دانید و لہذا سیبو گفت ودر صفت لو لا الاطباق فی الصاد لکان سینا وفی الظاء کان ذالا وفی الطاء کان دالاو لخرجت الضاد من الکلام لانہ لیس شیئ من الحروف من موضعھا غیرھا ۱؎نقلہ الرضی وآنکہ ازقاری پانی پتی نقل کردند۔
بالجملہ:  حق واضح یہی ہے کہ تمام حروف آپس میں متبائن اور ان کے مخارج الگ الگ ہیں لہذا ضاد کسی بھی حرف کے ساتھ بدل کر پڑھنا مردود اور ناجائز ہے۔ اس حرف(ضاد) کو اﷲ تعالٰی نے اتنا جدا پیدا کیا ہے کہ کوئی حرف بھی اسکا قریبی نہیں گردانا جاسکتا اسی لئے سیبویہ نے کہا اور خوب کہا اگر صاد میں اطباق نہ ہو تو سین بن جائے ،اگر ظاء میں نہ ہو تو وُہ ذال بن جائے اگر طاء میں نہ ہو تو وہ دال بن جائے اور ضاد کلام سے ہی خارج ہوجائے کیونکہ اس کے متبادل کوئی حرف ہی نہیں اھ اسے رضی نے نقل کیا اورجو انہوں نے قاری پانی پتی سے نقل کیاہے۔
 (۱؎ شرح شافیہ للرضی    صفات الحروف    مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۳/۲۶۲)
اقول:  تحقیق آنست کہ درصفات حروف بعضے صفات لازمہ است کہ فقد انش مستلزم فقدان ذات باشد چنانچہ اطباق در ط وانفتاح در ت او قطعاً واجب المراعاۃست وبعضے نہ چنان ست اگر بجا نیارند ذات حرف درہم نحورد چوں تہوّع در ہمزہ وتفشے  در  ش وھو کما فی المنح انتشار الصوت عند خروجھا حتی تتصل بحروف طرف اللسان منھا مخرج الظاء المشالۃ والحال ان مخرجھا حافۃ اللسان من محاذات وسطہ ۲؎ ۔
اس کے بارے میں کہتا ہوں تحقیقی بات یہ ہے کہ حروف کی صفات میں بعض ایسی صفات لازمہ ہیں جن کے فقدان سے حروف کی ذات کا فقدان لازم آتا ہے مثلاً''طاء'' میں اطباق اور''تاء'' میں انفتاح اس کی رعایت نہایت ضروری ہے اور بعض حروف ایسے نہیں یعنی اگر انھیں ان صفات سے ادا نہ کہا جائے تو ان کی ذات ختم نہیں،مثلاً ہمزہ میں تہوّع اور شین میں تفشی ، یہ وہی ہے جو المنح میں ہے کی اس کے خروج کے وقت آواز کا اس طرح انتشار یہاں تک ہوکہ حروف کے ساتھ طرف لسان متصل ہوجائے ، ایسے حروف میں ظا ء کامخرج بھی ہے حالانکہ اس کا اصل مخرج اس کے محاذاتِ  وسط سے اور حافہ زبان ہے ۔
 (۲؎ المنح الفکریۃ    مطلب بیان الحروف المھموستہ الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر   ص۱۹)
پس مراعات صفات مطلقاً واجب نیست بلکہ از صفات حروف آنست کہ ترکش واجب است وآں صفت تکریر دررائے مخفف مطلقاً و در مثقلہ بیش ازیکبارمعنی ایں صفات دررآنست کہ قابلِ تکرار است نہ آنکہ تکرارش باید بایں معنی بتوفیق اﷲ تعالٰی بخاطرم خطور کردہ بود کہ تصریحش در کلام مولٰنا علی قاری چہرہ کشودحیث قال تحت قول الماتن والرا بتکریر جعل ،معنی قولھم ان الرا مکرر ھو ان الراء لہ قبول التکرار لار تعاد طرف اللسان بہ عند التلفظ کقولھم لغیر الضاحک انسان ضاحک یعنی انہ قابل للضحک وفی جعل اشارۃ الی ذلک ، وتکریرہ الحسن فیجب معرفۃ التحفظ عنہ للتحفظ بہ کمعرفۃ السحر لیتجنب عن تضررہ ولیعرف وجہ رفعہ قال الجعبری وطریقۃ السلامۃ انہ یلصق اللافظ ظھر لسانہ باعلی خنکہ لصقا محکما مرۃ واحدۃ ومتی ارتعد حدث من کل مرۃ راء وقال مکی لابد فی القرأۃ من اخفاء التکریر وقال واجب علی القاری ان یخفی تکریرہ ومتی اظھر فقد جعل من الحرف المشدد حروفا ومن الحرف المشدد حروفا ومن المخفف حرفین ۱؎ اھ ببعض اختصار ودروجوب ادا ازمخرج برمعنی کہ مسلم است جملہ حروف متساویہ الاقدام است ہیچ خصوصیت ض رانیست بلکہ تواں گفت کہ چوں ادائے صادق در  وا عسر از جملہ حروف است حکم وجوب بعارض مشقت دروے بنسبت سائر حروف درد بتخفیف است فان المشقۃ تجلب التیسیر وماضاق امر الاتسع ولایکلف اﷲنفسا الا وسعھا۱؎وما جعل علیکم فی الدین من حرج ۲؎ یرید اﷲ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر۳؎ والحمدﷲ رب العٰلمین آرے خصوصیت ض بوجہ عسر مراودرشدت احتیاج باہتمام درآں تحفظ وتیقظ درادائے آنست۔
پس صفاتِ حروف کی رعایت ہر جگہ لازم نہیں بلکہ بعض حروف کی صفات ایسی ہیں جن کا ترک ضروری ہے اوروُہ رائے مخففہ میں مطلقاً اور راءِ مثقلہ میں ایک بار سے زائد تکرار ہے یعنی را میں اس صفت کی موجودگی کا معنی یہ ہے کہ را قابل تکرار ہے یہ نہیں کہ اس میں تکرار ضروری ہے ،یہ معنی اﷲ تعالٰی کی توفیق سے میرےذہن میں آیا اور اس کی تصریح مولانا علی قاری کے اس کلا م میں ظاہر ہوئی جو انہوں نے ماتن کے قول ''والراء بتکریرجعل'' کے تحت کی ہے کہ قراء کے قول''را میں تکرارہے''کا معنی یہ ہے کہ را تکرار کو قبول کرتا ہے کیونکہ اس کے تلفظ کے وقت طرفِ زبان حرکت کرتی ہے جیساکہ غیر ضاحک کو انسان ضاحک کہا جائے کہ وہ ضحک کے قابل ہے ،اس جعل میں اسی طرف اشارہ ہے اور اس کا تکرار غلط ہے،پس اس کےساتھ تلفظ کے لئے اس سے بچنے کی معرفت ضروری ہے تاکہ غلطی سے بچاجاسکے ،جیسا کہ جادُو کا علم اس لئے حاصل کیا جائے تاکہ اس کے نقصان سے بچاجائے اور اس سے دفاع کی معرفت ہوجائے اور اس کو اٹھایا جاسکے جعبری نے کہا سلامتی کا طریقہ یہ ہے کہ تلفظ کرنے والا اپنی زبان کے اوپر والے حصے کو تالو کے بلند حصے کے ساتھ ایک دفعہ مضبوط طریقہ سے ملائے اب جب وہ حرکت کرے گی تو ہر دفعہ ،را پیداہوگا مکی نے کہا ہے قرأت میں اخفاءِ تکریر ضزوری ہے اور فرما یا قاری پر لازم ہے کہ اس کے تکرار میں اخفاء کرے اور جب اظہار کرے گا تو حرفِ مشددہ میں کئی حروف پیدا کرے گا اور مخففہ میں دو حروف سے کرے اھ اھ یہ عبارت کچھ اختصار کے ساتھ ہے ہر حرف کو اس کے مخرج سے اس طرح ادا کرنے کا وجوب اس معنی پر ہے کہ تمام حروف کا متساوی الاقدام ہونا مسلم ہے اس میں ضاد ہی کی کوئی خصوصیت نہیں بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب اس کی صحیح ادائیگی دیگر حروف کی نسبت زیادہ مشکل ہے تو اس مشقت کے پیشِ نظر دیگر حروف کے اعتبار سے اس کے حکم وجوبی میں تخفیف ہوگی کیونکہ مشقت آسانی لاتی ہے ۔ہرمشکل معاملہ میں گنجائش ہے،اﷲ تعالٰی کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر حکم ِتکلیف نہیں دیتا،اﷲ تعالٰی نے تم پر دین کے معاملے میں تنگی نہیں رکھی ،اﷲ تعالٰی تم پر آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تنگی کا ارادہ نہیں فر ماتا ،اور تمام خوبی اﷲ تعالٰی کے لئے جو تما م جہانوں کارب ہے، ہاں ضاد میں تنگی کی وجہ سے اس کی ادائیگی کے لئے خوب اہتمام اور تحفظ ہونا چاہئے اور ادائیگی میں ہوش سے کام لیا جائے۔(ت)
 (۱؎ المنح الفکریہ شرح المقدمۃ الجزریۃ    مطلب بیان الحروف المہمومۃ الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ص۱۸) 

(۱؎ القرآن    ۲/۲۸۶)

(۲؎ القرآن    ۲۲/۸۷)

(۳؎ القرآن ۲/۱۸۵)
Flag Counter