Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
69 - 185
کمالین میں ہے :
ای تان واقرأ علی تؤدۃ من غیر تعجل بحیث یتمکن السامع من عداٰیاتہ وکلماتہ ۴؎۔
  یعنی قرآن مجید کو اس طرح آہستہ اور ٹھہر کر پڑھو کہ سننے والا اس کی آیات و الفاظ گن سکے۔(ت)
 (۴؎ کمالین علی حاشیہ جلالین زیر آیۃ مذکورہ  مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۲/۴۷۶)
اتقان امام سیوطی میں برہان امام  زرکشی سے ہے :
کمال الترتیل تفخیم الفاظ والابانۃ عن حروفہ وان لا یدغم حرف فی حرف وقیل ھذا اقلہ ۵؎۔
کمال ترتیل یہ ہے الفاظ میں تفخیم (حرف کو پُر کرکے پڑھنا) اورحروف کو جدا جدا کرکے پڑھا جائے ،ایک حرف کو دوسرے حرف سے نہ ملایا جائے ۔بعض نے کہا یہ ترتیل کا کم درجہ ہے۔(ت)
 (۵؎ الاتقان فی علوم القرآن ،  النوع الخامس والثلاثون فی آداب تلاوتہ الخ   مطبوعہ مجتبائی دہلی     ۱/۱۰۶)
اُسی میں ہے:
یسن الترتیل فی قرأۃ القراٰن قال اﷲ تعالٰی ورتل القراٰن ترتیلا وروی ابو داؤد وغیرہ عن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نعتت قرأۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قرأۃ مفسرۃ حرفا حرفا۱؎۔
قرأت قرآن میں ترتیل سنّت ہے جیسا کہ اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے قرآن کو خوب ترتیل کے ساتھ پڑھو، اور ابو داؤد نے حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی قرأۃ کی صفت کے بارے میں یوں بیان کیا ہے کہ آپ اس طرح تلاوت فرماتے کہ قرأت مفسر ہوتی اور ایک ایک حرف جدا جدا معلوم ہوتاتھا الخ(ت)
 (۱؎ الاتقان فی علوم القرآن    النوع الخامس والثلاثو ن فی آداب تلاوۃ الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۱۰۶)
حدیث میں ہے :
لاتنثروہ نثرالدقل ولا تھذوہ ھذا الشعر قفواعند عجائبہ وحرکوہ بہ القلوب ولا یکون ھم احدکم اٰخر السورۃ ۲؎۔
یعنی قرآن کو سُوکھے چھوہاروں کی طرح نہ جھاڑو(جس طرح ڈالیاں ہلانے سے خشک کھجوریں جلد جلد جھڑ جھڑ  پڑتی ہیں اور شعر کی طرح گھاس نہ کاٹو ، عجائب کے پاس ٹھہرتے جاؤ اوراپنے دلوں کو اُس سے تدبر سے جنبش دو اور یہ نہ ہو کہ سورت شروع کی تو اب دھیان اسی میں لگا ہے کہیں جلد اسے ختم کریں۔
رواہ ابوبکر الآجری فی کتاب حملہ القراٰن وعن طریقہ البغوی فی المعالم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ من قولہ والدیلمی مثلہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ والعسکری فی المواعظ من حدیث امیر المؤمنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ انہ سئل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن قولہ ورتل القراٰن ترتیلا قال فذکرہ۔
اسے امام ابوبکر آجری نے ''کتاب حملۃ القرآن'' میں نقل کیا ہے، اور امام بغوی نے معالم میں اسے حضرت عبداﷲ بن مسعودکا قول اور دیلمی نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا عسکری نے المواعظ میں حضرت امیر المؤمنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کے حوالے سے بیان کیاکہ نبی اکرمصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اﷲ تعالٰی کے ارشاد گرامی ورتل القراٰن ترتیلا کے بارے میں پُوچھا گیا تو آپ نے مذکورہ الفاظ میں تشرح فرمائی(ت)
 (۲؎ الاتقان فی علوم القرآن  بحوالہ الاخبری فی حملۃ القرآن  فی آداب تلاوۃ الخ   مطبوعہ مصطفی البابی مصر  ۱/۱۰۶)
دُرمختار میں ہے:
یقرأ فی الفرض بالترتیل حرفا حرفا وفی التراویح بین بین وفی النفل لیلالہ ان یسرع بعدان یقرأ کما یفھم۱؎۔
فرض نماز میں اس طرح تلاوت کرے کہ جدا جدا ہرحرف سمجھ آئے، تراویح میں متوسط طریقے  پر اور رات کے نوافل میں اتنی تیز پڑھ سکتا ہے جسے وہ سمجھ سکے۔(ت)
 (۱؎ درمختار    باب الامۃ    فصل ویجہر الامام    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱/۸۰)
اُس کے بیان تراویح میں ہے:
ویجتنب ھذرمۃ القرأۃ ۲؎۔
(اور جلدی جلدی قرأت سے اجتناب کرے۔ت)
 (۲؎ درمختار     باب الوتر والنوافل    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۹۹)
دوم : مدوقف ووصل کے ضروریات اپنے اپنے مواقع پر ادا ہوں کھڑے کھڑے کا لحاظ ہے حروف مذکورہ جن کے قبل نون یا میم ہوان کے بعد غنّہ نہ نکلے انّا کُنّا کو ان کن یا انّاں کنّاں نہ پڑھا جائے باوجیم ساکنین جن کے بعد "ت"ہو بشدت ادا کئے جائیں کہ پ اور چ کی آواز نہ دیں جہال جلدی میں ابتر  اور تجتنبوا کو اپتر  اور  تچتنبوا پڑھتے ہیں حروف مطبقہ کا کسرہ ضمہ کی طرف مائل نہ ہونے پائے ۔ جہاں جب صراط وقاطعہ میں ص وط کے اجتماع میں مثلاً ''یستطیعون'' ''لاتطع'' بے خیالی کرنے والوں سے حرف تا بھی مشابہ طا ادا ہوتا ہے بلکہ بعض سے ''عتو''میں بھی بوجہ تفخیم عین و ضمہ تا آواز مشابہ طا پیدا ہوتی ہے بالجملہ کوئی حرف و حرکت بے محل دوسرے کی شان اخذنہ کرے نہ کوئی حرف چھُوٹ جائے نہ کوئی اجنبی پیدا ہو نہ محدود ومقصود ہو نہ ممدود اسی زیادت اجنبی کے قبیل سے ہے وہ الف جو بعض جہال ''واستبقات'' ''دعوا اﷲ'''' وقال الحمدﷲ''''ذاقا الشجرۃ''کے قیاس پر ''کلتاالجنتین''''قیل ادخلو النار''میں نکالتے ہیں حالانکہ یہ محض فاسد اور زیادت باطل وکاسدو واجب واجماعی مدمتصل ہے منفصل کا ترک جائز و لہذا اس کا نام ہی مد جائز رکھا گیا اور جس حرف مدہ کے بعد سکون لازم ہو جیسے ضالین،الٓمّٓ وہاں بھی مد بالاجماع واجب اور جس کے بعد سکون عارض ہو جیسے العالمین، الرحیم، العباد، یوقنون بحالت وقف یا قَالَ اَلَلّٰھُمَّ بحالت ادغام وہاں مدوقصر دونوں جائز، اس قدر ترتیل فرض و واجب ہے اور اس کا ترک گنہگار ،مگر فرائضِ نماز سے نہیں ترک مفسد صلاۃ ہو۔

مدارک التنزیل میں ہے :
ورتل القراٰن ترتیلا ای قرأعلی تؤدۃ بتبتیین الحرف و حفظ الوقوف واشباع الحرکات ترتیلا ھو تاکید فی ایجاب الامر بہ وانہ لا بد منہ للقاری ۱؎۔
قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر کر پڑھو،اس کا معنی یہ ہے۔کہ اطمینان کے ساتھ حروف جدا جدا ،وقف کی حفاظت اور تمام حرکات کی ادائیگی کا خاص خیال رکھنا''ترتیلا''اس مسئلہ میں تاکید پیدا کررہا ہے کہ یہ بات تلاوت کرنے والے کے لئے نہایت ہی ضروری ہے۔(ت)
 (۱؎ تفسیر مدارک التنزیل المعرو ف بتفسیر سورۃ مزمل زیرِ آیت ورتل القرآنالخ    دارالکتاب العربیہ بیروت ، ۴/۳۰۳)
ردالمحتار میں ہے :
یمد اقل مدقال بہ القراء والاحرم لترک الترتیل الما موربہ شرعاط۲؎۔
اسے تھوڑا لمبا کرکے پڑھا جائے قراء کا یہی قول ہے ورنہ مامور بہ ترتیل کی خلاف ورزی ہوگی اور یہ شرعاً حرام ہے ط(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        فصل فی القرأہ مطبوعہ مصطفی البابی ،  ۱/۴۰۰)
سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ ایک شخص کو قرآن عظیم پڑھا رہے تھے اس نے
انما الصدقٰت للفقراء
کوبغیر مد کے پڑھا ،فرمایا:
ماھٰکذا اقرأنیھا رسول اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
 (مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے یوں نہ پڑھایا) عرض کی: آپ کو کیا پڑھایا؟فرمایا:
انما الصدقٰت للفقرآء ۳؎۔
مد کے ساتھ ادا کرکے بتایا
رواہ سعید بن منصور فی سنتۃ و الطبرانی فی الکبیر بسند صحیح
 (اسے سعید بن منصور نے اپنی سنن اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ت)
 (۳؎ الاتقان فی علوم القرآن         النوع الثانی والثلاثون الخ     ۱/۹۶)
اتقان میں ہے :
قد اجمع القراء علی مد نوعی المتصل و ذی الساکن اللازم وان اختلفو ف مقدارہ واختلفو فی النوعین الاخریین و ھما المتفصل وذوالساکن العارض وفی قصرھما۴؎۔
تمام قراء مدتصل کی دونوں انواع مد متصل اور ساکن لازم پر متفق ہیں اگر چہ ان کی مقدار میں انھوں نے اختلاف کیاہے مد کی آخری دو انواع میں اور و مدمنفصل اور ساکن عارض میں اور ان دونوں کی قصر میں بھی اختلاف ہے ۔(ت)
 (۴؂ الاتقان فی علوم القرآن        بحوا لہ سنن سعید بنن سعید ابن منصور             ۱/۷۹)
ہندیہ میں ہے :
اذاوقف فی غیر موضع الو قف اوابتدأ فی غیر موضع الابتداء  ان لم یتغیر بہ المعنی تغیرا فاحشانحو ان یقرأ  ان الذین اٰمنو اوعلموا الصٰلحٰت ووقف ثم ابتدأ بقولہ اولئک ھم خیر البریۃلاتفسدبالاجماع بین العلمائنا ھکذافی المحیط ،وکذا ان وصل فی غیر موضع الوصل کما لو لم یقف عند قولہ اصحٰب النار بل وصل بقولہ الذین یحملون العرش لا تفسد لکنہ قبیح ھکذا فی الخلاصۃ وان تغیربہ المعنی تغیرافاحشانحوان یقرأ اشھد اﷲ انہ لا الٰہ ووقف ثم قال الاھولا تفسد صلاتہ عندعامۃ علمائنا وعندالبعض تفسد صلاتہ والفتوی علی عدم الفساد بکل حال ھکذا فی المحیط۱؎
جب کسی نے غیر وقف کی جگہ وقف کیا یا مقام ابتدا کے غیر سے سے ابتدا کی تو اگر معنی میں فحش تبدیلی نہیں ،مثلاً پڑھنے والے نے ان الذین اٰمنو وعملواالصٰلحٰت پڑھ کر وقف کیا پھر اولئک ھم خیر البریۃ سے ابتداکی تو ہمارے علماء کا اتفاق ہے کہ نمازفاسد نہ ہو گی،محیط میں اسی طرح ہے، اسی طرح اگر وصل کی جگہ کے علاوہ میں وصل کر لیا جیسا کہ اﷲ تعالٰی کے قول اصحٰب النارپر وقف نہ کیا بلکہ اسے الزین یحملون العرش کےساتھ ملا لیا نماز فاسد نہ ہوئی لیکن ایسا کرنا سخت ناپسند ہے۔خلاصہ میں اسی طرح ہے، اور اگر معنی میں فحش تبدیلی ہو مثلاً کسی نے اشھد اﷲ انہ لا الٰہ پرکرکے پڑھا ''الّا ھو '' تو ہمارے اکثر علماء کے نزیک نماز فاسد نہ ہوگی بعض کے ہاں فاسد ہوجائے گی اور فتوٰی اسی پر ہے کہ ہر صورت میں نماز فاسد نہ ہوگی محیط میں اسی طرح ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ ، الفصل الخامس فی زلۃ القاری مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور     ۱/۸۱)
جو شخص اس قسم ترتیل کی مخالفت کرے اس کی امامت نہ چاہئے مگر نماز ہو جائے گی اگر چہ بکراہت 

عالمگیریہ میں ہے :
من یقف فی غیر مواضعہ ولا یقف فی مواضعہ لا ینبغی لہ ان یؤم وکذا من یتنحنح عندالقرأۃ کثیرا ۲؎۔
جو شخص مقاماتِ وقف میں وقف نہیں کرتا بلکہ مقاماتِ وقف کے غیر میں وقف کرتا ہے تو اسے امام نہ بنایا جائے اسی طرح اس کو امام نہ بنایا جائے جو اکثر کھانستا رہتا ہو۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ    الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماما لغیرہ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور        ۱/۸۶)
Flag Counter