Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
70 - 185
سوم :جو حروف وحرکات کی تصحیح ا ع،ت ط، ث س ص، ح ہ ،ذ ز ظ وغیرہا میں تمیز کرے غرض ہر نقص و زیادت و تبدیل سے کہ مفسد معنی ہو احتراز یہ بھی فرض ہے اور علی التفصیل فرائض نماز سے بھی ہے کہ اسکا ترک مفسد نماز ہے جو شخص قادر ہے اور بے خیالی یا بے پروائی یا جلدی کے باعث اسے چھوڑتا ہے یا سیکھے تو آجائے مگر نہیں سیکھتا ہمارے ائمہ کرام مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے نزدیک اس کی نماز باطل اور اس کی امامت کے بطلان اوراسکے پیچھے اوروں کی نماز فاسد ہونے میں تو کلام ہی نہیں علمائے متاخرین نے بنظرِ تیسیر جو تو سیعیں کیں وُہ عندالتحقیق صورت لغزش و خطا سے متعلق ہیں کہ صحیح جانتا ہے اور صحیح پڑھ سکتا ہے مگر زبان سے بہک کر غلط ادا ہوگیا نہ کہ معاذاﷲ فتوٰی بے پروائی و اجازت غلط خوانی و ترک تعلم وکوشش، جیسا کہ عوام زمانہ بلکہ اکثرخواص میں بھی وبائے عالمگیر کی طرح پھیلا ہوا ہے اور نہ بھی سہی تو وہ عوام کی نمازیں ہیں نہ کہ غلط خوانوں کو امام بنانے کے لئے وہی علماء جو وہ توسیعات لکھتے ہیں بطلان امامت کی تصریح فرماتے ہیں اور جو قادر ہی نہیں کوشش کرتا ہے محنت کرتا ہے مگر نہیں نکلتا جیسے کچی زبان والے گنوار کہ قاف کو کاف ،ذال کو جیم پڑھیں ۔صحیح مذہب میں صحیح خواں کی نماز ان کے پیچھے بھی نہیں ہوسکتی تفصیل اس مسئلہ جلیلہ کی جس سے آج کل نہ صرف عوام بلکہ بہت علماء و مشائخ تک غافل ہیں ۔فقیرغفر اﷲ تعالٰی لہ، کے فتاوٰی میں ہے درمختار میں ہے:
لا یصح اقتداء غیرالالثغ بہ ای بالالثغ علی الاصح کما فی البحرعن المجتبٰی وحررالحلبی وابن ا لشحنۃ انہ بعد بذل جہدہ دائما حتما کالامی فلا یؤم الامثلہ ولاتصح صلاتہ اذا امکنہ الاقتداء بمن یحسنہ اوترک جہدہ اووجد قدرالفرض مما لالثغ بہ فیہ ھذاھو الصحیح المختار فی حکم الالثغ وکذامن لایقدر علی التلفظ بحرف من الحروف۱؎۔
اور غیر توتلے کی اقتداء توتلے کے پیچھے اصح قول کے مطابق درست نہیں ہے جیسا کہ البحر الرائق میں مجتبٰی سے منقول ہے(الثغ بروزن افعل اس شخص کو کہتے ہیں جس کی زبان سے ایک حرف کی جگہ دوسرا نکلے مثلاً  "ر" کی جگہ "ل" بولے)

حلبی اور ابن شحنہ نے تنقیح کی ہے کہ توتلا پن رکھنے والا شخص ہمیشہ صحتِ حروف کے لئے کوشاں رہے ،اس کے بعد وُہ اُمّی کی طرح ہے یعنی وہ اپنے ہم مثل کا امام بن سکتا ہے اور اس کی نماز صحیح نہ ہوگی جب اسے صحیح پڑھنے والے اقتدا ممکن ہو یا اس نے کوشش ترک کردی ہو یا بقدر فرض قرأت کی وہ آیتیں حاصل کرلے جن میں توتلا پن نہ ہو ،توتلا پن رکھنے والے شخص کے بارے میں یہی صحیح و مختار قول ہے، اسی طرح حکم ہے اس شخص کا جو حروف تہجی میں سے کسی حرف پر صحیح تلفظ کی قدرت نہ رکھتا ہو۔(ت)
 (۱؎ دُرمختار  ، باب الامۃ  ،  مطبوعہ مجتبائی دہلی ،   ۱/۸۵)
اور جو شخص خلاف شریعتِ مطہرہ کے فیصلہ کر ے اُسے امام بنانا جائز نہیں قال اﷲ تعالٰی
ومن لم یحکم بما انزل اﷲ فاولئک ھم الفٰسقون ۱؎
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا جو لوگوں کے درمیان اﷲ تعالٰی کی تعلیمات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ لوگ فاسق ہیں۔ت)
 (۱؎ القرآن        ۵/۴۷)
غنیۃ میں ہے:
لو قدموافاسقایاثمون۲؎
(اگر فاسق کو لوگوں نے امام بنایا تو وہ تمام گنہگار ہوں گے۔ت) اور اس کے پیچھے نماز سخت مکروہ
کما حققہ المحقق الحلبی فی الغنیۃ والعلامۃ الشرنبلالی فی المراقی وفی غیرھما فقد بینا فی غیر موضع من فتاوٰنا وھو فضیۃ الذیل فعلیہ فلیکن التعویل واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وحکمہ جل مجدہ اتم واحکم
جیسا کہ محقق حلبی نے غنیہ اورعلامہ شرنبلالی نے مراقی میں اس کی تحقیق کی اور ان دونوں کے غیر نے اپنی اپنی کتابوں میں تحقیق کی ہے ہم نے اپنے فتاوٰی میں متعدد جگہ پر اسے بیان کیا ہے اور یہی اس کا خلاصہ ہے اور اسی پر اعتماد ہونا چاہئے
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وحمکمہ جل مجدہ اتم واحکم (ت)
 (۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی الامامۃ الخ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص ۵۱۳)

رسالہ

نِعم الزّاد لِرَوم الضاد

(ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)

_____ بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم______
مسئلہ نمبر ۴۷۲تا ۴۷۶ : ازریاست رام پور محلہ کنڈہ متصل مسجد میاں گاماں         مرسلہ مولوی محمد یحیٰی صاحب    ۲۴شوال ۱۳۱۵ھ

چہ مے فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں باب کہ در قراء ت غیر المغضوب علیہم ولاالضآلین درچنداشخاص نزاع مے مانندواکثر رسائل وفتاوٰی دریں باب مختلف ہستند بعضے خواندن ضاد را بدال توراث بین الناس دلیل مے آرند و بعضے برائے تبدیل ظا و زا  تشابہ صورت رادلیل مے گردانند وقاری عبدالرحمان مرحوم پانی پتی دررسائل و فتاوٰی خلاصہ تحقیق بدیں نہج رقم کردہ اند کہ بجائے ضاد دال یاحرف خواندن محض غلط است ہر حرف خصوصاً ضادرا ازمخرج خود مع صفاتش اداکردن برہمہ شخص واجب است دریں ہنگام شور و شغب بعضے خواص و عوام سند خواندن دال از شرح کبیر بیان کردہ اند از استماعش درچند امور خلجان واقع گردید ترصد ازعلمائے ماہرین ومعتبرین کہ ازجواب رافع خلجان احقاق حق و ابطال باطل فرمایند اجرکم اﷲ تعالٰی فی الدارین امرے چند موجب اشتباہ وخلجان مخصوص ادائے ضاد شبیہ بدال مہملہ یا ظامعجمہ دریافت طلب ازعلمائے دین۔
علمائے شرع متین اس بارے میں کیافرماتے ہیں کہ غیرالمغضوب علیھم ولا الضآلین کے پڑھنے میں کچھ لوگوں کا اختلاف ہے اکثر رسائل و فتاوے اس بارے میں مختلف ہیں بعض لوگ توارث بین الناس (معمول) کو دلیل بناتے ہوئے ضاد کو دال کے ساتھ پڑھنے کا کہتے ہیں اور بعض اسے ظا اور زا کے ساتھ تبدیلی کے قائل ہیں اور آواز میں مشابہ ہونے کی دلیل پیش کرتے ہیں قاری عبدالرحمان مرحوم پانی پتی نے کہا کہ رسائل اور فتاوٰی میں اس بارے میں خلاصہ تحقیق یوں بیان کیا گیا ہے کہ ضاد کی جگہ دال یا کوئی اور حرف پڑھنا محض غلط ہے ، ہر حرف خصوصاً ضاد کو اپنے مخرج سے اس کی صفات کے ساتھ ادا کرنا ہر شخص پر لازم ہے ، اس معاملہ میں بڑا اختلاف اور شور ہے بعض خواص اورعوام اسے دا ل پڑھنے پر شرح کبیر سے سند ذکر کرتے ہیں ،اس معاملہ میں چندامور سے خلجان واقع ہو رہا ہے ماہرینِ شریعت اپنے جواب سے انہیں رفع کریں تاکہ حق ثابت ہو اور باطل کا بطلان ہوجائے ، اﷲ تعالٰی دارین میں تجھے اجر سے نوازے ، ضاد کو دال یا ظا پڑھنے کی صورت میں جن امور میں اشتباہ و خلجان واقع ہو رہا ہے وُہ علماء سے دریافت طلب ہیں۔(وہ یہ ہیں)
اوّل: فصل زلّۃ قاری کہ درکتبِ فقہ علیحدہ ذیل حکم قراء ت فی الصلٰوۃ موضوع شدہ آیاحکم مسائل آں مخصوص بداں صورت است کہ ازقاری بلاقصد و ارادہ حرفے بجائے حرفے فجأۃً برزبان جاری شدہ باشد یاعلی العموم است قاری وتالی بالقصد و ارادہ حرفے حرف بجائے حرف خواندہ باشد برتقدیر تسلیم شق عموم ہرگاہ حکم قراء ت بالارادہ نوشتہ شدہ باعث معنون کردن فصل بہ زلۃ القاری چیست حالانکہ درزلۃ کہ معرب لغزش است ارادہ مفقود است۔
اوّل:کتبِ  فقہ میں نماز کی قراء ت کے ضمن میں ''زلۃ القاری'' (قاری کا پھسلنا) کی جو فصل قائم کی گئی ہے اس کے مسائل کا حکم صرف اسی صورت کے ساتھ مخصوص ہے جب قاری سے بلاقصد وارادہ ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف اچانک زبان پر جاری ہوجائے ،یاحکم عام ہے خواہ قاری اور تلاوت کرنے والا عمداً اور قصداً کسی حرف کی جگہ دوسراحرف پڑھ لے اگر عموم حکم والی (شق) تسلیم کرلی جائے تو جب اس میں قصداً قراء ت کاحکم بھی تحریر ہوا ہے تو پھر اس فصل کا عنوان زلۃ القاری کیوں رکھا گیا؟ حالانکہ لفظ زلۃ لغزش سے معرب ہے جس میں قصد ا وارادہ مفقود ہوتا ہے۔
دوم :درصورت عموم صرف بر اتحاد مخرج و تشابہ صورت عموم و سہولت ادا اکتفاکردہ خواہد شد یالحاظ معنی ہم داشتہ خواہد شد و بصورتِ تبدیل معنی آ ں حکم فساد نماز دادہ ،خواہد شد ودریں صورت درابدال ضاد کسےکہ بذال توارث بین الناس رامطلقاً دلیل گردانیدہ توجیہ صحت قولش چہ خواہد شد۔
دوم: عموم کی صورت میں صرف اتحادِ مخرج یا قربِ مخرج اور تشابہ کی صورت میں عام وآسان ادائیگی پر اکتفا کر لیا جائے گا یا معنی کا بھی خیال رکھنا ضروری  ہے اور بصورتِ تبدیل معنی وفساد حکم فساد نماز کا ہوگا اس صورت میں جو شخص ضاد کو ذال سے بدل کر پڑھنے  پرمطلقاً لوگوں کے معمول کو دلیل بناتا ہے اس کے قول کی صحت کی توجیہ کیسے ہوگی ؟
سوم :چنانکہ صاحب غنیۃالمستملی شرح منیہ درفصل زلۃ قاری بمقام حکم ابدال حرفے بحرفے مدار بر صحت و فساد معنی داشتہ بصور تیکہ معنی صحیح ازبدل می شود حکم صحت نماز نگاشتہ وجائیکہ ازبدل فساد معنی شدہ حکم فساد نماز دادہ ہمیں حکم درابدال ضاد بدال مہملہ ہم جاری خواہد ماندوبہر جاکہ ضاد بدال مہملہ فساد معنی لازم است حکم فساد نماز دادہ خواہد شد یا نہ اگر شق اول مسلم است پس ابدال ضاد بدال مہملہ وبصورت دال خواندن عموماً و مطلقاً چگونہ صحیح خواہد شد واگر شق ثانی است مخصص آں و موجب تخصیص کدام دلیل است۔
سوم: جس طرح صاحب غنیۃ المستملی نےشرح منیہ کی فصل زلۃ القاری میں ایک حرف کو دوسرے حرف سے بدلنے کی صورت میں مدارِ معنی کی صحت وفساد پر رکھا ہے تو جس صورت میں تبدیلیِ حرف کے باوجود معنی درست ہوگا نماز کی صحت کا حکم دیا جائے گا اور جہاں تبدیلیِ حرف کی وجہ سے معنی فاسد ہوگا وہاں نماز کے فاسد ہونے کا حکم جاری ہوگا اور جب ضاد کو دال پڑھا جائے تو پھر بھی یہی حکم جاری ہوگا جہاں ضاد کو دال پڑھنے سے فسا معنی لازم آئے وہاں نماز کے فساد کا حکم جاری ہوگا یا نہیں؟ اگر شق اوّل مسلم ہے تو ضاد کو دال سے بدل کر دال کی آوازمیں پڑھنا عموماً و مطلقاً کیسے ہوگا اور اگر دوسری شق ہے تو اس کا مخصص اور موجبِ تحصیص کون ہے۔
چہارم : کسیکہ از عبارت شرح کبیرولاالضالین بالظاء المعجمۃ اوالدال المہملہ لا تفسد الخ خواندن دال بجائے ضاد بدون لحاظ تخالف و تباعد معنی علی العموم قیاس کردہ قیاس فاسد خواہد شد یا نہ زیرا کہ دریں آیہ کریمہ ھل ندلکم علی رجل۔۔۔الخ صاحب شرح کبیر از بدل قرب معنی ثابت کردہ وحکم صحت نماز دادہ وممکن است کہ بدےگر مقام از ابدال ضاد بدال فساد معنی شود معنی آں خواہد شد تباہ شوند یا در ''اکواب موضوعہ'' کہ بمعنی بی ترتیب چیدہ شدہ است ہرگاہ ،مودوعہ خواند شود معنی آں  پدور کردہ شدہ خواہد شد کہ مشعر پر انقطاع آن ست علی ہذا بسیارے آیات ہستند کہ حالش بر متفقش خبیر پوشیدہ نخواہد ماند پس دراں صورت لامحالہ حکم فساد نماز دادہ خواہدشد وہرگاہ مدار حکم صحت و فسادِنماز بصورت ابدال ضاد وبظاء ودال خود حسبِ تحریر صاحب شرح کبیر برصحت وفساد معنی بدل شدہ چگونہ قیاس مذکور بسبیل عموم بلوی بخصوص عدم فساد صلاۃ چنانکہ درحق عوام است کہ ہیچ امتیاز درصحت لفظ وفرق معنی نمےدارند ہمنیاں درحق خواص کہ امتیاز ہرگونہ دارند جاری خواہد شدیانہ۔
چہارم: جس شخص نےشرح کبیر کی عبارت ولاالضالین بالظاء المعجمہ اوالدال المہملہ لا تفسد الخ۔ سے ضاد کی جگہ دال پڑھنا بغیر لحاظ مخالفت تباعد معنی علی العموم قیاس کیا ہے وہ قیاس فاسد ہے یا نہیں ؟ کیونکہ آیۃ کریمہ ھل ندلکم علٰی رجل۔۔۔الخ میں صاحب شرح کبیر نے تبدیلی سے قربِ معنٰی ثابت کیا ہے اور صحتِ نماز کا حکم دیا ہے اور ممکن ہے کہ دوسرے مقام ضاد کو دال سے بدلنے سے فسادِ معنی لازم آئے اور اسکا معنی یہ ہوگا کہ وہ تباہ ہوگئے ،یا ''اکوابِ موضوعہ'' میں کہ اس کا معنی ہے وہ برتن جو ترتیب سے رکھے گئے ہوں ،اگر اسے'' مودوعۃ'' پڑھا جائے جس کامعنٰی یہ بنے گا رخصت کیا ہوا، یہ معنٰی وہ ہے جو اس کے انقطاع کی طرف مشعر ہے علٰی ہذا القیاس بہت سی آیاتِ قرآنی ہیں جن کا حال ہر صاحب مطالعہ اور باخبر شخص سے مخفی نہیں ہیں ،پس اس صورت میں یقیناً نماز کے فساد کا حکم ہی دیا جائے گا،جب ضاد کو ظا اور دال سے بدل کر پڑھنے میں نماز کی صحت و فساد کے حکم کا مدار خود صاحبِ شرح کبیر کی تحریر کے مطابق صحتِ معنی و فساد معنی کی تبدیلی پر ہے ،تو پھر عمومِ بلوی کی بنیاد پر عوام کے حق میں عدمِ فسادِ نماز کا قول جس کی وجہ یہ ہے کہ صحت لفظ اور تبدیلیِ معنی کا فرق عوام نہیں کرسکتے اسی طرح خواص جو ہر قسم کا فرق کرسکتے ہیں تو کیا ان پر بھی یہ حکم جاری ہوگا یا نہ؟
پنجم: ہرگاہ ازعبادت تمہید جزری و شرح شیخ الاسلام زکریا انصاری برمقدمہ جزری دہم از شرح مّلا علی قاری برآں ثابت است کہ السنہ ناس در ادائے ضاد مختلف است بعضے ظائے معجمہ مے خوانند وایں ہمہ حضرات از قراءِ عرب معدودند دریں صورت دعوی توارث ادائے ضاد بصوت دال چگونہ قابل تسلیم خواہد شد۔ بینوا تو جروا۔
پنجم : جب امام جزری کی تمہید عبارت ،شیخ الاسلام زکریا انصاری کی شرح مقدمہ جزری اور شرح ملّا علی قاری میں ہے کہ لوگوں کی زبانیں ضاد کی ادائیگی میں مختلف ہیں بعض ظا، بعض دال، بعض ذال اور بعض اسے زا کی بودے کر پڑھتے ہیں اوریہ تمام حضرات قراءِ عرب میں شمار ہوتے ہیں اس صورت میں ضاد کو دال مہملہ پڑھنے پر توارث کا دعوٰی کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے؟ بینوا تو جروا۔ْ
Flag Counter