الجواب
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمد ﷲ الذی انزل علی نبیہ صٓ والصلٰوۃ والسلام علی افصح من نطق بضٓ وعلی اٰلہٖ وصحبہ الذین اقتدوہ وھم لسفر الآخرۃ زاد ،صلی اﷲ تعالٰی وبارک وسلم علیہ وعلیھم وزاد حق جل و علا و تبارک قرآن عظیم بلسان عربی مبین بر نبی عربی قرشی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرستاد برائے تلاوت و استماع و استفاضہ وا نتقاع عباد آں صفت کریمہ قدیمہ خود رابکسوت حروف واصوات تجلی داد سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کما انزل الیہ بصحابہ کرام رسانید وصحابہ بتابعین و تابعین بہ تبع و ہمچناں قرناً بقرناً وطبقۃبطبقۃ ہر ہر حرف و حرکت و صفت و ہیئت براقصی غایات تواتر کہ موفوق آں متصور نیست بما رسید والحمدﷲ العلی المجید وذلک قولہ تعالٰی
انّا نحن نزلنا الذکر وانّا لہ لحٰفظون۱؎۔
(۱؎القرآن ۱۵/۹)
بس بحمداﷲ چنانکہ درہیچ کلمہ از کلمات کریمہ اش اصلامحل توہمے نیست کہ شاید بجائے الحمد الشکر نازل شدہ باشد ہمچناں بمنّت مولٰی عزوجل درہیچ حرفے از حروف طیبہ اش زنہار جائے تردد نیست کہ شاید بحمل لام تعریف میم تعریف بودہ باشدپس بنہجیکہ بیقین قاطع میدانیم کہ ا و ع و ق درزبان عربی جداگانہ است درقرآن عظیم الاوعلا وفلا برمعانی مختلف برہماں وجہ بتیقن جازم می شناسم کہ ض و ظ و د نیز لسانِ عرب سہ حرف متباین است و درفرقان کریم و ضل و ظل و دل بمبدلولات متخالفہ پس ض را ظ یا د خواندن بعینہ بہماں ماند کہ کسے ''ا'' را ع یا ف خواندا دعائے دعائے توارث درادائے بجائے ض سخنے است بس غلط و پر بیمزہ-توارث اگر در علمائے معتمدین قراء ت مقصود،خود باطل و مردود واگر در عوام ہند مراد، ازیں چہ کشادسکتات سورۃ فاتحہ ازصد ہا سال در عامیاں رائج است وجہلہ برائے توجیہ آنہا ہفت نام شیطان دروئے تراشیدہ انددلل ھرب کیوکنع کنس تعلی بعلی بعض دیگر فرمودند مماومصرا،وکذلک کان ینبغی علی مزعومہم شدت تحفظ ایشاں بریںسکتات بیشتر و فزود تراز تحفظ بر واجبات اجماعیہ تجوید مے بینم، وہرکہ مراعات آنہاں نکند ایں ناداں اورا ازتجوید قرآن جاہل و غافل دانند فانظر کیف صارفیھم المعروف منکرا والمنکر معروفا۔ ایں اختراعاتِ باطلہ را حقیقت بیش ازاں نیست کہ ان ھی الا اسماء سمیتموھا۔
تمام حمد اﷲ کے لئے جس نے اپنے نبی پر صٓ (قرآن عظیم روشن عربی زبان میں)نازل کیا اور صلٰوۃ والسلام اس ذات پر جس نے ضٓ کو فصیح زبان سے ادا کیا (قرآن کی تلاوت سب سے اعلٰی فرمائی) اور آپ کی آل واصحاب پر جنہوں نے آپ کی اقتداء کی جبکہ وہ سفر آخرت کے لئے سامان ہیں۔ اﷲ جل جلالہ، رحمتیں ،برکتیں اور سلامتی آپ پر اور ان سب پر نازل فرمائے اور زیادہ کرے ،قرآن عظیم روشن عربی زبان میں اﷲ عزوجل نے اپنے عربی قریشی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر نازل فرمایا اوراسکی تلات و سماعت اور اس سے استفاضہ و نفع کے لئے اﷲ تعالٰی نے اپنی صفت کریمہ قدیمہ کو حروف و تجلی اصوات کا لباس پہنا کر اپنے بندوں کو عنایت فرمایا نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے صحابہ تک قرآن پاک کو اسی طرح پہنچا دیا جس طرح و ہ نازل ہوا تھا ۔صحابہ نے تابعین تک تابعین تبع تا بعین تک، اور اسی طرح ہر دور اور ہر طبقہ میں اس کاحرف ہر حرکت صفت اور ہیئت تواتر کے اعلٰی درجہ کے ساتھ ہم تک منقول ہے اس سے بڑھ کر تواتر کا تصور بھی نہیں ہو سکتا، حمد ہے اﷲ کے لئے جو بلند بزرگی و الا ہے اسی سے متعلق اﷲ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے: ''بلاشبہ ہم نے اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اسکے محافظ ہیں ''۔ الحمدﷲ قرآن مجید کے کلمات میں سے کسی ایک کلمہ کے بارے میں بھی ہر گز کسی قسم کا وہم نہیں کیا جاسکتا کہ شاید الحمد کی جگہ الشکر نازل ہواتھا ، اسی طرح اﷲ تعالٰی کا شکر ہے کہ قرآن کے کسی حرف کے بارے میں کوئی شک و تردد نہیں کہ شاید الف لام کی جگہ تعریف کے لئے میم نازل ہوا تھا ،جس طرح ہمیں قطعی یقین ہے کہ ا،ع،۔ق عربی زبان میں جدا جداحروف ہیں اور قرآن میں الا، علا اور فلا کے الگ الگ مختلف معانی ہیں، اسی طرح ہم اس پر بھی حتمی یقین رکھتے ہیں کہ ض، ظ اور د زبان عرب میں آپس میں متبائن حروف ہیں اور فرقان عظیم میں ضل، ظل اور دل کے معانی مختلف اور متبائن ہیں پس ض کو بعینہ ظ یا د پڑھنا اسی طرح ہے جیسے کوئی الف کو عین یا فا پڑھا کرے باقی اس توارث کا دعوٰی کہ ض کی جگہ دال ہے سخت غلط ہے کیونکہ اس توارث سے مراد قابل ِاعتماد قراء کا مقصود ہو تو یہ از خود باطل و مردود عوامِ ہند کا توارث ہے تو اس سے مقصد کیسے حاصل ہو سکتا ہے ! عوام کا حال تو یہ ہے کہ صد ہا سال سے سورۃ فاتحہ میں سات سکتے رائج ہیں اور جاہل ان کی توجیہ میں سات شیاطین کانام لیتے ہیں دلل،حرب، کیو، کنع کنس، تعلی، بعلی ، اور بعض ان دو ناموں مما اور مصرا کا اضافہ کرتے ہیں انکے زعم پر انہیں یونہی مناسب نظر آیا اپنے غلط زعم کے مطابق ان سات سکتات کا تحفط تجوید کے اجماعی واجبات سے بڑھ کر کرتے ہیں، اور جو ان کی پابندی نہیں کرتا یہ بے وقوف اسے تجوید قرآن سے جاہل اور غافل قرار دیتے ہیں آپ غور سے دیکھیں کیسے عوام کے ہاں معروف منکر اور منکر معروف بن چکا ہے ۔ ان خرافاتِ باطلہ کی کوئی حقیقت اس سے زیادہ نہیں کہ یہ ان کے خود ساختہ نام اورتصورات ہیں،
علماء ایں سکتاتِ باطلہ راتقبیح کردہ اند و بطلان آنہا تصریح ،علامہ ابراہیم حلبی در غنیۃ المستملی فرماید قال فی فتاوی الحجۃ ،المصلی اذا بلغ فی الفاتحۃ ایاک نعبد و ایاک نستعین لا ینبغی ان یقف علی قولہ ایاک ثم یقول نعبد وانما الاولی والاصح ان یصل ایاک نعبد وایاک نستعین انتھٰی فلا اعتبار بمن یفعل ذلک السکت من الجہال المتفقھین بغیر علم اھ ۱؎
اہلِ علم نے ان باطل سکتوں کی سخت تقبیح کی ہے اور ان کے باطل ہونے کی تصریح کی ہے علّامہ ابراہیم حلبی غنیۃ المستملی میں فرماتے ہیں فتاوی الحجہ میں ہے۔کہ جب نمازی فاتحہ میں ایاک نعبد وایاک نستعین پرپہنچے تو یہ نہ کرے کہ ایاک پررک جائے پھر نعبد کہے بلکہ اولٰی اور اصح یہی ہے کہ ایاک نعبد و ایاک نستعین کومتصل پڑھے انتہٰی اگر بعض جاہل ان پڑ ھ لوگ بغیر کسی دلیل کے سکتہ کرتے ہیں تو ان کا ہر گز اعتبار نہیں کیا جائے گا اھ۔
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۸۱)
علامہ علی قاری علیہ رحمۃ الباری درمنحۃالفکریہ بعد ایراد عبارت فتاوی الحجۃ مے فرمایند اقول ومااشتھر علی لسان بعض الجھلۃ من القراٰن فی سورۃ الفاتحۃ للشیطان کذا من الاسماء فی مثل ھذہ التراکیب من البناء فخطاء فاحش و اطلاق قبیح ثم سکتھم عن نحو دال الحمد وکاف ایاک وامثالھا غلط صریح ۲؎ علامہ محمد بن عمر بن خالد قرشی حنفی در رد ایں مزعوم رسالہ مستقلہ نوشت کما ذکرہ کشف الظنون فی ذکر الرسائل ۔
علامہ علی قاری علیہ الرحمۃ الباری منحۃالفکریہ میں فتاوی الحجہ کی عبارت ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں میں کہتا ہوں بعض جاہل لوگوں کی زبان پر یہ جو مشہور ہے کہ قرآن کی سورۃ فاتحہ میں اس ترکیب سے شیطان کے نام ہیں ، یہ بات صراحۃً غلط ہے اور اسکا قبیح پر اطلاق ہے، اور پھر ان کے سکتوں سے مراد الحمد کی" د "اور ایاک کی "کاف" ہے اور ان کی مثل دوسرے مقامات ہیں جو نہایت ہی غلط اور باطل ہیں علامہ محمد بن عمر بن خالد قرشی حنفی اس باطل خیال کے رد میں ایک مستقل رسالہ لکھا جس کا ذکر صاحبِ کشف الظنون نے رسائل میں کیا ہے ۔
(۲؎ منح الفکریہ شرح المقد مۃ الجزریہ بیان الوقف علی رؤس الایۃ سنۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۶۳)
من فقیر در عنفوان امر خودم پیش از وقوف بریں کلمات ایں سکتات باطلہ را ابطال می کردم و منشاء اختراع آنہامی دانم کہ اگر غرابت سخن مانع نبودے بقلم می سپردم ،علماء کہ اختلاف السنہ ناس در ادائے ض بیان فرمودہ اندحاشا مرادنہ آنست کہ ایں طریق ادا قرآءِ عرب است بلکہ مقصود بیان غلط و خطائے عوام در ادائے ایں حرف و تبنیہ بر بطلان وتحذیر ازآن ست، عبارت مولانا قاری در شرح مقدمہ جزریہ زیر قول ماتن ،والضاد باستطالۃ و مخرج میزمن الظاء وکلہاتجی::فی الظعن ظل ظھرعظم الحفظ ::ایقظ وأنظر عظم ظھر اللفظ چنان ست قدانفرد الضاد بالا ستطالۃ حتی تتصل بمخرج اللام لما فیہ من قوۃ الجھروالاطباق والاستعلاء ولیس فی الحروف مایعسر علی اللسان مثلہ وألسنۃ الناس فیہ مختلفۃ فمنھم من یخرجہ ظاء ومنھم من یخرجہ دالا مھملۃ او معجمۃ ومنھم من یخرجہ طاء مھملۃ کالمصریین ومنھم من یشمہ ذالا ومنھم من یشیر بھا بالظاء المعجمۃ لکن لماکان تمییزہ عن الظاء مشکلا بالنسبۃ الی غیرہ امرالناظم بتمییزہ عنہ نطقا ثم بین ماجاء فی القراٰن بالظاء لفظاً۱؎ الخ
فقیر نے اپنے ابتدائی دور میں علماء کے مذکورہ ارشادات پر اطلاع نہ ہونے کے باوجود ان سکتوں کا رَد کیا اور ان خرافات کے منشاء سے بھی آگاہی حاصل ہے اگر غرابتِ سخن مانع نہ ہوتی تو میں اسے احاطہ تحریر میں ضرور لاتا۔علماء نے ضاد کی ادائیگی میں لوگوں کی مختلف زبانوں کا جو تذکرہ کیا ہے اس سے مراد یہ ہر گز نہیں ہے کہ قراءِ عرب کی ادائیگی کا یہ طریقہ ہے بلکہ اس سے مقصود صرف اسی حرف کی ادائیگی کے بارے میں عوام کی خطا اور غلطی کی نشان دہی کرنا ہے اور اس کے بطلان پر تنبیہ اور اس سے پرہیز پر متوجہ کرنا ہےعبارت ملا علی قاری شرح مقدمہ جزریہ میں ماتن کے اس قول ''ضاد میں استطالہ ہے اور اسکا مخرج ظا سے الگ ہے اور ظا ان تمام میں ہے:ظعن،ظل، ظہر،عظم الحفظ:: ایقظ ،انظر، عظم، ظہراللفظ:: کے تحت یوں ہے کہ ضاد استطالہ میں منفرد ہے حتی کہ وہ لام کے مخرج کے ساتھ متصل ہے کیونکہ اس میں قوتِ جہر، اطباق اور استعلاء پایا جاتا ہے اورحروف میں کوئی حرف ایسا نہیں جس کی ادائیگی ضاد کی طرح مشکل ہو اس کی ادائیگی میں لوگوں کی زبان مختلف ہے بعض اسے ظا اور بعض دال یا ذال کے مخرج سے اور بعض طا کے مخرج سے پڑھتے ہیں جیسے مصری لوگ ، اور بعض اسے ذال کی بو دیتے ہیں بعض ظا سے ملاکر پڑھ دیتے ہیں لیکن چونکہ اس کا امتیاز دیگر حروف کی بنسبت ظا سے مشکل ہے اس لئے ناظم (ماتن) نے صراحۃً اس سے ممتاز کرنے کی بات کی ،پھر وہ مقامات بیان کئے جہاں قرآن مجید میں ظاء لفظاً استعمال ہوا ہے الخ
(۱؎ منح الفکریہ شرح المقدمۃ الجزریۃ مطلب ادغام المتجانسین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۳۸)
ایں شدّت تحفّظ علما است بر تمایز حروف و آنچنانکہ امام ناظم رحمہ اﷲ تعالٰی کلمات قرآنیہ واردہ بظائے معجمہ راضبط فرمودہ تابدانند کہ ایں حرف بقرآن عظیم درہمیں مواداست وآنچہ غیراینہاست ہمہ بضاد است ہمچنان فاضل ادیب حریری درمقامہ حلبیہ عامہ لغات عرب وارادہ بظا رامظبوط نمود جائیکہ فرمود۔ایّھا السّائلی عن الضّاد والظّاء:: لکیلا تضلّہ الالفاظ:: اِنَّ حفظ الظّاء آت یغنیک فاسمعھا استماع امرئٍ لہ استیقاظ ۱؎ غیرطائفۃ فی مخارج ھذہ الحروف وفی ذلک حرج عظیم والظاہر ان ھذا مجمل مافی جمیع الفتاوی باز فرمود۔
یہ شدّت حروف کے امتیاز کے تحفظ پر علماء کے کاربند ہونے کے لئے ہے اور وہ جو امام ناظم رحمہ اﷲ تعالٰی نے کلماتِ قرآنی ذکر کر دئے ہیں جن میں ظاہے تاکہ ہر کوئی جان لے کے قرآن کریم میں ظا کے ساتھ یہی کلمات ہیں اور ان کے علاوہ میں ضاد ہے اسی طرح فاضل ادیب حریری نے مقامہ حلبیہ میں ظا کے الفاظ عربی ذکر کرتے ہوئے کہا جس جگہ کہا اے ضاد اور ظا کے بارے میں پوچھنے والے تاکہ الفاظ میں خلط ملط نہ ہو، اگر تو ظاء کے تمام مقامات محفوظ کرے تو بے نیاز ہوجائیگا پس اب تو انھیں غور سے سن جس طرح ایک بیدار آدمی سنتا ہے ۔ایک گروہ نے ان حروف کے مخارج میں تغیر و تبدل کیا ہے اور اس میں حرج عظیم ہے اور ظاہر یہ ہے کہ تمام فتاوٰی کا اجمال یہی ہے،
ثم فی الخزانۃ ایضالو قرء ولاالضآلین بالظاء فسدت صلٰوتہ وعلیہ اکثر الائمۃ منھم ابو مطیع ومحمد بن مقاتل ومحمد بن سلام وعبداﷲ بن الازھری وعلی ھذالقیاس فی جمیع القراٰن ولو قرأ بالظاء مکان الضاد تفسد صلاتہ الا فی قولہ تعالٰی وماھو علی الغیب بضنین بالظاء والضاد فھما قرأ تان ۲؎۔ ببیں چہ قدر نصوص روشن است کہ ایں تبدیلہا از کج مج زبانی ہائے کُردیاں و ترکیاں و دہقانیان کوفہ وغیرہم عوام و اعجام است ولہٰذا اکثر علماء متاخرین کہ درمحفل مشقت روبہ تیسیر کردہ اند ایں تر خیص راہم بحق عامیاں مقصود داشتند بازحکم جمہور ائمہ نظرکن کہ بریں ابدال ہنگام فساد معنی حکم بفساد نماز فرمودند وہمیں است مذہب ائمہ ثلاثہ سیدنا الامام الاعظم و امام ابی یوسف و امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین علی خلاف بینھم فی ما اذاکان مثلہ فی القراٰن اولا کما فصلہ فی الغنیۃ باحسن تفصیل فاﷲ یجزیہ الجزاء الجلیل ۔
پھر فرمایا کہ خزانہ میں بھی ہے اگر ولاالضالین میں ظاء پڑھی تو نماز فاسد ہوجائے گی اکثر ائمہ اسی پر ہیں ان میں ابو مطیع، محمد بن مقائل، محمد بن سلام،عبداﷲ بن الازھری بھی ہیں اسی پر قیاس کرتے ہوئے کہا کہ تمام قرآن میں ضاد کہ جگہ اگر ظاء پڑھی تو نماز فاسد ہوجائے گی البتہ اﷲ تعالٰی کا قول وما ھو علی الغیب بضنین مستثنٰی ہے کیونکہ اس میں ظااور ضاد دونوں کے ساتھ دو قرائتیں آئی ہیں آپ نے دیکھا کس قدر واضح تصریحات ہیں کہ یہ تبدیلی کُرد،ترک اورکوفہ کے بادیہ نشین وغیرہ عام اور عجمی لوگوں کی زبانیں گڈ مڈ ہونے کی وجہ سے ہے ، یہی وجہ ہے کہ اکثر علمائے متاخرین جو مشقت کے مقام پرآسانی کی طرف گئے ہیں انھوں نے بھی اس رخصت کو عوام کے حق میں جائز رکھا ہے پھر جمہور ائمہ کا حکم دیکھو انھوں نے اس تبدیلی پر فساد معنی کے وقت فساد نماز کا حکم دیا ہے اور یہی مذہب ائمہ ثلاثہ سیّدناامام اعظم،امام ابویوسف اورامام محمد رضی اﷲ تعالی علیہم اجمعین کا ہے اس اختلاف کے ساتھ کہ اس کی مثل قرآن مجید میں ہے یا نہیں اس کی پُوری اور عمدہ تفصیل غنیہ میں ہے پس اﷲ تعالٰی انھیں جزائے خیر عطا فرمائے ۔
(۳؎ خزاتۃ)
درخانیہ و خلاصہ و بزازیہ و غنیہ و حلیۃ و خزانۃ المفتین وغیرہا کتب معتمدہ مذہب بکثرت فروع ایں تبدیلہا است کہ دروے حکم بفساد نماز دادہ اندمن شاء فلیراجعھا فان فی نقلھا طولا کبیرا۔ وخودعلامہ قاری در شرح جزریہ فرمود (وان تلاقیا) ای الضاد الظاء(البیان) ای فبیان کل منھما لازم ولا یجوز الا دغام لبعد مخرجھما قال الیمنی فلو قرأبالادغام تفسد الصلاۃ وقال ابن المصنف وتبعہ الرومی ولیتحرز من عدم بیانہما فانہ لوأبدل ضادا بظاء او بالعکس بطلت صلاتہ لفساد المعنی و قال المصری فلو بدل ضادا بظاء فی الفاتحۃ لم تصح قراء تہ بتلک الکلمۃ ۱(ملخصاً)باز کلام ابن الہمام و کلام مذکور منیہ آوردہ گفت قال الشارح وھذا معنی ماذکر فی فتاوی الحجۃ انہ یفتی فی حق الفقھاء باعادۃ الصلاۃ وفی حق العوام بالجواز اقول وھذاتفصیل حسن فی ھذا الباب واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب ۔
خانیہ،خلاصہ،بزازیہ، غنیۃ، حلیہ،خزانۃالمفتین اور دیگر کتب معتمدہ مذہب میں ایسی تبدیلی کہ متعدد جزئیات کاذکر کرکے نماز کے فساد کا حکم بیان کیا گیا جو شخص تفصیل چاہتا ہے ان کی طرف رجوع کرے کیونکہ ان تمام کے نقل کرنے میں طوالت کاخدشہ ہے خود علامہ علی قاری شرح جزریہ میں فرماتے ہیں(اور اگر یہ دونوں اکھٹے ہوں) یعنی ضاد اور ظاء تو ہر ایک کا امتیاز ضروری ہے، ان کے بعد مخرج کی وجہ سے ادغام جائز نہیں ، یمنی نے کہا کہ اگر کسی نے مدغم کرکے پڑھا تو نماز فاسد ہوجائےگی۔ابن مصنف اور ان کی اتباع میں رومی نے کہا ان دونوں کے عدمِ امتیاز سے احتراز چاہئے ، کیونکہ اگرضاد کو ظاء سے بدلا یا اس کا عکس کہا تو فساد معنی کی وجہ سے نماز باطل ہوجائے گی، اور مصری نے کہا اگر کسی نے فاتحہ میں ضاد کو ظا سے بدل کر پڑھا تو اس کلمہ کی قراء ت درست نہ ہوگی، پھر ابن الہام اورمنیہ کی مذکورہ گفتگو کے بعد کہا شارح نے کہافتاوٰی حجہ میں جو کچھ مذکور ہے اس کا خلاصہ یہی ہے کہ علماء وفقہا کے حق میں نماز کے لوٹانے کا فتوٰی دیا جائے گا اور عوام کے حق میں جواز کا، میں کہتا ہوں اس معاملہ میں یہی تفصیل احسن ہے، واﷲ اعلم بالصواب۔
(۱؎ المنح الفکریۃ شرح المقدمۃ الجزریۃ، باب التحذیرات ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۴۳)
وفی فتاوٰی قاضیخان ان قرأغیر المغضوب بالظاء او بالدال تفسد صلاتہ ولا الضالین بالظاء المعجمۃ اوالدال المھملۃ لاتفسد ولو بالذال المعجمۃ تفسد (ملخصا)۱؎۔
اورفتاوٰی قاضی خان میں ہے اگر کسی نے غیر المغضوب میں ظاء یا دال سے بدل کر پڑھا تو نماز فاسد ہوگی اور ولاالضالین میں ظاء یا دال سے بدل کر پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر ذال سے بدل کر پڑھا تو نماز فاسد ہوجائیگی ۔
(۱؎ المنح الفکریۃ شرح المقدمۃ الجزریۃ باب التحذیرات مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۴۳)
در شرح امام شیخ الاسلام زکریا انصاری است (وان تلاقیا) ای الضاد والظاء فقل (البیان) لاحدھما من الاخر لازم للقاری لئلا یختلط احدھما بالاخر فتبطل صلاتہ۲؎ سبحٰن اﷲ اگر ایں نہج ادا قرائے عرب را بودے حکم فساد دراچہ گنجائش بود بلکہ قطعاً ادغام روا بود و نماز مطلقاً اجماعاً صحیح ماندے چنانکہ در ماھو علی الغیب بضنین وہمچنیں درقول او تعالٰی انکم وما تعبدون من دون اﷲ حصب جھنم ،حصب وحضب وحطب وحظب لصاد وضاء طاء وظاء ہر چہ خواند نماز قطعاً صحیح است کہ ایں کلمہ بہرچار حروف منطبقہ در قراء ت آمدہ است کما فی المنح الفکریۃ و غیرھا۔
امام شیخ الاسلام زکریا انصاری کی شرح میں ہے(اور اگر یہ دونوں متصل ہوں) یعنی ضاد اور ظاء تو قاری کے لئے دونوں کو الگ الگ کرکے پڑھنا ضروری ہے تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ مختلط ہو جائے ورنہ اس کی نماز باطل ہوجائےگی سبحان اﷲ اگر اس کی ادائیگی کا یہ طریقہ قراء عرب کا ہوتا تو فساد کے حکم کی یہاں کیا گنجائش تھی بلکہ ادغام یقیناً جائز اور نماز مطلقاً بالاتفاق درست ہوتی جیسا کہ ماھو علی الغیبِ بضنین میں ہے یہی حکم اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد گرامی میں ہے ۔انکم وما تعبدون من دون اﷲ حصب جھنم۔یہاں حصب ،حضب ، حطب،حظب صاد ،ضاد،طاء اورظاء کے ساتھ جس طرح بھی پڑھ لیا جائے نماز درست ہوگی کیونکہ اس کلمہ کی ان چاروں حرفوں کے ساتھ قراء ت ثابت ہے جیسا کہ منح الفکریہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
(۲؎ شرح المقدمۃ الجزریۃ ابوزکریا انصاری مع المنح الفکریہ باب التحذیرات مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۴۳)