Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
68 - 185
مسئلہ نمبر ۴۶۷: کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص نماز میں ضاد کو مشتبہ بظاء پڑھے تو اس کی نماز صحیح ہوگی یا نہیں؟ اور اس شخص کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب

اللھم ھدایۃ الحق والصواب

یہ حرف دشوار ترین حرف ہے اور اس کی ادا خصوصاً عجم پر کہ اُن کی زبان کا حرف نہیں، سخت مشکل ، مسلمانوں پر لازم کہ اُس کا مخرج صحیح سے اداکرنا سیکھیں اور کوشش کریں کہ ٹھیک ادا ہو اپنی طرف سے نہ ظاد کا قصد کریں نہ دواد کا دونوں محض غلط ہیں اور جب اس نے حسبِ وسع وطاقت جہد کیا اورحرف صحیح ادا کرنے کا قصد کیا پھر کچھ نکلے اس پر مواخذہ نہیں
لا یکلف اﷲ نفساً الّا وسعھا ۱؎۔
 (اﷲ تعالٰی کسی ذی نفس کو اسکی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں ٹھہراتا۔ت)
(۱؎ القرآن        ۲/۲۸۶)
خصوصاً ظاء سے اس حرف کا جُدا کرنا تو سخت مشکل ہے پھر ایسی جگہ ان سخت حکموں کی گنجائش نہیں تکفیر ایک امرِ عظیم ہے۔
لا یخرج الانسان من الاسلام الاحجود ما ادخلہ فیہ
(انسان کو اسلام سے خارج نہیں کرتی مگر جب اس چیز کا انکار کرے جو اسے دین میں داخل کرتی ہے(ت)۔

اور جمہور متاخرین کے نزدیک فسادنماز کا بھی حکم نہیں۔
فی ردالمحتار ان کان الخطأ بابدال حرف بحرف فان امکن الفصل بینھما بلا کلفۃ کالصاد مع الطاء فاتفقوا علی انہ مفسد و ان لم یکن الا بمشقۃ کالظاء مع الضاد فاکثرھم علی عدم الفساد لعموم البلوی ۲؎۔اھ ملخصا۔
ردالمحتار میں ہے اگر ایک حرف کو دوسرے حرف سے بدل کر خطا کرے تو ان دوکے درمیان بغیر مشقت کے امتیاز ممکن ہو جیسا صاد اور طاء کے درمیان تو سب کا اتفاق ہے کہ نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر امتیاز کرنے میں مشقت ہو مثلاً ظاء اور ضاد،تو اکثر علماء کی رائے یہی ہے عموم بلوی کے پیشِ نظر نماز فاسد نہ ہوگی اھ ملخصا۔
 (۲؎ردالمحتار        مطلب مسائل زلۃ القاری        مصطفی البابی مصر    ۱/۴۶۶)
وفی الدرالمختار الامایشق تمیزہ کالضادوالظاء فاکثرھم لم یفسدھا۳؎۔
اور درمختارمیں ہے مگر جن حروف میں امتیاز مشکل ہو جیسے ضاد اور ظاء تو اکثر کے نزدیک نماز فاسد نہ ہوگی۔(ت)
 (۳؎ دُرمختار ، باب ما یفسدالصلٰوۃ الخ  ،  مجتبائی دہلی،  ۱/۹۱)
اور ائمہ متقدمین بھی علی الاطلاق حکم فساد نہیں دیتے عجب کی بات ہے کہ ابنائے زمانہ ان باتوں میں بے طورجھگڑتے اور ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں حالانکہ اصول ایمان و امہات عقائد میں جو فتنے طوائف جدید ملا رہیں ہے ان سے کام نہیں رکھتے اور لطف یہ ہے کہ وہ جہال جن سے سہل حرف بھی ٹھیک ادا نہیں ہوتے ضاد اور دوادپر کٹے مرتے ہیں۔اﷲ تعالٰی ہم اہل اسلام کو نیک توفیق عطا فرمائے ۔ ہاں اگر کوئی معاند بد باطن بقصد تغییر کلام اﷲو تبدیل وحی منزل من اﷲ اس حرف خواہ کسی حرف کو بدلے گا تو وہ بےشک اپنے اس قصد خبیث کے سبب حکمِ کفر کا مستحق ہوگا۔ اس میں ظاد و دواد و  سین ساد سب برابر ہیں
وھذا ھو محمل التعمد المذکور فی کلام الامام الفضلی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ
 (امام فضلی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے کلام میں مذکور تعمد کا محمل یہی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۶۸: ۱۶ جمادی الاولی    ۱۳۱۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام مغرب میں رکوع لقد صدق اﷲ رسولہ پڑھ رہا تھاجب فی الانجیل تک پڑھ لیا آیت پارہ ۲۲ متشابہ لگا اُس کے بعد یہ آیت انما یریداﷲلیذھب تک پڑھی پھر جب یاد آیا اُسے چھوڑ کر مقام اصل سے شروع کیا اور نماز ختم کی اور سجدہ سہو نہ کیا اس صورت میں نماز ہوئی یا نہیں۔بینوا توجروا ۔
الجواب : نماز ہوگئی اور سجدہ سہو کی بھی حاجت نہ تھی اگر بقدر ادائے رکن سوچتا نہ رہا ہو، ہاں اگر بھولا اور سوچنے میں اتنی دیر خاموش رہا جس میں کوئی رکن نماز کا ادا ہوسکتا ہے تو سجدہ سہو لازم آیا
کما فی الدر المختار وغیرہا۱؎
 (جیسا کہ دُرمختار وغیرہ میں ہے۔ت) اگر نہ کیا تو نمازجب بھی ہوگئی مگر ناقص ہوئی پھیرنا واجب ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ دُرمختار        باب سجود السہو        مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۱۰۲)
مسئلہ نمبر ۴۶۹: ۶ شعبان المعظم ۱۳۱۳ھ:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ امام جب نماز میں کھڑا ہو کر قرأت شروع کرے اگر اس وقت بعذریعنی قرأت بند ہونے کی وجہ گلا صاف کرنے کے لئے کھانسا تو نماز جائز ہو جائے گی۔عمرو کہتا ہے نہیں کہ خواہ کسی حالت میں ہو یا عذر یا بلاعذر اگر پے در پے تین مرتبہ کھانساتونماز باطل ہوجائے گی، اس مسئلہ میں کون حق پر ہے۔بینوا توجروا۔
الجواب: صورت مذکورہ میں نماز میں اصلاً کوئی خلل نہ آیا کھانسنا کھنکارنا جبکہ بعذ ریا کسی غرض صحیح کے لئے ہو جیسے گلا صاف کرنا یا امام کو سہو پر متنبہ کرنا تو مذہب صحیح میں ہرگز مفسدِ نماز نہیں۔
فی الدرالمختار فی المفسدات (والتنحنح بلاعذر) اما بہ بان نشأمن طبعہ فلا (او) بلا (غرض صحیح) فلو لتحسین 

صوتہ او لیھتدی امامہ اوالاعلامہ انہ فی الصلاۃ فلا فساد علی الصحیح۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم
درمختار وغیرہ کے باب نماز کے مفسدات میں ہے (اور بغیر عذر کے کھانسنا) ہاں اگر عذر کی بنا پر ہو مثلاً طبعاً ایسا ہُوا تو فاسد نہیں(یا) بغیر (غرض صحیح کے ہو) پس اگر تحسین آواز یا امام کی رہنمائی یا اس اطلاع کے لئے کھانسا کہ وہ نماز میں ہے تو صحیح یہی ہےکہ نماز فاسد نہ ہوگی ۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ دُرمختار ،  باب مایفسدالصلٰوۃ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی،  ۱/۸۹)
مسئلہ نمبر ۴۷۰: مرسلہ جناب حافظ مولوی امیر اﷲ صاحب ۲۳ شعبان ۱۳۱۵ھ

بیضاوی مین قرأت بضنین کو بتایا اور ضاد کا مخرج اور ظاء کا اس سے محشی اشارہ بتاتا ہے قرأتین واحد نہ کی جائیں اس کے متعلق جو جو حاشیے یا شرح ہوں ان میں سے یہ بات بتائی جائے کہ کوئی باوجود مخرجین جدا ہونےکے اور استعلا واطباق میں ایک ہونے کو مشتبہ الصوت کون کون بتاتا ہے اور اس قضیہ کا کیا حال ہے صرف مشتبہ الصوت مان لینے سے ظواد یا دواد صحیح ہوسکتا ہے فقہانے دواد مفخم اور ظواد ودواد مستہجن کا صریح حکم کیابتایا ہے ؟بینوا توجروا
الجواب: ض و ظ قدر مشتبہ الصوت ہونا یقینی ہے یہاں تک کہ تمیز دشوار مگر نہ یہ ظ جو عامہ عوام نکالتے ہیں یہ ذمفخم جب اپنے مخرج سے صحیح طور پر برعایت استعلا واطباق لسان ادا کی جائے گی ضرور مشابہ الصوت بض ہوگی یہاں تک کہ اگر استطالہ واقع ہو ض ہوجائے ذواد نہ  مستحسن نہ مستہجن بلکہ محض غلط اسی طرح دواد اور صحیح ظواد بھی نہیں فقہائے کرام سب کا ایک حکم دیتے ہیں کہ بحالت فساد معنی نماز فاسد جیسے مغظوب اور معذوب اور بحالت صحت معنی صحیح جیسے ظالین دوالین ۲؎
کما فی الغنیۃ وغیرھا
(جیسا کہ غنیۃ وغیرہ میں ہے) واﷲ تعالٰی اعلم
 (۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی زلۃ القاری    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۴۷۶)
مسئلہ نمبر ۴۷۱: از شہر کٹک ضلعاڑیسہ بخشی بازار     مرسلہ شیخ طاہر محمد عثمان    ۲۵رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علما ئے دین و شرح متین اس مسئلہ میں کہ آنریری مجسٹریٹ کی امامت جائز ہے یا نہیں ،اور جو ترتیل سے نہ پڑھے اس کی امامت جائز یا ناجائز اور نیز تر تیل کی حد معلوم ہو۔ بینوا توجروا۔
الجواب:  ترتیل کی تین حدیں ہیں ہر حد اعلٰی میں اسکے بعد کی حد ماخوز و ملحوظ ہے۔

حد اوّل :یہ کہ قرآن عظیم ٹھہر ٹھہر کر بآہستگی تلاوت کرے کہ سامع چاہے تو ہر کلمے کو جدا جدا گن سکے
کما قال اللہ تعالٰی
ورتلناہ ترتیلا۱؎
ای انزلناہ نجما نجما علی حسب ما تجددت الیہ حاجات العباد ومثلہ قولہ تعالٰی
وقرانا فرقناہ لتقرأہ علی الناس علی مکث ونزلناہ  تنزیلا۲؎۔
  جیسا کہ اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے ورتلناہ  ترتیلا یعنی ہم نے اسے بندوں کی ضرورت کے مطابق  تھوڑا  تھوڑا  نازل فرمایاہے، اسی طرح اﷲ تعالٰی کا یہ فرمان ہے ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے نازل فرمایا تاکہ آپ لوگوں  پر پڑھیں ٹھہر ٹھہر کر اور ہم نے اسے تدریجاً نازل فرمایا۔(ت)
 (۱؎ القرآن            ۲۵/۳۲)

(۲؎ القرآن            ۷۱/۱۰۶)
الفاظ بہ تفخیم ادا ہوں حروف کو اُن کی صفات شدّت و جہر و امثالہا کے حقوق پورے دئے جائیں اظہار و اخفا و تفخیم و ترقیق وغیرہا محسنات کا لحاظ رکھا جائے یہ مسنون ہے اور اسکا ترک مکروہ و ناپسند اور اسکا اہتمام فرائض و واجبات میں تراویح اور تراویح میں نفل مطلق سے زیادہ جلالین میں ہے :
رتل القراٰن تثبت فی تلاوتہ۳؎
(رتل القراٰن کا معنی قرآن کی ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرنا ہے۔ت)
(۳؎ تفسیر جلالین        زیر آیۃ ورتل القرآن الخ         مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۲/۴۷۶)
Flag Counter