Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
63 - 185
مسئلہ نمبر ۴۵۵ :۷ ربیع الآخر ۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر امام یا منفرد تیسری یا چوتھی رکعت میں کچھ قرأت جہر سے پڑھ جائے تو سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب

اگر امام اُن رکعتوں میں جن میں آہستہ پڑھنا واجب ہے جیسے ظہر و عصر کی سب رکعات اور عشاء کی پچھلی دو اور مغرب کی تیسری اتنا قرآن عظیم جس سے فرض قرأت ادا ہو سکے(اور وُہ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مذہب میں ایک آیت ہے) بھول کر بآواز پڑھ جائیگا تو بلاشبہ سجدہ سہو واجب ہوگا، اگر بلا عذرِشرعی سجدہ نہ کیا یا اس قدر قصداً بآواز پڑھا تو نماز کا پھیرنا واجب ہے،اور اگر اس مقدار سے کم مثلاً ایک آدھ کلمہ بآوازِ بلند نکل جائے تو مذاہب راجح میں کچھ حرج نہیں۔ ردالمحتار میں ہے۔
الاسرار یجب علی الامام والمنفرد فیما یسرفیہ وھو صلٰوۃ الظھر والعصر و الثالثۃ من المغرب والاخریان من العشاء و صلاۃ الکسوف والاستسقاء کما فی البحر۲؎۔الخ
سری نمازوں میں امام منفرد دونوں پر اسرار(سراً قرأت) واجب ہے اور نماز ظہر ،عصر ،مغرب کی تیسری رکعت ،عشاء کی آخری دوکعت ،نمازکسو ف اور نماز استسقاء ہیں ۔جیسا کہ بحر میں ہے الخ(ت)
 (۲؎ ردالمحتار            باب صفۃ الصلوٰۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۳۴۶)
دُر مختار میں ہے:
تجب سجدتان بترک واجب سھواکالجھر فیما یخافت فیہ وعکسہ والاصح تقدیرہ بقدرما تجوز بہ الصلٰوۃ فی الفصلین ۱؎ اھ ملخصاً
سہواً ترکِ واجب سے دو سجدے لازم آتے ہیں مثلاً سری نماز میں جہراً قرأت کرلے یا اسکا عکس ،اور اصح یہی ہے کہ دونوں صورتوں میں اتنی قرأت سے سجدہ لازم ہوجائے گا جس سے نماز ادا ہوجاتی ہو۔اھ ۔ملخصا۔(ت)
 (۱؎ دُرمختار            باب سجود السھو        مطبوعہ مجتبائی دہلی         ۱/ ۱۰۲)
غنّیہ میں ہے:
الصحیح ظاہر الروایۃ وھوالتقدیر بما تجوز بہ الصلٰوۃ من غیر تفرقۃ لان القلیل من الجھر موضع المخافۃ عفوا۲؎ الخ
صحیح ظاہر الروایۃ میں ہے وہ اتنی مقدار ہے کہ اس کے ساتھ نماز بغیر کسی تفرقہ کے جائز ہوجائے کیونکہ سر کی جگہ جہر قلیل معاف ہے الخ(ت)
 (۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل باب فی سجود السھو   مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور     ص۴۵۸)
حاشیۃ شامی میں ہے:
صححہ فی الھدایۃ والفتح والتبیین والمنیۃ ۳؎ الخ وتمامہ فیہ۔
اس کو ہدایہ ،فتح، تبیین اورمنیہ میں صحیح کہا ہے الخ اور اس میں تفصیلی گفتگو ہے۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار            باب سجود السہو            مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۵۴۸)
تنویر الابصار میں ہے:
فرض القرأۃ اٰیۃ علی المذھب ۴؎۔
(مذہب مختار کے مطابق ایک آیت کی قرأت فرض ہے۔ت)
 (۴؎ درمختار            فصل یجہر الامام       مطبوعہ مجتبائی دہلی            ۱/ ۸۰)
بحرالرائق و عٰلمگیری میں ہے:
لا یحب السجود فی االعمد و انما یجب الاعادۃ جبرا لنقصانہ ۵؎۔
عمداً (ترک واجب سے) سجدہ سہو واجب نہیں کیونکہ اس کے نقصان کو پورا کرنے کے لئے نماز کا اعادہ ضروری ہے (ت)
(۵؎ فتاوٰی ہندیہ        الباب الثانی فی سجود السہو        مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور        ۱/ ۱۲۶)
یہ حکم امام کا ہے اور منفرد کے لئے بھی زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ اس فعل سے عمداً بچے اور سہواً واقع ہو توسجدہ کرلے۔
وذلک لان العلماء اختلفوا فیہ اختلافا شدید افمنھم من لم یوجب علیہ الاسرار فیما یسر کما لا یحب علیہ الجھر فیما یجھر بالاتفاق و علیہ مشی فی الھدایۃ والمحیط والتتار خانیۃ و غیرھا ونص فی النھایۃ والکفایۃ والعنایۃ ومعراج الدرایۃ وغیرھا من شروح الھدایۃ والذخیرۃ وجامع الرموز شرح النقایۃوفی کتب اخر یطول عدھا انہ ھو ظاھر الروایۃ وان خلافہ روایۃ النوادر منھم من جعلہ فیما یسر کالامام والمنح والملتقی الا بحر والیہ اشارفی کنزالدقائق ونورالایضاح وصححہ فی البدائع والتبیین والفتح والدرر والھندیۃ وقال فی البحر والدر انہ المذھب یظھر کل ذلک بالمراجعۃ للبعض الی ردلمحتارو لبعض اخرالی ماسمینا من الاسفار فکان الاحوط ماقلنا واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور یہ اس لئے ہے کیونکہ اس میں علماء کا شدید اختلاف ہے بعض منفرد پر سری نماز میں سراً قرأت کو واجب قرار نہیں دیتے جیسا کہ جہری نماز میں بالاتفاق جہراً قرأت لازم نہیں، اور یہی ہدایہ،محیط اورتاتار خانیہ وغیرہا میں ہے۔ہدایہ کی شروح نہایہ،کفایہ ،عنایہ اورمعراج الداریہ وغیرہا اور ذخیرہ اور جامع الرموز شرح النقایہ اور دیگر کتب جن کا شمار طویل ہے میں  اسے ظاہر الروایۃ کہا ہے اور بعض نے سری نماز میں منفرد کو امام کی طرح قرار دیا ہے حلیہ،منیہ،بحر، نھر، منح اورملتقی الابحر میں اسی پر جزم ہے،کنزالدقائق اورنورالایضاح میں بھی اسی طرف اشارہ ہے۔بدائع ، تبیین، فتح،درر،اورہندیہ میں اسی کو صحیح قرار دیا گیاہے۔بحر اوردر میں ہے کہ مذہب یہی ہے۔اس مذکورہ گفتگو کا بعض حصہ ردالمحتار سے واضح ہے اور دوسراحصّہ دیگر معتبر کتب سے جن کا نام ہم نے ذکر کیا ہے پس احوط وہی ہے جو ہم نے بیان کیا واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ نمبر ۴۵۶ :مسئولہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب دوم جمادی الاولی۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہین علمائےدین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص جسے لوگوں نے مسجد جامع کا امام معین کیا جمعہ وجماعات میں گروہ مسلمین کی امامت کرتا ہے اور سورہ فاتحہ شریف میں بجائے الحمد والرحمن والرحیم کے الھمد والرہمن والرہیم بہ ہائے ہوز پڑھتا ہے، ایسے شخص کو امام بنانا جائز ہے یا نہیں اور اس کے پیچھے نماز درست ہوگی یا نہیں ؟ بینوا تو جروا۔
الجواب

اُسے امام بنانا ہرگز جائز نہیں اورنماز اس کے پیچھے نادرست ہے کہ اگر وہ شخص ح کے ادا پر بالفعل قادر ہے اور باوجود اس کے اپنی بے خیالی یا بے پروائی سے کلمات مذکورہ میں ھ پڑھتا ہے۔تو خود اس کی نماز فاسد وباطل ،اوروں کی اسکے پیچھے کیا ہوسکے،اور اگر بالفعل ح پر قادر نہیں اور سیکھنے پر جان لڑاکر کوشش نہ کی تو بھی خود اس کی نماز محض اکارت ، اور اس کے پیچھےہر شخص کی باطل، اور اگر ایک ناکافی زمانہ تک کوشش کر چکا پھر چھوڑ دی جب بھی خود اس کی نماز پڑھی بے پڑھی سب ایک سی ، اور اُس کے صدقے میں سب کی گئی اور برابر حد درجہ کی کوشش کئے جاتا ہے مگر کسی طرح ح نہیں لکلتی تو اُس کاحکم مثل اُمّی کے ہے کہ اگر کسی صحیح پڑھنے والے کے پیچھے نماز مل سکے اور اقتداء نہ کرے بلکہ تنہا  پڑھے تو بھی اسکی نماز باطل ، پھر امام ہونا تو دوسرا درجہ ہے اور پر ظاہر ہے کہ اگر بالفرض عام جماعتوں میں کوئی درست خواں نہ ملے تو جمعہ میں تو قطعاً ہر طرح کے بندگان خدا موجود ہوتے ہیں پھر اس کا اُن کی اقتدا نہ کرنا اور آپ امام ہونا خود اس کی نماز کا مبطل ہوا ،اور جب اس کی گئی سب کی گئی۔

بہرحال ثابت ہوا کہ نہ اس شخص کی اپنی نماز ہوتی ہے نہ اسکے پیچھے کسی اور کی تو ایسے کو امام بنانا حرام ہے ، اور ان سب مسلمانوں کی نماز کا وبال اپنے سر لیتا ہے والعیاذ باﷲتعالٰی البتہ اگر ایسا ہو کہ تاحدادنٰی امید کہ یہ شخص ہمیشہ برابر رات دن تصحیح حرف میں کوششِ بلیغ کئے جائے اور باوصف بقائے امید واقعی محض طول مدّت سے گبھرا کر نہ چھوڑے اور واجب الحمد شریف کے سوا اوّل نماز سے آخر تک کوئی آیت یا سورۃ یا ذکر وغیرہ اصلاً ایسی چیز نام کو نہ پڑھے جس میں ح آتی اور اسے ھ پڑھنے سے نماز جاتی ہو بلکہ قرآن مجید کی دوسورتیں اختیار کرے جن میں ح نہیں جیسے سورہ کافرون وسورہ ناس اور ثناء اور تسبیحات رکوع و سجود و تشہد و درود وغیرہ کے کلمات میں جن میں ایسی ح آئی اُن کے مرادفاتْ مقاربات سے بدل لے مثلاً بجائے سبحٰنک اللھم وبحمدک اقدسک اللھم مثنیا علیک و علٰی ھذاالقیاس اور اسے کوئی شخص صحیح خواں ایسا نہ ملے جس کی اقتدا کرے اور جماعت بھرکے سب لوگ اسی طرح  ح کو ھ پڑھنے والے ہوں تو البتہ جب کوشش کرتا رہے گا اس کی بھی صحیح ہوگی اور اُن سب اس کے مانند وں کی بھی اسکے پیچھے صحیح ہوگی اور جس دن باوصف تنگ آکر کوشش چھوڑ ی یا صحیح القراءۃ  کی اقتداء ملتے ہو ئے تنہا پڑھی یا  امامت کی اُسی دن اس کی بھی باطل، اور اسکے پیچھے سب کی باطل ،اور جبکہ معلوم ہے کہ یہ شرائط متحقق نہیں توحکم وہی ہے کہ جمعہ و غیر جمعہ کسی میں نہ اس کی نماز درست نہ اسکے پیچھے کسی کی درست۔ یہ جو کچھ مذکور ہوا یہی صحیح ہے یہی راجح  ہے یہی مختار ہے یہی مفتی بہ ہے  اسی پر عمل اسی پر اعتماد۔ واﷲ الھادی الی سبیل الرشاد ۔
دُرمختار میں ہے:
لا یصح اقتداء غیر الالثغ بہ و حرر الحلبی و ابن الشحنۃ انہ بعد بذل جھدہ دائما حتما کالامی فلو یؤم الامثلہ ولا تصح صلوتہ اذاامکنہ الاقتداء بمن یحسنہ او ترک جھدہ او وجد قدرالفرض مما لالثغ فیہ ھذا ھو الصحیح المختار فی حکم الالثغ وکذا من لا یقدر علی التلفظ بحرف من الحروف ۱؎ اھ ملتقطا
غیر تو تلے کی اقتداء توتلے کے پیچھے درست نہیں (الثغ اس شخص کو کہتے ہیں جس کی زبان سے ایک حرف کی جگہ دوسرا نکلے)حلبی اورابن شحنہ نے لکھا ہے کہ ہمیشہ کی حتمی کوشش کے بعد توتلے کا حکم اُمّی کی طرح ہے پس وُہ اپنے ہم مثل کا امام بن سکتا ہے (یعنی اپنے جیسے توتلے کے سوا دوسرے کی امامت نہ کرے) جب اچھی درست ادائیگی والے کی اقتداء ممکن ہو یا اس نے محنت ترک کردی یا فرض کی مقدار بغیر توتلے پن کے پڑھ سکتا ہے ان صورتوں میں اسکی نماز درست نہ ہوگی توتلے کے متعلق یہی مختار اورصحیح حکم ہے اور اسی طرح اس شخص کا بھی یہی حکم ہےجو حروفِ تہجی میں سے کوئی حرف نہ بول سکے یعنی صحیح تلفظ پر قادر نہ ہو اھ ملخصاً۔
(۱؎ دُرمختار        باب الامامۃ            مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/ ۸۵)
Flag Counter