فتاوٰی محقق علّامہ ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی تمر تاشی میں ہے:
الراجع المفتی بہ عدم صحۃ امامۃ الالثغ لغیرہ ۲؎۔
راجح اور مفتی بہ قول یہی ہے کہ توتلے کی امامت غیر کے لئے جائز نہیں۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار بحوالہ فتاوٰی امام غزی مطلب فی الالثغ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۳۰)
ردالمحتار میں ہے:
من لا یقدر علی التلفظ بحرف من الحروف کالرھمٰن الرھیم والشیتان الرجیم والاٰلمین وایاک نابد و ایاک نستئین السرات،انأمت فکل ذلک حکمہ مامر من بذل الجھد دائما والا فلاتصح الصلٰوۃ بہ ۳؎ ملخصا۔
جو شخص حروف تہجی میں سے کسی حرف کے صحیح تلفّظ پر قادر نہ ہو مثلاً الرحمن الرحیم کی جگہ الرھمٰن الرھیم ،الشیطان کی جگہ الشیتان ، العالمین کی جگہ الآلمین ،ایاک نعبد کی جگہ ایاک نابد،نستعین کی جگہ نستئین ،الصراط کی جگہ السرات ،انعمت کی جگہ انأمت پڑھتا ہے ، ان تمام صورتوں میں اگر کوئی ہمیشہ درست ادائیگی کی کوشش کے باوجود ایسا کرتا ہے تو نماز درست ہوگی ورنہ نماز درست نہ ہوگی۔ملخصا (ت)
(۳؎ردالمحتار بحوالہ فتاوٰی امام غزی مطلب فی الالثغ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۳۱ )
حاشیہ طحطاویہ میں زیر قولہ بذل جھدہ دائما ہے۔
قولہ دائما ای اناء اللیل واطراف النھار کما مرعن القھستانی۱؎۔
ان کے قول دائماً کا مطلب یہ ہے کہ وہ رات کے حصّوں اور دن کے اطراف میں بھر پور کوشش کرے جیسا کہ قہستانی کے حوالے سے گزرا۔(ت)
(۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الامامۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۵۱)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ دائما ای فی اٰناء اللیل واطراف النھار فمادام فی التصحیح والتعلم ولم یقدر علیہ فصلاتہ جائزۃ و ان ترک جھدہ فصلاتہ فاسدۃ کما فی المحیط وغیرہ قال فی الذخیرۃ وانہ مشکل عندی لان ما کان خلقۃ فالعبد لا یقدر علی تغییرہ اھ وتمامہ فی شرح المنیۃ ۲؎
ان کے قول دائماًسے مراد یہ ہے کہ رات اور دن کے اطراف میں تصحیح کی بھر پور کوشش کرے ،پس اگر وہ ہمیشہ تصحیح و تعلم میں بھر پور کوشش کے باوجود اس پر قدرت نہ رکھے تو اس کی نماز درست ،اور اگر وہ کو شش ہی ترک کردے تو اس کی نماز فاسد ہوگی جیسا کہ محیط وغیرہ میں ہے، ذخیرہ میں کہا یہ میرے نزدیک مشکل ہے کیونکہ جو چیز فطری اور خلقی ہو بندہ اس کی تبدیلی پر قادر نہیں ہوسکتا اور اس پر تفصیلی گفتگو شرح منیہ میں ہے (ت)
قال صاحب المحیط المختار للفتوٰی انہ ان ترک جھدہ فی بعض عمرہ لایسعہ ان یترک فی باقی عمرہ ولو ترک تفسد صلٰوتہ قال صاحب الذخیرۃ انہ مشکل عندی الخ وذکر فی فتاوٰی الحجۃ مایوافق المحیط فانہ قال علی جواب الفتاوٰی الحسامیۃ ماداموافی التصحیح والتعلم با للیل والنھار جازت صلٰوتھم واذاترکو االجھد فسدت ۱؎ اھ، وبمعناہ فی فتاوٰی قاضی خان فالحاصل ان اللثغ یجب علیہم الجھد دائما ھذا ھوالذی علیہ الاعتماد ۲؎ اھ ملخصا
صاحب المحیط نے کہا ہے یہ مختار للفتوٰی ہے اوراگر اس نے عمر کے بعض حصّے میں یہ کوشش ترک کردی ہو تو باقی عمر میں ترک کی گنجائش نہیں اگر ترک کرے گا تو نماز فاسد ہوگی ، صاحب الذخیرہ نے کہا میرے نزدیک یہ بہت مشکل ہے الخ فتاوٰی حجہ میں جو کچھ ہے وہ محیط کے موافق ہے کیونکہ انہوں نے فتاوٰی حسامیہ کے جواب پر کہا ہے کہ جب وہ دن رات اس کی تصحیح اور سیکھنے میں کوشاں رہیں تو ان کی نماز درست ہوگی ، اور جب کوشش ترک کردیں گے تو نماز فاسد ہوجائے گی۔اھ،فتاوٰی قاضی خان میں بھی اسی معنی میں ہے الغرض توتلے پر دائمی کوشش لازم ہے اور اسی پر اعتماد ہے اھ ملخصا۔(ت)
(۱ ؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۸۲) (۲؎غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۸۳)
خلاصہ میں ہے:
ان کان یجتھد اٰناء اللیل والنھار فی تصحیحہ ولا یقدر علی ذلک فصلاتہ جائزۃ وان ترک جھدہ فصلاتہ فاسدۃ الا ان یجعل العمرفی تصحیحہ ولا یسعہ ان یترک جھدہ فی باقی عمرہ ۳؎۔
تصحیح میں ہے جب دن رات کوشش کرتا رہا مگر وہ قدرت حاصل نہ کر پایا تو اس کی نماز درست ہے اگر اس نے کوشش ترک کردی تو نماز فاسد ہوگی۔ہاں اگر عمر کا کچھ حصّہ تصحیح میں صرف کرے اور درست کی قدرت حاصل نہ ہو تو باقی عمر میں تصحیح کی کوشش ترک کرنے کی گنجائش نہیں (ت) اسی طرح فتح القدیر فصل القرأت اور اسی کے قریب مراقی الفلاح میں ہے:
(۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثانی عشر فی زلۃ القاری مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ص ۱۱۰)
حلیہ میں ہے:
الا ان ھذاالشق الثانی کما قال صاحب الذخیرۃ مشکل لان ماکان خلقۃ فالعبد لایقدر علی تغییرہ قلت وکذا اذاکان لعارض لیس ممایزول عادۃ واذاکان کذلک لا یعول فی الفتوی علی مقتضی ھذاالشرط ومن ثمہ ذکرفی خزانۃ الاکمل فی سیاق النقل عن فتاوی ابی اللیث لو قال الھمدﷲ اوکل ھواﷲ احد جاز اذالم یقدر علی ٖغیر ذلک او بلسانہ عقلۃ قال الفقیہ فان لم تکن بلسانہ عقلۃ ولکن جری علی لسانہ ذلک لا تفسد انتھی فلم یذکر ھذاالشرط وان کان بعد ذلک ذکرہ عن ابراھیم بن یوسف والحسین بن مطیع۔۱؎
البتہ یہ دوسری صورت جیسا کہ صاحبِ ذخیرہ نے کہا مشکل ہے کیونکہ فطری اور خلقی شے کے تبدیل کرنے پر بندہ قادر نہیں ہوسکتا۔میں کہتا ہوں ایسا ہی حکم ہے اس وقت جب کسی ایسے عارضہ کی وجہ سے ہو جس کا ازالہ عادۃً نہ ہو پائے اور جب اس طرح کی صورت ہو تو فتوٰی میں اس شرط کے مقتضٰی کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ خزانۃ الاکمل میں فتاوٰی ابوللیث سے نقل کرتے ہوئے کہا اگر نمازی نے الھمد ﷲ یا کل ھواﷲ احد پڑھ لیاتو جائز ہے بشرطیکہ وہ اس کے غیر پر قادر نہ ہو یا اس کی زبان میں رکاوٹ(لکنت) ہوفقیہ(ابوللیث) نے کہا اگر زبان میں رکاوٹ(لکنت) نہ تھی لیکن اس کی زبان پر یہ چیز ازخود جاری ہوگئی تو نماز فاسد نہیں ہوگی انتہی پس انھوں نے یہ شرط ذکر نہیں کی اگرچہ اس کے بعد والوں نے ابراہیم بن یوسف اور حسین بن مطیع کے حوالے سے ذکر کی ہے(ت)
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیہ المصلی)
اُسی میں ہے:
قد عرفت اٰنفاانہ لاینبغی اشتراط الاجتھاد فی ذلک لمن ھو فیہ خلقۃ او لعارض لیس ممایزول عادۃ۔۲؎
ابھی آپ نے پڑھا کہ اس شخص کے لئے کوشش کرنے کی شرط لگانا مناسب نہیں جس میں وہ چیز خلقۃً (فطرۃً) ہویا ایسے عارضہ کی وجہ سے جو عادۃً زائل نہیں ہوتا ۔ (ت)
(۲؎حلیۃ المحلی شرح منیہ المصلی)
طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں ہے:
کلام ابن امیر الحاج یفید ان ھذاالشرط فیہ خلاف والاکثرلم یذکروہ لان فیہ حرجا عظیما ۳؎ اھ اقول ورأیتنی کتبت علی ھامش حاشیتہ علی المراقی مانصہ اقول رب ماکان خلقۃ یتبدل بالتکلف ورب مالا یتوقع یاتی الجھد فیہ بالفرج، ولعل القول الفصل ایجاب الجھد ماکان یرجی التعلم ولو رجاء ضعیفا، فاذاأیس تحقیقا لاتبر ماوسعہ الترک لا یکلف اﷲ نفسا الا وسعھا و فیہ رعایۃ الجانبین ویؤید عدم خزانۃ الاکمل اذا قرأمکان الظاء ضادااومکان الضاد ظاء فقال القاضی المحسن الاحسن یقال ان تعمد ذلک تبطل صلٰوتہ عالما کان او جاھلا وان جری علی لسانہ اولم یکن یمیز بین الحرفین فظن انہ ادی الکلمۃ کما ھی جازت صلاتہ وھو قول محمد بن مقاتل وبہ کان یفتی الشیخ اسمعیل الزاھد لان السنۃ الاکراد و اھل السوادوالاتراک غیر طائعۃ فی مخارج ھذہ الحروف وفی ذلک حرج عظیم والظاھر ان ھذامجمل مافی جمیع الفتاوٰی ۱؎ اھ با ختصار ،فقد عذرھم بعجزھم ولم یلزمھم ادامۃ جہد لئن تبتعت فعساک تجد شواھدہ بوفر وکثر واﷲ یحب الیسر ویقبل العذر وھو سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
ابن امیر الحاج کے کلام سے پتا چلتا ہے کہ اس شرط میں اختلاف ہے اور اکثر علماء نے اس کا ذکر نہیں کیا کیونکہ اس میں حرج عظیم ہے اھ میں کہتا ہوں مجھے یاد آرہا ہے کہ مراقی الفلاح پرطحطاوی کے حاشیہ پر میں نے حاشیہ لکھا ہے عبارت یہ ہے میں کہتا ہوں بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جو چیز خلقۃً و فطرۃً ہو اسے تکلفاً بدلا جاسکتا ہے اور بعض غیر متوقع چیزوں کو آسانی سے بجا لایا جا سکتا ہے شاید قول فیصل یہ ہوکہ اس وقت تک کوشش واجب ہے جب تعلم کے ذریعے تبدیلی کی امید ہو اگر چہ ضعیف سی امید ہی سہی ، اور جب یقینا نا امیدی ہوجائے تو اب ترک کی گنجائش کا نہ ہونا زیادتی ہے، اﷲ تعالٰی کسی ذات کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا، اور اس میں جانبین کی رعایت ہے اور دائمی طور پر کوشش کا واجب نہ ہونا بھی اس کی تائید کرتا ہے۔حلیہ میں خزانۃ الاکمل کے حوالے سے کہ ظاء کی جگہ ضاد یا ضاد کی ظاء پڑھا تو قاضی محسن نے کہا کہ احسن یہ ہے کہ اگر ایسا عمداً کیا تو کہا جائے نماز باطل ہوگئی خواہ وہ شخص عالم ہو یا جاہل، اور اگر زبان پر ازخود جاری ہوگیا یا وہ ان دونوں حروف کے درمیان امتیاز نہیں کرسکتا کہ وہ سمجھ رہا ہے کہ کلمہ اسی طرح ادا ہوگیا جس طرح ہونا چاہئے تھا تو اسکی نماز درست ہوگی، اور یہی محمد بن مقاتل کا قول ہے، اور اسی پر شیخ اسماعیل الزاہد نے فتوٰی جاری کیا ، کیونکہ کرد،اہل سواد(عراق) اور ترک کے لوگوں کی زبانیں ان حروف کے مخارج کی صحیح ادائیگی نہیں کر سکتیں ، اور اس میں حرج عظیم ہے اور ظاہر یہ ہے یہ تمام فتاوٰی کے بیان کا اجمال ہے اھ مختصراً پس ان کو عجز کے پیش نظر معذور گردانا اور ان پر دائمی کوشش لازم نہیں کی، اگر آپ محنت سے تلاش کریں گے تو بہت سے اسکے شواہد آپ کو مل جائیں گے۔اﷲ تعالٰی آسانی کو پسند کرتا ہے اور عذر قبول فرماتا ہے ، اور وُہ پاک ذات ہی سب سے زیادہ جاننے والی ہے۔(ت)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الامامۃ مطبوعہ نور محمد کتب خانہ کراچی ص ۱۵۸) (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
صغیری میں ہے:
لو قرأالھمدﷲ بالھاء مکان الحاء الحکم فیہ کالحکم فی الالثغ علی مایاتی قریبا۱؎ اھ ملخصا
اگر کوئی حاء کی جگہ ھاء کہتے ہوئے الھمدُﷲ پڑھے تو اس کا حکم توتلے کے حکم کی طرح ہے جیسا کہ عنقریب آئے گا اھ ملخصاً(ت)
(۱؎ صغیری شرح منیۃ المصلی فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۲۴۹)
پھر فرمایا:
المختار فی حکمہ یجب علیہ بذل الجھد دائما فی تصحیح لسانہ ولا یعذر فی ترکہ وان کان لاینطق لسانہ فان لم یجد اٰیۃ لیس فیھا ذلک الحرف الذی لایحسنہ تجوز صلاتہ بہ ولا یؤم غیرہ فھوبمنزلۃ الامی فی حق من یحسن ما عجز ھو عنہ واذا امکنہ اقتدأہ بمن یحسنہ لاتجوز صلاتہ منفردا وان وجد قدرما تجو زبہ الصلاۃ ممالیس فیہ ذلک الحرف الذی عجز عنہ لاتجوز صلاتہ مع قرأۃ ذلک الحرف لان جواز صلاتہ مع التلفظ بذلک الحرف ضروری فینعدم بانعدام الضرورۃ ھذا ھوالصحیح فی حکم الالثغ ومن بمعناہ ممن تقدم اٰنفا ۲؎۔
مختار یہی ہے کہ اس پر تصحیح زبان کے لئے ہمیشہ کوشش کرنا ضروری ہے اور اس کے ترک پر معذور نہیں سمجھا جائے گا اگرچہ اس کی زبان کا اجراء درست نہ ہو جس کو وُہ اچھی طرح ادا نہیں کرسکتا تو اب اس کی نماز اس آیت سے درست ہوگی البتہ وُہ غیر کی امامت نہ کروائے ، پس وہ صحیح ادائیگی کرنے والے کے حق میں امّی کی طرح ہوگا اس آیۃ میں جس سے عاجز ہے، اور جب مذکورہ شخص کو ایسے آدمی کی اقتدا ممکن ہو جوصحیح ادا کرسکتا ہے، تو اس کی تنہا نماز نہ ہوگی، اور اگر وہ ایسی آیۃ پر قادر ہے جس میں مذکورہ حرف نہیں تو اس حرف والی آیۃ پڑھنے کی وجہ سے نماز نہ ہوگی کیونکہ اس حر ف کا درست پڑھنا نماز کے لئے ضروری تھا جب وہ تقاضا معدوم ہے تو نماز کا وجود بھی نہ ہو گا ۔توتلے اور اس جیسے شخص کے لئے یہی حکم ہے اور یہی صحیح ہے۔(ت)
(۲؎صغیری شرح منیۃ المصلی فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۲۵۰ )
ولوالجیہ میں ہے:
ان کان یمکنہ ان یتخذ من القراٰن اٰیات لیس فیھا تلک الحروف یتخذ الا فاتحۃ الکتاب فانہ لا یدع قرأتھا فی الصلٰوۃ ۱؎ انتھی اقول ولا منشأ لاستثناء الفاتحہ الا الاختلاف فی رکنیتھا فیترأای لی تقیید ذلک فی المکتوبات بالاولیین حتی لو قرأفی الاخریین فسدت واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر توتلے کے لئے قرآن مجیدکے دیگر مقامات سے آیات کا پڑھنا ممکن ہو جن میں ایسے حروف نہیں تو وہ انھیں پڑھ لے ماسوا فاتحہ کے ، کیونکہ اس کی قرأت نماز میں ترک نہیں کی جاسکتی انتہی ۔ میں کہتا ہوں یہاں فاتحہ کا استثناء اس لئے ہے کہ اس کی رکنیت میں اختلاف ہے پس مجھ پر یہ با ت واضح ہوئی کہ اسے فرض کی ابتدائی دو۲ رکعتوں کے ساتھ مقید کرنا ضروری ہے حتٰی کہ اگر آخری دو ۲ رکعتوں میں پڑھے گا تو نماز فاسد ہوجائے گی ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔