مسئلہ نمبر۴۵۷ : از سہسرام مرسلہ مولوی محمد نورصاحب ولایتی ۱۳۰۹ھ
خلاصہ فتوٰی مرسلہ مولوی صاحب مذکور کہ بہر تصدیق نزد فقیر آمدہ
ماہرین شریعت پر پوشیدہ نہ رہے کہ ضاد کا مشتبہ الصوت ہونا ساتھ ظائے معجمہ کے جملہ کتب تفسیر و فقہ و صرف و تجوید سے ثابت ہے کہ بخلاف دال کے ضاد اور دال میں سات صفتوں کا فرق ہے اور قاعدہ کلیہ جملہ کتبِ فقہیہ کا یہ ہے کہ جن دونوں حرفوں میں فرق بآسانی ممکن ہے اُس کے بدل جانے سے نماز فاسد ہوتی ہے اور اگر فرق دو حروف میں مشکل ہے تو اکثر کا مذہب یہ ہے نماز فاسد نہیں ہوتی اور یہی مذہب متاخرین کا معتدل و پسندیدہ ہے او ر مذہب متقدمین کا یہ ہے کہ ضاد کے ظاء پڑھنے سے بھی نماز فاسد ہوتی ہے پس لفظ ولاالضالین کی جگہ دالین پڑھنے سے سب کے نزدیک نماز فاسد ہوتی ہے اور ظاء پڑھنے سے اکثر کے نزدیک فاسد نہیں ہوتی ،اور اسی پر فتوٰی ہے، حاصل یہ کہ جس شخص سے مخرج ضاد کا نہ آوے وہ ظاء پڑھے ھذاھوالحق والصواب تو مسلمانوں کو چاہئے کہ بہت جلد اس کے عامل ہوجائیں واﷲ اعلم بالصواب فی الواقع بمذہب مختار جمہور ضاد کی ظاء پڑھے یا ذال نماز فاسد نہ ہو گی واﷲ اعلم ۔
ابو الحسنات محمد عبدالحی لکھنوی
الجواب
اللھم ھدایۃ الحق والصواب- بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم
اس قدر تجوید جس کے باعث حروف کوحرف سے امتیاز اور تلبیس و تبدیل سے احتراز حاصل ہو واجبات عینیہ و اہم مہمات دینیہ سے ہے آدمی پر تصحیح مخارج میں سعی تام اورہر حرف میں اُس کے مخرج سےٹھیک ادا کرنے کا۔
قصد و اہتمام لازم کہ قرآن مطابق ما انزل اﷲ تعالٰی پڑھے ،نہ معاذاﷲ مداہنت و بے پروائی کہ آجکل کے عوام بلکہ یہاں کے کثیر بلکہ اکثر خواص نے اپنا شعار کرلیا ،فقیر نے بگوشِ خود بعض مولوی صاحبوں کو پڑھتے سنا قل ھو اﷲ اھدحالانکہ نہ ہر گز اﷲ الاحد نے اھد فرمایا نہ امین وحی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اھد پہنچایا نہ صاحب قرآن صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اھد پڑھایا ، پھر اسے قرآن کیونکر کہا جائے فانا ﷲ وانا الیہ راجعون حاشا فتوی متاخرین پروانہ بے پروائی نہیں ، باوصف قدرتِ تعلیم تعلم نہ کرنا اور براہ سہل انگاری غلط خوانی قرآن پر مصر ومتمادی رہنا کو ن جائز رکھے گا، اتقان شریف میں ہے۔
من المھمات تجوید القراٰن وھواعطاء الحروف حقوقھا و ردالحرف الی مخرجہ واصلہ ولاشک ان الامۃ کما ھم متعبدون بفھم معانی القراٰن واقامۃ حدودہ ھم متعبدون بتصحیح الفاظہ واقامۃ حروفہ علی الصفۃ المتلقاۃ عن ائمۃ القرأۃ المتصلۃ بالحضرۃ النبویۃ وقد عدالعلماء القرأۃ بغیر تجوید لحنا۱؎۔
اہم چیزوں میں سے تجویدِ قرآن سیکھنا بھی ہے اور تجوید حروف کو ان کے حقوق دینا اور ان کو ان کے اصل اور مخرج کی طرف لوٹانا ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں جس طرح امّت مسملہ معانیِ قرآن کے فہم اور اسکی حدود کے قیام کو عبادت جانتے ہیں اسی طرح اس کے الفاظ کی تصحیح اور اسکے حروف کی اس صفت جوائمہ قراء سے منقول ہے پر ادائیگی کو بھی عبادت جانتے ہیں اور ان قراء کی قرأت کا سلسلہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تک پہنچتا ہے ،اور علماء نے تجوید کے بغیر قرآن پڑھنے کو غلط پڑھنا قرار دیا ہے(ت)
(۱؎ الاتقان فی علوم القرآن الفصل الثانی من المہمات تجوید القرآن مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۰۰)
اس احسن الفتاوٰی فتاوٰی بزاریہ وغیرہا میں ہے:
ان اللحن حرام بلاخلاف
غلط پڑھنا بالاجماع حرام ہے۔
(۲؎ فتاوٰی بزازیہ علی حاشیۃ الفتاوی الہندیہ الثانی فی العبادات من کتاب الکراہیۃ مطبوعہ نورانی کتب خانی پشاور ۶/ ۳۵۳)
ولہذا ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ آدمی سے اگر کوئی حرف غلط ہوتا ہو تو اس کی تصحیح و تعلم میں اس پر کوشش واجب بلکہ بہت علماء نے اس سعی کی کو ئی حد مقرر نہ کی اور حکم دیا کہ عمر بھر روزوشب ہمیشہ جہد کئے جائے کبھی اس کے ترک میں معذور نہ ہوگا۔علامہ ابراہیم حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں:
یجب علیہ بذل الجھد دائما فی تصحیح لسانہ ولایعذر فی ترکہ ۱؎۔
غلط لفظ کی تصحیح کے لئے ہمیشہ کوشاں رہنا ضروری ہے ترک کی صورت میں معذور نہیں سمجھا جائے گا (یعنی اس میں جہد کو ترک کرنا قابل قبول نہیں (ت)
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۸۳)
نوٹ:غنیۃ کی عبارت جو مجھے ملی ہے وہ اس طرح ہے: یجب علیھم الجھد دائما وصلٰوتھم جائزۃ مادامواعلی الجھد - اور اس سے کچھ قبل یہ الفاظ ہیں :ینبغی ان یجتھد ولا یعذر فی ذلک الخ -البتہ صغیری شرح منیۃ المصلی مطبوعہ دہلی بعینہٖ یہی الفاظ متن ص ۲۵۰ پر موجود ہیں۔ نذیر احمد سعیدی
قہستانی و طحطاوی وغیرہما میں ہے:
قولہ دائما ای اٰناء اللیل واطراف النھار۲؎۔
دائماً سے رات کا کچھ حصّہ اور دن کے اطراف مراد ہیں۔(ت)
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الامامۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۵۱)
اسی طرح اور کتب کثیرہ میں ہے ، تو کیونکر جائز کہ جہد وسعی بالائے طاق سرے سے حرف منزِل فی القرآن کا قصد ہی نہ کریں بلکہ عملاً اسے متروک و مہجور ،اور اپنی طرف سے دوسراحرف اس کی جگہ قائم کردیں ۔فقیر کہتا ہے غفراﷲ تعالٰی بعد اسکے کہ عرشِ تحقیق مستقر ہوچکا کہ قرآن اسم نظم و معنی جمیعا بلکہ اسم نظم من حیث الارشاد الی المعنی ہے اور نظم نام حروف علٰی ہٰذاالترتیب المعروف اورحروف باہم متباین اور تبدیل جز قطعاً مستلزم تبدیل کل کہ مؤلف من مبائن یقینا غیر مؤلف من مبائن آخر ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس تبدیل عمدی اور تحریف کلام اﷲ میں کتنا تفاوت مانا جائے گا۔لاجرم امام اجل ابوبکر محمد بن الفضل فضلی وامام برہان الدین محمود بن الصدر السعید وغیرہما اجلہ کرام نے تو یہاں تک حکم دیا کہ جو قرآن عظیم میں عمداً ض کی جگہ ظ پڑھے کافر ہے۔
اقول ولا حاجۃ الی استثناء (وماھو علی الغیب بضنین) فان ھھنا لیس مقام الضاد خاصۃ بل مقامھما جمیعا لان اللفظ قرئ بھما فی القراٰن ،فکان مثل صراط وسراط وبسطۃ وبصطۃ ویبسط ویبصط ومصیطر ومسیطر الی اشباہ ذلک بخلاف ضالین وظالین وسجیل وصجیل فانہ تبدیل۔
میں کہتاہوں ''وماھوعلی الغیب بضنین'' کے استثناء کی حاجت نہیں ہے کیونکہ اس مقام پر ضاد کی جگہ ظاء کو رکھنا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ مقام ضاد کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ دونوں کا مقام ہے کیونکہ قرآن میں یہ لفظ دونوں قرأتوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ ان الفاظ کی طرح ہے۔صراط اور سراط،بسطۃ اور بصطۃ،یبسط اور یبصط ،مصیطر ار مسیطر ، اور ان کی طرح کے دوسرے الفاظ بخلاف ضالین کی جگہ ظالین اور سجیل کی جگہ صجیل کے کیونکہ یہاں تبدیلی ہے۔(ت)
محیط میں ہے:
سئل الامام الفضلی عمن یقرأالظاء المعجمۃ مکان الضاد المعجمۃ اوعلی العکس فقال لا تجوز امامتہ ولو تعمد یکفر۱؎۔
امام فضلی سے سوال کیا گیا کہ اس شخص کا کیا حکم ہے جس نے ضاد کی جگہ ظاء یا اس کے بالعکس پڑھا تو انہوں نے (جواب میں) فرمایا ایسے شخص کی امامت جائز نہیں، اور اگر ایسا عمداً کرے تو کافر ہوگا۔(ت)
(۱؎ منح الروض شرح فقہ اکبر لملّا علی قاری فصل فی القرأءۃ والصّلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۱۶۷)
منح الروض میں ہے:
کون تعمدہ کفرالاکلام فیہ ۲؎
(ایساعمداً کرنا کفر ہے اس میں کسی کو کلام نہیں الخ ۔ت)
(۲؎منح الروض شرح فقہ اکبر لملّا علی قاری فصل فی القرأءۃ والصّلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۱۶۷)
پس جز ماً لازم کہ ہر حرف میں خاص حرف منزل من عنداﷲ ہی کی اداکا قصد کریں اُسی کے مخرج سے اسے نکالنا چاہیں پھر بوجہ عسر حرف و قصور لسان اگر غلط ادا ہو تو مثل ض میں کہ اعسر الحروف ہے۔تیسیراعلی الامۃ فتوٰی بعض متاخرین پر عمل کرکے صحتِ نماز کا حکم دینا معیوب نہیں بلکہ محبوب ہے کہ شارع علیہ السلام کو یسروآسانی مطلوب و مرغوب ہے۔
قال المولی سبحنہ وتعالٰی
یرید اﷲ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر۳؎
وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یسراولاتعسرواوبشرواولاتنفروا۴؎ اخرجہ الائمۃ احمد والشیخان عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اﷲ سبحانہ وتعالٰی کا ارشاد ہے اﷲ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ تمھارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں کرتا اورنبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ آسانی پیدا کرو ،مشکل وتنگی پیدا نہ کرو ،خوشخبری دو، نفرت نہ پھیلاؤ۔اس حدیث کو امام احمد، امام بخاری اورمسلم نےحضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
(۳؎ القرآن ۲/ ۱۸۵)
(۴؎ صحیح البخاری باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یسروا ولا تعسرواالخ مطبوعہ اصح المطابع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۴)