Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
66 - 185
پھر ایسی حالت میں عندالانصاف اشتراک صفات خواہ اشتباہ اصوات کسی کی تخصیص نہیں ہو سکتی کہ جو خلاف قصد ہے اختیاری نہیں اور جو اختیاری نہیں اس پر حکم جاری نہیں اور اگر اپنی طرف سے خاص ارادہ احد الاغلاط کاحکم دیجئے تو یہ وہی تعمد غلط ہے کہ یقیناً ممنوع ولہذا علامہ شامی قدس سرہ السامی نے عبارت تاتار خانیہ:
اذالم یکن بین الحرفین اتحاد المخرج ولا قربہ الا ان فیہ بلوی العامۃ کالذال مکان الضاد والزاء المحض مکان الذال والظاء مکان الضاد ولا تفسد عند بعض المشائخ اھ
جب دو۲ حرفوں کے درمیان اتحاد مخرج اور قرب مخرج نہ ہو مگر اس صورت میں جب عمومِ بلوی ہو مثلاً ذال ضاد کی جگہ اور زا ذال کی جگہ اورظاء ضاد کی جگہ پڑھا تو بعض مشائخ کے نزدیک نماز فاسد نہ ہوگی۔اھ (ت)

نقل کرکے فرمایا
قلت فینبغی علی ھذاعدم الفساد فی ابدال الثاء سینا والقاف ھمزۃ کما ھو لغۃ عوام زماننا فانھم لایمیزون بینھما و یصعب علیھم جداکالذال مع الزاء ولا سیما علی قول القاضی ابی عاصم وقول الصفار وھذا کلہ قول المتأخرین و قد علمت انہ اوسع وان قول المتقدمین احوط قال فی شرح المنیۃ وھوالذی صححہ المحققون وفرعواعلیہ فاعمل بماتختار والاحتیاط اولی سیما فی امر الصلٰوۃ التی ھی اول ما یحاسب العبد علیھا۱؎۔
میں کہتا ہوں اس کے مطابق ان صورتوں میں فساد نہیں ہونا چاہئے جبکہ کوئی شخص ثاء کی سین ،قاف کی جگہ ہمزہ پڑھے جیسا کہ ہمارے دور کے عوام کی زبان ہے وہ ان کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کرتے اور یہ ان پر نہایت دشوار ہے جیسا کہ ذال اور زا میں فرق کرنا خصوصاً قاضی ابو عاصم اورصفار کے قول پر ،اور یہ تمام متاخرین کا قول ہے اور آپ جان چکے کہ اس میں کافی وسعت ہے اور متقدین کا قول احوط ہے، شرح منیہ میں فرمایا اسی کو محققین نے صحیح کہا اور اسی پر انہوں نے تفریع بٹھائی پس مختار پر عمل کرو ،اور احتیاط اولٰی ہے خصوصاً نماز کے معاملات میں کیونکہ بندے سے اسی کے بارے میں سب سے پہلے سوال ہوگا(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        مطلب مسائل زلۃ القاری        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۴۶۸)
اس تحقیق انیق سے ظاہر ہوا کہ تعمدنہ ظاد کا جائز نہ دُواد کاکہ نہ وہ ظا ہے نہ دال مفخم اور بعد قصد ض وارادہ حرف صحیح و استعمال مخرج معین براہ غلط جو کچھ ادا ہو تیسیراً صحت نماز پر فتوٰی
لتعسر المرمی و تکثر البلوی ھذا ماعندی فلتنظر نفس ماذاتری
 (کیونکہ ادائیگی مشکل اور استعمال زیادہ ہے یہ میری رائے ہے پس تمہاری رائے اس میں کیا ہے اس پر خود غور وخوض کرو۔ت) ہندیہ و حلیہ وخزانۃ الاکمل میں ہے:
ان جری علی لسانہ او لا یعرف التمیز لاتفسدھوالمختار ۱؎۔
اگر زبان پر ازخود جاری ہوگیا یا امتیاز کی معرفت نہیں تونماز فاسد نہ ہوگی یہی مختار ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل الخامس فی زلۃ القاری            نورانی کتب خانہ پشاور        ۱/ ۷۹)
وجیز کردری میں ہے:
ھو اعدل الاقاویل وھوالمختار ۲؎۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم عزشانہ احکم۔
یہ سب سے معتدل قول ہے اور یہی مختار ہے۔(ت) اوراﷲ سبحانہ تعا لٰی سب سے بہتر جاننے والا ہے اس کا علم سب سے کامل اور اسکی شانِ حاکمیت سب سے اعلٰی ومستحکم ہے (ت)
 (۲ ؎ فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ الثانی عشرفی زلۃ القاری        نورانی کتب خانہ پشاور        ۴/ ۴۲)
مسئلہ نمبر ۴۵۸: مرسلہ جناب نواب مولوی سیّد سلطان احمد خان صاحب سلمہ اﷲ تعالٰی ازبریلی         

    ۳ رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ

چہ مے فرمایند علمائے کرام دریں مسئلہ کہ درصور ذیل حکم نماز چیست عام ازانکہ فرض بود یا نفل کہ در ہررکعت ہماں سورت تکرارکردن۔
درج مسائل نماز میں علماء کرام کی کیا رائے ہے خواہ نماز فرض ہو یا نفل کہ ہر رکعت میں ایک سورت کا تکرار کرنا کیسا ہے؟
الجواب

بے ضرورت در فرائض مکروہ تنزیہی است پس نشاید دراولی  قرأت ناس راتعمد کردن تاحاجت بتکرار نیفتند اما اگرخواند بسہو یا عمد ناچار درثانیہ تیرہموں باید خواند کہ قرأتِ معکوسہ سخت تراز تکرار است بخلاف ختم کنندہ قرآن عظیم کہ اوراباید در رکعت اولی تاناس خواندن و درثانیہ از الم تا مفلحون لحدیث الحال المرتحل ۱؎کذا فی النھر وردالمحتار اقول وانچہ مراد اینست کہ بحالت ختم قرآن مجید ایں خود نکس و عکس نیست بلکہ از سرگفتن باشد چنانکہ لفظ حال و مرتحل نیز برآں دلیل است فافھم واﷲ تعالٰی اعلم۔
بغیر ضرورت فرائض میں مکروہ تنزیہی ہے،پس پہلی رکعت میں سورۃ الناس عمداً نہیں پڑھنی چاہئے تاکہ تکرار کی ضرورت نہ پڑ جائے اگر سہواً یاعمدا  پڑھ چکا تواب دوسری رکعت میں وہی سورت یعنی سورۃ الناس دوبارہ پڑھے، کیونکہ ترتیب بدل کر پڑھنا تکرار سے بھی سخت ہے بخلاف ختم قرآن کی صورت کے کہ اس میں پہلی رکعت میں سورۃ الناس تک پڑھنا اور دوسری رکعت میں الم تا مفلحون پڑھنا جائز  اور درست ہے۔کیونکہ حدیث شریف میں ہے:ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ! اﷲ تعالٰی کے ہاں پسندیدہ عمل کیا ہے؟حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ نے فرمایا:منزل میں اُترنے والا اور کوچ کرنیوالا (یعنی جوشخص قرآن شریف ختم کرے فوراً شروع کرے اور یوں ہی کرتا رہے)جیسا کہ نہر اور ردالمحتار میں ہے ۔میں کہتا ہوں اس سے مراد یہ ہے کہ ختم قرآن کی  صورت میں یہ عکس اور ترتیب کا بدلنا نہیں بلکہ قران کو نئے سرے سے شروع کرنا ہے جیسا کہ لفظ حال و مرتحل بھی اسی پر دلیل ہے فافہم واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ الجامع الترمذی        ابواب القرأۃ        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۱۱۸)
مسئلہ نمبر ۴۵۹ :در یک رکعت چند سورت خواند
 (ایک رکعت میں متعدد سورتیں پڑھناکیسا ہے؟۔(ت)
الجواب

دو رکعتے زیادہ بریک سورت خواندن در فرائض نباید امااگر کند مکروہ نباشد بشرط اتصال سور و اگر سور متفرقہ در رکعتے جمع کند مکروہ باشد کما فی الغنیۃ ثم ردالمحتار اقول و بحالت امامت شرطے دیگرنیز است وآں عدم تثقیل بر مقتدی ورنہ کراہت تحریمی است۔ واﷲ تعالٰی اعلم
فرائض کی ایک رکعت میں ایک سے زائد سورتیں نہیں پڑھنی چاہئیں اگر کوئی پڑھ لیتا ہے تو کراہت نہیں بشرطیکہ وہ سورتیں متصل ہوں ،اگر کوئی متفرق سُورتیں کسی ایک رکعت میں جمع کرتا ہے تو اس میں کراہت ہے۔جیسا کہ غنیۃ میں اور پھرردالمحتار میں ہے میں کہتا ہوں امام ہونے کی صورت میں ایک اور شرط بھی ہے وہ یہ کہ مقتدی اسے بوجھ محسوس نہ کرے ورنہ کراہت تحریمی ہوگی واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ نمبر ۴۶۰: یک سورت فروگزاشتہ خواندن
 (ایک سُورت چھوڑ کر پڑھنا کیسا ہے؟ت)
الجواب

سورت متروکہ اگر مدیداست کہ برتقدیر قرأتش در ثانیہ اطالت ثانیہ براولی لازم آید پس ازاں گزشتہ سورت ثالثہ خواندن باکے ندارد چنانکہ دراولی والتین ودر ثانیہ قدر ورنہ در فرائض مکروہ چنانچہ نصر و اخلاص واگردو سورت درمیان باشد مضائقہ نے ہمچو نصر و فلق -واﷲ تعالٰی اعلم
اگر متروکہ سورت اتنی لمبی ہے کہ اس کی قرات سے دوسری رکعت پہلی رکعت سے طویل ہوجائے گی تو ایسی سورت کو ترک کرکے تیسری سورت پڑھنے میں کوئی حرج نہیں مثلاً پہلی رکعت میں سورہ والتین اور دوسری رکعت میں سورہ قدر پڑھے اور اگر ایسی صورت نہیں تو فرائض میں ایسا کرنا مکروہ ہے جیسا کہ سورہ نصر اور سورہ اخلاص کا پڑھنا اور اگر درمیان میں دو۲ سورتیں ہوں تو پھر کوئی مضائقہ نہیں مثلاً سورہ نصر اور سورہ فلق- واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter